🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ:
باب: محرم مر جائے تو کیا کیا جائے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1206 ترقیم شاملہ: -- 2901
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَمَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْسِلُوهُ وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا، وَلَا تُغَطُّوا وَجْهَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُلَبِّي ".
منصور نے سعید بن جبیر سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک شخص (سفر حج میں شریک) تھا اسے اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی اور وہ فوت ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے غسل دو اور خوشبو اس کے قریب نہ لاؤ نہ ہی اس کا سر ڈھانپو۔ بلاشبہ وہ قیامت کے دن اس طرح اٹھایا جائے گا کہ وہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2901]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک آدمی تھا، اس کی اونٹنی نے اسے گرا کر اس کی گردن توڑ ڈالی، جس سے وہ مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے نہلاؤ اور خوشبو اس کے قریب نہ لانا اور نہ اس کا چہرہ ڈھانپنا کیونکہ (قیامت کے دن) اسے تلبیہ کہتے ہوئے اٹھایا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2901]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1206
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. باب جَوَازِ اشْتِرَاطِ الْمُحْرِمِ التَّحَلُّلَ بِعُذْرِ الْمَرَضِ وَنَحْوِهِ:
باب: محرم کا شرط لگانا کہ بیماری یا کسی اور عذر کی بناء پر میں احرام کھول دوں گا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1207 ترقیم شاملہ: -- 2902
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ لَهَا: " أَرَدْتِ الْحَجَّ؟ "، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً، فَقَالَ لَهَا: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي، وَقُولِي: اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي "، وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ.
ابواسامہ نے ہشام سے انہوں نے اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا (بن عبدالمطلب) کے ہاں تشریف لے گئے اور دریافت کیا: ”تم حج کا ارادہ رکھتی ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم میں خود کو بیماری کی حالت میں پاتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”حج (کی نیت) کرو اور شرط کرلو اور یوں کہو: اللہم مَحِلِّي حيث حبستني“ ”اے اللہ! میں وہاں احرام کھول دوں گی جہاں تو مجھے روک دے گا۔“ وہ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2902]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے اور ان سے پوچھا: ”کیا تو نے حج کا ارادہ کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اللہ کی قسم! میں تو اپنے آپ کو بیمار پاتی ہوں، (میں بیمار ہوں)۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”حج کا ارادہ کر لے اور شرط لگا لے اور یوں کہہ لے: «اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي» ”اے اللہ! میں اس جگہ حلال ہو جاؤں گی، جہاں تو مجھے روک لے گا۔““ وہ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2902]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1207
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1207 ترقیم شاملہ: -- 2903
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ وَأَنَا شَاكِيَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي "،
زہری نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں حج کرنا چاہتی ہوں جبکہ میں بیمار (بھی) ہوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم حج کے لیے نکل پڑو اور یہ شرط کرلو کہ (اے اللہ!) میں اسی جگہ احرام کھول دوں گی جہاں تو مجھے روک دے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2903]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حج کرنا چاہتی ہوں، جبکہ میں بیمار ہوں۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم حج کرو اور یہ شرط لگا لو: «مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي» ”میں وہیں حلال ہو جاؤں گی (احرام کھول دوں گی) جہاں تو مجھے روک لے گا۔““ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2903]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1207
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1207 ترقیم شاملہ: -- 2904
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِثْلَهُ.
معمر نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی (گزشتہ حدیث) کے مطابق حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2904]
”امام صاحب یہی حدیث اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2904]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1207
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1208 ترقیم شاملہ: -- 2905
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، وَأَبُو عَاصِمٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، وَعِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَمَا تَأْمُرُنِي؟، قَالَ: " أَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي "، قَالَ: فَأَدْرَكَتْ.
ابوزبیر نے طاوس کو اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام عکرمہ کو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے سنا کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ اور کہا میں (بیماری کی وجہ سے) خود کو مشکل سے اٹھا پاتی ہوں اور حج بھی کرنا چاہتی ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”حج کا احرام باندھ لو اور شرط لگاؤ کہ (اے اللہ!) جہاں تو مجھے روک دے گا وہی میرے احرام کھول دینے کا مقام ہو گا۔“ (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) کہا: کہ ضباعہ رضی اللہ عنہا نے) حج کر لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2905]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: ”میں بیمار رہنے والی عورت ہوں اور میں حج کرنا چاہتی ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج کا احرام باندھ لے اور شرط لگا لے: «اللَّهُمَّ مَحَلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي» ”میں وہیں احرام کھول دوں گی جہاں (اے اللہ) تو مجھے روک لے گا۔“”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”اس کو حج کرنے کا موقع مل گیا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2905]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1208
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1208 ترقیم شاملہ: -- 2906
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ ضُبَاعَةَ أَرَادَتِ الْحَجَّ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَشْتَرِطَ، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عمرو بن ہرم نے سعید بن جبیر اور عکرمہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ضباعہ رضی اللہ عنہا نے حج کرنا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ شرط لگا لیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ایسا ہی کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2906]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ضباعہ رضی اللہ عنہا نے حج کرنے کا ارادہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ”شرط لگانے“ کا حکم دیا، تو انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ایسے ہی کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2906]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1208
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1208 ترقیم شاملہ: -- 2907
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، قَالَ إِسْحَاق أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَهُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي مَعْروفٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِضُبَاعَةَ: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي "، وَفِي رِوَايَةِ إِسْحَاق: أَمَرَ ضُبَاعَةَ.
ہمیں اسحاق بن ابراہیم ابوایوب غیلانی اور احمد بن خراش نے حدیث بیان کی۔۔۔اسحاق نے کہا: ہم کو خبر دی اور دوسروں نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی۔۔۔ابوعامر نے جو عبدالملک بن عمرو ہیں انہوں نے کہا ہمیں رباح نے جو ابن ابی معروف ہیں عطاء سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضباعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”حج (کی نیت) کرو اور (احرام باندھتے ہوئے) شرط کرلو کہ (اے اللہ!) تو نے جہاں مجھے روک دیا وہیں میرا احرام ختم ہو جائے گا۔“ اور اسحاق کی روایت کے الفاظ ہیں (آپ نے ضباعہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2907]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ضباعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”حج کر اور شرط لگا لے: «اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي» ”(اے اللہ) میں وہیں احرام کھول دوں گی جہاں تو مجھے روک لے گا۔““ اسحاق کی روایت میں «قَالَ لِضَبَاعَةَ» کی بجائے «أَمَرَ ضَبَاعَةَ» ہے کہ ضباعہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2907]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1208
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. باب إِحْرَامِ النُّفَسَاءِ وَاسْتِحْبَابِ اغْتِسَالِهَا لِلإِحْرَامِ وَكَذَا الْحَائِضِ:
باب: حیض و نفاس والی عورتوں کے احرام اور احرام کے لئے غسل کے استحباب کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1209 ترقیم شاملہ: -- 2908
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كلهم، عَنْ عَبْدَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بِالشَّجَرَةِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ يَأْمُرُهَا، أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ (ذوالحلیفہ کے مقام پر واقع) درخت کے قریب (قیام کے دوران میں) حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو محمد بن ابی بکر کی (پیدائش کی) وجہ سے نفاس کا خون آنا شروع ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ان (اپنی اہلیہ اسماء رضی اللہ عنہا) سے کہیں کہ وہ غسل کر لیں اور احرام باندھ لیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2908]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو شجرہ کے پاس محمد بن ابی بکر کی پیدائش کی بنا پر نفاس شروع ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا: ”اسے کہو کہ وہ غسل کر لے اور احرام باندھ لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2908]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1209
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1210 ترقیم شاملہ: -- 2909
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي حَدِيثِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ حِينَ نُفِسَتْ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ ".
جعفر (صادق) نے اپنے والد محمد (باقر بن علی زین العابدین بن حسین بن علی رضی اللہ عنہ) سے انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کی حدیث (کے بارے) میں روایت کی کہ جب انہیں ذوالحلیفہ میں نفاس آگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے ان (اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا) سے کہا کہ وہ غسل کر لیں اور احرام باندھ لیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2909]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے بارے میں بیان کرتے ہیں جب مقامِ ذوالحلیفہ میں انہیں نفاس شروع ہو گیا، کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اسے حکم دیا کہ وہ غسل کر لے اور احرام باندھ لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2909]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1210
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. باب بَيَانِ وُجُوهِ الإِحْرَامِ وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ:
باب: احرام کی اقسام کابیان، اور حج افراد، تمتع، اور قران تینوں جائز ہیں، اور حج کا عمرہ پر داخل کرنا جائز ہے، اور حج قارن والا اپنے حج سے کب حلال ہو جائے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 2910
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا "، قَالَتْ: فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ، لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَدَعِي الْعُمْرَةَ "، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ: " هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ "، فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا.
مالک نے ابن شہاب سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم حجۃ الوداع کے سال (اس کی ادائیگی کے لیے) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے اور ہم (میں سے کچھ) نے عمرے کے لیے (احرام باندھ کر) تلبیہ کہا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قربانی کا جانور جس کے ساتھ ہو وہ عمرے کے ساتھ ہی حج کا بھی تلبیہ پکارے اور اس وقت تک احرام نہ کھولے جب تک دونوں (کے لیے عائد کردہ احرام کی پابندیوں) سے آزاد نہ ہو جائے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا جب میں مکہ پہنچی تو ایام مخصوصہ میں تھی میں نے نہ حج کا طواف کیا اور نہ صفا مروہ کے درمیان سعی کی میں نے اس (صورت حال) کا شکوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”اپنے سر کے بال کھولو اور کنگھی کرو (پھر) حج کا تلبیہ پکارنا شروع کردو اور عمرے کو چھوڑدو۔“ انہوں نے کہا: میں نے ایسا ہی کیا پھر جب ہم نے حج ادا کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (میرے بھائی) عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا میں نے (وہاں سے احرام باندھ کر) عمرہ کیا۔ آپ نے فرمایا: ”یہ (عمرہ) تمہارے (اس رہ جانے والے) عمرے کی جگہ ہے۔“ جن لوگوں نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا۔ انہوں نے بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا اور پھر احرام کھول دیا۔ پھر جب وہ لوگ (حج کے دوران میں) منیٰ سے لوٹے تو انہوں نے اپنے حج کے لیے دوسری بار طواف کیا البتہ وہ لوگ جنہوں نے حج اور عمرے کو جمع کیا تھا (حج قران کیا تھا) تو انہوں نے (صفا مروہ کا) ایک ہی طواف کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2910]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حجۃ الوداع کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہم نے عمرے کا احرام باندھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس ہدی ہے تو وہ عمرہ کے ساتھ حج کے لیے بھی تلبیہ کہے، پھر وہ جب تک دونوں سے حلال نہ ہو جائے، اس وقت تک احرام نہ کھولے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں مکہ، حیض کی حالت میں پہنچی، اس لیے بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی اور نہ ہی صفا و مروہ کی سعی کر سکی تو میں نے اس کا شکوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے سر کے بال کھول دے اور کنگھی کر لے اور حج کا تلبیہ کہہ اور عمرہ کے افعال چھوڑ دے۔“ تو میں نے ایسے ہی کیا، جب ہم حج سے فارغ ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقام تنعیم بھیجا، میں نے عمرہ کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے عمرے کی جگہ ہے۔“ تو جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا، انہوں نے بیت اللہ، صفا اور مروہ کے چکر لگائے، پھر احرام کھول دیا، پھر جب وہ منیٰ سے واپس آئے تو انہوں نے اپنے حج کے لیے دوبارہ طواف کیا، لیکن جن لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا، انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2910]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں