مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 659
حدیث نمبر: 659
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، وَصَالِحُ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ الْمَدَنِيُّ قَالا: حَدَّثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ , أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی میں بات نہ کریں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 659]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح من الشعبتين وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 911، 6269، 6270، 6288، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2177، 2183، ومالك فى «الموطأ» برقم: 3623، 3624، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1820، 1822، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 580، 581»
حدیث نمبر 660
حدیث نمبر: 660
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بِأَحْسَنَ مِنْهُ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ" . قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَنَاجَى وَهُمْ ثَلاثَةٌ دَعَا رَابِعًا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر باہم سرگوشی میں بات نہ کریں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جب کسی شخص سے سرگوشی میں بات کرنی ہوتی اور وہاں تین افراد موجود ہوتے تو وہ چوتھے کو بلا لیا کرتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 660]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 911، 6269، 6270، 6288 ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2177، 2183 ومالك فى «الموطأ» برقم: 3623، 3624 وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1820، 1822 وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 580، 581»
حدیث نمبر 661
حدیث نمبر: 661
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ لِيَحْيَى بْنِ حَبَّانَ: أَمَا تَرَوْنَ الْقَتْلَ شَيْئًا؟ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ" .
قاسم بن محمد کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یحییٰ بن حبان سے کہا: تم لوگ تو قتل کرنے کو بھی کچھ نہیں سمجھتے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر باہم سرگوشی میں بات نہ کریں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 661]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 911، 6269، 6270، 6288، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2177، 2183، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 580، 581، 582، 584، 586، 587، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4828، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2749، 2750، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2695، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3776، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5975، 5976، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4536 والطبراني في «الصغير» برقم: 785»
حدیث نمبر 662
حدیث نمبر: 662
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالا: حَدَّثنا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيُّ ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ ، فَقَلَّبْتُ الْحَصَى، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" لا تُقَلِّبِ الْحَصَى، فَإِنَّ تَقْلِيبَ الْحَصَى مِنَ الشَّيْطَانِ، وَافْعَلْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ، قُلْتُ: وَكَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ؟ فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَضَمَّ أَبُو بَكْرٍ ثَلاثَ أَصَابِعَ وَنَصَبَ السَّبَّابَةَ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَبَسَطَهَا" .
علی بن عبدالرحمٰن معاوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں نماز ادا کی۔ (نماز کے دوران) میں نے کنکریوں کو الٹا پلٹا۔ جب میں نے نماز مکمل کی، تو انہوں نے فرمایا: تم (نماز کے دوران) کنکریاں نہ الٹایا کرو، کیونکہ کنکریاں الٹانا شیطان کا کام ہے۔ تم ویسا ہی کرو جس طرح میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے میں نے دریافت کیا: آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں زانو پر رکھا۔ پھر
امام حمیدی رحمہ اللہ نے اپنی تین انگلیاں ملا کر اور اپنی شہادت کی انگلی کو کھڑا کیا اور انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں زانو پر رکھا اور اسے پھیلایا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 662]
امام حمیدی رحمہ اللہ نے اپنی تین انگلیاں ملا کر اور اپنی شہادت کی انگلی کو کھڑا کیا اور انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں زانو پر رکھا اور اسے پھیلایا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 662]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 580، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1942، 1947، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1159، 1265، 1266، 1268، وأبو داود فى «سننه» برقم: 987، والترمذي فى «جامعه» برقم: 294، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1378، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 913، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2823، 2824، 2825، 2834، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4665»
حدیث نمبر 663
حدیث نمبر: 663
قَالَ سُفْيَانُ : وَكَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَاهُ، عَنْ مُسْلِمٍ ، فَلَمَّا لَقِيتُ مُسْلِمًا حَدَّثَنِيهِ، وَزَادَ فِيهِ،" وَهِيَ مَذَبَّةُ الشَّيْطَانِ، لا يَسْهُوَ أَحَدٌ"، وَهُوَ يَقُولُ: هَكَذَا، وَنَصَبَ الْحُمَيْدِيُّ أُصْبَعَهُ، قَالَ مُسْلِمٌ: وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ أَنَّهُ رَأَى الأَنْبِيَاءَ مُمَثَّلِينَ فِي كَنِيسَةٍ فِي الشَّامِ فِي صَلاتِهِمْ قَائِلِينَ: هَكَذَا، وَنَصَبَ الْحُمَيْدِيُّ أُصْبَعَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”یہ شیطان کو پرے کرنے کے لیے ہے، تاکہ کوئی شخص سہو کا شکار نہ ہو۔“ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح حمیدی رحمہ اللہ نے اپنی ایک انگلی کو کھڑا کیا۔ مسلم نامی راوی کہتے ہیں: ایک صاحب نے مجھے یہ بات بتائی کہ انہوں نے شام کی ایک عبادت گاہ میں کچھ انبیاء کی نماز ادا کرتے ہوئے کی تصویر دیکھی تو انہوں نے بھی اسی طرح کیا ہوا تھا۔
امام حمیدی رحمہ اللہ نے انگلی کھڑی کی ہوئی تھی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 663]
امام حمیدی رحمہ اللہ نے انگلی کھڑی کی ہوئی تھی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 663]
تخریج الحدیث: «إسناده هذا القول ضعيف لجهالة شيخ مسلم، وهو موقوف على هذا المجهول»
حدیث نمبر 664
حدیث نمبر: 664
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَمَّا ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الإِزَارِ مَا ذَكَرَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ إِزَارِي يَسْقُطُ مِنْ أَحَدِ شِقَّيَّ، فَقَالَ:" إِنَّكَ لَسْتَ مِنْهُمْ" .
سالم بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تہبند کے بارے میں حکم بیان کیا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرا تہبند ایک پہلو سے نیچے ہو جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان لوگوں میں شامل نہیں ہو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 664]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3665، 6062، و مسلم فى «صحيحه» برقم:2085 والبيهقي فى «سننه الكبير» ، برقم: 3366، وابن حبان فى ”صحيحه“: 5443 5444 5681»
حدیث نمبر 665
حدیث نمبر: 665
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، وحَدَّثنا عَمْرٌو ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 665]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق وانظر الحديث السابق»
حدیث نمبر 666
حدیث نمبر: 666
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ عُبَيْدُ بْنُ جُرَيْجٍ كَانَ يَصْحَبُ ابْنَ عُمَرَ , أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهُ، رَأَيْتُكَ لا تُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِكَ رَاحِلَتُكَ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَتَوَضَّأُ فِيهَا، وَرَأَيْتُكَ لا تَسْتَلِمُ مِنَ الْبَيْتِ إِلا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تُصَفِّرُ لِحْيَتَكَ، فَأَجَابَهُ ابْنُ عُمَرَ ، فَقَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ، وَرَأَيْتُهُ يَلْبَسُ هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، وَرَأَيْتُهُ لا يَسْتَلِمُ مِنْ هَذَا الْبَيْتِ إِلا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ، وَرَأَيْتُهُ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ" .
عبید بن جریج جو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے شاگرد ہیں وہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا وہ بولے: میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ کچھ ایسے کام کرتے ہیں، جو میں نے آپ کے اصحاب میں سے کسی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ اس وقت تلبیہ پڑھنا شروع کرتے ہیں جب آپ کی سواری کھڑی ہوتی ہے۔ میں نے آپ کو دیکھا ہے آپ یہ سبتی جوتے پہنتے ہیں اور انہی میں وضو کر لیتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ بیت اللہ کے صرف دو ارکان کا استلام کرتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ اپنی داڑھی پر زرد خضاب استعمال کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں جواب دیا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تلبیہ پڑھنا شروع کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کھڑی ہوئی تھی۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سبتی جوتے پہنے ہوئے دیکھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پہن کر ہی وضو کر لیتے تھے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے دو ارکان کا استلام کرتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی داڑھی پر زرد خضاب استعمال کرتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 666]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 166، 1606، 1609، 5851، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1187، 1267، 1268، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1195، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3697، 3698، 3763، 3827، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 550، برقم: 2759، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1772، 1874، 1876، 4064، 4210، والترمذي فى «جامعه» برقم: 959، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1880، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2946، 2956، 3626، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1383، 1384، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4548»
حدیث نمبر 667
حدیث نمبر: 667
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مُنْذُ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ سَنَةً، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: جَاءَ عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَصَبْتُ مَالا لَمْ أُصِبْ قَطُّ مِثْلَهُ، تَخَلَّصْتُ الْمِائَةَ سَهْمٍ الَّتِي بِخَيْبَرَ، وَإِنِّي قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهَا إِلَى اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُمَرُ، احْبِسِ الأَصْلَ، وَسَبِّلِ الثَّمَرَةَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس کی طرح کی زمین مجھے کبھی نہیں ملی۔ مجھے خیبر میں ایک سو حصے ملے ہیں میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب حاصل کروں (یعنی انہیں صدقہ خیرات کروں) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! یہ زمین اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دے دو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 667]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1633، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4899، 4900، 4901، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3599، 3600، وأبو داود فى «سننه» 2878، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1375، والدارمي فى «مسنده» برقم: 3340، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2396، 2397، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12004، 12005، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4402، 4403، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4698»
حدیث نمبر 668
حدیث نمبر: 668
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِ الْحِجْرِ: " لا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلاءِ الَّذِينَ عُذِّبُوا إِلا أَنْتُمْ بَاكُونَ، وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَلا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی حجر کے رہنے والوں کے بارے میں فرمایا تھا: ”تم ان لوگوں کے ہاں، جنہیں عذاب دیا گیا ہے، یہاں روتے ہوئے داخل ہو، اگر رو نہیں سکتے تو تم وہاں نہ جاؤ، کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تمہیں بھی وہی عذاب لاحق ہو گا، جو انہیں لاحق ہوا تھا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 668]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 433، 3380، 3381، 4419، 4420، 4702، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2980، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6199، 6200، 6201، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 11206، 11210، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4437، 4438، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4650، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5575، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 1624، 1625»