مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 755
حدیث نمبر: 755
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الأَعْشَى ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ لَهُ ثَلاثُ بَنَاتٍ، أَوْ ثَلاثُ أَخَواتٍ، أَوِ ابْنَتَانِ، أَوْ أُخْتَانِ، فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ، وَصَبَرَ عَلَيْهِنَّ، وَاتَّقَى اللَّهَ فِيهِنَّ، دَخَلَ الْجَنَّةَ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تین بہنیں ہوں، یا دو بیٹیاں ہوں، یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور (ان کی ذمہ داری اٹھانے کے حوالے سے) صبر سے کام لے اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے، تو وہ شخص جنت میں داخل ہوگا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 755]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 446، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5147، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1912، 1916، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 11560 برقم: 12105، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 25947»
حدیث نمبر 756
حدیث نمبر: 756
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو عُمَيْرٍ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا مِنْ أَبِي طُوَالَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ نَهَّارٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ لَيَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَقُولَ: مَا مَنَعَكَ إِذَا رَأَيْتَ الْمُنْكَرِ فِي الدُّنْيَا أَنْ تُنكِرهُ؟ فَإِذَا لَقَّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدَهُ حُجَّتَهُ، قَالَ: يَا رَبِّ رَجَوْتُكَ وَخِفْتُ النَّاسَ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بندے سے سوال کرے گا اور فرمائے گا تمہیں کس بات نے روک لیا تھا کہ، جب تم نے دنیا میں منکر چیز کو دیکھا تو تم نے اس کا انکار کیوں نہیں کیا؟ پھر اللہ تعالیٰ بندے کو اس کی دلیل کی تلقین کرے گا، تو وہ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں نے تجھ سے امید رکھی اور میں لوگوں سے خوفزدہ ہو گیا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 756]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7368، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4017، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 20240، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 11384 برقم: 11417 برقم: 11913، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1089، 1344»
حدیث نمبر 757
حدیث نمبر: 757
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ الْعَامِرِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ:" أَنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ نَبَاتِ الأَرْضِ، وَزَهْرَةُ الدُّنْيَا" , قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ يُنَزَّلُ عَلَيْهِ، وَكَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ، غَشِيَهُ بُهْرٌ وَعَرَقٌ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟" قَالَ: هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ أُرِدْ إِلا خَيْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْخَيْرَ لا يَأْتِي إِلا بِالْخَيْرِ، إِنَّ الْخَيْرَ لا يَأْتِي إِلا بِالْخَيْرِ، إِنَّ الْخَيْرَ لا يَأْتِي إِلا بِالْخَيْرِ، وَلَكِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَكُلُّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يُقْتَلُ حَبَطًا، أَوْ يُلِمُّ إِلا آكِلَةُ الْخَضِرِ، تَأْكُلُ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ، فَثَلَطَتْ أَوْ بَالَتْ، ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ، ثُمَّ أَفَاضَتْ فَاجْتَرَّتْ، مَنْ أَخَذَ مَالا بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَ مَالا بِغَيْرِ حَقِّهِ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى" , قَالَ سُفْيَانُ:" كَثِيرًا مَا كَانَ الأَعْمَشُ يَسْتَعِيدُنِي هَذَا الْحَدِيثَ كُلَّمَا جِئْتُهُ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے زمین کے نباتات اور دنیاوی آرائش و زیبائش کو ظاہر کر دے گا۔“ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا بھلائی برائی کو لے کر آئے گی؟ انہوں نے تین مرتبہ یہ بات عرض کی، راوی کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہمیں یہ محسوس ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سانس پھول جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آ جاتا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں یہاں ہوں۔ میں نے صرف بھلائی کا ارادہ کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بھلائی صرف بھلائی کو لے کر آتی ہے۔ بے شک بھلائی صرف بھلائی ہی کو لے کر آتی ہے۔ بے شک بھلائی صرف بھلائی ہی کو لے کر آتی ہے۔ تاہم دنیا سرسبز اور میٹھی ہے موسم بہار جو کچھ اگاتا ہے اس کے نتیجے میں کچھ جانور زیادہ کھانے کی وجہ سے مر جاتے ہیں اور کچھ موت کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔ تاہم سبزہ کھانے والے کا حکم مختلف ہے کیونکہ وہ اسے کھاتا ہے، تو اس کے پہلو پھول جاتے ہیں۔ وہ دھوپ میں آتا ہے وہاں لید کرتا ہے پیشاب کرتا ہے، پھر واپس جاتا ہے، پھر کھاتا ہے، پھر روانہ ہوتا ہے اور جگالی کرتا ہے، تو جو شخص مال کو اس کے حق کے ہمراہ حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس مال میں برکت رکھی جاتی ہے۔ اور جو شخص مال کو ناحق طور پر حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس مال میں برکت نہیں رکھی جاتی۔ اور اس کی مثال اس شخص کی مانند ہوتی ہے، جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔“ سفیان کہتے ہیں۔ میں جب کبھی اعمش کے پاس گیا انہوں نے مجھ سے بار بار یہی روایت سنانے کی فرمائش کی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 757]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن ولكن وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 921، 1465، 2842، 6427، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1052، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3225، 3226، 3227، 4513، 5174، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2580، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3995، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5792، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 11192 برقم: 11194»
حدیث نمبر 758
حدیث نمبر: 758
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، جَاءَ وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَامَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ، فَجَاءَ إِلَيْهِ الأَحْرَاسُ لِيُجْلِسُوهُ، فَأَبَى أَنْ يَجْلِسَ حَتَّى صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ أَتَيْنَاهُ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ كَادَ هَؤُلاءِ أَنْ يَفْعَلُوا بِكَ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : مَا كُنْتُ لأَدَعَهُمَا لِشَيْءٍ بَعْدَ شَيْءٍ رَأَيْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَ رَجُلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَلَّيْتَ؟" قَالَ: لا، قَالَ:" فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ حَثَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَلْقَى النَّاسُ ثِيَابًا، فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ، فَلَمَّا جَاءَتِ الْجُمُعَةُ الأُخْرَى، جَاءَ الرَّجُلُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ؟" قَالَ: لا، قَالَ:" فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ حَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَلْقَوْا ثِيَابًا، فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ، فَلَمَّا جَاءَتِ الْجُمُعَةُ الأُخْرَى، جَاءَ الرَّجُلُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ؟" قَالَ: لا، قَالَ:" فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ حَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَلْقَوْا ثِيَابًا، فَطَرَحَ الرَّجُلُ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، فَصَاحَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" خُذْهُ، فَأَخَذَهُ"، ثُمَّ قَالَ:" انْظُرُوا إِلَى هَذَا، جَاءَ تِلْكَ الْجُمُعَةَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ، فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ، فَأَلْقَوْا ثِيَابًا، فَأَعْطَيْتُهُ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ، فَلَمَّا جَاءَتْ هَذِهِ الْجُمُعَةُ أَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ، فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ" , قَالَ سُفْيَانُ: يَقُولُ: لا صَدَقَةَ إِلا عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَلا غِنًى بِهَذَا عَنْ ثَوْبِهِ.
عیاض بن عبداللہ بیان کرتے ہیں میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ تشریف لائے۔ مروان اس وقت جمعہ کے دن کا خطبہ دے رہا تھا۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ دو رکعات ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے سپاہی ان کے پاس آئے تاکہ انہیں زبردستی بٹھا دیں، تو انہوں نے بیٹھنے سے انکار کر دیا اور دو رکعات ادا کیں جب انہوں نے نماز مکمل کی، تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے کہا: اے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ قریب تھا کہ یہ لوگ آپ سے کوئی ناروا سلوک کرتے، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بولے: میں نے ان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے جو کچھ دیکھا ہے اس کے بعد میں کسی اور وجہ سے ان دونوں رکعات کو ترک نہیں کروں گا۔ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں، یاد ہے، ایک شخص آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جمعے کے دن خطبہ دے رہے تھے۔ وہ شخص اس وقت عام سی حالت میں مسجد میں داخل ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: کیا تم نے نماز ادا کر لی ہے؟ اس نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دو رکعت ادا کر لو۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی تو لوگوں نے اپنے کپڑے صدقہ کئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو ان کپڑوں میں سے دو کپڑے عطا کئے۔ جب اگلا جمعہ آیا، تو ایک شخص آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم نے دو رکعات ادا کر لی ہیں؟ اس نے عرض کی: ”جی نہیں“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دو رکعات ادا کر لو۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی، تو لوگوں نے اپنے کپڑے دئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو ان میں سے دو کپڑے دے دئے۔ جب اس سے اگلا جمعہ آیا، تو ایک شخص آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے دو رکعات ادا کر لی ہیں؟“ اس نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دو رکعات ادا کر لو“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی۔ لوگوں نے اپنے کپڑے پیش کئے تو اس شخص نے اپنے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا وہاں رکھ دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں اسے پکارا اور فرمایا: ”تم اسے حاصل کر لو۔“ اس نے اسے لے لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص کو دیکھو۔ یہ اس دن برے حال میں جمعے کے دن آیا تھا۔ میں نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی لوگوں نے اپنے کپڑے پیش کئے تو میں نے اس میں سے دو کپڑے اسے دے دئے۔ اب جب یہ اس جمعے آیا ہے، تو میں لوگوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے، تو اس نے دو میں سے ایک کپڑا دے دیا ہے۔“ سفیان یہ کہا کرتے تھے۔ صدقہ وہ ہوتا ہے، جسے کرنے کے بعد بھی آدمی خوشحال رہے۔ اور وہ شخص اگر کپڑا دے دیتا تو پھر اس کے پاس خوشحالی نہیں رہنی تھی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 758]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1799، 1830، 2481، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2503، 2505، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1058، 1513، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1407، 2535، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1731، 2328، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1675، والترمذي فى «جامعه» برقم: 511، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1593، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1113، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5775، 5897، 7872، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 11248 برقم: 11367»
حدیث نمبر 759
حدیث نمبر: 759
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ:" مَا كُنَّا نُخْرِجُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ إِلا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم صدقہ فطر میں کھجور کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع دیا کرتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 759]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1505، 1506، 1508، 1510، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 985، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3305، 3306، 3307، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1500، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2510، 2511، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1616، 1618، والترمذي فى «جامعه» برقم: 673، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1704، 1705، 1706، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1829، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7766، 7792، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 11249 برقم: 11352»
حدیث نمبر 760
حدیث نمبر: 760
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، فَيَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، فَيَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ لَهُمْ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، فَيَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا، جس میں بہت سے لوگ جنگ میں حصہ لیں گے، تو یہ کہا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسے صاحب موجود ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہوں؟ تو جواب دیا جائے گا۔ جی ہاں، تو ان لوگوں کو فتح نصیب ہوگی۔ پھر لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا۔ جب بہت سے لوگ جنگ میں حصہ لینے کے لیے جائیں گے، تو ان سے دریافت کیا جائے گا کیا تم میں کوئی ایسا شخص موجود ہے، جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی خدمت میں رہا ہو، تو انہیں جواب دیا جائے گا۔ جی ہاں، تو انہیں بھی فتح نصیب ہوگی۔ پھر لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا، جس میں بہت سے لوگ جنگ کرنے کے لیے جائیں گے، تو دریافت کیا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص موجود ہے، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو پایا ہو؟ تو جواب دیا جائے گا: جی ہاں، تو انہیں بھی فتح نصیب ہو جائے گی۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 760]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2897، 3594، 3649، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2532، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4768، 6666، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 11198، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 974»
حدیث نمبر 761
حدیث نمبر: 761
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمُ، وَالدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، مِثْلا بِمِثْلٍ، لَيْسَ بَيْنَهُمَا فَضْلٌ" , فَقُلْتُ لأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لا يَرَى بِهِ بَأْسًا. فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قَدْ لَقِيتُ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قَدْ لَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ لَهُ: أَخْبِرْنِي عَنْ هَذَا الَّذِي تَقُولُ، أَشَيْءٌ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ أَوْ شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَلا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي، وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”درہم کے عوض میں درہم اور دینار کے عوض میں دینار کا برابر، برابر لین دین کیا جائے گا۔ اور اس میں کوئی اضافی ادائیگی نہیں ہوگی۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے گزارش کی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تو اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں۔ پھر سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بولے: میری سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں نے ان سے کہا: آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیے جو آپ کہتے ہیں: کیا آپ نے اس بارے میں اللہ کی کتاب میں کوئی حکم پایا ہے؟ یا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اس بارے میں کوئی بات سنی ہے؟ انہوں نے بتایا: میں نے اللہ کی کتاب میں اس بارے میں کوئی حکم نہیں پایا ہے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی بھی کوئی بات نہیں سنی۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں تاہم سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سود، ادھار میں ہوتا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 761]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2178، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1596، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5023، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4594، 4595، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6128، 6129، 6130، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2622، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2257، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10606، 10607، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 22157 برقم: 22164»
حدیث نمبر 762
حدیث نمبر: 762
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَازِنِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عُمَرَ بِحَدِيثِ الصَّرْفِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ، فَسَأَلَهُ عَنْهُ وَأَنَا حَاضِرٌ، قَالَ سُفْيَانُ: إِنِّي لا أَحْفَظُ شَيْئًا فِيهِ إِلا أَنَّهُ نَحْوٌ مِمَّا يُحَدِّثُ النَّاسُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فِي الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ مِثْلا بِمِثْلٍ، الْوَرِقُ بِالْوَرِقِ مِثْلا بِمِثْلٍ" .
ضمرہ بن سعید مزنی بیان کرتے ہیں۔ میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیع صرف کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نقل کرتے ہوئے سنا ہے: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تشریف لائے اور انہوں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا: میں اس وقت وہاں موجود تھا۔ سفیان کہتے ہیں: اس بارے میں مجھے صرف یہی بات یاد ہے، یہ اسی کی مانند حدیث تھی۔ جو لوگوں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے۔ ”سونے کے عوض میں سونے کا لین دین برابر ہوگا اور چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین برابر ہوگا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 762]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2134، 2170، 2174، 2176 2177، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1584، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5013، 5016، 5017، 5019، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4572، 4579، 4584، 4585، 4586، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3348، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1241 1243، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2620، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2253، 2259، 2260، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10585، 10586، 10598، وأحمد فى «مسنده» برقم: 164، 244، 320، والحميدي فى «مسنده» برقم: 12، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 149»
حدیث نمبر 763
حدیث نمبر: 763
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: أَوْقَفْتُ جَارِيَةً لِي أَبِيعُهَا فِي سُوقِ بَنِي قَيْنُقَاعٍ، فَجَاءَنِي رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، مَا هَذِهِ الْجَارِيَةُ؟ قُلْتُ: جَارِيَةٌ لِي أَبِيعُهَا، قَالَ: فَلَعَلَّكَ أَنْ تَبِيعَهَا وَفِي بَطْنِهَا مِنْكَ سَخْلَةٌ؟ قُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ أَعْزِلُ عَنْهَا، قَالَ: فَإِنَّ تِلْكَ الْمَوءُدَةُ الصُّغْرَى، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" كَذَبَتْ يَهُودُ، وَلا عَلَيْكُمْ أَلا تَفْعَلُوا" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اپنی ایک کنیز کو لا کر بنو قینقاع کے بازار میں کھڑا ہوا، تاکہ میں اس کنیز کو فروخت کر دوں۔ ایک یہودی میرے پاس آیا اور بولا: اے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ! یہ لڑکی یہاں کس لیے ہے؟ میں نے جواب دیا: یہ تمہاری اولاد موجود ہے، تو میں نے کہا: میں، تو اس سے عزل کیا کرتا تھا، تو وہ بولا: یہ زندہ درگور کرنے کی جھوٹی قسم ہے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہودیوں نے غلط کہا ہے، تاہم اگر تم ایسا نہ کرو، تو تم پر کوئی حرج بھی نہیں ہوگا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 763]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير أن ابن إسحاق قد عنعن وهو مدلس، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16870، 16871، 37991، والطحاوي فى "شرح معاني الآثار" برقم: 4345، 4347، 4348، ولتمام تخرجه وانظر الحديث التالي»
حدیث نمبر 764
حدیث نمبر: 764
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ الْعَزْلَ ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَلِمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ؟" وَلَمْ يَقُلْ:" فَلا يَفْعَلْ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ، فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَفْسٌ مَخْلُوقَةً إِلا اللَّهُ خَالِقُهَا" ,
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عزل کا تذکرہ کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کوئی ایسا کیوں کرتا ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد نہیں فرمایا۔ کہ کوئی شخص ایسا نہ کرے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا) ”جس بھی جان نے پیدا ہونا ہو اس کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے (یا اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کر دینا ہے)۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 764]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2229، 2542، 4138، 5210، 6603، 7409، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1438، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4191، 4193، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3327، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2170، 2171، 2172، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1138، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2269، 2270، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1926، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14420، 14421، 18148، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 11237 برقم: 11245»