🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 770
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 770
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرے، پھر اگر وہ دوبارہ ایسا کرنا چاہے، تو اسے نماز کے وضو کی طرح وضو کر لینا چاہئے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 770]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 308، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 219، 221، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1210، 1211، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 544، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 262، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 254، 8989، 8990، 8991، وأبو داود فى «سننه» برقم: 220، والترمذي فى «جامعه» برقم: 141، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 587، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1001، 1002، 14197، 14198، 14200، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 11193 برقم: 11331»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥علي بن داود الناجي، أبو المتوكل
Newعلي بن داود الناجي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← علي بن داود الناجي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عاصم الأحول
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
141
إذا أتى أحدكم أهله ثم أراد أن يعود فليتوضأ بينهما وضوءا
سنن أبي داود
220
إذا أتى أحدكم أهله ثم بدا له أن يعاود فليتوضأ بينهما وضوءا
صحيح مسلم
707
إذا أتى أحدكم أهله ثم أراد أن يعود فليتوضأ
سنن ابن ماجه
587
إذا أتى أحدكم أهله ثم أراد أن يعود فليتوضأ
سنن النسائى الصغرى
263
إذا أراد أحدكم أن يعود توضأ
بلوغ المرام
103
إذا اتى احدكم اهله ثم اراد ان يعود فليتوضا بينهما وضوءا
مسندالحميدي
770
إذا أتى أحدكم أهله فإن أراد أن يعود فليتوضأ وضوءه للصلاة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 770 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:770
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بیوی سے ایک ہی رات میں دوبارہ صحبت کرنا درست ہے، اگر دوبارہ صحبت کرنی ہے تو درمیان میں وضو کر لیا جائے تا کہ مرد چست ہو جائے لیکن اگر وہ غسل کر لے تو بہت ہی بہتر ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 770]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 103
دوبارہ ہم بستری کے لیے وضو
«. . . وعن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا اتى احدكم اهله ثم اراد ان يعود فليتوضا بينهما وضوءا . . .»
. . . سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی اہلیہ کے پاس جائے (یعنی تعلق زن و شو قائم کرے، ہمبستری کرے) پھر دوبارہ لطف اندوز ہونے کا ارادہ ہو تو درمیان میں وضو کر لے . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 103]
لغوی تشریح:
«أَنْشَطْ» اسم تفضیل کا صیغہ ہے۔ بہت مسرت، فرحت اور تازگی بخش ہے۔ طبیعت میں تروتازگی اور عمدگی پیدا کرتا ہے۔
«مِنْ غَيْرِ أَنْ يَّمَسَّ مَاءً» اس جملے میں جس نفی کا ذکر ہے وہ غسل اور وضو دونوں کو شامل ہے، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نہ وضو فرماتے اور نہ غسل کرتے۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ والی روایت میں وضو کرنے کا جو حکم ہے واجب نہیں یا جو پہلو زیادہ مفید ہے اس کی جانب اشارہ کرنا مطلوب ہے۔
«وَهُوَ مَعْلُولٌ» اس حدیث کے معلول ہونے کی وجہ محدثین کی نظر میں ابواسحاق کا ابوالاسود کے واسطے سے روایت کرنا ہے۔ کہا گیا ہے کہ ابواسحاق کا ابوالاسود سے سماع ثابت نہیں، لیکن امام بیہقی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور انہوں نے اس کا سماع ثابت کیا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ رحمہ الله نے بھی معلول اس لئے کہا ہے کہ ان کے نزدیک بھی ابواسحاق کا ابواسود سے سماع ثابت نہیں۔ مگر امام بیہقی رحمہ الله کو یہ ثابت کرنے سے کہ ان کا سماع یقینی ہے جس کے باعث حدیث معلول نہیں رہتی۔

فوائد و مسائل:
➊ صحیح مسلم کی روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خور و نوش اور مباشرت کے لیے عضو مخصوص دھو کر وضو فرما لیتے تھے۔ [صحيح مسلم، الحيض، باب جواز نوم الجنب واستحباب الوضوء۔۔۔، حديث: 305، 306، 307]
➋ اکثر علمائے امت کے نزدیک یہ وضو واجب نہیں بلکہ مستحب ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 103]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 220
دوبارہ رغبت ہو تو اس دوران میں وضو کر لینا جمہور کے نزدیک مستحب ہے
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ، ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يُعَاوِدَ، فَلْيَتَوَضَّأْ بَيْنَهُمَا وُضُوءًا . . .»
. . . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے (یعنی صحبت کرے) پھر دوبارہ صحبت کرنا چاہے، تو ان دونوں کے درمیان وضو کرے . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 220]
فوائد و مسائل:
➊ مذکورہ بالا احادیث [218، 219] میں کسی قسم کا تعارض نہیں ہے بلکہ یہ دو مختلف احوال کا بیان ہے۔
➋ دوبارہ رغبت ہو تو اس دوران میں وضو کر لینا جمہور کے نزدیک مستحب ہے۔ امام ابن خزیمہ اس وضو سے باقاعدہ نماز والا وضو مراد لیتے ہیں، نہ کہ محض استنجا یا تنظیف (صفائی) جیسے کہ امام طحاوی رحمہ اللہ کا خیال ہے اور اس کا فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس سے طبیعت میں خوب نشاط پیدہ ہو جاتی ہے۔ اور یہی جملہ اس امر کے لئے امر استحباب ہونے کا قرینہ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 220]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 263
اگر جنبی دوبارہ صحبت کرنے کا ارادہ کرے تو وضو کر لے۔
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی دوبارہ جماع کرنا چاہے تو وضو کرے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 263]
263۔ اردو حاشیہ:
➊ اس وضو کی حکمت بعض روایات میں یہ بتائی گئی ہے: «فإنه أنشط للعود» یعنی دوبارہ جماع کے لیے یہ وضو زیادہ چاق و چوبند بنا دیتا ہے۔ دیکھیے: [المستدرك للحاكم: 152/1]
ایک روایت میں «وضوءہ للصلاة» کے الفاظ ہیں، یعنی نماز والا وضو کرے۔ [صحیح البخاري، الغسل، حدیث: 288، و صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 305]
یہ وضو بھی مستحب ہے۔
➋ اگر آدمی دوسری مرتبہ اپنی بیوی سے جماع کرنا چاہے تو دونوں باریوں کے درمیان غسل کرنا واجب نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 263]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث587
جنبی اگر دوبارہ ہمبستری کرنا چاہے تو وضو کرے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیوی سے جماع کرے پھر دوبارہ ہمبستری کرنا چاہے، تو وضو کر لے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 587]
اردو حاشہ:
یہ وضو واجب نہیں، مستحب ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا فائدہ یہ ہے کہ دوبارہ مقاربت کے لیے (توانائی)
پیدا ہوجاتی ہے۔ دیکھیے: (صحيح ابن خزيمه، الوضوء، جماع ابواب فضول التطهير والاستحباب من غير ايجاب، باب ذكر الدليل علي ان الامر بالوضوء عند ارادة الجماع امر ندب وارشاد، حديث: 221)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 587]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 141
بیوی سے دوبارہ صحبت کرنے کا ارادہ کرنے پر جنبی وضو کر لے۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے صحبت کرے پھر وہ دوبارہ صحبت کرنا چاہے تو ان دونوں کے درمیان وضو کر لے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 141]
اردو حاشہ:
1؎:
بعض اہل علم نے اسے وضو لغوی پر محمول کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مراد شرم گاہ دھونا ہے،
لیکن ابن خزیمہ کی روایت سے جس میں ((فَلْيَتَوَضَّأ وُضُوئَه لِلصَّلَاةِ)) آیا ہے اس کی نفی ہوتی ہے،
صحیح یہی ہے کہ اس سے وضو لغوی نہیں بلکہ وضو شرعی مراد ہے،
جمہور نے ((فَلْيَتَوَضَّأ)) میں امر کے صیغے کے استحباب کے لیے مانا ہے،
لیکن ظاہریہ کے نزدیک وجوب کا صیغہ ہے،
جمہور کی دلیل عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہ حدیث ہے جس میں ہے ((كَانَ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم يُجَامِعُ ثُمَّ يَعُوْدُ وَلَايَتَوَضَّأُ)) نیز صحیح ابن خزیمہ میں اس حدیث میں ((فَإِنَّه أَنْشَطَ لِلْعُود)) کا ٹکڑا وارد ہے اس سے بھی اس بات پر دلالت ہوتی ہے کہ امر کا صیغہ یہاں استحباب کے لیے ہے نہ کہ وجوب کے لیے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 141]