🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ وَأَنَّ لَهُ الأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ وَدُخُولِ وَقْتِ صَلاَةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ:
باب: روزہ طلوع فجر سے شروع ہو جاتا ہے اور طلوع فجر تک کھانا وغیرہ جائز ہے، اور اس فجر (صبح کاذب) کا بیان جس میں روزہ شروع ہوتا ہے، اور اس فجر (صبح صادق) کا بیان جس میں صبح کی نماز کا وقت شروع ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1091 ترقیم شاملہ: -- 2535
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إسحاق ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187، قَالَ: فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرَادَ الصَّوْمَ، رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلَيْهِ الْخَيْطَ الْأَسْوَدَ وَالْخَيْطَ الْأَبْيَضَ، فَلَا يَزَالُ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ، حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رِئْيُهُمَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدَ ذَلِكَ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187، فَعَلِمُوا أَنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ".
ابوغسان، ابوحازم، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت «وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ» نازل ہوئی تو بعض آدمی جب ان میں سے کسی کا روزہ رکھنے کا ارادہ ہوتا تو اپنے دونوں پاؤں میں سیاہ اور سفید دھاگے باندھ لیتے اور جب تک دونوں دھاگوں میں واضح امتیاز نظر نہ آتا تو کھاتے اور پیتے رہتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ «مِنَ الْفَجْرِ» نازل فرمایا تو تب معلوم ہوا کہ سیاہ و سفید دھاگے سے رات اور دن مراد ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2535]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے جب یہ آیت اتری اور کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ تمھارے لیے سفید دھاگا سیاہ دھاگا سے واضح ہو جائے تو جب آدمی روزہ رکھنے کا ارادہ کرتا تو وہ اپنے پیروں سے سیاہ اور سفید دھاگا باندھ لیتا۔ تو وہ اس وقت تک کھاتا پیتا رہتا حتی کہ اس کے سامنے ان کا منظر ظاہر ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے بعد میں اس آیت کا یہ ٹکڑا اتارا ﴿مِنَ الْفَجْرِ﴾ تو پھر انھوں نے جان لیا کہ اسے مراد رات دن ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2535]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1091
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1092 ترقیم شاملہ: -- 2536
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ".
لیث، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: حضرت بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت ہی اذان دے دیتے تھے لہذا تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان سنو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2536]
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کو اذان دیتا ہے تو کھاتے پیتے رہو حتی کہ تم ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سن لو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2536]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1092
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1092 ترقیم شاملہ: -- 2537
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ".
یونس، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: حضرت بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت ہی اذان دے دیتے ہیں۔ لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ تم حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان سنو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2537]
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئےسنا کہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کو اذان دیتا ہے لہٰذا ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےاذان دینے تک تو کھاتے پیتے رہو (حتی کہ تم ابن مکتوم کی اذان سن لو) [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2537]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1092
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1092 ترقیم شاملہ: -- 2538
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ: بِلَالٌ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ "، قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا، إِلَّا أَنْ يَنْزِلَ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا،
ابن نمیر، عبیداللہ بن نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مؤذن تھے حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت بلال رضی اللہ عنہ تو رات کے وقت ہی اذان دے دیتے ہیں لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیں۔ راوی نے کہا کہ ان دونوں کی اذان میں کوئی فرق نہیں تھا۔ سوائے اس کے کہ وہ اذان دے کر اترتے تھے اور یہ چڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2538]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو (2) مؤذن تھے۔ بلال اور نابینا ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہما، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال رات کو اذان دیتا ہے اس لیے ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان تک کھاتے پیتے رہو انھوں نے بتایا ان دونوں میں صرف اتنا فرق تھا کہ ایک اترتا تو دوسرا چڑھتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2538]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1092
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1092 ترقیم شاملہ: -- 2539
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ،
ابن نمیر، عبیداللہ، قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2539]
امام صاحب نے اپنے استاد ابن نمیر سے یہی روایت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2539]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1092
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1092 ترقیم شاملہ: -- 2540
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِالْإِسْنَادَيْنِ كِلَيْهِمَا نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
ابواسامہ، عبدہ، حماد بن مسعدہ، سب نے عبیداللہ سے (پچھلی دونوں حدیثوں میں مذکور ان کی) سندوں کے ساتھ ابن نمیر کی حدیث کی طرح روایت کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2540]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے عبید اللہ کی دونوں سندوں سے (عبیداللہ عن نافع، عن ابن عمر، عبیداللہ عن ابو القاسم، عن عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) ابن نمیر کی حدیث کے ہم معنی بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2540]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1092
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1093 ترقیم شاملہ: -- 2541
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، أَوَ قَالَ: نِدَاءُ بِلَالٍ مِنْ سُحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ، أَوَ قَالَ: يُنَادِي بِلَيْلٍ لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَيُوقِظَ نَائِمَكُمْ، وَقَالَ: لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَصَوَّبَ يَدَهُ وَرَفَعَهَا، حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا وَفَرَّجَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ "،
اسماعیل بن ابراہیم، سلیمان تیمی، ابوعثمان، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کی وجہ سے نہ رکے یا آپ نے فرمایا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی پکار سحری کھانے سے نہ روکے کیونکہ وہ اذان دیتے ہیں یا فرمایا کہ وہ پکارتے ہیں تاکہ نماز میں کھڑا ہونے والا سحری کے لیے لوٹ جائے۔ اور تم میں سے سونے والا جاگ جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر ہاتھ سیدھا کیا اور اوپر کو بلند کیا یہاں تک کہ آپ فرماتے کہ صبح اس طرح نہیں ہوتی پھر انگلیوں کو پھیلا کر فرمایا: صبح اس طرح ہوتی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2541]
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان یا ندا سحری کھانے سے نہ روک دے کیونکہ وہ اذان یا ندا رات کو دیتا ہے تاکہ قیام کرنے والے کو(سحری یا آرام کی طرف) لوٹا دے (یا اگر کوئی اور ضرورت ہو تو پوری کرے) اور سونے والے کو بیدار کر دے اور فرمایا: صبح اس، اس طرح نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ نیچے کیا اور اوپر اٹھایا حتی کہ اس طرح ہو اپنی دونوں انگلیوں کو کھول دیا کہ وہ دائیں بائیں پھیل جائیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2541]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1093
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1093 ترقیم شاملہ: -- 2542
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ الْفَجْرَ لَيْسَ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ نَكَسَهَا إِلَى الْأَرْضِ، وَلَكِنْ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا، وَوَضَعَ الْمُسَبِّحَةَ عَلَى الْمُسَبِّحَةِ وَمَدَّ يَدَيْهِ "،
خالد احمر، سلیمان تیمی سے اس سند کے ساتھ حضرت سلیمان تیمی سے یہ روایت اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں انہوں نے فرمایا کہ فجر وہ نہیں جو اس طرح ہو اور آپ نے انگلیوں کو ملایا پھر انہیں زمین کی طرف جھکایا اور فرمایا کہ فجر وہ ہے جو اس طرح ہو اور شہادت کی انگلی کو شہادت کی انگلی پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو پھیلایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2542]
مصنف اپنے مالک اور استاد سے سلیمان تیمی ہی کی سند سے اس فرق کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر وہ نہیں ہے جو ایسی ہو(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو مجتمع کر کے بعد میں زمین کی طرف جھکا دیا) لیکن فجر وہ ہے جو اس طرح ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشت شہادت کو دوسری شہادت پر رکھا اور دونوں ہاتھ پھیلا دئیے دائیں بائیں کھول دیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2542]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1093
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1093 ترقیم شاملہ: -- 2543
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَالْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، كلاهما، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَانْتَهَى حَدِيثُ الْمُعْتَمِرِ عِنْدَ قَوْلِهِ " يُنَبِّهُ نَائِمَكُمْ وَيَرْجِعُ قَائِمَكُمْ "، وقَالَ إسحاق: قَالَ جَرِيرٌ فِي حَدِيثِهِ: " وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَلَكِنْ يَقُولُ هَكَذَا يَعْنِي: الْفَجْرَ، هُوَ الْمُعْتَرِضُ وَلَيْسَ بِالْمُسْتَطِيلِ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ، معتمر بن سلیمان، اسحاق بن ابراہیم، جریر، معتمر بن سلیمان، اس سند کے ساتھ حضرت سلیمان تیمی سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔ اس میں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان اس وجہ سے ہوتی ہے کہ تم میں سے جو سو رہا ہو وہ بیدار ہو جائے اور جو نماز پڑھ رہا ہو وہ لوٹ جائے۔ اسحاق نے کہا: جریر نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ صبح اس طرح نہیں ہے مطلب یہ کہ چوڑائی میں ہے لمبائی میں نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2543]
مصنف یہی حدیث دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں معتمر کی حدیث یہاں ختم ہو جاتی ہے کہ وہ سونے والے کو بیدار کرے اور قیام کرنے والے کو سحری یا آرام یا اور کسی ضرورت کے لیے لوٹا دے۔ اور اسحاق بیان کرتے ہیں جریر کی حدیث میں ہے فجر ایسے نہیں ہے بلکہ ایسے ہے یعنی فجر وہ ہے جو چوڑائی میں پھیلتی ہے۔ اور وہ اوپر لمبائی میں نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2543]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1093
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1094 ترقیم شاملہ: -- 2544
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيِّ ، حَدَّثَنِي وَالِدِي ، أَنَّهُ سَمِعَ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَغُرَّنَّ أَحَدَكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ مِنَ السَّحُورِ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَسْتَطِيرَ ".
عبدالوارث، عبداللہ بن سوادہ قشیری، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے ہیں: تم میں سے کوئی سحری کے وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سے دھوکا نہ کھائے اور نہ ہی اس سفیدی سے جب تک کہ وہ پھیل نہ جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2544]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: تم میں سے کسی کو بلال کی ندا سحری سے دھوکا میں مبتلا نہ کرے اور نہ یہ سفید ی حتی کہ چوڑائی میں پھیل جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2544]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1094
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں