صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ:
باب: مہینہ انتیس دنوں کا (بھی) ہوتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1086 ترقیم شاملہ: -- 2525
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ عَلَى الْأُخْرَى، فَقَالَ: " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا، ثُمَّ نَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا ".
محمد بن بشر، اسماعیل بن ابی خالد، محمد بن سعید، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ”مہینہ اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ ایک انگلی کم فرما لی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2525]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ”مہینہ ایسا، ایسا ہوتا ہے“ پھر تیسری مرتبہ ایک انگلی کم کر دی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2525]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1086
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1086 ترقیم شاملہ: -- 2526
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، عَشْرًا وَعَشْرًا وَتِسْعًا مَرَّةً "،
زائدہ، اسماعیل، حضرت محمد بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح سے ہوتا ہے دس اور دس اور نو مرتبہ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2526]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ ایسا، ایسا، ایسا ہوتا ہے۔“ دس اور دس اور ایک دفعہ نو یعنی انتیس۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2526]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1086
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1086 ترقیم شاملہ: -- 2527
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، وَسَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا.
عبداللہ بن مبارک، اسماعیل بن ابی خالد اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اس طرح نقل کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2527]
امام صاحب نے دوسرے استاد سے مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2527]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1086
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
5. باب بَيَانِ أَنَّ لِكُلِّ بَلَدٍ رُؤْيَتَهُمْ وَأَنَّهُمْ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ بِبَلَدٍ لاَ يَثْبُتُ حُكْمُهُ لِمَا بَعُدَ عَنْهُمْ:
باب: ہر شہر کے لئے اس کی اپنی رؤیت معتبر ہے اور کسی شہر میں چاند دیکھنے سے دور والوں کے لیے رؤیت ثابت نہیں ہوتی۔
ترقیم عبدالباقی: 1087 ترقیم شاملہ: -- 2528
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا، وَاسْتُهِلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْتُ الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ، فَقَالَ: " مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ؟ "، فَقُلْتُ: " رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ "، فَقَالَ: " أَنْتَ رَأَيْتَهُ؟ "، فَقُلْتُ: " نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ، وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ "، فَقَالَ: " لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ أَوْ نَرَاهُ "، فَقُلْتُ: " أَوَ لَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ "، فَقَالَ: " لَا هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَشَكَّ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى فِي نَكْتَفِي أَوْ تَكْتَفِي.
یحییٰ بن یحییٰ، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، یحییٰ بن یحییٰ، اسماعیل، ابن جعفر، محمد، ابن حرملہ، حضرت کریب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے مجھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف ملک شام بھیجا میں شام میں پہنچا تو میں نے حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا کا کام پورا کیا۔ اور وہیں پر رمضان المبارک کا چاند ظاہر ہو گیا۔ اور میں نے شام میں ہی جمعے کی رات چاند دیکھا پھر میں مہینے کے آخر میں مدینے آیا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے چاند کا ذکر ہوا تو مجھے پوچھنے لگے کہ تم نے چاند کب دیکھا ہے؟ تو میں نے کہا کہ ہم نے جمعہ کی رات چاند دیکھا ہے۔ پھر فرمایا: تو نے خود دیکھا تھا؟ میں نے کہا ہاں! اور لوگوں نے بھی دیکھا ہے اور انہوں نے روزہ رکھا۔ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا چاند دیکھنا اور ان کا روزہ رکھنا کافی نہیں ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ یحییٰ بن یحییٰ کو شک ہے کہ ”ہم اکتفا نہیں کریں گے۔“ کے الفاظ تھے یا ”آپ اکتفا نہیں کریں گے۔“ کے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2528]
ابوکریب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انہیں شام معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، میں شام آیا اور ان کی ضرورت پوری کی۔ اور چاند جبکہ میں شام ہی میں تھا نمودار ہو گیا، میں نے چاند جمعہ کی رات دیکھا، پھر مہینے کے آخر میں مدینہ آگیا تو مجھ سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کچھ پوچھا، پھر چاند کا تذکرہ کیا اور کہا: ”تم نے چاند کب دیکھا؟“ میں نے کہا: ”ہم نے اسے جمعہ کی رات دیکھا۔“ تو انہوں نے پوچھا: ”تم نے خود دیکھا ہے؟“ میں نے جواب دیا: ”جی ہاں! اور لوگوں نے بھی دیکھا ہے، سب نے روزہ رکھا اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا۔“ تو انہوں نے کہا: ”لیکن ہم نے تو ہفتے کی رات دیکھا ہے، اس لیے ہم روزہ رکھتے رہیں گے حتیٰ کہ تیس پورے ہو جائیں یا ہمیں نظر آ جائے۔“ میں نے کہا: ”کیا آپ معاویہ رضی اللہ عنہ کی رویت اور ان کے روزے کو کافی نہیں سمجھتے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی حکم دیا ہے۔“ یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث میں ہے «لَا نَكْتَفِي أَوْ تَكْتَفِي» ”ہم کافی نہیں سمجھیں گے یا آپ کافی نہیں سمجھتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2528]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1087
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
6. باب بَيَانِ أَنَّهُ لاَ اعْتِبَارَ بِكِبَرِ الْهِلاَلِ وَصِغَرِهِ وَأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَمَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ فَإِنْ غُمَّ فَلْيُكَمَّلْ ثَلاَثُونَ.
باب: چاند کے چھوٹے بڑے ہونے کا اعتبار نہیں اور جب بادل ہوں تو تیس دن شمار کر لیا کرو۔
ترقیم عبدالباقی: 1088 ترقیم شاملہ: -- 2529
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ: خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ، قَالَ: تَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ، قَالَ: فَلَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْنَا: إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلَالَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ، فَقَالَ: أَيَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ؟، قَالَ: فَقُلْنَا: لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ مَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ، فَهُوَ لِلَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ ".
حصین، عمر بن مرہ، حضرت ابوالبختری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم عمرہ کے لیے نکلے تو جب ہم وادی نخلہ میں اترے تو ہم نے چاند دیکھا بعض لوگوں نے کہا کہ یہ تیسری کا چاند ہے۔ اور کسی نے کہا کہ یہ دو راتوں کا چاند ہے۔ تو ہماری ملاقات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہم نے چاند دیکھا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ تیسری تاریخ کا چاند ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ دوسری کا چاند ہے۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تم نے کس رات چاند دیکھا تھا؟ تو ہم نے عرض کیا کہ فلاں فلاں رات کا تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے دیکھنے کے لیے اسے بڑھا دیا ہے۔ در حقیقت وہ اسی رات کا چاند ہے جس رات تم نے اسے دیکھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2529]
ابو البختری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم عمرہ کے لیے نکلے، جب بطنِ نخلہ نامی مقام پر پڑاؤ کیا تو ہم نے ایک دوسرے کو چاند دکھایا، بعض لوگوں نے کہا: ”تیسری رات کا چاند ہے“ اور بعض نے کہا: ”دوسری رات کا ہے“ اور ہماری ملاقات ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو ہم نے پوچھا: ”ہم نے چاند دیکھا تو بعض لوگوں نے کہا: تیسری رات کا چاند ہے اور بعض لوگوں نے کہا: دوسری رات کا ہے۔“ آپ نے پوچھا: ”تم نے اسے کس رات دیکھا؟“ تو ہم نے بتایا کہ فلاں فلاں رات کو دیکھا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اسے دیکھنے کے لیے بڑھا دیتا ہے درحقیقت وہ اس رات کا ہے جس رات تم نے اسے دیکھا ہے“، «مَدَّهُ» دیکھنے کے لیے اس کی مدتِ رؤیت بڑھا دی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2529]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1088
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1088 ترقیم شاملہ: -- 2530
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ: أَهْلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ، فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ".
شعبہ، عمرو بن مرہ، حضرت ابوالبختری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ذات عرق میں رمضان کا چاند دیکھا تو ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف ایک آدمی بھیجا تاکہ وہ چاند کے بارے میں آپ سے پوچھے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے چاند دیکھنے کے لیے بڑھا دیا ہے۔ تو اگر مطلع ابر آلود ہو تو گنتی پوری کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2530]
ابو البختری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رمضان کا چاند ذاتِ عرق میں دیکھا تو ہم نے ایک آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس پوچھنے کے لیے بھیجا، تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اسے دیکھنے کے لیے مدت زیادہ دیتا ہے (بڑھا دیتا ہے)، اگر مطلع ابر آلود ہو جائے تو گنتی (تیس) پوری کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2530]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1088
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
7. باب بَيَانِ مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَهْرَا عِيدٍ لاَ يَنْقُصَانِ» :
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے معنی میں کہ عید کے دونوں مہینے ناقص نہیں ہوتے۔
ترقیم عبدالباقی: 1089 ترقیم شاملہ: -- 2531
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ، رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ ".
یزید بن زریع، خالد، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عید کے دو ماہ ناقص نہیں ہوتے ایک رمضان المبارک کا دوسرے ذی الحجہ کا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2531]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عید کے دو ماہ رمضان اور ذوالحجہ ناقص نہیں ہوتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2531]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1089
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1089 ترقیم شاملہ: -- 2532
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إسحاق بْنِ سُوَيْدٍ ، وَخَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ "، فِي حَدِيثِ خَالِدٍ: " شَهْرَا عِيدٍ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ ".
معتمر بن سلیمان، اسحاق بن سوید، خالد، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دو مہینے ناقص نہیں ہوتے۔“ خالد کی حدیث میں ہے کہ عید کے دو مہینے رمضان اور ذی الحجہ کے ہیں۔ خالد کی حدیث میں ہے: ”عید کے دونوں مہینے، رمضان اور ذوالحجہ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2532]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عید کے دو ماہ کم نہیں ہوتے۔“ خالد کی حدیث میں ہے: ”عید کے دو ماہ رمضان اور ذوالحجہ ہیں۔۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2532]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1089
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
8. باب بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ وَأَنَّ لَهُ الأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ وَدُخُولِ وَقْتِ صَلاَةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ:
باب: روزہ طلوع فجر سے شروع ہو جاتا ہے اور طلوع فجر تک کھانا وغیرہ جائز ہے، اور اس فجر (صبح کاذب) کا بیان جس میں روزہ شروع ہوتا ہے، اور اس فجر (صبح صادق) کا بیان جس میں صبح کی نماز کا وقت شروع ہوتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1090 ترقیم شاملہ: -- 2533
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187، قَالَ لَهُ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجْعَلُ تَحْتَ وِسَادَتِي عِقَالَيْنِ: عِقَالًا أَبْيَضَ وَعِقَالًا أَسْوَدَ، أَعْرِفُ اللَّيْلَ مِنَ النَّهَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ وِسَادَتَكَ لَعَرِيضٌ، إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ، وَبَيَاضُ النَّهَارِ ".
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب آیت «حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ» نازل ہوئی۔ تو حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے تکیے کے نیچے سفید اور سیاہ رنگ کے دو دھاگے رکھ لیے ہیں۔ جن کی وجہ سے میں رات اور دن میں امتیاز کر لیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا تکیہ بہت چوڑا ہے کہ جس میں رات اور دن سما گئے ہیں۔ وہ (دھاگا) تو رات کی سیاہی اور دن کی روشنی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2533]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت اتری: ﴿حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ﴾ ”یہاں تک کہ تم پر فجر کا سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے نمایاں ہو جائے۔“ [سورة البقرة: 187] ، عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے تکیہ کے نیچے دو رسیاں، ایک سفید رنگ کی رسی اور ایک سیاہ رنگ کی رسی رکھ لیتا ہوں تاکہ میں رات اور دن میں امتیاز کر سکوں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(پھر تو) تمھارا تکیہ بہت چوڑا ہے (جس کے نیچے رات دن چھپ جاتے ہیں) ان سے مراد تو رات کی سیاہی اور دن کی روشنی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2533]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1090
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1091 ترقیم شاملہ: -- 2534
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يَأْخُذُ خَيْطًا أَبْيَضَ وَخَيْطًا أَسْوَدَ، فَيَأْكُلُ حَتَّى يَسْتَبِينَهُمَا، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187 فَبَيَّنَ ذَلِكَ ".
فضیل بن سلیمان، ابوحازم، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ جب یہ آیت «وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ» نازل ہوئی تو بعض آدمی سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ لے لیتے اور جب تک ان میں واضح امتیاز نظر نہ آتا تو کھاتے رہتے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے لفظ «مِنَ الْفَجْرِ» نازل فرمایا اور سفید دھاگے کی وضاحت ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2534]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت ﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ﴾ [سورة البقرة: 187] ”اور کھاؤ پیو یہاں تک تم پر سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ممتاز ہو جائے“ اتری، تو بعض لوگ ایک سفید دھاگہ اور ایک سیاہ دھاگہ لے لیتے اور ان دونوں کے ممتاز اور نمایاں ہونے تک کھاتے رہتے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ﴿مِنَ الْفَجْرِ﴾ [سورة البقرة: 187] ”فجر سے“ لفظ اتار کر مفہوم کو واضح کر دیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2534]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1091
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة