صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب جَوَازِ حَلْقِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا كَانَ بِهِ أَذًى وَوُجُوبِ الْفِدْيَةِ لِحَلْقِهِ وَبَيَانِ قَدْرِهَا:
باب: تکلیف لاحق ہونے کی صورت میں محرم کو سر منڈانے کی اجازت اور اس پر فدیہ کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1201 ترقیم شاملہ: -- 2881
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، وَأَيُّوبَ ، وَحُمَيْدٍ وَعَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ هَذِهِ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ رَأْسَكَ، وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ وَالْفَرَقُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً"، قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ: أَوِ اذْبَحْ شَاةً.
ابن ابی نجیح، ایوب، حمید اور عبدالکریم نے مجاہد سے انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہونے سے پہلے جب حدیبیہ میں تھے ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ (کعب رضی اللہ عنہ) احرام کی حالت میں تھے اور ایک ہنڈیا کے نیچے آگ جلانے میں لگے ہوئے تھے جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فرمایا: ”کیا تمہاری سر کی جوئیں تمہیں اذیت دے رہی ہیں؟“ انہوں نے عرض کی جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”تو اپنا سر منڈوالو اور ایک فرق کھانا چھ مسکینوں کو کھلادو۔۔۔ایک فرق تین صاع کا ہوتا ہے۔۔۔یا تین دن کے روزے رکھو یا قربانی کے ایک جانور کی قربانی کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2881]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور وہ مکہ میں داخل ہونے سے پہلے حدیبیہ میں تھے اور وہ حالتِ احرام میں تھے، وہ ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہے تھے اور جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تجھے یہ زہریلے جانور تکلیف دیتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا سر منڈوا اور چھ مسکینوں کے درمیان ایک «فَرَقٍ» ”تین صاع“ کھانا تقسیم کر یا تین روزے رکھ لے یا ایک قربانی کر دے۔“ ابن نجیح کہتے ہیں: ”یا ایک بکری ذبح کر دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2881]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1201
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1201 ترقیم شاملہ: -- 2882
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ لَهُ:" آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْلِقْ رَأْسَكَ، ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ".
ابوقلابہ نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے دنوں میں ان کے پاس گزرے اور ان سے پوچھا: ”تمہارے سر کی جوؤں نے تمہیں اذیت دی ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”سر منڈوادو۔ پھر ایک بکری بطور قربانی ذبح کرو یا تین دن کے روزے رکھو یا کھجوروں کے تین صاع چھ مسکینوں کو کھلادو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2882]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے زمانہ میں ان کے پاس سے گزرے اور ان سے پوچھا: ”کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اپنا سر منڈا لو، پھر ایک بکری کی قربانی ذبح کر دو، یا تین روزے رکھ لو، یا تین صاع کھجوریں چھ مساکین کو دے دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2882]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1201
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1201 ترقیم شاملہ: -- 2883
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، فَقَالَ كَعْبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نَزَلَتْ فِيَّ، كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي، فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْكَ مَا أَرَى، أَتَجِدُ شَاةً؟، فَقُلْتُ: لَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، قَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، أَوْ إِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، نِصْفَ صَاعٍ طَعَامًا لِكُلِّ مِسْكِينٍ"، قَالَ: فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةً.
شعبہ نے عبدالرحمان بن اصبہانی سے حدیث بیان کی انہوں نے عبداللہ بن معقل سے انہوں نے کہا: میں کعب (بن عجرہ) رضی اللہ عنہ کے پاس جا بیٹھا وہ اس وقت (کوفہ کی ایک) مسجد میں تشریف فرما تھے میں نے ان سے اس آیت کے متعلق سوال کیا: «فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ» تو روزوں یا صدقہ یا قربانی سے فدیہ دے۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ میرے سر میں تکلیف تھی مجھے اس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا کہ جوئیں میرے چہرے پر پڑ رہی تھیں تو آپ نے فرمایا: ”میرا خیال نہیں تھا کہ تمہاری تکلیف اس حد تک پہنچ گئی ہے جیسے میں دیکھ رہا ہوں۔ کیا تمہارے پاس کوئی بکری ہے؟“ میں نے عرض کی نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ «فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ» (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”(تمہارے ذمے) تین دنوں کے روزے ہیں یا چھ مسکینوں کا کھانا ہر مسکین کے لیے آدھا صاع کھانا۔“ (پھر کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: یہ آیت خصوصی طور پر میرے لیے اتری اور عمومی طور پر یہ تمہارے لیے بھی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2883]
حضرت عبداللہ بن معقل بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد میں حضرت کعب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا اور ان سے اس آیت ﴿فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ [سورة البقرة: 196] کے بارے میں پوچھا، تو کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”(یہ آیت) میرے بارے میں اتری ہے، میرے سر میں تکلیف تھی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا، جبکہ جوئیں میرے چہرے پر جھڑ رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نہیں سمجھتا تھا کہ تجھے تکلیف اس حد تک پہنچ رہی ہے، جو میں دیکھ رہا ہوں، کیا تیرے پاس بکری ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، تو یہ آیت ﴿فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ [سورة البقرة: 196] اتری۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: ”روزے تین ہیں، یا چھ مسکینوں کا کھانا، ہر مسکین کے لیے آدھا صاع کھانا۔“ (کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: ”خاص طور پر میرے بارے میں اتری ہے اور اس کا حکم تم سب کے لیے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2883]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1201
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1201 ترقیم شاملہ: -- 2884
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا، فَقَمِلَ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَدَعَا الْحَلَّاقَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" هَلْ عِنْدَكَ نُسُكٌ؟"، قَالَ: مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ يُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ"، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ خَاصَّةً فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ سورة البقرة آية 196 ثُمَّ كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً.
زکریا بن ابی زائدہ سے روایت ہے کہا: ہمیں عبدالرحمان بن اصبہانی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا مجھے عبداللہ بن معقل نے انہوں نے کہا: مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ وہ احرام باندھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ان کے سر اور داڑھی میں (کثرت سے) جوئیں پڑ گئیں۔ اس (بات) کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے انہیں بلا بھیجا اور حجام کو بلا کر ان کا سر مونڈ دیا پھر ان سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کوئی قربانی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: (اے اللہ کے رسول) میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا آپ نے انہیں حکم دیا: ”تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا مہیا کرو مسکینوں کے لیے ایک صاع ہو“ اللہ عزوجل نے خاص ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: جو شخص تم میں سے مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو، اس کے بعد یہ (اجازت) عمومی طور پر تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2884]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ احرام باندھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ان کے سر اور داڑھی میں کثرت سے جوئیں پڑ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پیغام بھیجا اور ایک سر مونڈنے والے کو بلوایا، اس نے ان کا سر مونڈ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تجھ میں قربانی کی استطاعت ہے؟“ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھ میں اتنی استطاعت نہیں ہے“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا: ”تین روزے رکھ لو، یا چھ مساکین کو کھانا دے دو، ہر دو مسکینوں کو ایک صاع“، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت خاص طور پر ان کے بارے میں اتاری ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ﴾ [سورة البقرة: 196] ”کہ تم میں سے جو بیمار ہے یا اس کے سر میں تکلیف ہو“، لیکن اس کا حکم تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2884]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1201
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
11. باب جَوَازِ الْحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ:
باب: محرم کے لیے سینگی لگانے کا جواز۔
ترقیم عبدالباقی: 1202 ترقیم شاملہ: -- 2885
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاق أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں سینگی لگوائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2885]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”احرام کی حالت میں سینگی لگوائی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2885]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1202
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1203 ترقیم شاملہ: -- 2886
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْتَجَمَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ وَسَطَ رَأْسِهِ".
حضرت ابن بحسینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے راستے میں احرام کی حالت میں اپنے سر کے درمیان کے حصے پر سینگی لگوائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2886]
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مکہ کے راستے میں احرام کی حالت میں سر کے درمیان پچھنے لگوائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2886]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1203
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
12. باب جَوَازِ مُدَاوَاةِ الْمُحْرِمِ عَيْنَيْهِ:
باب: محرم کے لیے آنکھوں کا علاج کرانا جائز ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1204 ترقیم شاملہ: -- 2887
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَلَلٍ، اشْتَكَى عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَيْنَيْهِ، فَلَمَّا كُنَّا بِالرَّوْحَاءِ اشْتَدَّ وَجَعُهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ يَسْأَلُهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنِ اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ، فَإِنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي الرَّجُلِ إِذَا اشْتَكَى عَيْنَيْهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ ضَمَّدَهُمَا بِالصَّبِرِ".
سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ایوب بن موسیٰ نے نبیہ بن وہب سے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہم ابان بن عثمان کے ساتھ (حج کے لیے) نکلے جب ہم ملل کے مقام پر پہنچے تو عمر بن عبید اللہ کی آنکھوں میں تکلیف شروع ہو گئی، جب ہم رَرحاء میں تھے تو ان کی تکلیف شدت اختیار کر گئی انہوں نے مسئلہ پوچھنے کے لیے ابان بن عثمان کی طرف قاصد بھیجا، انہوں نے ان کی طرف جواب بھیجا کہ دونوں (آنکھوں) پر ایلوے کا لیپ کرو۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے اس شخص کے متعلق حدیث بیان کی تھی جو احرام کی حالت میں تھا جب اس کی آنکھوں میں تکلیف شروع ہو گئی تو آپ نے (اس کی آنکھوں پر) ایلوے کا لیپ کرایا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2887]
نبیہ بن وہب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ابان بن عثمان کے ساتھ نکلے، جب مَلَل نامی جگہ پر پہنچے تو عمر بن عبید اللہ کی آنکھیں دکھنے لگیں اور جب مقام روحاء پر پہنچے تو تکلیف شدت اختیار کر گئی، تو انہوں نے مسئلہ پوچھنے کے لیے ابان بن عثمان کے پاس آدمی بھیجا، انہوں نے پیغام بھیجا کہ ”ان پر ایلوے «الصَّبْرِ» کا لیپ کر لو“، کیونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کے بارے میں، جس کی احرام کی حالت میں آنکھیں دکھتی تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ایلوے «الصَّبْرِ» کا لیپ کرایا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2887]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1204
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1204 ترقیم شاملہ: -- 2888
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ رَمِدَتْ عَيْنُهُ، فَأَرَادَ أَنْ يَكْحُلَهَا، فَنَهَاهُ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُضَمِّدَهَا بِالصَّبِرِ"، وَحَدَّثَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ.
ہمیں عبدالصمد بن عبدالوارث نے خبر دی کہا: مجھ سے میرے والد نے حدیث بیان کی کہا: ہم سے ایوب بن موسیٰ نے حدیث بیان کی کہا: مجھ سے نبیہ بن وہب نے حدیث بیان کی کہ (ایک بار احرام کی حالت میں) عمر بن عبید اللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں انہوں نے ان میں سرمہ لگانے کا ارادہ فرمایا تو ابان بن عثمان نے انہیں روکا اور کہا کہ اس پر ایلوے کا لیپ کر لیں۔ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی کہ آپ نے ایسا ہی کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2888]
نبیہ بن وہب بیان کرتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں تو انہوں نے آنکھوں میں سرمہ ڈالنا چاہا، تو ابان بن عثمان نے انہیں روک دیا اور انہیں ان پر ایلوے کا لیپ کرنے کا حکم دیا اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایسا کرنے کے لیے فرمایا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2888]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1204
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
13. باب جَوَازِ غَسْلِ الْمُحْرِمِ بَدَنَهُ وَرَأْسَهُ:
باب: محرم کے لیے اپنا بدن اور سر دھونے کا جواز۔
ترقیم عبدالباقی: 1205 ترقیم شاملہ: -- 2889
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَهَذَا حَدِيثُهُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أنهما اختلفا بالأبواء، فقال عبد الله بن عباس: يغسل المحرم رأسه، وَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ، فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يَسْتَتِرُ بِثَوْبٍ، قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟، فَقُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟، فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ، ثُمَّ قَالَ لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ:" اصْبُبْ، فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ"، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ"،
سفیان بن عیینہ اور مالک بن انس نے زید بن اسلم سے انہوں نے ابراہیم بن عبداللہ بن حنین سے انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن حنین) سے انہوں نے عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ابواء کے مقام پر ان دونوں کے درمیان اختلاف ہوا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: محرم شخص اپنا سر دھو سکتا ہے اور مسور رضی اللہ عنہما نے کہا: محرم اپنا سر نہیں دھو سکتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے (عبداللہ بن حنین کو) ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا کہ میں ان سے (اس کے بارے میں) مسئلہ پوچھوں (جب میں ان کے پاس پہنچا تو) انہیں ایک کپڑے سے پردہ کر کے کنویں کی دو لکڑیوں کے درمیان (جو کنویں سے فاصلے پر لگائی جاتی تھیں اور ان پر لگی ہوئی چرخی پر سے اونٹ وغیرہ کے ذریعے ڈول کا رسہ کھینچا جاتا تھا) غسل کرتے ہوئے پایا۔ (عبداللہ بن حنین نے) کہا: میں نے انہیں سلام کہا: وہ بولے: یہ کون (آیا) ہے؟ میں نے عرض کی: میں عبداللہ بن حنین ہوں مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کی طرف بھیجا ہے کہ میں آپ سے پوچھوں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں اپنا سر کیسے دھویا کرتے تھے؟ (میری بات سن کر) حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھ کر اسے نیچے کیا حتیٰ کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا پھر اس شخص سے جو آپ پر پانی انڈیل رہا تھا کہا: پانی ڈالو۔ اس نے آپ کے سر پر پانی انڈیلا پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو خوب حرکت دی اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے لے آئے اور پیچھے لے گئے۔ پھر کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2889]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان مقامِ ابواء میں اختلاف پیدا ہو گیا، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”محرم اپنا سر دھو سکتا ہے“ اور مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: ”محرم اپنا سر نہیں دھو سکتا“، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن قیس کو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، (عبداللہ کہتے ہیں) میں نے انہیں کنویں کی دو لکڑیوں کے درمیان نہاتے ہوئے پایا، جبکہ انہیں ایک کپڑے سے پردہ کیا گیا تھا، میں نے انہیں سلام عرض کیا تو انہوں نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے کہا: ”میں عبداللہ بن حنین ہوں، مجھے آپ کے پاس عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بھیجا ہے کہ میں آپ سے پوچھوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں اپنا سر کیسے دھوتے تھے؟“ تو حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھ کر اسے نیچے کیا، حتیٰ کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا، (مجھ پر ان کا سر ظاہر ہو گیا) پھر انہوں نے پانی ڈالنے والے انسان کو کہا: ”پانی ڈال“، اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا، پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے سر کو حرکت دی، دونوں ہاتھوں کو آگے اور پیچھے لے گئے پھر کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2889]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1205
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1205 ترقیم شاملہ: -- 2890
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَأَمَرَّ أَبُو أَيُّوبَ بِيَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ جَمِيعًا عَلَى جَمِيعِ رَأْسِهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، فَقَالَ الْمِسْوَرُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لَا أُمَارِيكَ أَبَدًا.
ہم سے ابن جریج نے حدیث بیان کی کہا مجھے زید بن اسلم نے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور کہا کہ ابوایوب نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے پورے سر پر پھیرا انہیں آگے اور پیچھے لے گئے اس کے بعد حضرت مسور رضی اللہ عنہما نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں آپ سے کبھی بحث نہیں کیا کروں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2890]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں کہ زید بن اسلم نے مذکورہ بالا سند سے بیان کیا، ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو مکمل طور پر پورے سر پر پھیرا اور دونوں کو آگے اور پیچھے لے گئے تو مسور رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ”میں آپ کے ساتھ کبھی بحث نہیں کروں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2890]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1205
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة