مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 765
حدیث نمبر: 765
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ جَبْرِ بْنِ نَوْفٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 765]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، ولكن وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2229، 2542، 4138، 5210، 6603، 7409، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1438، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4191، 4193، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3327، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2170، 2171، 2172، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1138، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2269، 2270، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1926، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14420، 14421، 14422، 14423، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 11237 برقم: 11245»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر 766
حدیث نمبر: 766
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ، أَوْلاهُمَا بِالْحَقِّ الَّتِي تَغْلِبُ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ مَرَقَتْ مِنْهُمْ مَارِقَةٌ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمانوں کے دو بڑے گروہ آپس میں جنگ نہیں کریں گے اور ان دونوں کا دعویٰ ایک ہوگا اور ان میں حق کے زیادہ قریب وہ ہوگا، جو غالب آ جائے گا۔ ابھی وہ لوگ اسی حالت میں ہوں گے کہ ان میں سے ایک گروہ نکل جائے گا اور وہ لوگ دین سے یوں نکل جائیں گے، جس طرح تیر نشانے سے پار ہو جاتا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 766]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان، وأخرجه عبد الرزاق برقم: 18658، من طريق معمر عن على بن زيد بهذا الإسناد. إلى قوله: «تقتلها أولى الطائفتين بالحق» . ومن طريق عبد الرزاق أخرجه أحمد 90/3 والبغوي فى شرح السنة برقم 2555،. وانظر دلائل النبوة للبيهقي 418/6 «شرح السنة» 38/15 . غير أن الحديث صحيح فقد أخرجه مسلم «في الزكاة» 1064، وقد استوفينا تحريجه فى «مسند الموصلي» برقم: 1008، وبرقم 1036، 1246، 1274، وفي صحيح ابن حبان برقم: 6735»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر 767
حدیث نمبر: 767
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي قَزَعَةُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلا إِلَى ثَلاثَةِ مَسَاجِدَ: الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَمَسْجِدِ إِيلْيَا" . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُسَافِرِ امْرَأَةٌ فَوْقَ ثَلاثٍ إِلا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ" . وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَعَنْ صَلاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ" ." وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ، يَوْمِ الأَضْحَى، وَيَوْمِ الْفِطْرِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سفر صرف تین مساجد کی طرف کیا جا سکتا ہے۔ مسجد الحرام، میری یہ مسجد اور مسجد ایلیاء (یعنی بیت المقدس)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: ”عورت اگر تین دن سے زیادہ کا سفر کرتی ہے، تو اس کے ساتھ کوئی محرم عزیز ہونا چاہئے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے تک صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک ادا کرنے سے منع کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دن کے روزے رکھنے سے بھی منع کیا ہے۔ عیدالاضحیٰ کا دن اور عید الفطر کا دن۔ [مسند الحميدي/حدیث: 767]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 586، 1188، 1197، 1864، 1991، 1995، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 827، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1617، 2723، 2724، 3599، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 565، 566، 567، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2417، والترمذي فى «جامعه» برقم: 326، 772، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1794، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1249، 1410، 1721، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4444، 5490، 5491، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 11190 برقم: 11197 برقم: 11467»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 768
حدیث نمبر: 768
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَتَّابُ بْنُ حُنَيْنٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ حَبَسَ اللَّهُ الْقَطْرَ عَنِ النَّاسِ سَبْعَ سِنِينَ، ثُمَّ أَرْسَلَهُ، لأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِهِ كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، أَوْ مُطِرْنَا بِنَوْءِ الْمِجْدَحِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر سات سال تک بارش نازل نہ کرے اور پھر بارش نازل کر دے تو ان لوگوں میں سے ایک گروہ پھر بھی اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہوئے یہ کہے گا کہ فلاں، فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے۔ اور مجدح ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 768]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6130، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1527، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1849، 10696، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2804، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 11199، وأبو يعلى فى «مسنده» ، برقم: 1312، والطحاوي فى "شرح مشكل الآثار" برقم: 5218»
الحكم على الحديث:
إسناده جيد
حدیث نمبر 769
حدیث نمبر: 769
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى مَغَيْرِبَانِ الشَّمْسِ، فَلَمْ يَبْقَ شَيْءٌ يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلا أَخْبَرَنَا بِهِ، عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ، فَقَالَ:" أَنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفَكُمْ فِيهَا فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ؟ أَلا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا، وَاتَّقُوا النِّسَاءَ، أَلا وَإِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ، وَلِوَاءً عِنْدَ اسْتِهِ، أَلا وَإِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ كَلِمَةُ حَقٍّ" وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ:" كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ ذِي سُلْطَانٍ جَائِرٍ" , قَالَ: ثُمَّ بَكَى أَبُو سَعِيدٍ، وَقَالَ:" فَكَمْ قَدْ رَأَيْنَا مِنْ مُنْكَرٍ فَلَمْ نُنْكِرْهُ أَلا وَإِنَّ بَنِي آدَمَ خُلِقُوا عَلَى طَبَقَاتٍ: فَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا، وَيَحْيَى مُؤْمِنًا، وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا، وَيَحْيَى كَافِرًا، وَيَمُوتُ كَافِرًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا، وَيَحْيَى مُؤْمِنًا، وَيَمُوتُ كَافِرًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا، وَيَحْيَى كَافِرًا، وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا، وَمِنْهُمْ سَرِيعُ الْغَضَبِ، سَرِيعُ الْفَيْءِ فَهَذِهِ بِتِلْكَ، وَمِنْهُمْ بَطِيءُ الْغَضَبِ، بَطِيءُ الْفَيْءِ، فَهَذِهِ بِتِلْكَ، أَلا وَإِنَّ الْغَضَبَ جَمْرَةٌ مِنَ النَّارِ، فَمَنْ وَجَدَهُ مِنْكُمْ وَكَانَ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ، وَإِنْ كَانَ جَالِسًا فَلْيَضْطَجِعَ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے کے قریب تک ہمیں خطبہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت قائم ہونے تک کی ہر بڑی چیز کے بارے میں ہمیں بتا دیا، تو جس شخص کو اس کا علم ہے اسے علم ہے، اور جو شخص ناواقف رہا۔ وہ ناواقف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ دنیا سرسبز اور میٹھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں تمہیں اپنا نائب مقرر کیا ہے، تاکہ وہ اس بات کو ظاہر کرے کہ تم کیا عمل کرتے ہو؟ خبردار! دنیا سے بچنا اور خواتین کے بارے میں احتیاط کرنا۔ یاد رکھنا! قیامت کے دن غداری کرنے والے کے لیے ایک مخصوص جھنڈا ہوگا، جو اس کی غداری کے حساب سے ہوگا اور یہ جھنڈا اس کی سرین کے پاس ہوگا۔ یاد رکھنا! سب سے افضل جہاد حق بات کہنا ہے (یہاں سفیان نامی راوی بعض اوقات یہ لفظ نقل کرتے ہیں) انصاف کی بات کہنا ہے ظالم حکمران کے سامنے۔“ راوی بیان کرتے ہیں۔ پھر سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ رونے لگے اور بولے: ہم نے کتنے ہی منکرات دیکھے۔ لیکن ہم نے ان کا انکار نہیں کیا۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا) ”خبردار اولاد آدم کو مختلف طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے ان میں سے کچھ لوگوں کو مومن پیدا کیا جاتا ہے، وہ مومن ہونے کے طور پر ہی زندہ رہتے ہیں اور مومن ہونے کے طور پر ہی مرتے ہیں، اور کچھ لوگوں کو کافر پیدا کیا جاتا ہے وہ کافر ہونے کے طور پر زندہ رہتے ہیں اور کافر ہونے کے طور پر مرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو مومن ہونے کے طور پر پیدا کیا جاتا ہے وہ مومن ہونے کے طور پر زندہ رہتے ہیں اور کافر ہونے کے طور پر مرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو کافر پیدا کیا جاتا ہے وہ کافر کے طور پر زندہ رہتے ہیں، لیکن مرتے وقت مومن ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں۔ جن کو غصہ جلدی آتا ہے اور ان کا غصہ ختم بھی جلدی ہو جاتا ہے، تو یہ برابر ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں، جنہیں غصہ دیر سے آتا ہے اور ان کا غصہ ختم بھی دیر سے ہوتا ہے۔ یہ بھی برابر ہیں۔ یاد رکھنا غصہ اگر کا ایک انگارہ ہے، تو تم میں سے جو شخص اس کیفیت کو محسوس کرے اگر وہ کھڑا ہوا ہو، تو بیٹھ جائے اگر بیٹھا ہوا، تو لیٹ جائے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 769]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف وقد استوفينا تخريجه أبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1101، 1212، 1213، 1232، 1245، 1293، 1297، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 275، 278، 1378، 3221، 5591، 5592، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده" برقم: 864، 867، 869، 912، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6607، 6807»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر 770
حدیث نمبر: 770
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرے، پھر اگر وہ دوبارہ ایسا کرنا چاہے، تو اسے نماز کے وضو کی طرح وضو کر لینا چاہئے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 770]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 308، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 219، 221، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1210، 1211، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 544، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 262، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 254، 8989، 8990، 8991، وأبو داود فى «سننه» برقم: 220، والترمذي فى «جامعه» برقم: 141، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 587، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1001، 1002، 14197، 14198، 14200، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 11193 برقم: 11331»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 771
حدیث نمبر: 771
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ أَنْعَمُ وَقَدِ الْتَقَمَ صَاحِبُ الْقَرْنَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ، وَأَصْغَى سَمْعَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ؟"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: قُولُوا:" حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں نعمتوں سے کیسے لطف اندوز ہو سکتا ہوں؟ جبکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کو اپنے منہ کے ساتھ لگایا ہوا ہے۔ اس کی پیشانی چمکی ہوئی ہے، اور اس نے اپنی سماعت کو متوجہ رکھا ہوا ہے، اور وہ اس بات کا انتظار کر رہا ہے، اسے کب حکم ہوگا؟ (کہ وہ صور میں پھونک مار دے)“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ پڑھا کرو۔ «حسبنا الله ونعم الوكيل على الله توكلنا» ”ہمارے لیے اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے ہم اللہ تعالیٰ ہی پر توکل کرتے ہیں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 771]
تخریج الحدیث: «عطية العوفي ضعيف ولكنه متابع عليه، فيصح الإسناد وقد استوفينا تخريجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 823، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8775، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2431، 3243، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4273، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 11196 برقم: 11875 برقم: 19654، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1084»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر 772
حدیث نمبر: 772
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلا لَيَرَوْنَ أَهْلَ عِلِّيِّينَ كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيِّ فِي الأُفُقِ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَمِنْهُمْ، وَأَنْعَمَا" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”(جنت میں) بلند درجات والے لوگ ”علیین“ کے لوگوں کو یوں دیکھیں گے، جس طرح تم افق میں چمکتے ہوئے ستارے کو دیکھتے ہو اور ابوبکر و عمر ان میں شامل ہیں۔ اور یہ دونوں بہت اچھے ہیں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 772]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عطية، ولكن الحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3256، 6555، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2830، 2831، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7393، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3658، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2873، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 96، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 11376 برقم: 11383»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر 773
حدیث نمبر: 773
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ .
یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 773]
تخریج الحدیث: «وانظر الحديث السابق»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر 774
حدیث نمبر: 774
قَالَ سُفْيَانُ : وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ الأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْوُسْطَى مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَتْ صَبِيحَةُ عِشْرِينَ نَقَلْنَا مَتَاعَنَا، فَأَبْصَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُعْتَكِفًا فَلْيَرْجِعْ إِلَى مُعْتَكَفِهِ، فَإِنِّي أُرِيتُهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، وَرَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي صَبِيحَتِهَا فِي مَاءٍ وَطِينٍ"، فَهَاجَتِ السَّمَاءُ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ، فَأَمْطَرَتْ وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَرِيشًا، فَوُكِفَ فِي مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلاةِ الصُّبْحِ وَإِنَّ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَرْنَبَتِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے بھی اعتکاف کیا۔ جب بیسویں رات کی صبح ہوئی ہم نے اپنا ساز و سامان منتقل کرنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ملاحظہ فرمایا، تو ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جو شخص اعتکاف کرنا چاہتا ہو وہ اپنے اعتکاف کی جگہ پر واپس چلا جائے۔ کیونکہ مجھے یہ رات (یعنی شب قدر) آخری عشرے میں دکھائی گئی ہے۔ میں نے خود کو دیکھا ہے، میں اس رات کی صبح پانی اور مٹی (یعنی کیچڑ) میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ (راوی کہتے ہیں) اسی دن بارش ہو گئی۔ مسجد کی چھت (کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی تھی) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی جگہ پر پانی اکٹھا ہو گیا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی (یعنی کیچڑ) کا نشان تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 774]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن ولكن الحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 669، 813، 836، 2016، 2018، 2027، 2036، 2040، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1167، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3661، 3673، 3674، 3677، 3684، 3685، 3687، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1038، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1094، 1355، وأبو داود فى «سننه» برقم: 894، 911، 1382، 1383، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1766، 1775، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2696، 3607، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 11191 برقم: 11235»
الحكم على الحديث:
إسناده حسن