مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 551
حدیث نمبر: 551
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ" .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں بنے گا اور کافر، مسلمان کا وارث نہیں بنے گا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 551]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1588، 3058، 4282، 6764، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1351، 1614، ومالك فى «الموطأ» برقم:، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2985، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5149، 6033، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2962، 4200، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4241، 4242، 6337، 6338، 6339، 6340، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2010، 2909، 2910، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2107، والدارمي فى «مسنده» برقم: 3041، 3043، 3044، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2729، 2730، 2942، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22161»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 552
حدیث نمبر: 552
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، يَقُولُ: أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُطَمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: " هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى؟ إِنِّي لأَرَى الْفِتَنَ تَقَعُ خِلالَ بُيُوتِكُمْ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ" .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ ایک گھر سے جھانک کر دیکھا اور ارشاد فرمایا: ”کیا تم لوگ وہ دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں۔ میں فتنوں کو دیکھ رہا ہوں، جو تمہارے گھروں میں یوں گر رہے ہیں، جس طرح بارش کے قطرے گرتے ہیں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 552]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1878، 2467، 3597، 7060، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2885، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8644، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 22162، 22225، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 38282»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 553
حدیث نمبر: 553
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ كَمْ مَرَّةٍ لا أُحْصِيهِ لا أَعُدُّهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ:" سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ، وَكَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ حِينَ دَفَعَ؟ قَالَ: كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ؟ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ" . قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ هِشَامٌ: وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ.
ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا میں اس وقت ان کے پہلو میں موجود تھا، وہ عرفہ سے مزدلفہ آنے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر بیٹھے رہے تھے۔ (سوال یہ تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس رفتار سے چلے تھے؟ تو انہوں نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم درمیانی رفتار سے چلتے رہے تھے، جب کوئی بلندی آتی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفتار ذرا تیز کر دیتے تھے۔ سفیان نے ہشام کا یہ قول نقل کیا ہے نص کا لفظ عنق کے مقابلے میں ذرا زیادہ تیز رفتار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 553]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 139، 181، 1666، 1667، 1669، 1672، 2999، 4413، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1280، 1286، ومالك فى «الموطأ» برقم:، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 64، 973، 2824، 2844، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1594، 3857، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1715، 6597، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 608، 3011، 3018، 3023، 3024، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1592، 3993، 4000، 4004، 4005، 4006، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1921، 1923،1924، 1925، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1922، 1923، 1924، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3017، 3019، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 390، 9580، 9581، 9582، 9583، 9584، 9595، 9596، 9628، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1854، 22156،22163، 22170، 22174، 22175، 22179، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 658، 663، 670، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6722، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 14232، 15893»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 554
حدیث نمبر: 554
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى سَعْدٍ يَسْأَلُهُ عَنِ الطَّاعُونِ وَعِنْدَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، فَقَالَ أُسَامَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" هُوَ عَذَابٌ أَوْ رِجْزٌ أُرْسِلَ عَلَى أُنَاسٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، أَوْ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَهُوَ يَجِيءُ أَحْيَانًا، وَيَذْهَبُ أَحْيَانًا، فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا مِنْهُ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فِي أَرْضٍ فَلا تَدْخُلُوهَا" ، فَقَالَ عَمْرٌو: فَلَعَلَّهُ لِقَوْمٍ عَذَابٌ أَوْ رِجْزٌ وَلِقَوْمٍ شَهَادَةٌ. قَالَ سُفْيَانُ: فَأَعْجَبَنِي قَوْلُ عَمْرٍو هَذَا.
عامر بن سعد بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی خدمت میں طاعون کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوا تو اس وقت ان کے پاس سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یہ عذاب ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یہ سزا ہے، جو تم سے پہلے کچھ لوگوں کی طرف بھیجی گئی تھی۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجی گئی تھی، تو کبھی یہ آ جاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے، تو جب یہ کسی ایسی زمین میں واقع ہو جہاں تم موجود ہو، تو تم اس جگہ سے فرار اختیار کرتے ہوئے وہاں سے باہر نہ نکلو، اور جب تم کسی جگہ کے بارے میں اس کے بارے میں سنو تو تم اس جگہ میں داخل نہ ہو۔“ عمرو نامی راوی کہتے ہیں: ہو سکتا ہے یہ کسی قوم کے لیے عذاب اور گناہ ہو اور کسی دوسری قوم کے لیے شہادت ہو۔ سفیان کہتے ہیں: مجھے عمرو کی یہ بات بہت اچھی لگی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 554]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3473، 5728، 6974، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2218، ومالك فى «الموطأ» برقم: 674، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2952، 2954، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7481، 7482، 7483، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1065، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6653، 6654، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1555، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 728»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 555
حدیث نمبر: 555
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا لَمْ يَرْفَعْهُ؟ فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ: أَتَّقِيهِ أَحْيَانًا لِكَرَاهِيَةِ الصَّرْفِ؟ فَأَمَّا مَرْفُوعٌ فَهُوَ مَرْفُوعٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سودا ادھار میں ہوتا ہے۔“ ابوبکر حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان بعض اوقات اس حدیث کو ’مرفوع‘ حدیث کے طور پر نقل نہیں کرتے۔ ان سے اس بارے میں بات کی گئی تو وہ بولے: بعض اوقات میں بیع صرف کو ناپسند کرنے کی وجہ سے اس روایت کو بیان کرنے سے بچتا ہوں، باقی جہاں تک ’مرفوع‘ روایت کا تعلق ہے، تو یہ ’مرفوع‘ ہی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 555]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2178، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1596، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5023، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4594، 4595، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6128، 6129، 6130، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2622، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2257، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10606، 10607، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 22157»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 556
حدیث نمبر: 556
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، وَمَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالا: حَدَّثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا تَرَكْتُ بَعْدِي عَلَى أُمَّتِي، فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ" .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں نے اپنی امت کے لیے ایسی کوئی آزمائش نہیں چھوڑی جو مردوں کے لیے خواتین سے بڑھ کر ہو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 556]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5096، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2740، 2741، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5967، 5969، 5970، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9108، 9225، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2780، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3998، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13653، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 22160 برقم: 22245، وأبو يعلى فى «مسنده» ، برقم: 972»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 557
حدیث نمبر: 557
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، يَقُولُ: قِيلَ لأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ : أَلا تُكَلِّمُ عُثْمَانَ؟ فَقَالَ: تَرَوْنَ أَنِّي لا أُكَلِّمُهُ إِلا أَسْمَعَكُمْ؟ إِنِّي لأُكَلِّمُهُ دُونَ أَنْ أَفْتَحَ بَابًا أَكُونُ أَوَّلَ مَنْ فَتَحَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا إِنِّي لا أَقُولُ لِرَجُلٍ إِنْ كَانَ عَلَيَّ أَمِيرًا أَنَّهُ خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ شَيْءٍ، سَمِعْتُه مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يُؤْتَى بِرَجُلٍ كَانَ وَالِيًا، فَيُلْقَى فِي النَّارِ، فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُهُ، فَيَدُورُ فِي النَّارِ كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِالرَّحَا، فَيُجْمَعُ إِلَيْهِ أَهْلُ النَّارِ، فَيَقُولُونَ: أَلَسْتَ كُنْتَ تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ؟ فَيَقُولُ: كُنْتُ آمُرُكُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَلا آتِيهِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ" .
ابو وائل بیان کرتے ہیں: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات نہیں کریں گے، تو وہ بولے: تم یہ سمجھتے ہو کہ میں جب ان کے ساتھ بات کروں گا، تو تمہیں سنا کر کروں گا۔ حالانکہ میں ان کے ساتھ بات کروں گا، لیکن یوں کہ میں کسی دروازے کو کھولنے والا پہلا فرد نہیں ہوں گا۔ پھر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بتایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ایک بات سنی ہے تو اس کے بعد میں کسی ایسے شخص کے بارے میں جو میرا امیر ہو یہ نہیں کہوں گا کہ یہ سب سے بہتر ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”(قیامت کے دن) ایک شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں حکمران تھا تو اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا تو اس کی آنتیں اپنی جگہ سے نکل آئیں گی اور وہ جہنم میں یوں چکر کھائے گا، جس طرح گدھا چکی کے گرد چکر لگاتا ہے تو اہل جہنم اس کے پاس اکٹھے ہو کر کہیں گے: تم تو نیکی کا حکم دیا کرتے تھے؟ اور تم ہمیں برائی سے روکتے نہیں تھے؟ تو وہ کہے گا: میں تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیا تھا لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتا تھا۔ اور میں تمہیں برائی سے منع کرتا تھا، لیکن خود اس کا ارتکاب کیا کرتا تھا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 557]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3267، 7098، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2989، 2989، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7102، والبيهقي فى «سننه الكبير» 20266، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 22198، 22208، 22214، 22234»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 558
حدیث نمبر: 558
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ أَحَدُهُمَا: أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ ، وَقَالَ الآخَرُ: أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ ، عَنْ أُسَامَةَ ، وَكَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، قَالَ: دُفِعْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ فَلَمَّا أَتَى الشِّعْبَ نَزَلَ، فَبَالَ وَلَمْ يَقُلْ هَرَاقِ الْمَاءَ، ثُمَّ آتَيْتُهُ بِالإِدَاوَةِ، فَتَوَضَّأَ وَضُوءًا خَفِيفًا، فَقُلْتُ: الصَّلاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الصَّلاةُ أَمَامَكُمْ"، فَلَمَّا أَتَى جَمْعًا صَلَّى صَلاةَ الْمَغْرِبِ، ثُمَّ حَطُّوا رْحَالَهُمْ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ . قَالَ سُفْيَانُ: لَمْ يَخْتَلِفْ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ وَمُحَمَّدٌ فِي شَيْءٍ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ، إِلا أَنَّ ذَا قَالَ كُرَيْبٌ , عَنْ أُسَامَةَ , وَقَالَ: هَذَا كُرَيْبٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عرفہ سے مزدلفہ جانے تک سیدنا اسامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفہ سے روانہ ہوا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹی کے پاس تشریف لائے تو آپ سواری سے اترے۔ وہاں آپ نے پیشاب کیا۔ یہاں راوی نے پانی بہانے کا ذکر نہیں کیا۔ پھر میں برتن لے کر آپ کے پاس آیا تو آپ نے مختصر وضو کیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نماز ادا کریں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز آگے ہو گی۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ تشریف لے آئے وہاں آپ نے مغرب کی نماز ادا کی پھر لوگوں نے اپنے پالان اتارے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کی۔ سفیان کہتے ہیں: ابراہیم بن عقبہ اور محمد نامی راوی نے اس روایت کی کسی بھی چیز میں اختلاف کیا ہے، ایک راوی کہتا ہے: یہ کریب کے حوالے سے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، جبکہ دوسرا راوی یہ کہتا ہے: کریب کے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 558]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 139، 181، 1666، 1667، 1669، 1672، 2999، 4413، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1280، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1465 وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 64، 973، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1594 برقم: 3857، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 608، 3011، 3018»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح