🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 649
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 649
قَالَ سُفْيَانُ : وَسَمِعْتُ مَعْمَرًا يُحَدِّثُهُ بَعْدُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عُرْوَةَ إِنَّمَا هُوَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ مَعْمَرٌ: إِنَّا عَرَضْنَاهُ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: هَذَا مِمَّا عَرَضْنَاهُ.
سفیان کہتے ہیں: میں نے معمر کو سنا انہوں نے یہ روایت زہری کے حوالے سے سالم کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی، تو میں نے ان سے کہا: اے ابوعروہ! یہ روایت تو ابوبکر بن عبیداللہ کے حوالے سے منقول ہے۔ تو معمر بولے: ہم نے یہ روایت ان کے سامنے پیش کی تھی بعض اوقات سفیان یہ کہتے ہیں: یہ ان روایات میں سے ایک ہے، جو ہم نے ان کے سامنے پیش کی تھیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 649]
تخریج الحدیث: «أخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19541، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 24924»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 650
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 650
حَدَّثنا حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، قَالَ: بَعَثَنِي أَبِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ بِغَيْرِ إِذْنٍ، فَعَلَّمَنِي، فَقَالَ: " إِذَا جِئْتَ فَاسْتَأْذِنْ، فَإِذَا أُذِنَ لَكَ فَسَلِّمْ إِذَا دَخَلْتَ" . وَمَرَّ ابْنُ ابْنِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَافِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ جَدِيدٌ يَجُرُّهُ، فَقَالَ لَهُ: أَيْ بُنَيَّ ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاءَ" .
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: میرے والد نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بھیجا تو میں اجازت لیے بغیر ان کے ہاں اندر چلا گیا انہوں نے مجھے تعلیم دی اور فرمایا: جب تم آؤ تو پہلے اندر آنے کی اجازت لو، اگر تمہیں اجازت مل جائے، تو اندر داخل ہو کر تم سلام کرو۔ اسی دوران سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا پوتا عبداللہ بن واقد وہاں سے گزرا اس نے نیا لباس پہنا ہوا تھا، اور وہ دامن لٹکا کر چل رہا تھا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: اے میرے بیٹے! تم اپنے تہبند کو اوپر کرو، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں کرتا جو اپنے کپڑے کو تکبر کے طور پر لٹکاتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 650]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3665، 5783، 5784، 5791، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2085، ومالك فى «الموطأ» برقم: 3387، 3389، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5443، 5444، 5681، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5342، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4085، 4094، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1730، 1731، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3569، 3576، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3302، 3365، 3367، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4575»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 651
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 651
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ الَّتِي فِي الْجُدِّ أُمَيَّةُ بْنُ حَفْصِ بْنِ مُحَلَّفٍ مَوْلَى آلِ مَاجِدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمَ بْنَ يَنَاقَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَلَى بَابِ دَارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَسيَدٍ، فَمَرَّ شَابٌّ قَدْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاءَ" .
مسلم بن یَناق بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عبداللہ بن خالد کے گھر کے دروازے کے پاس موجود تھا وہاں سے ایک نوجوان گزرا جس نے اپنے تہبند کو لٹکایا ہوا تھا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: تم اپنے تہبند کو اوپر کر لو، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں کرتا جو کپڑے کو تکبر کے طور پر لٹکاتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 651]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3665، 5783، 5784، 5791، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2085، ومالك فى «الموطأ» برقم: 3387، 3389، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5443، 5444، 5681، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5342، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4085، 4094، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1730، 1731، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3569، 3576، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3302، 3365، 3367، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4575»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 652
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 652
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي لَبِيدٍ ، وَكَانَ مِنْ عُبَّادِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا يَغْلِبَنَّكُمُ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلاتِكُمُ الْعِشَاءِ، فَإِنَّمَا هِيَ الْعِشَاءُ، وَإِنَّمَا يُسَمُّونَهَا الْعَتَمَةَ ؛ لأَنَّهُمْ يُعْتِمُونَ عَنِ الإِبِلِ، أَوْ قَالَ: بِالإِبِلِ" . قَالَ سُفْيَانُ: هَكَذَا قَالَ ابْنُ أَبِي لَبِيدٍ بِالشَّكِّ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: دیہاتی لوگ تمہاری نماز کے نام کے حوالے سے تم پر غالب نہ آ جائیں یہ عشاء ہے، وہ لوگ اسے عتمہ کہتے ہیں، کیونکہ وہ اس وقت اونٹوں کے حوالے سے کام کاج کر کے فارغ ہوتے ہیں۔ (یہاں ایک لفظ میں راوی کو شک ہے) سفیان کہتے ہیں: ابن ابولبید نے اسی طرح شک کے ہمراہ روایت نقل کی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 652]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 644، 644، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 349، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1541، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 540، 541، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1534، 1535، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4984، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 704، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1769، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4661 برقم: 4779»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 653
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 653
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْنَاهُ مِنْهُ يُعِيدُهُ، وَيُبْدِيهِ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ" ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ شُعْبَةَ اسْتَحْلَفَ عَبْدَ اللَّهِ عَلَيْهِ، قَالَ: لَكِنَّا لَمْ نَسْتَحْلِفْهُ سَمِعْنَاهُ مِنْهُ مِرَارًا، ثُمَّ ضَحِكَ سُفْيَانُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو فروخت کرنے یا اسے ہبہ کرنے سے منع کیا ہے۔ (راوی سے کہا گیا) شعبہ نے اس بارے میں عبداللہ سے حلف لیا تھا، تو وہ بولے: ہم ان سے حلف نہیں لیتے ہم نے ان سے کئی مرتبہ یہ روایت سنی ہے۔ پھر سفیان ہنس پڑے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 653]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2156، 2169، 2535، 2562، 6752، 6756، 6757، 6759، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1506، ومالك فى «الموطأ» برقم: 2894، 2896، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4948، 4949، 4950، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4658، 4671، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2915، 2919، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1236، 2126، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2614، 3200، 3201، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2747، 2748، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12509، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4649»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 654
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 654
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا ابْنُ دِينَارٍ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دِينَارٍ , أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: " بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فَكُنَّا إِذَا بَايَعْنَاهُ يُلَقِّنُنَا، فَيَقُولُ: فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اطاعت و فرمانبرداری کی بیعت کی تھی جب ہم نے بیعت کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: جہاں تک تمہاری استطاعت ہوئی (تم ان احکام پر عمل کرو گے) [مسند الحميدي/حدیث: 654]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2955، 7144، 7202، 7203، 7205، 7272، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1839، 1867، ومالك فى «الموطأ» برقم: 3601، 3603، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4548، 4549، 4552، 4557، 4561، 4565، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4198، 4199، 4217، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2626، 2940، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1593، 1707، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2864، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5385، 5417، 5418،16650، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4654»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 655
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 655
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، وَصَالِحُ بْنُ قُدَامَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبِّ، فَقَالَ:" لا آكُلُهُ وَلا أُحَرِّمُهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اسے کھاتا بھی نہیں ہوں اور میں اسے حرام بھی قرار نہیں دیتا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 655]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5536، 7267، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1943، 1944، ومالك فى «الموطأ» برقم: 3551، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5264، 5265، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4325، 4326، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4807، 4808، 6614، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1790، والدارمي فى «مسنده» برقم: 280، 2058، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 26، 3242، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19469، 19470، 19471، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4584»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 656
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 656
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 656]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وهو مرسل، أخرجه أحمد فى «مسنده» ، برقم: 4662، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8673، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 24839»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 657
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 657
حَدَّثنا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ أَوْ غَزْوَةٍ، فَأَوْفَى عَلَى فَدْفَدٍ مِنَ الأَرْضِ، قَالَ:" لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ" .
سالم بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حج یا عمرے یا شاید کسی جنگ سے واپس تشریف لا رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سخت اور بلند جگہ پر پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پڑھا: اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے۔ حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اگر اللہ نے چاہا تو ہم رجوع کرنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں۔ عبادت کرنے والے ہیں اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کو سچ ثابت کیا اور اس نے اپنے بندے کی مدد کی اور اس نے تنہا (دشمن کے) لشکروں کو پسپا کر دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 657]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1797، 2995، 3084، 4116، 6385، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1342، 1344، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2695، 2696، 2707، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2599، 2770، والترمذي فى «جامعه» برقم: 950، 3447، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2715، 2724، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10425، 10473، 10474، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4583»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 658
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 658
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَقُلْ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قِيلَ لِسُفْيَانَ: فِيهِ سَاجِدُونَ؟ فَقَالَ: مَا أَحْلِقُهُ وَلا أَحْفَظُهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ان شاء اللہ۔ سفیان سے کہا گیا: اس میں یہ الفاظ ہیں: سجدہ کرنے والے ہیں تو وہ بولے: نہ تو یہ الفاظ اس کے مناسب ہیں اور نہ ہی مجھے یہ الفاظ یاد ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 658]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10425، 10473، 10474، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4583»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں