علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب بيان ان الدخول في الصوم يحصل بطلوع الفجر وان له الاكل وغيره حتى يطلع الفجر وبيان صفة الفجر الذي تتعلق به الاحكام من الدخول في الصوم ودخول وقت صلاة الصبح وغير ذلك:
باب: روزہ طلوع فجر سے شروع ہو جاتا ہے اور طلوع فجر تک کھانا وغیرہ جائز ہے، اور اس فجر (صبح کاذب) کا بیان جس میں روزہ شروع ہوتا ہے، اور اس فجر (صبح صادق) کا بیان جس میں صبح کی نماز کا وقت شروع ہوتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1094 ترقیم شاملہ: -- 2544
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيِّ ، حَدَّثَنِي وَالِدِي ، أَنَّهُ سَمِعَ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَغُرَّنَّ أَحَدَكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ مِنَ السَّحُورِ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَسْتَطِيرَ ".
عبدالوارث، عبداللہ بن سوادہ قشیری، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے ہیں: ”تم میں سے کوئی سحری کے وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سے دھوکا نہ کھائے اور نہ ہی اس سفیدی سے جب تک کہ وہ پھیل نہ جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2544]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”تم میں سے کسی کو بلال کی ندا سحری سے دھوکا میں مبتلا نہ کرے اور نہ یہ سفید ی حتی کہ چوڑائی میں پھیل جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2544]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1094
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2173
| لا يغرنكم أذان بلال ولا هذا البياض حتى ينفجر الفجر هكذا وهكذا يعني معترضا |
صحيح مسلم |
2546
| لا يغرنكم من سحوركم أذان بلال ولا بياض الأفق المستطيل هكذا حتى يستطير هكذا |
صحيح مسلم |
2544
| لا يغرن أحدكم نداء بلال من السحور ولا هذا البياض حتى يستطير |
صحيح مسلم |
2545
| لا يغرنكم أذان بلال ولا هذا البياض لعمود الصبح حتى يستطير هكذا |
صحيح مسلم |
2547
| لا يغرنكم نداء بلال ولا هذا البياض حتى يبدو الفجر أو قال حتى ينفجر الفجر |
جامع الترمذي |
706
| لا يمنعنكم من سحوركم أذان بلال ولا الفجر المستطيل ولكن الفجر المستطير في الأفق |
سنن أبي داود |
2346
| لا يمنعن من سحوركم أذان بلال ولا بياض الأفق الذي هكذا حتى يستطير |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2544 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2544
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
سَحور:
سحری کے لیے تیار کردہ کھانا۔
سُحور:
سحری کا کھانا،
کھانا۔
مفردات الحدیث:
سَحور:
سحری کے لیے تیار کردہ کھانا۔
سُحور:
سحری کا کھانا،
کھانا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2544]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2173
فجر کیسے ہوتی ہے؟
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال کی اذان تمہیں ہرگز دھوکہ میں نہ ڈالے، اور نہ یہ سفیدی یہاں تک کہ فجر کی روشنی اس طرح اور اس طرح“، یعنی چوڑائی میں پھوٹ پڑے۔ ابوداؤد (طیالسی) کہتے ہیں: (شعبہ) نے اپنے دونوں ہاتھ دائیں بائیں بڑھا کر پھیلائے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2173]
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال کی اذان تمہیں ہرگز دھوکہ میں نہ ڈالے، اور نہ یہ سفیدی یہاں تک کہ فجر کی روشنی اس طرح اور اس طرح“، یعنی چوڑائی میں پھوٹ پڑے۔ ابوداؤد (طیالسی) کہتے ہیں: (شعبہ) نے اپنے دونوں ہاتھ دائیں بائیں بڑھا کر پھیلائے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2173]
اردو حاشہ:
حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان نہ تو تہجد کے لیے تھی کیونکہ نفل نماز کے لیے اذان نہیں اور نہ سحری کے لیے کیونکہ اذان نماز کے لیے ہوتی ہے، کھانے پینے کے لیے نہیں، بلکہ فجر کی نماز کے لیے ہی ہوتی ہے لیکن وقت سے کچھ پہلے، البتہ اس اذان سے کوئی شخص تہجد یا سحری کا فائدہ اٹھا سکتا ہے، جیسے مغرب کی اذان سے افطاری کا فائدہ اٹھا لیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اگرچہ ان دو اذانوں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہ ہوتا تھا مگر چونکہ یہ فاصلہ مقرر نہیں، لہٰذا یہ زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان نہ تو تہجد کے لیے تھی کیونکہ نفل نماز کے لیے اذان نہیں اور نہ سحری کے لیے کیونکہ اذان نماز کے لیے ہوتی ہے، کھانے پینے کے لیے نہیں، بلکہ فجر کی نماز کے لیے ہی ہوتی ہے لیکن وقت سے کچھ پہلے، البتہ اس اذان سے کوئی شخص تہجد یا سحری کا فائدہ اٹھا سکتا ہے، جیسے مغرب کی اذان سے افطاری کا فائدہ اٹھا لیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اگرچہ ان دو اذانوں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہ ہوتا تھا مگر چونکہ یہ فاصلہ مقرر نہیں، لہٰذا یہ زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2173]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2346
سحری کھانے کے وقت کا بیان۔
سوادہ قشیری کہتے ہیں کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں سحری کھانے سے بلال کی اذان ہرگز نہ روکے اور نہ آسمان کے کنارے کی سفیدی (صبح کاذب) ہی باز رکھے، جو اس طرح (لمبائی میں) ظاہر ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ پھیل جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2346]
سوادہ قشیری کہتے ہیں کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں سحری کھانے سے بلال کی اذان ہرگز نہ روکے اور نہ آسمان کے کنارے کی سفیدی (صبح کاذب) ہی باز رکھے، جو اس طرح (لمبائی میں) ظاہر ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ پھیل جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2346]
فوائد ومسائل:
فجر کی دو قسمیں ہیں: فجر کاذب اور فجر صادق۔
فجر کاذب میں سحری کھائی جاتی ہے اور فجر صادق شروع ہوتے ہی سحری کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ فجر کاذب میں لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے اذان دیا کرتے تھے۔
فجر کاذب میں پہلے سفیدی (روشنی) سیدھی آسمان کو اٹھتی ہے، پھر جلد ہی دوبارہ سفیدی نکل کر اِطراف افق میں پھیل جاتی ہے اور یہی فجر صادق ہوتی ہے۔
فجر کی دو قسمیں ہیں: فجر کاذب اور فجر صادق۔
فجر کاذب میں سحری کھائی جاتی ہے اور فجر صادق شروع ہوتے ہی سحری کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ فجر کاذب میں لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے اذان دیا کرتے تھے۔
فجر کاذب میں پہلے سفیدی (روشنی) سیدھی آسمان کو اٹھتی ہے، پھر جلد ہی دوبارہ سفیدی نکل کر اِطراف افق میں پھیل جاتی ہے اور یہی فجر صادق ہوتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2346]
Sahih Muslim Hadith 2544 in Urdu
سوادة بن حنظلة القشيري ← سمرة بن جندب الفزاري