مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 432
حدیث نمبر: 432
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ" . قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي فِي الاسْتِنْجَاءِ.
عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ آدمی اپنی شرمگاہ کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑے۔ سفیان کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ استنجا کے دوران ایسا کرے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 432]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري برقم: 153،154،5630، ومسلم برقم: 267 وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 68، 78، 79، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1434،5228،5328 والنسائي فى «الكبرى» برقم: 28، 29، 41، 6856، وأبو داود فى «سننه» برقم: 31، والترمذي فى «جامعه» برقم: 15، 1889، والدارمي فى «مسنده» ، برقم: 700 برقم: 2168، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 310»
حدیث نمبر 433
حدیث نمبر: 433
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا دَاوُدُ بْنُ شَابُورَ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي خَلِيلٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ هَذِهِ السَّنَةَ وَالسَّنَةَ الَّتِي تَلِيهَا، وَصِيَامُ عَاشُورَاءَ يُكَفِّرُ سَنَةً" . قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ دَاوُدُ: وَكَانَ عَطَاءٌ لا يَصُومُهُ حَتَّى بَلَغَهُ هَذَا الْحَدِيثُ.
سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: عرفہ کے دن روزہ رکھنا اس سال کے اور اس کے بعد والے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور عاشورہ کے دن روزہ رکھنا ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: داؤد نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، عطاء یہ روزہ نہیں رکھا کرتے تھے، یہاں تک کہ جب انہیں یہ حدیث پہنچی (تو اس کے بعد انہوں نے اس دن روزہ رکھنا شروع کیا)۔ [مسند الحميدي/حدیث: 433]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، غير أنه منقطع، أبو الخليل صالح بن أبى مريم لم يسمع أبا قتادة، وأبو قزعة هو سويد بن حجير. . .ولكن أخرجه أحمده 308، 310 - 311، و مسلم فى الصيام 1162، وأبو داود فى الصوم 2426، والترمذي فى الصوم 752، وقد استوفيت تخريجه فى صحيح ابن حبان برقم 3631، 3632»
حدیث نمبر 434
حدیث نمبر: 434
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ امْرَأَةً أَظُنُّهَا امْرَأَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، يَشُكُّ سُفْيَانُ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ كَانَ يَأْتِيهِمْ فَيَتَوَضَّأُ عِنْدَهُمْ، فَيُصْغِي الإِنَاءَ لِلْهِرِّ، فَيَشْرَبُ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ سُؤْرِهَا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا أَنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، فَقَالَ: " إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَيْكُمْ" .
عبداللہ بن ابوقتادہ کی اہلیہ بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے، انہوں نے ان کے ہاں وضو کرنا چاہا تو انہوں نے اپنا برتن بلی کی طرف انڈیل دیا، بلی نے اس میں سے پانی پیا۔ ہم نے ان سے بلی کے جوٹھے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ یہ نجس نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”یہ تمہارے ہاں گھر میں آنے جانے والے جانوروں میں سے ایک ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 434]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف فيه جهالة، ولكن أخرجه مالك فى الطهارة 13، باب: الطهور للوضوء، من طريق إسحاق بن عبد الله بن أبى طلحة، عن حميدة بنت عبيد بن رفاعة، عن كبشة بنت كعب بن مالك وكالت تحت أبى قتادة -: أن أبا قتادة.... وهذا إسناد جيد وقد استوفينا تخريجه فى صحيح ابن حبان برقم 1299، وفي موارد الظمآن برقم 121»