🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 535
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 535
سَمِعْتُ عَبْدَ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُنْفَخَ فِي الإِنَاءِ أَوْ يُتَنَفَّسَ فِيهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ برتن میں پھونک ماری جائے یا اس میں سانس لی جائے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 535]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5629، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2552، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5316، 5399، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1634، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4460، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4522، 6837، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3719، 3728، 3786، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1825، 1888، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2018، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3288، 3421، 3428، 3429، 3430، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10440، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1932، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2402، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 20216، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1932، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2402»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 536
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 536
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الأَحْوَلُ ، وَكَانَ ثِقَةً، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: يَوْمُ الْخَمِيسِ! وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ الْحَصَى، فَقِيلَ لَهُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ قَالَ: اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ، فَقَالَ:" ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا، فَتَنَازَعُوا وَلا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ"، فَقَالَ: مَا شَأْنُهُ؟ أَهَجَرَ؟ اسْتَفْهِمُوهُ فَرَدُّوا عَلَيْهِ، فَقَالَ:" دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ"، قَالَ: وَأَوْصَاهُمْ بِثَلاثٍ، فَقَالَ:" أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ" . قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ سُلَيْمَانُ: لا أَدْرِي أَذَكَرَ سَعِيدٌ الثَّالِثَةَ، فَنَسِيتُهَا أَوْ سَكَتَ عَنْهَا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جمعرات کا دن بھی کیا تھا؟ پھر وہ رونے لگے، یہاں تک کہ ان کے آنسو زمین پر گرنے لگے۔ ان سے کہا گیا: اے ابوعباس! جمعرات کے دن کیا ہوا تھا؟ تو انہوں نے بتایا: جمعرات کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس کوئی چیز لے آؤ تاکہ میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں تم اس کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ (سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں) تو حاضرین میں اس بارے میں اختلاف ہو گیا، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اس طرح کا اختلاف مناسب نہیں ہے۔ کسی صاحب نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا معاملہ ہے؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات غیر واضح ہے، تم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو۔ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ یہی سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم مجھے ایسے ہی رہنے دو۔ میں جس حالت میں ہوں یہ اس سے زیادہ بہتر ہے، جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو تین باتوں کی تلقین کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جزیرہ عرب سے مشرکین کو نکال دو، اور وفود کی اسی طرح مہمان نوازی کرو، جس طرح میں ان کی مہمان نوازی کیا کرتا تھا۔ سفیان کہتے ہیں: سلیمان نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، مجھے یہ نہیں معلوم کہ سعید نامی راوی نے تیسری بات ذکر کی تھی، اور میں اسے بھول گیا ہوں، یا انہوں نے تیسری بات ذکر ہی نہیں کی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 536]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 114، 3053، 3168، 4431، 4432، 5669، 7366، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1637، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6597، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5821، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3029، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18815، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1960، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2409»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 537
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 537
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، وَكَانَ مِنَ الثِّقَاتِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ {16} إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 16-17" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قرآن نازل ہوا تھا تو آپ اس کو یاد رکھنے کے لیے اپنی زبان کو اس کے ساتھ حرکت دیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: «لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ» تم اس کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو، تاکہ تم اسے جلدی حاصل کر لو اس کو جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہمارے ذمے ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 537]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5، 4927، 4928، 4929، 5044، 7524، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 448، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 39، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 934، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1009، 7924، 11570، 11571، 11572، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3329، وأحمد فى «مسنده» برقم: 1935، برقم: 3252»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 538
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 538
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ يُعَجِّلُ بِهِ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ {16} إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 16-17 قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يَعْلَمُ خَتْمَ السُّورَةِ حَتَّى يُنْزِلَ عَلَيْهِ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ" .
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: (اس روایت میں راوی نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا تذکرہ نہیں کیا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قرآن نازل ہوتا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے یاد رکھنے کے لیے جلدی جلدی پڑھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: «لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ * إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ» تم اس لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو کہ تم جلدی اسے یاد کر لو، بے شک اس کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہمارے ذمے ہے۔ سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ ختم ہونے کا علم نہیں ہوتا تھا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» ۔ [مسند الحميدي/حدیث: 538]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وهو مرسل، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة" برقم: 336، 337، 338، 339، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 850، 851، 852، 4241، وأبو داود فى «سننه» برقم: 788، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2415، 2416، وأبو داود فى «المراسيل» ، برقم: 36»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 539
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 539
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَسَمِعْتُهُ يَذْكُرُ مَشْهَدًا شَهِدَهُ ثُمَّ يَتَنَفَّسُ وَيَبْكِي فِيهِ فُلانٌ , وَفُلانٌ , وَفُلانٌ , وَفُلانٌ , وَمِقْسَمٌ، فَقَالَ لَهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: كُلُّكُمْ سَمِعَ مَا يُقَالُ فِي الطَّعَامِ، فَقَالَ مِقْسَمٌ: حَدِّثِ الْقَوْمَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِ الطَّعَامِ، فَكُلُوا مِنْ نَوَاحِيهِ، وَلا تَأْكُلُوا مِنَ وَسَطِهِ" .
سفیان کہتے ہیں: عطاء بن سائب ایک مرتبہ ہمارے ساتھ گفتگو کر رہے تھے، میں نے انہیں ایک جنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا، جس میں وہ شریک ہوئے تھے، پھر انہوں نے گہرا سانس لیا اور رونے لگے کہ اس میں فلاں صاحب بھی تھے، فلاں صاحب بھی تھے، فلاں صاحب بھی تھے اور مقسم بھی تھے۔ تو سعید بن جبیر بولے: کیا تم میں سے ہر ایک نے وہ بات سنی ہے جو کھانے کے بارے میں کہی گئی ہے، تو مقسم نے کہا: اے ابوعبداللہ! حاضرین کو وہ بات بتا دیجیے، تو سعید بن جبیر بولے: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: بے شک برکت کھانے کے درمیان میں نازل ہوتی ہے، تو تم اس کے اطراف میں سے کھایا کرو اور اس کے درمیان سے نہ کھاؤ۔ [مسند الحميدي/حدیث: 539]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5245، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7211، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6729، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3772، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1805، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2090، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3277، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14728، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 2478، 2774، 3251، 3275، 3506، والحميدي فى «مسنده» برقم: 539، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 24947، 24948»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 540
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 540
حَدَّثنا سُفْيَان ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السُّوءِ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ، كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ہمارے لیے بری مثال مناسب نہیں ہے، اپنے ہبہ کو دوبارہ لینے والا اس کتے کی مانند ہے، جو اپنی قے کو دوبارہ چاٹ لیتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 540]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2589، 2621، 2622، 6975، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1622، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2474، 2475، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5121، 5122، 5123، 5126، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3692، 3693، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3538، 3539، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1298، 1299، 2132، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2377، 2385، 2391، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12135، 12136، 12141، 12142، 12143، 12144، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1897،وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2405، 2717»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 541
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 541
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ وَكُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا، وَلَيْسَ بِفَاعِلٍ، وَمَنْ تَحَلَّمَ كَاذِبًا عُذِّبَ وَكُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَلَيْسَ بِعَاقِدٍ، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" . قَالَ سُفْيَانُ: الآنُكُ الرَّصَاصُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو شخص تصویر بناتا ہے، اسے عذاب دیا جائے گا اور اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ اس میں روح پھونکے، حالانکہ وہ ایسا نہیں کر سکے گا، اور جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے گا، اسے عذاب دیا جائے گا اور اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ جو کے دو دانوں کے درمیان گرہ لگائے، اور وہ گرہ نہیں لگا سکے گا اور جو شخص چھپ کر کچھ لوگوں کی بات چیت سن لے جسے وہ لوگ پسند نہ کریں، تو قیامت کے دن اس شخص کے کانوں میں سیسہ ڈالا جائے گا۔ سفیان کہتے ہیں: روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ «آنُكُ» سے مراد سیسہ ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 541]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2225، 5963، 7042، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2110، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5685، 5686، 5846، 5848، 6057، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5373، 5374، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9697، 9698، 9700، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5024، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1751، 2283، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2750، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3916، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14684، 14687، 14694، وأحمد فى «مسنده» برقم: 1891»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 542
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 542
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ:" كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ، عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يَحْضُرَانِ الْفَتْحَ يُسْهَمْ لَهُمَا؟ وَعَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ، وَعَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيَتِيمِ؟ وَعَنْ ذَوِي الْقُرْبَى مَنْ هُمْ؟ فَقَالَ: اكْتُبِ يَا يَزِيدُ فَلَوْلا أَنْ يَقَعَ فِي أُحْمُوقَةٍ مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ، اكْتُبْ إِلَيَّ تَسْأَلُنِي عَنْ ذَوِي الْقُرْبَى مَنْ هُمْ؟ وَإِنَّا كُنَّا نَزْعُمُ أَنَّا هُمْ، وَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يَحْضُرَانِ الْفَتْحَ، هَلْ يُسْهَمُ لَهُمَا بِشَيْءٍ؟ وَإِنَّهُ لا يُسْهَمُ لَهُمَا، وَلَكِنْ يُحْذَيَانِ وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيَتِيمِ؟ وَأَنَّهُ لا يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيَتِيمِ حَتَّى يَبْلُغَ وَيُؤْنَسَ مِنْهُ رُشْدٌ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الصِّبْيَانِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْهُمْ، وَأَنْتَ لا تَقْتُلْهُمْ، إِلا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَى مِنَ الْغُلامِ الَّذِي قَتَلَهُ" .
یزید بن ہرمز بیان کرتے ہیں: نجدہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھ کر ان سے ایک عورت اور غلام کا مسئلہ دریافت کیا، جو فتح میں شریک ہوتے ہیں کیا ان دونوں کو حصہ ملے گا (اور جنگ کے دوران) بچوں کو قتل کرنے کے بارے میں دریافت کیا: اور یتیم کے بارے میں دریافت کیا۔ اس سے یتیم کا نام کب ختم ہو گا اور ذوی القربٰی کے بارے میں دریافت کیا: اس سے مراد کون لوگ ہیں تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اے یزید تم لکھو۔ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ وہ مزید حماقت کا شکار ہو جائے گا تو میں اسے خط لکھتا۔ تم یہ لکھو: تم نے مجھے خط لکھ کر مجھ سے یہ دریافت کیا ہے: ذوی القربٰی سے مراد کون ہے۔ ہم لوگ سمجھتے ہیں اس سے مراد ہم ہیں۔ لیکن ہماری قوم ہماری اس بات کو تسلیم نہیں کرتی۔ تم نے مجھ سے ایسی عورت اور غلام کے بارے میں دریافت کیا ہے، جو فتح میں شریک ہوتے ہیں کیا انہیں کوئی چیز ملے گی تو ان دونوں کو کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ البتہ انہیں ویسے عطیے کے طور پر کوئی چیز دے دی جائے گی۔ تم نے مجھ سے یتیم کے بارے میں دریافت کیا ہے۔ اس سے یتیم کا نام کب ختم ہو گا تو اس سے یتیم کا نام اس وقت تک ختم نہیں ہو گا، جب تک وہ بالغ نہیں ہو جاتا اور اس سے سمجھداری کے آثار ظاہر نہیں ہوتے۔ تم نے مجھ سے (جنگ کے دوران) بچوں کو قتل کرنے کے بارے میں دریافت کیا ہے: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بچوں کو قتل نہیں کیا اور تم بھی انہیں قتل نہیں کر سکتے ماسوائے اس صورت کے کہ تمہیں ان بچوں کے بارے میں ویسا ہی علم ہو جیسا علم سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی سیدنا خضر علیہ السلام کو اس لڑکے کے بارے میں تھا، جسے انہوں نے قتل کر دیا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 542]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1812، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4824، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4144، 4145، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4419، 4420، 8563، 11513، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2727، 2728، 2982، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1556، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2514، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1992، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2550، 2630، 2631، 2739»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 543
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 543
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةِ ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ ابْنَ عَبَّاسِ أَنَّ عَلِيًّا أَحْرَقَ الْمُرْتَدِّينَ يَعْنِي الزَّنَادِقَةَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَقَتَلْتُهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ"، وَلَمْ أَحْرِقْهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللَّهِ" . قَالَ سُفْيَانُ: فَقَالَ عَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ مَجْلِسِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: وَأَيُّوبُ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، إِنَّ عَلِيًّا لَمْ يَحْرِقْهُمْ إِنَّمَا حَفَرَ لَهُمْ أَسْرَابًا، وَكَانَ يُدَخِّنُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا حَتَّى قَتَلَهُمْ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: أَمَا سَمِعْتَ قَائِلَهُمْ وَهُوَ يَقُولُ: لِتَرْمِ بِيَ الْمَنَايَا حَيْثُ شَاءَتْ إِذَا لَمْ تَرْمِ بِي فِي الْحُفْرَتَيْنِ إِذَا مَا قَرَّبُوا حَطَبًا وَنَارًا هُنَاكَ الْمَوْتُ نَقْدًا غَيْرَ دَيْنِ.
عکرمہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اس بات کی اطلاع ملی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کچھ مرتد لوگوں یعنی کچھ زندیقوں کو جلا دیا ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بولے: اگر میں انہیں قتل کرتا ہوں، تو اس کی بنیاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: جو شخص اپنا دین تبدیل کرے، تو تم اسے قتل کر دو۔ لیکن میں انہیں جلاتا نہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ، وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب دینے کے طریقے کے مطابق عذاب دے۔ سفیان کہتے ہیں: عمار دہنی اس وقت اس محفل میں یعنی عمرو بن دینار کی محفل میں موجود تھے اور ایوب یہ حدیث بیان کر رہے تھے، تو عمار بولے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جلایا نہیں تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے گڑھے کھدوائے تھے اور اس پر انہیں دھواں دلوایا تھا، یہاں تک کہ انہیں اس طرح قتل کروایا تھا، تو عمرو بن دینار بولے: کیا تم نے ان کے قاتل کا یہ شعر نہیں سنا: آرزوئیں مجھے جہاں چاہیں پھینک دیں، جب وہ مجھے ان دو گڑھوں میں نہیں پھینکیں گی، جن کے قریب لکڑیاں اور آگ کو کر دیا گیا تھا، وہاں موت نقد مل رہی تھی۔ کوئی ادھار نہیں تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 543]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3017، 6922، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4475، 4476، 5606، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 6351، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4070، 4071، 4072، 4073، 4075، 4076، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3508، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4351، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1458، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2535، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16921، 16959، 16960، 16961، 16978، 18137»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 544
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 544
حَدَّثنا حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيَّ ، يَقُولُ:" سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ، عَنِ الْبَاذِقِ وَأَنَا وَاللَّهِ! أَوَّلُ الْعَرَبِ سَأَلَهُ، فَقَالَ: سَبَقَ مُحَمَّدٌ الْبَاذِقُ وَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ" .
ابو جویریہ جرمی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا وہ اس وقت خانہ کعبہ کے ساتھ پشت لگا کر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے باذق (شراب کی مخصوص قسم) کے بارے میں دریافت کیا: اللہ کی قسم میں وہ پہلا شخص تھا، جس نے ان سے یہ سوال کیا تھا، تو وہ بولے: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم باذق کے بارے میں فیصلہ دے چکے ہیں، جو چیز نشہ کرے وہ حرام ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 544]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5598، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5622، 5703، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5096، 5177، 6787، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17472، 17473، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 17014، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 24236، 36936، والطبراني فى "الكبير" برقم: 12694»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں