مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 515
حدیث نمبر: 515
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ ، قَالَ: قِيلَ لابْنِ الْمُنْكَدِرِ : أَتَحُجُّ وَعَلَيْكَ دَيْنٌ؟ فَقَالَ: " الْحَجُّ أَقْضَى لِلدَّيْنِ" .
محمد بن سوقہ بیان کرتے ہیں: ابن منکدر سے کہا گیا: اگر آپ کے ذمے قرض ہو، تو کیا آپ حج کر لیں گے؟ انہوں نے جواب دیا: حج زیادہ بہتر طور پر قرض ادا کروا دے گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 515]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح إلى ابن منكدر وهو موقوف عليه وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 16114، 16115»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 516
حدیث نمبر: 516
حَدَّثنا سُفْيَانُ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: " أتَحُجُّ بِالصِّبْيَانِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، أَعْرِضُهُمْ عَلَى اللَّهِ" .
منکدر بن محمد اپنے والد کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ان سے دریافت کیا گیا: کیا آپ بچوں کو حج کروائیں گے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میں انہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کروں گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 516]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1336، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 3049، بدون ترقيم، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 144، 3797، 3798، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2644، 2645، 2646، 2647، 2648، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3611، 3612، 3613، 3614، 3615، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1736، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9805، 9806، 9807، 9808، وأحمد فى «مسنده» برقم: 1923، 1924، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2400»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 517
حدیث نمبر: 517
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" إِنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ النَّحْرِ وَالْفَضْلُ رِدْفُهُ، فَقَالَتْ: " إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرُ لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَمْسِكَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، فَهَلْ تَرَى أَنْ نَحُجَّ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ" . قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ حَدَّثَنَاهُ أَوَّلا، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَادَ فِيهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ يَنْفَعُهُ ذَلِكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، كَمَا لَوْ كَانَ عَلَى أَحَدِكُمْ دَيْنٌ فَقَضَاهُ"، فَلَمَّا جَاءَنَا الزُّهْرِيُّ، فَقَعَدَ بِهِ فَلَمْ يَقُلْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قربانی کے دن صبح سوال کیا اس وقت سیدنا فضل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، اس خاتون نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو حج فرض قرار دیا ہے، وہ میرے والد پر بھی لازم ہو گیا ہے، لیکن وہ عمر رسیدہ شخص ہیں، وہ سواری پر جم کر نہیں بیٹھ سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے؟ کیا میں ان کی طرف سے حج کر لو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ سفیان کہتے ہیں: عمرو بن دینار نے یہ روایت پہلے زہری کے حوالے سے سلیمان بن یسار کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ہمیں سنائی تھی اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا اس چیز کا انہیں فائدہ ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں! جس طرح اگر کسی شخص کے ذمے قرض ہو اور وہ اسے ادا کر دے۔“ جب زہری ہمارے پاس آئے، تو میں نے ان الفاظ کو مفقود پایا، انہوں نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 517]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1513، 1852، 1853، 1855، 4399، 6228، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1334، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1317، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 3031، 3032، 3033، 3035، 3036، 3042، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3989، 3990، 3992، 3993، 3994، 3995، 3996، 3997، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2633، 2634، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3600، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1809، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1875، 1876، 1877، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2904، 2907، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2351، 2384»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 518
حدیث نمبر: 518
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرٌو ، قَالَ: أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهُوَ الطَّعَامُ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُسْتَوْفَى" ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: حَتَّى يُكَالَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بِرَأْيهِ وَلا أَحْسَبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلا مِثْلَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے، جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے، وہ ایسا اناج ہے، جسے پورا (ناپنے) سے پہلے فروخت کر دیا جائے۔ یہاں سفیان نامی راوی نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”یہاں تک کہ اسے ناپ لیا جائے۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنی رائے یہ بیان کی ہے: ”میں یہ سمجھتا ہوں، ہر چیز کا حکم اس کی مانند ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 518]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2132، 2135، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1525، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4980، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4601، 4612، 4613، 4614، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6145، 6146، 6147، 6148، 6149، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3496، 3497، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1291، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2227، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1872»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 519
حدیث نمبر: 519
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرٌو ، قَالَ: قُلْتُ لِطَاوُسٍ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! لَوْ تَرَكْتَ الْمُخَابَرَةَ، فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا، فَقَالَ: أَيْ عَمْرُو أَخْبَرَنِي أَعْلَمُهُمْ بِذَلِكَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا، وَلَكِنْ قَالَ: " لأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهِ خَرْجًا مَعْلُومًا" ، وَإِنَّ مُعَاذًا حِينَ قَدِمَ الْيَمَنَ أَقَرَّهُمْ عَلَيْهَا، وَإِنِّي أَيْ عَمْرٌو أُعِينُهُمْ وَأُعْطِيهِمْ، فَإِنْ رَبِحُوا فَلِي وَلَهُمْ وَإِنْ نَقَصُوا، فَعَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ وَإِنَّ الْحَيْقَلَةَ فِي الأَنْصَارِ، فَسَلْ عَنْهَا، فَسَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ رِفَاعَةَ، فَقَالَ: هِيَ الْمُخَابَرَةُ.
عمرو نامی راوی کہتے ہیں: میں نے طاؤس سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! اگر آپ (زمین کو) ٹھیکے پر دینا ترک کر دیں (تو یہ مناسب ہو گا)، کیونکہ لوگوں نے یہ بات بیان کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے، تو طاؤس بولے: اے عمرو! جو صاحب ان سب لوگوں سے زیادہ علم رکھتے ہیں، طاؤس کی مراد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے، انہوں نے مجھے یہ بات بتائی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا: ”کوئی شخص اپنے کسی بھائی کو اپنی زمین (بلا معاوضہ) دے دے، یہ اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ اس سے اس کا متعین معاوضہ وصول کرے۔“ پھر طاؤس نے بتایا: جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یمن تشریف لائے تھے، تو انہوں نے وہاں کے لوگوں کو اس طرز عمل پر باقی رہنے دیا تھا۔ عمرو کہتے ہیں: میں ان لوگوں کی مدد کرتا ہوں اور انہیں عطیہ دیتا ہوں، اگر انہیں فائدہ ہو، تو وہ مجھے بھی ملتا ہے اور انہیں بھی ملتا ہے، اگر پیداوار میں کمی ہو جائے، تو اس کا نقصان بھی برداشت کرتا ہوں، اور وہ لوگ بھی کرتے ہیں۔ حقلہ کا رواج انصار میں تھا۔ تم اس بارے میں دریافت کرو۔ (راوی کہتے ہیں:) میں نے علی بن رفاعہ سے اس کے بارے میں دریافت کیا، تو وہ بولے: یہ مخابرہ ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 519]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2330، 2342، 2634، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1550، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5195، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3876، 3882، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4580، 4586، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3389، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1385، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2456، 2457، 2462، 2463، 2464، وأحمد فى «مسنده» برقم: 2117، 2118، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 14464»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 520
حدیث نمبر: 520
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ الدَّارِيِّ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسَلِّفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلاثَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَسْلَفَ، فَلْيُسْلِفْ فِي تَمْرٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ، وَكَيْلٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو وہاں کے لوگ کھجوروں میں دو یا تین سال کے لیے بیع سلف کر لیتے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بیع سلف کرنی ہو وہ کھجوروں کی متعین تعداد اور متعین وزن یا متعین ناپ میں متعین مدت تک کے لیے بیع سلف کرے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 520]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2239، 2240، 2241، 2253، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1604، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4925، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4630، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6166، 11712، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3463، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1311، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2625، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2280، وأحمد فى «مسنده» برقم: 1893، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2407»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 521
حدیث نمبر: 521
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، وَفِطْرٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الطُّفَيْلِ ، يَقُولُ: قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ :" أَنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَإِنَّهَا سُنَّةٌ"، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا , أَرَادَ فِطْرًا: صَدَقُوا قَدْ رَمَلَ، وَكَذَبُوا: لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ .
ابو طفیل بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کی قوم کے افراد یہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا رمل کیا تھا، اور صفا اور مروہ کا بھی رمل کیا تھا، یہ سنت ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ان لوگوں نے کچھ بات ٹھیک کہی ہے اور کچھ غلط کہی ہے۔ فطر نامی راوی نے یہ الفاظ مزید نقل کیے ہیں کہ انہوں نے یہ بات سچ کہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا تھا، انہوں نے یہ بات غلط کہی ہے، یہ سنت نہیں ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 521]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1602، 1649، 4256، 4257، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1264، 1266، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2707، 2719، 2720، 2777، 2779، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3811، 3812، 3814، 3841، 3845، 6531، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2945، 2979، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3927، 3928، 3959، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1885، 1886، 1889، والترمذي فى «جامعه» برقم: 863، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2953، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1946، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2339، 2574»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 522
حدیث نمبر: 522
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ:" أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ بِعَرَفَةَ، فَوَجَدْتُهُ يَأْكُلُ رُمَّانًا، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ لَعَلَّكَ صَائِمٌ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَصُمْ هَذَا الْيَوْمَ" .
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: میں عرفہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں نے انہیں انار کھاتے ہوئے دیکھا، وہ بولے: آگے آؤ اور تم بھی کھاؤ! شاید تم نے روزہ رکھا ہوا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ نہیں رکھا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 522]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3605، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2827، والترمذي فى «جامعه» برقم: 750، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1895، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2744»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 523
حدیث نمبر: 523
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرٌو ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حُنَيْنٍ مَوْلَى آلِ الْعَبَّاسِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَتَعَجَّبُ مِمَّنَ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ بِالصِّيَامِ، وَيَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمُوهُ، فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ، فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاثِينَ" .
محمد بن حنین بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سنا۔ وہ اس شخص پر حیرانگی کا اظہار کر رہے تھے، جو رمضان کا مہینہ شروع کرنے سے ایک دن پہلے ہی روزہ رکھنا شروع کر دیتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب تم اسے (پہلے چاند کو) دیکھ لو تو روزے رکھنا شروع کرو، اور جب تم اسے دیکھو تو روزے رکھنا ختم کر دو، اور اگر تم پر بادل چھائے ہوئے ہوں، تو تم تیس کی تعداد مکمل کر لو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 523]
تخریج الحدیث: «الحديث صحيح وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم:، وابن الجارود فى "المنتقى" برقم: 412، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1912، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3590، 3594، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2123، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2327، والترمذي فى «جامعه» برقم: 688، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1956»
الحكم على الحديث:
الحديث صحيح
حدیث نمبر 524
حدیث نمبر: 524
الحميدي، حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ عَامَ الْفَتْحِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْكَدِيدَ أَفْطَرَ ، قَالَ: وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالآخِرِ مِنْ فِعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ سُفْيَانُ: لا أَدْرِي، قَالَهُ الزُّهْرِيُّ: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَوْ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کدید کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری طرز عمل کو اختیار کیا جاتا تھا۔ سفیان کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ زہری نے یہ الفاظ عبید اللہ کے حوالے سے نقل کیے ہیں، یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیے ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 524]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1944، 1948، 2953، 4275، 4276، 4277، 4279، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1113، ومالك فى «الموطأ» برقم:، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2035، 2036، وابن حبان فى «صحيحه» 3555،3563، 3564، 3566، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2286، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2404، 3021، 3022، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1749، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1661، وأحمد فى «مسنده» برقم: 1917، و أبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2527»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح