صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا:
باب: فجر کی سنت کی فضیلت و رغبت کا بیان اور ان کو ہلکا پڑھنا اور ہمیشہ پڑھنا اور ان میں جو قرأت زیادہ مستحب ہے اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 726 ترقیم شاملہ: -- 1690
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَزِيدَ هُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " قَرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، قُلْ: يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دو رکعتوں میں «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» اور «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» تلاوت کیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1690]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دو رکعت سنت میں ” ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] “ پڑھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1690]
ترقیم فوادعبدالباقی: 726
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 727 ترقیم شاملہ: -- 1691
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ يَعْنِي مَرْوَانَ بْنَ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فِي الأُولَى مِنْهُمَا قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا سورة البقرة آية 136 الآيَةَ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ، وَفِي الآخِرَةِ مِنْهُمَا آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 52 ".
مروان بن معاویہ فزاری نے عثمان بن حکیم انصاری سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن یسار نے بتایا کہ انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتوں میں سے پہلی میں (قرآن مجید سے آیت) «قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا» (والاحصہ) پڑھتے جو سورہ بقرہ کی آیت ہے اور دوسری میں (آل عمران کی آیت) «آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ» (والاحصہ) پڑھتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1691]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعت سنت میں، پہلی رکعت میں ﴿قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا﴾ [سورة البقرة: 136] اور دوسری رکعت میں ﴿آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 52] پڑھتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1691]
ترقیم فوادعبدالباقی: 727
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 727 ترقیم شاملہ: -- 1692
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا سورة البقرة آية 136، وَالَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ، تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ سورة آل عمران آية 64 ".
ابوخالد احمر نے عثمان بن حکیم سے، انہوں نے سعید بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتوں میں (قرآن مجید میں سے) «قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا» (والاحصہ) اور جو سورہ آل عمران میں ہے «تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ» (والاحصہ) پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1692]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو سنتوں میں ﴿قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا﴾ [سورة البقرة: 136] اور آل عمران کی آیت: ﴿تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ﴾ [سورة آل عمران: 64] پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1692]
ترقیم فوادعبدالباقی: 727
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 727 ترقیم شاملہ: -- 1693
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ.
عیسیٰ بن یونس نے عثمان بن حکیم سے اسی سند کے ساتھ مروان فزاری کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1693]
یہی حدیث امام صاحب نے ایک دوسرے استاد سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1693]
ترقیم فوادعبدالباقی: 727
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
15. باب فَضْلِ السُّنَنِ الرَّاتِبَةِ قَبْلَ الْفَرَائِضِ وَبَعْدَهُنَّ وَبَيَانِ عَدَدِهِنَّ:
باب: سنتوں کی فضیلت اور ان کی گنتی کا بیان فرضوں سے پہلے اور ان کے بعد۔
ترقیم عبدالباقی: 728 ترقیم شاملہ: -- 1694
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ بِحَدِيثٍ يَتَسَارُّ إِلَيْهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ حَبِيبَةَ ، تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ صَلَّى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، بُنِيَ لَهُ بِهِنَّ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ "، قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عَنْبَسَةُ: فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ: مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ عَنْبَسَةَ، وَقَالَ النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ: مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ.
ابوخالد سلیمان بن حیان نے داود بن ابی سند سے حدیث بیان کی، انہوں نے نعمان بن سالم سے اور انہوں نے عمرو بن اوس سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عنبسہ بن ابی سفیان نے اپنے مرض الموت میں ایک ایسی حدیث سنائی جس سے انتہائی خوشی حاصل ہوتی ہے، کہا: میں نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہتی تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے ایک دن اور ایک رات میں بارہ رکعات ادا کیں اس کے لیے ان کے بدلے جنت میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے۔“ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب سے میں نے ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، میں نے انہیں کبھی ترک نہیں کیا۔ عنبسہ نے کہا: جب سے میں نے ان کے بارے میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے سنا، میں نے انہیں کبھی ترک نہیں کیا۔ عمرو بن اوس نے کہا: جب سے میں نے ان کے بارے میں عنبسہ سے سنا، منیں نے انہیں کبھی ترک نہیں کیا۔ نعمان بن سالم نے کہا: جب سے میں نے عمرو بن اوس سے ان کے بارے میں سنا، میں نے انہیں کبھی ترک نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1694]
عمرو بن اوس بیان کرتے ہیں کہ مجھے عنبسہ بن ابی سفیان نے اپنی مرض الموت میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے ایک خوش کن حدیث سنائی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دن، رات میں بارہ رکعت ادا کیں، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔“ ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہے میں نے ان رکعات کو نہیں چھوڑا“ اور عنبسہ کہتے ہیں: ”جب سے میں نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث سنی ہے، میں نے ان رکعات کو ترک نہیں کیا“ اور عمرو بن اوس کا بیان ہے: ”جب سے میں نے عنبسہ سے یہ روایت سنی ہے، میں نے ان رکعات کو نہیں چھوڑا۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1694]
ترقیم فوادعبدالباقی: 728
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 728 ترقیم شاملہ: -- 1695
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَجْدَةً تَطَوُّعًا، بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ.
بشر بن مفضل نے کہا: ہمیں داود نے نعمان بن سالم سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی: ”جس نے ایک دن میں بارہ رکعات نوافل پڑھے اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1695]
امام مسلم نے اپنے دوسرے اساتذہ سے نعمان بن سالم کی سند ہی سے بیان کیا کہ ”جس نے ایک دن میں بارہ رکعت نوافل پڑھے اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1695]
ترقیم فوادعبدالباقی: 728
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 728 ترقیم شاملہ: -- 1696
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي لِلَّهِ كُلَّ يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا غَيْرَ فَرِيضَةٍ، إِلَّا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ أَوْ إِلَّا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ "، قَالَتْ أَمُّ حَبِيبَةَ: فَمَا بَرِحْتُ، أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ؟ وقَالَ عَمْرٌو: مَا بَرِحْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ، وقَالَ النُّعْمَانُ مِثْلَ ذَلِكَ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے نعمان بن سالم سے حدیث سنائی، انہوں نے عمرو بن اوس سے، انہوں نے عنبسہ بن ابی سفیان سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”کوئی ایسا مسلمان بندہ نہیں جو ہر روز اللہ کے لیے فرائض کے علاوہ بارہ رکعات سنتیں ادا کرتا ہے مگر اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے یا اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے۔“ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اب تک انہیں مسلسل ادا کرتی آ رہی ہوں۔ عمرو نے کہا: میں اب تک ان کو ہمیشہ ادا کرتا آ رہا ہوں۔ نعمان نے بھی اس کے مطابق کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1696]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہر دن فرضوں کے سوا خوشی سے بارہ رکعات پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے یا اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔“ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”اس دن سے میں ہمیشہ یہ رکعات پڑھ رہی ہوں۔“ عمرو کہتے ہیں: ”اس وقت سے میں بھی ہمیشہ پڑھ رہا ہوں۔“ نعمان کا بھی یہی قول ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1696]
ترقیم فوادعبدالباقی: 728
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 728 ترقیم شاملہ: -- 1697
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ : أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَنْبَسَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ، تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ صَلَّى لِلَّهِ كُلَّ يَوْمٍ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
بہز نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بھی مسلمان بندے نے اہتمام کے ساتھ مکمل وضو کیا، پھر اللہ کی رضا کی خاطر ہر روز (نفل) نماز پڑھی...“ اور اسی کے مطابق روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1697]
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان بندہ بھی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح کامل وضو کرتا ہے، پھر ہر دن اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے۔۔۔۔۔“ آگے مذکورہ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1697]
ترقیم فوادعبدالباقی: 728
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 729 ترقیم شاملہ: -- 1698
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح، وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَبْلَ الظُّهْرِ سَجْدَتَيْنِ، وَبَعْدَهَا سَجْدَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ سَجْدَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْعِشَاءِ سَجْدَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْجُمُعَةِ سَجْدَتَيْنِ، فَأَمَّا الْمَغْرِبُ، وَالْعِشَاءُ، وَالْجُمُعَةُ، فَصَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ ".
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں اور مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد دو رکعتیں اور جمعے کے بعد دو رکعتیں ادا کیں۔ جہاں تک مغرب، عشاء اور جمعے (کی سنتوں) کا تعلق ہے، وہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں پڑھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1698]
ترقیم فوادعبدالباقی: 729
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
16. باب جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا:
باب: نوافل کا کھڑے بیٹھے یا ایک رکعت میں کچھ کھڑے اور کچھ بیٹھے جائز ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 730 ترقیم شاملہ: -- 1699
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ تَطَوُّعِهِ، فَقَالَتْ: " كَانَ يُصَلِّي فِي بَيْتِي، قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَيُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ، وَيَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ، فِيهِنَّ الْوِتْرُ، وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، وَكَانَ إِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ، رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ".
خالد نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں سوال کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا: آپ میرے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے، پھر (گھر سے) نکلتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر گھر واپس آتے اور دو رکعتیں ادا فرماتے۔ اور آپ لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھاتے پھر گھر آتے اور دو رکعت نماز پڑھتے، اور لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھاتے اور میرے گھر آتے اور دو رکعتیں پڑھتے، اور رات میں نو رکعتیں پڑھتے جن میں وتر شامل ہوتی، اور طویل رات کھڑے ہو کر اور طویل رات بیٹھ کر نماز ادا کرتے اور جب کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ کر کرتے اور جب فجر طلوع ہوتی تو دو رکعتیں پڑھتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1699]
عبداللہ بن شفیق بیان کرتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعات پڑھتے، پھر گھر سے نکلتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر گھر واپس آتے اور دو رکعت ادا فرماتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھاتے، پھر گھر آتے اور دو رکعت نماز پڑھتے، اور لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھاتے اور میرے گھر آتے اور دو رکعت پڑھتے، اور رات کو وتر سمیت نو رکعات پڑھتے، اور رات کو کافی دیر تک کھڑے نماز پڑھتے اور کافی دیر تک بیٹھے نماز ادا کرتے، اور جب کھڑے ہو کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھے بیٹھے کر لیتے اور طلوع فجر کے بعد دو رکعت پڑھتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1699]
ترقیم فوادعبدالباقی: 730
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة