🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب صَلاَةِ اللَّيْلِ وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلاَةٌ صَحِيحَةٌ:
باب: نماز شب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیام اللیل میں رکعتوں کی تعداد، وتر کے ایک ہونے کا بیان اور اس بات کا بیان کہ ایک رکعت صحیح نماز ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 737 ترقیم شاملہ: -- 1720
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ مِنْ ذَلِكَ بِخَمْسٍ، لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ إِلَّا فِي آخِرِهَا ".
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی اور کہا: ہمیں اپنے ہشام نے اپنے والد (عروہ) سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، ان میں سے پانچ رکعتوں کے ذریعے وتر (ادا) کرتے تھے، ان میں آخری رکعت کے علاوہ کسی میں بھی تشہد کے لیے نہ بیٹھتے تھے۔ (بعض راتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول ہوتا) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1720]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعات پڑھتے تھے، اس میں پانچ وتر ہوتے تھے، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف آخری رکعت میں (تشہد کے لیے) بیٹھتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1720]
ترقیم فوادعبدالباقی: 737
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 737 ترقیم شاملہ: -- 1721
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح، وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
عبدہ بن سلیمان، وکیع اور ابواسامہ سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ (یہ) روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1721]
امام صاحب رحمہ اللہ نے اپنے دوسرے اساتذہ سے بھی یہی روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1721]
ترقیم فوادعبدالباقی: 737
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 737 ترقیم شاملہ: -- 1722
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ".
عروہ بن مالک نے عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتوں سمیت تیرہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1722]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعت سنت سمیت تیرہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1722]
ترقیم فوادعبدالباقی: 737
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 738 ترقیم شاملہ: -- 1723
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ، كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ؟ قَالَتْ: " مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ، وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ، وَلَا يَنَامُ قَلْبِي.
سعید بن ابی سعید مقبری نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسے ہوتی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور اس کے علاوہ (دوسرے مہینوں) میں (رات کو) گیارہ رکعتوں سے زائد نہیں پڑھتے تھے، چار رکعتیں پڑھتے، ان کی خوبصورتی اور ان کی طوالت کے بارے میں مت پوچھو، پھر چار رکعتیں پڑھتے، ان کے حسن اور طوالت کے بارے میں نہ پوچھو، پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔“ (وہ بدستور اللہ کے ذکر میں مشغول رہتا ہے) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1723]
حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں نماز کیسے پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ”رمضان اور اس کے علاوہ مہینوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعات سے زائد نہیں پڑھتے تھے، چار رکعات پڑھتے، ان کے حسن اور طوالت کے بارے میں مت پوچھیے، پھر چار رکعات پڑھتے، ان کے حسن اور طوالت کے بارے میں نہ پوچھیے، پھر تین رکعات پڑھتے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل بیدار رہتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1723]
ترقیم فوادعبدالباقی: 738
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 738 ترقیم شاملہ: -- 1724
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي ثَمَانَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ يُوتِرُ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالإِقَامَةِ مِنَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ".
ہشام نے یحییٰ سے اور انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: آپ تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، آٹھ رکعتیں پڑھتے پھر (ایک رکعت سے) وتر ادا فرماتے، پھر بیٹھے ہوئے دو رکعتیں پڑھتے، پھر جب رکوع کرنا چاہتے تو اٹھ کھڑے ہوتے اور رکوع کرتے، پھر صبح کی نماز کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے۔ (کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تہجد اور وتر کی ترتیب یہ بن جاتی تھی) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1724]
ابو سلمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے بتایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعات پڑھتے تھے؛ آٹھ رکعات پڑھتے، پھر وتر ادا فرماتے، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے اور جب رکوع کرنا چاہتے تو اٹھ کھڑے ہوتے اور رکوع کرتے، پھر اذان اور صبح کی نماز کی اقامت کے درمیان دو رکعت پڑھتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1724]
ترقیم فوادعبدالباقی: 738
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 738 ترقیم شاملہ: -- 1725
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ . ح، وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمَا: تِسْعَ رَكَعَاتِ قَائِمًا، يُوتِرُ مِنْهُنَّ.
شیبان اور معاویہ بن سلام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے ابوسلمہ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا۔ آگے سابقہ حدیث کی طرح ہے، البتہ ان دونوں کی روایت میں ہے: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نو رکعتیں پڑھتے تھے، وتر انہی میں ادا کرتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1725]
ابوسلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر وتر سمیت نو رکعات پڑھتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1725]
ترقیم فوادعبدالباقی: 738
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 738 ترقیم شاملہ: -- 1726
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: أَيْ أُمّهْ أَخْبِرِينِي، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " كَانَتْ صَلَاتُهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ، ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِاللَّيْلِ، مِنْهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ ".
عبداللہ بن ابی لبید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوسلمہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے میری ماں! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیے۔ تو انہوں نے کہا: رمضان اور غیر رمضان میں رات کے وقت آپ کی نماز تیرہ رکعتیں تھیں، ان میں فجر کی (سنت) دو رکعتیں بھی شامل تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1726]
ابو سلمہ بیان کرتے ہیں: ”میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: اے امی! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیے۔“ تو انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز رات کو رمضان اور غیر رمضان میں فجر کی سنتوں سمیت تیرہ رکعات تھیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1726]
ترقیم فوادعبدالباقی: 738
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 738 ترقیم شاملہ: -- 1727
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ " كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ عَشَرَ رَكَعَاتٍ، وَيُوتِرُ بِسَجْدَةٍ، وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَتْلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ".
قاسم بن محمد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، فرما رہی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز دس رکعتیں تھیں اور آپ ایک رکعت وتر ادا کرتے، پھر فجر کی (سنتیں) دو رکعت پڑھتے۔ اس طرح یہ تیرہ رکعتیں ہوئیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1727]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”رات کو دس رکعات پڑھتے اور ایک وتر پڑھتے اور دو رکعت سنت فجر پڑھتے، یہ تیرہ رکعات ہوئیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1727]
ترقیم فوادعبدالباقی: 738
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 739 ترقیم شاملہ: -- 1728
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: سَأَلْتُ الأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ عَمَّا حَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتِ: " كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِ آخِرَهُ، ثُمَّ إِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ، قَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ يَنَامُ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الأَوَّلِ، قَالَتِ: وَثَبَ، وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتِ، قَامَ فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ، وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتِ، اغْتَسَلَ وَأَنَا أَعْلَمُ مَا تُرِيدُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُنُبًا، تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ ".
ابوخثیمہ (زہیر بن معاویہ) نے ابواسحاق سے خبر دی، کہا: میں نے اسود بن یزید سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا جو ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بیان کی تھی۔ انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے حصے میں سو جاتے اور آخری حصے کو زندہ کرتے (اللہ کے سامنے قیام فرماتے ہوئے جاگتے) پھر اگر اپنے گھر والوں سے کوئی ضرورت ہوتی تو اپنی ضرورت پوری کرتے اور سو جاتے، پھر جب پہلی اذان کا وقت ہوتا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ اچھل کر کھڑے ہو جاتے (راوی نے کہا:) اللہ کی قسم! عائشہ رضی اللہ عنہا نے وثب کہا، قام (کھڑے ہوتے) نہیں کہا۔ پھر اپنے اوپر پانی بہاتے، اللہ کی قسم! انہوں نے اغتسل (نہاتے) نہیں کہا: ”اپنے اوپر پانی بہاتے“ میں جانتا ہوں ان کی مراد کیا تھی۔ (یعنی زیادہ مقدار میں پانی بہاتے) اور اگر آپ جنبی نہ ہوتے تو جس طرح آدمی نماز کے لیے وضو کرتا ہے، اسی طرح وضو فرماتے، پھر دو رکعتیں (سنت فجر) ادا فرماتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1728]
ابو اسحاق کہتے ہیں: ”میں نے اسود بن یزید سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، جو انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بیان کی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے حصہ میں سو جاتے اور آخری حصہ میں بیدار ہو جاتے، پھر اگر بیوی سے کوئی ضرورت ہوتی تو اپنی ضرورت پوری کرتے پھر سو جاتے، جب پہلی اذان کا وقت ہوتا تو (بستر سے) اچھل پڑتے، اللہ کی قسم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے «وَثَبَ» ”کودنا، اچھلنا“ کہا، «قَامَ» ”اٹھنا“ نہیں کہا، پھر اپنے اوپر پانی بہاتے، اللہ کی قسم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے غسل نہیں کہا بلکہ «أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ» ”اپنے اوپر پانی بہایا“ کہا۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1728]
ترقیم فوادعبدالباقی: 739
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 740 ترقیم شاملہ: -- 1729
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الأَسْوَدِ ، عَنِ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، حَتَّى يَكُونَ آخِرَ صَلَاتِهِ الْوِتْرُ ".
عمار بن زریق نے ابواسحاق سے، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے حتیٰ کہ ان کی نماز کا آخری حصہ وتر ہوتا۔ (اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہی تھا) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1729]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے اور نماز کے آخر میں وتر ہوتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1729]
ترقیم فوادعبدالباقی: 740
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں