مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 525
حدیث نمبر: 525
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَالِيَهُودُ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ:" مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ؟" , قَالَ: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ أَنْجَى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ فِيهِ، فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَنَحْنُ أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ، فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصَيَامِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو یہودی عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم لوگ اس دن کیوں روزہ رکھتے ہو؟“ انہوں نے بتایا: یہ وہ عظیم دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نجات عطا کی تھی اور فرعون کے لشکریوں کو اس دن ڈبو دیا تھا، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے شکر کے طور پر اس دن روزہ رکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کے مقابلے میں ہم سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب ہیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 525]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2004، 3397، 3943، 4680، 4737، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1130، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2084، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3625، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2847، 2848، 2849، 11173، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2444، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1800، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1734، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2567، وأحمد فى «مسنده» برقم: 2688، برقم: 2876»
حدیث نمبر 526
حدیث نمبر: 526
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، فَإِنْ قُدِّرَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ لَمْ يَضُرَّهِ الشَّيْطَانُ شَيْئًا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھ لے: ’اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے، اے اللہ تو ہمیں شیطان سے دور رکھ اور جو رزق (یعنی اولاد) تو ہمیں عطا کرے گا، اسے بھی شیطان سے دور رکھ۔‘ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں): اگر ان کی تقدیر میں (اس صحبت کے نتیجے میں) اولاد ہوئی تو شیطان اسے کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 526]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 141، 3271، 3283، 5165، 6388، 7396، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1434، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 983، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8981، 8982، 10024، 10025، 10026، 10027، 10028، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2161، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1092، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2258، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1919»
حدیث نمبر 527
حدیث نمبر: 527
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا فَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ثیبہ عورت اپنے ولی کے مقابلے میں اپنی ذات کی زیادہ حقدار ہے اور کنواری سے اس کی ذات کے بارے میں مرضی معلوم کی جائے گی، اس کی خاموشی اس کا اقرار ہو گی۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 527]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1421، ومالك فى «الموطأ» برقم:، وابن الجارود فى "المنتقى"، برقم: 769، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4084، 4087، 4088، 4089، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3260، 3261، 3262، 3263، 3264، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5351، 5352، 5353، 5354، 5355، 5370، 5371، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2098، 2100، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1108، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2234، 2235، 2236، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1870»
حدیث نمبر 528
حدیث نمبر: 528
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ :" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلا حِينَ لاعَنَ بَيْنَ الْمُتَلاعِنَيْنِ، أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فِيهِ عِنْدَ الْخَامِسَةِ" . وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: فِيهِ فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان لعان کروایا، تو جب وہ شخص پانچویں مرتبہ جملہ کہنے لگا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دے۔ سفیان نامی راوی نے اس روایت میں بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”بے شک یہ (پانچواں جملہ) واجب کر دے گا (یعنی جھوٹا ہونے کی صورت میں عذاب کو لازم کر دے گا)۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 528]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح ووالنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3472، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5636، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2255، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15439»
حدیث نمبر 529
حدیث نمبر: 529
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ , أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يَقُولُ: ذَكَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْمُتَلاعِنَيْنِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ: أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا؟" , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لا تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتْ .
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے لعان کرنے والے میاں بیوی کا تذکرہ کیا، تو عبداللہ بن شداد نے ان سے کہا: کیا یہی وہ عورت تھی جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا: ”اگر میں نے کسی ثبوت کے بغیر کسی کو سنگسار کرنا ہوتا، تو اس عورت کو سنگسار کروا دیتا۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بولے: نہیں، ”وہ عورت تو اعلانیہ (گناہ کیا کرتی تھی)۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 529]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5310، 5316، 6855، 6856، 7238، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1497، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3467، 3470، 3471، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5635، 7295، 7296، وابن ماجه فى «سننه» ، برقم: 2560»
حدیث نمبر 530
حدیث نمبر: 530
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضُ لِيَلْبَسْهَا أَحْيَاؤُكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَخَيْرُ أكِحَالِكُمُ الإِثْمَدُ , إِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر سفید کپڑے ہیں۔ تمہارے زندہ لوگوں کو وہی پہننے چاہئیں اور اسی میں تم اپنے مردوں کو کفن دو، اور تمہارے سرموں میں سب سے بہتر اثمد ہے کیونکہ وہ بینائی کو تیز کرتا ہے اور بال اگاتا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 530]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5423، 6072، 6073، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5128، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9344، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3878، 4061، والترمذي فى «جامعه» برقم: 994، 1757، 1757 م، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1472، 3497، 3499، 3566»
حدیث نمبر 531
حدیث نمبر: 531
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَوْ غَضَّ النَّاسُ فِي الْوَصِيَّةِ إِلَى الرُّبْعِ لَكَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الثُّلُثُ , وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اگر لوگ وصیت کے بارے میں ایک چوتھائی حصے پر اکتفاء کریں، تو یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہو گا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ”ایک تہائی (کے بارے میں وصیت کرنے کی اجازت ہے) ویسے ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 531]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2743، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1629، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3636، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6428، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2711، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12697، وأحمد فى «مسنده» برقم: 2062، 2106، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31559، والطبراني فى "الكبير" برقم: 10719»
حدیث نمبر 532
حدیث نمبر: 532
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْضِهِ عَنْهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نذر کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا: جو ان کی والدہ کے ذمے لازم تھی، اور ان کی والدہ کا اس نذر کو پورا کرنے سے پہلے انتقال ہو گیا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے اسے ادا کر دو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 532]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2761، 6698، 6959، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1638، ومالك فى «الموطأ» برقم:، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4393، 4394، 4395، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3661، 3662، 3664، 3665، 3826، 3827، 3828، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4740، 4741، 4742، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3307، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1546، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2132، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8330، 12757، 20204، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1918، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 2840، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2383، 2683، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 12206، 12737، 12738»
حدیث نمبر 533
حدیث نمبر: 533
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرٌو ، عَنْ عَوْسَجَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَجُلا مَاتَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا إِلا عَبْدًا هُوَ أَعْتَقَهُ، فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کا انتقال ہوا، اس نے ورثاء میں صرف ایک غلام چھوڑا جسے اس نے آزاد کیا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی وراثت اس غلام کو دے دی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 533]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة" برقم: 41، 42، 43، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8105، 8106، 8107، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6376، 6377، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2905، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2106، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2741، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12522، 12523، 12524، وأحمد فى «مسنده برقم: 1955، برقم: 3434، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2399»
حدیث نمبر 534
حدیث نمبر: 534
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ عَنْ تِسْعٍ وَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی 9 ازواج تھیں، جن میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم 8 ازواج کے لیے وقت تقسیم کیا کرتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 534]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5067، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1465، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 6888، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3196، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5285، 8875، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6951، 13560، 14849، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 2072، برقم: 3321، 3323»