🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب اسْتِحْبَابِ رَكْعَتَيْ سُنَّةِ الْفَجْرِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِمَا وَتَخْفِيفِهِمَا وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِمَا:
باب: فجر کی سنت کی فضیلت و رغبت کا بیان اور ان کو ہلکا پڑھنا اور ہمیشہ پڑھنا اور ان میں جو قرأت زیادہ مستحب ہے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 723 ترقیم شاملہ: -- 1680
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ إِذَا أَضَاءَ لَهُ الْفَجْرُ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ".
سالم نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب فجر روشن ہو جاتی تو آپ دو رکعتیں نماز پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1680]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”جب صبح روشن ہو جاتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1680]
ترقیم فوادعبدالباقی: 723
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 724 ترقیم شاملہ: -- 1681
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، إِذَا سَمِعَ الأَذَانَ، وَيُخَفِّفُهُمَا ".
عبدہ بن سلیمان نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذان سنتے تو فجر کی دو رکعتیں پڑھتے اور ان میں تخفیف کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1681]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذان سننے کے بعد فجر کی دو رکعت تخفیف کے ساتھ پڑھتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1681]
ترقیم فوادعبدالباقی: 724
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 724 ترقیم شاملہ: -- 1682
وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُسْهِرٍ . ح، وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح، وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ . ح، وحَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ: إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ.
علی بن مسہر، ابواسامہ، عبداللہ بن نمیر، اور وکیع سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی، البتہ ابواسامہ کی روایت میں (جب اذان سننے کی بجائے) ”جب فجر طلوع ہوتی“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1682]
امام صاحب نے اپنے دوسرے اساتذہ سے بھی ہشام کی سند سے یہی روایت نقل کی ہے لیکن ابواسامہ نے «إِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ» کی بجائے «إِذَا طَلَعَ فَجْرٌ» نقل کیا ہے، ”جب فجر طلوع ہو جائے“۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1682]
ترقیم فوادعبدالباقی: 724
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 724 ترقیم شاملہ: -- 1683
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ ".
ابوسلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1683]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کی اذان اور اقامت کے دوران دو رکعت پڑھتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1683]
ترقیم فوادعبدالباقی: 724
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 724 ترقیم شاملہ: -- 1684
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَةَ تُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَيُخَفِّفُ، حَتَّى إِنِّي أَقُولُ: هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ؟ ".
یحییٰ بن سعید نے کہا: مجھے محمد بن عبدالرحمان نے بتایا کہ انہوں نے عمرہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی (سنت) دو رکعتیں پڑھتے اور ان کو اتنا ہلکا پڑھتے کہ میں (دل میں) کہتی تھی: کیا آپ نے ان میں فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں؟ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً فاتحہ بھی بہت ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے۔) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1684]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی دو رکعت سنت اس قدر ہلکی پڑھتے تھے کہ میں دل میں کہتی تھی: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں فاتحہ پڑھی ہے؟“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1684]
ترقیم فوادعبدالباقی: 724
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 724 ترقیم شاملہ: -- 1685
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِيِّ ، سَمِعَ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، أَقُولُ: هَلْ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِ فَاتِحَةِ الْكِتَاب؟ ".
شعبہ نے محمد بن عبدالرحمان انصاری سے روایت کی، انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمان سے سنا، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: جب فجر طلوع ہو جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں ادا کرتے۔ (دل میں) کہتی: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں فاتحہ پڑھتے ہیں؟ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1685]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ”جب فجر طلوع ہو جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت ادا کرتے، میں دل میں سوچتی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں فاتحہ پڑھی ہے؟“ یعنی ہلکی اور کم قرأت کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1685]
ترقیم فوادعبدالباقی: 724
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 724 ترقیم شاملہ: -- 1686
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " لَمْ يَكُنْ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ، عَلَى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ ".
یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عطاء بن عبید بن عمیر سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوافل میں سے کسی اور (نماز) کی اتنی زیادہ پاسداری نہیں کرتے تھے جتنی آپ صبح سے پہلے کی دو رکعتوں کی کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1686]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ”جس قدر اہتمام و پابندی صبح کی نماز سے پہلے کی دو رکعت کی کرتے تھے اور کسی نفل کا اس قدر اہتمام نہیں فرماتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1686]
ترقیم فوادعبدالباقی: 724
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 724 ترقیم شاملہ: -- 1687
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ جميعا، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَسْرَعَ مِنْهُ، إِلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ".
حفص نے ابن جریج سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بھی نفل (کی ادائیگی) کے لیے اس قدر جلدی کرتے نہیں دیکھا جتنی جلدی آپ نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کے لیے کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1687]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نفل کے لیے بھی اس قدر سرعت و جلدی کرتے نہیں دیکھا، جس قدر سرعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز سے پہلے کی دو رکعتوں کے لیے کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1687]
ترقیم فوادعبدالباقی: 724
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 725 ترقیم شاملہ: -- 1688
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رَكْعَتَا الْفَجْرِ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ".
ابوعوانہ نے قتادہ سے، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے، انہوں نے سعد بن ہشام سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”فجر کی دو رکعتیں دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے، اس سے بہتر ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1688]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر کی دو رکعت (سنت) دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سے بہتر ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1688]
ترقیم فوادعبدالباقی: 725
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 725 ترقیم شاملہ: -- 1689
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: قَالَ أَبِي : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ قَالَ فِي شَأْنِ الرَّكْعَتَيْنِ، عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ لَهُمَا: أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا ".
معتمر کے والد سلیمان بن طرخان نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے طلوع فجر کے وقت کی دو رکعتوں کے بارے میں فرمایا: ”وہ دو (رکعتیں) مجھے ساری دنیا سے زیادہ پسند ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1689]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلوعِ فجر کے وقت کی دو رکعت کے بارے میں فرمایا: ”وہ دونوں مجھے پوری دنیا کے مقابلے میں زیادہ پسند ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1689]
ترقیم فوادعبدالباقی: 725
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں