مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 629
حدیث نمبر: 629
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا حَسَدَ إِلا فِي اثْنتَيْنِ: رَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ، فَهُوَ يَقُومُ بَهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ مَالا، فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ" .
سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”رشک صرف دو طرح کے آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم عطا کیا ہو اور وہ رات دن اس کے ساتھ قائم رہتا ہو (یعنی اسے پڑھتا ہو اور اس کی تعلیم دیتا ہو) ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا ہو اور وہ رات دن اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتا رہتا ہو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 629]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5025، 7529، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 815، 815، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 125، 126، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8018، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1936، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4209، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7920، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4639 برقم: 5019، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5417، 5478، 5543»
حدیث نمبر 630
حدیث نمبر: 630
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ" .
سالم بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم لوگ سوتے وقت اپنے گھروں میں آگ جلتی ہوئی نہ چھوڑا کرو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 630]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6293، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2015، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7860، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5246، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1813، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3769، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4603 برقم: 4635 برقم: 5123 برقم: 5496، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5434، 5486، 5531»
حدیث نمبر 631
حدیث نمبر: 631
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَاهُ وَاللَّهِ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لا جُنَاحَ فِي قَتْلِهِنَّ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ" . فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: إِنَّ مَعْمَرًا يَرْوِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ؟ فَقَالَ: حَدَّثَنَا وَاللَّهِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، مَا ذَكَرَ عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ.
سالم بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پانچ قسم کے جانور ایسے ہیں، حل یا حرم میں انہیں قتل کرنے والے کو کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ کوا، چیل، بچھو، چوہا اور باؤلا کتا۔“ سفیان سے کہا گیا: معمر نے یہ روایت زہری کے حوالے سے عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے، تو وہ بولے: اللہ کی قسم! زہری نے یہ روایت سالم کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے نقل کی ہے۔ انہوں نے عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسے نقل نہیں کیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 631]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1826، 1827، 1828، 3315، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1199، 1200، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3961، 3962، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2828، 2830، 2832، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1846، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1857، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3088، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10150، 10151، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4547، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5428، 5497، 5544، 5810»
حدیث نمبر 632
حدیث نمبر: 632
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ، وَذَا الطُّفْيَتَيْنَ، وَالأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ" . قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا، فَأَبْصَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ ، أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً، فَقَالَ:" إِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ" . قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ الزُّهْرِيُّ أَبَدًا يَقُولُ فِيهِ: زَيْدٌ، أَوْ أَبُو لُبَابَةَ.
سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دودھاریوں والے اور دم کٹے ہوئے سانپوں کو مار دو۔ کیونکہ یہ بینائی زائل کر دیتے ہیں اور حمل ضائع کر دیتے ہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو سانپ ملتا تھا وہ اسے مار دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ یا سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا۔ وہ ایک سانپ تلاش کر رہے تھے، تو وہ بولے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: زہری ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے یا شاید سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 632]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3297، 3310، 3312، 4016، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2233، ومالك فى «الموطأ» برقم: 3579، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5638، 5639، 5642، 5643، 5645، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5252، 5253، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1483، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3535، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4646، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5429، 5493، 5498، 5540»
حدیث نمبر 633
حدیث نمبر: 633
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الشُّؤْمُ فِي ثَلاثٍ: فِي الْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالدَّارِ" . فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّهُمْ يَقُولُونَ فِيهِ: عَنْ حَمْزَةَ؟ قَالَ سُفْيَانُ: مَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ذَكَرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ حَمْزَةَ قَطُّ.
سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے گھوڑے، عورت اور گھر میں۔“ حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان سے یہ کہا گیا: دیگر محدثین نے اس روایت میں یہ بات ذکر کی ہے کہ یہ روایت حمزہ سے منقول ہے، تو سفیان بولے: میں نے زہری کو اس روایت میں کبھی بھی حمزہ کا تذکرہ کرتے ہوئے نہیں سنا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 633]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2099، 2858، 5093، 5094، 5753، 5772، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2225، ومالك فى «الموطأ» برقم: 3566، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3570، 3571، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3922، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2824 م 1، 2824 م 2، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 86، 1995، 3540، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10849، 10850، 14346، 16620، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4633»
حدیث نمبر 634
حدیث نمبر: 634
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهُ، وَنَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ" . قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَأَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا" .
سالم اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کے پک کر تیار ہونے سے پہلے اسے فروخت کرنے سے منع کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے عوض میں پھل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کے بارے میں اجازت دی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 634]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1486، 2173، 2183، 2184، 2188، 2192، 2194، 2380، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1534، ومالك فى «الموطأ» برقم: 2289، 2296، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4981، 4989، 4991، 5001، 5004 5005، 5009، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3931، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3362، 3367، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1300، 1300 م، 1302، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2597، 2600، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2214، 2268، 2269، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10675، 10676، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4576»
حدیث نمبر 635
حدیث نمبر: 635
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَيْهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ , وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قرْنٍ" ,
سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں گے اہل شام حجفہ سے احرام باندھیں گے اور اہل نجد قرن سے احرام باندھیں گے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 635]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 133، 1522، 1525، 1527، 1528، 7344، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1182، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1186، 1187، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3759، 3760، 3761، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2650، 2651، 2654، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1737، والترمذي فى «جامعه» برقم: 831، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1831، 1832، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2914، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8998، 8999، 9000، 9001، 9002، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4541»
حدیث نمبر 636
حدیث نمبر: 636
وَذُكِرَ لَي وَلَمْ أَسْمَعْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَيْهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: مجھے یہ بات بتائی گئی ہے، ویسے میں نے خود یہ بات نہیں سنی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اہل یمن یلملم سے احرام باندھیں گے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 636]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وانظر الحديث السابق»
حدیث نمبر 637
حدیث نمبر: 637
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: " أَلا إِنَّ اللَّهَ يَنْهاَكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ" . فَقَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ! مَا حَلَفْتُ بِهَا بَعْدُ، ذَاكِرًا وَلا آثِرَا، قَالَ سُفْيَانُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، وَكَانَ بَصِيرًا بِالْعَرَبِيَّةِ، يَقُولُ: وَلا آثِرًا آثُرَهُ عَنْ غَيْرِي أُخْبَرُ عَنْهُ أَنَّهُ حَلَفَ بِهَا.
سالم بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی قسم اٹھاتے ہوئے سنا: تو ارشاد فرمایا: خبردار اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو اس بات سے منع کیا ہے کہ تم لوگ اپنے آباؤ اجداد کی قسم اٹھاؤ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! اس کے بعد میں نے جان بوجھ کر یا بھول کر کبھی بھی (باپ دادا کے نام کی) قسم نہیں اٹھائی۔
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نے یہ بات بیان کی ہے محمد بن عبدالرحمٰن کو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا: جو عربی زبان پر بڑا عبور رکھتے تھے وہ یہ کہتے ہیں: روایت کے الفاظ «ولا آثرا» کا مطلب یہ ہے کہ یعنی میں نے کسی دوسرے کو بھی ایسا نہیں کرنے دیا جس کے بارے میں یہ بتایا گیا، کہ اس نے یہ قسم اٹھائی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 637]
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نے یہ بات بیان کی ہے محمد بن عبدالرحمٰن کو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا: جو عربی زبان پر بڑا عبور رکھتے تھے وہ یہ کہتے ہیں: روایت کے الفاظ «ولا آثرا» کا مطلب یہ ہے کہ یعنی میں نے کسی دوسرے کو بھی ایسا نہیں کرنے دیا جس کے بارے میں یہ بتایا گیا، کہ اس نے یہ قسم اٹھائی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 637]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2679، 3836، 6108، 6646، 6647، 6648، 7401، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1646، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1750، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4359، 4360، 4361، 4362، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3773، 3774، 3775، 3776 وأبو داود فى «سننه» برقم: 3249، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1533، 1534، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2386، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2094، 2101، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19880، 19881، 19882، 19883، 19884، 19885، 19886، 19892، 20781، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 113 برقم: 247»
حدیث نمبر 638
حدیث نمبر: 638
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعَ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الإِيمَانِ" .
سالم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری کو سنا جو اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک حیا ایمان کا حصہ ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 638]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 24، 6118، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 36، ومالك فى «الموطأ» برقم: 3360، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 610، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5048، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4795، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2615، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 58، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4643 برقم: 5279 برقم: 6452، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5424»