صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب مَا يُنْدَبُ لِلْمُحْرِمِ وَغَيْرِهِ قَتْلُهُ مِنَ الدَّوَابِّ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ:
باب: حل اور حرم میں محرم اور غیر محرم کے لیے جن جانوروں کا مارنا جائز ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1200 ترقیم شاملہ: -- 2871
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ مَا يَقْتُلُ الرَّجُلُ مِنَ الدَّوَابِّ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟، قَالَ: حَدَّثَتْنِي إِحْدَى نِسْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ" يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكَلْبِ الْعَقُورِ، وَالْفَأْرَةِ، وَالْعَقْرَبِ، وَالْحُدَيَّا، وَالْغُرَابِ، وَالْحَيَّةِ، قَالَ: وَفِي الصَّلَاةِ أَيْضًا".
ابوعوانہ نے زید بن جبیر سے حدیث سنائی کہا ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ایک آدمی احرام کی حالت میں کون سے جانور کو قتل کر سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہلیہ نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (احرام کی حالت میں) باولے کتے، چوہے، بچھو، چیل، کوے اور سانپ کو مارنے کا حکم دیتے تھے۔ (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے) فرمایا: اور نماز میں بھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2871]
زید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: ”انسان احرام کی حالت میں کون سے جانور قتل کر سکتا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم درندے، چوہے، چیل، کوے اور سانپ کو قتل کرنے کا حکم دیتے تھے اور فرمایا: ”نماز میں بھی۔““ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2871]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1200
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1199 ترقیم شاملہ: -- 2872
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَيْسَ عَلَى الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ جُنَاحٌ: الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ".
مالک نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ (موذی جانور ایسے) ہیں کہ احرام باندھنے والے پر انہیں قتل کر دینے میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ کوا، چیل، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2872]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ہیں، محرم پر ان کے قتل کرنے پر کوئی گناہ نہیں ہے: کوا، چیل، بچھو، چوہا اور درندہ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2872]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1199
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1199 ترقیم شاملہ: -- 2873
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: مَاذَا سَمِعْتَ ابْنَ عُمَرَ يُحِلُّ لِلْحَرَامِ قَتْلَهُ مِنَ الدَّوَابِّ؟، فَقَالَ لِي نَافِعٌ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي قَتْلِهِنَّ: الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ"،
ابن جریج نے کہا: میں نے نافع سے پوچھا: آپ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کیا سنا وہ احرام والے شخص کے لیے کن جانوروں کو مارنا حلال قرار دیتے تھے؟ نافع نے مجھ سے کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”پانچ (موذی) جانور ہیں انہیں مارنے میں ان کے مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں۔ کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2873]
ابن جریج بیان کرتے ہیں، میں نے نافع سے پوچھا: ”آپ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کن جانوروں کو محرم کے لیے قتل کرنے کا حلال ہونا سنا ہے؟“ مجھے نافع نے جواب دیا، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”پانچ جاندار ہیں، ان کے قتل کرنے والے پر ان کے قتل کرنے میں کوئی تنگی (گناہ) نہیں ہے: کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔““ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2873]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1199
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1199 ترقیم شاملہ: -- 2874
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ جَمِيعًا، عَنْ نَافِعٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، وَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ، عَنْ نَافعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا ابْنُ جُرَيْجٍ وَحْدَهُ، وَقَدْ تَابَعَ ابْنَ جُرَيْجٍ عَلَى ذَلِكَ ابْنُ إِسْحَاق،
لیث بن سعد اور جریر یعنی ابن حازم نے نافع سے اسی طرح عبید اللہ، ایوب اور یحییٰ بن سعید ان تینوں نے بھی نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مالک اور ابن جریج کی طرح ہی حدیث بیان کی ان میں سے کسی ایک نے بھی نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کے الفاظ نہیں کہے۔ سوائے اکیلے ابن جریج کے (البتہ) ابن اسحاق نے ان الفاظ میں ابن جریج کی متابعت کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2874]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت اپنے بہت سے اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، جو سب کے سب ” «عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم » “ کہتے ہیں، صرف ابن جریج ” «عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم » “ کہتے ہیں اور ابن اسحاق بھی ابن جریج کی متابعت کرتے ہیں، گویا «سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم » کی تصریح صرف ابن جریج اور ابن اسحاق کرتے ہیں، باقی سب «عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم » کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2874]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1199
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1199 ترقیم شاملہ: -- 2875
وحَدَّثَنِيهِ فَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" خَمْسٌ لَا جُنَاحَ فِي قَتْلِ مَا قُتِلَ مِنْهُنَّ فِي الْحَرَمِ"، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
محمد بن اسحاق نے نافع اور عبید اللہ بن عبداللہ سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: میں ان میں سے جو بھی حرم میں قتل کر دیا جائے اس کے قتل پر کوئی گناہ نہیں۔ پھر مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2875]
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”پانچ جاندار ہیں، ان میں سے کسی کے حرم میں قتل کرنے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔“ پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2875]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1199
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1199 ترقیم شاملہ: -- 2876
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، قَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَمْسٌ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ حَرَامٌ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيهِنَّ: الْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْغُرَابُ، وَالْحُدَيَّا"، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
یحییٰ بن یحییٰ، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے اسماعیل بن جعفر سے حدیث بیان کی کہا: عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ (موذی جانور) ہیں جو انہیں احرام کی حالت میں مار دے اس پر کوئی گناہ نہیں۔ چوہا، بچھو، کوا، چیل اور کاٹنے والا کتا۔“ الفاظ یحییٰ بن یحییٰ کے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2876]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور، جو ان کو محرم ہونے کی صورت میں قتل کر دے گا تو اس پر ان کے بارے میں کوئی گناہ نہیں ہے: بچھو، چوہا، کاٹنے والا کتا، کوا اور چیل۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2876]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1199
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
10. باب جَوَازِ حَلْقِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا كَانَ بِهِ أَذًى وَوُجُوبِ الْفِدْيَةِ لِحَلْقِهِ وَبَيَانِ قَدْرِهَا:
باب: تکلیف لاحق ہونے کی صورت میں محرم کو سر منڈانے کی اجازت اور اس پر فدیہ کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1201 ترقیم شاملہ: -- 2877
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ، قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ: قِدْرٍ لِي، وقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: بُرْمَةٍ لِي وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاحْلِقْ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً"، قَالَ أَيُّوبُ: فَلَا أَدْرِي بِأَيِّ ذَلِكَ بَدَأَ،
مجھے عبید اللہ بن عمر قواریری اور ابوربیع نے حدیث بیان کی (دونوں نے کہا) ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی (حماد بن زید نے کہا) ہمیں ایوب نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے مجاہد سے سنا، وہ عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے حدیث بیان کر رہے تھے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حدیبیہ کے دنوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں۔۔۔قواریری کے بقول اپنی ہنڈیا کے نیچے اور ابوربیع کے بقول۔۔۔اپنی پتھر کی دیگ کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور (میرے سر کی) جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے سر کی مخلوق (جوئیں) تمہارے لیے باعث اذیت ہیں؟“ کہا: میں نے جواب دیا جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”تو اپنا سر منڈوادو (اور فدیے کے طور پر) تین دن کے روزے رکھو۔ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ یا (ایک) قربانی دے دو۔“ ایوب نے کہا: مجھے علم نہیں ان (فدیے کی صورتوں میں) سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس چیز کا پہلے ذکر کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2877]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میں ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تیرے سر کی جوئیں تجھے تکلیف پہنچا رہی ہیں؟“ میں نے کہا: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سر منڈوا لیجئے اور تین دن روزہ رکھ لیجئے، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دیں، یا ایک قربانی کر دیجئے۔“ ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”مجھے معلوم نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین چیزوں میں سے پہلے کس کا نام لیا، یعنی آغاز کس سے کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2877]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1201
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1201 ترقیم شاملہ: -- 2878
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ: بِمِثْلِهِ.
ابن علیہ نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2878]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے تین اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2878]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1201
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1201 ترقیم شاملہ: -- 2879
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" ادْنُهْ فَدَنَوْتُ"، فَقَالَ:" ادْنُهْ فَدَنَوْتُ"، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟"، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَأَظُنُّهُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَمَرَنِي بِفِدْيَةٍ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ مَا تَيَسَّرَ".
ابن عون نے مجاہد سے انہوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی: پھر اگر تم میں سے کوئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو (اور وہ سر منڈوالے) تو فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔ کہا میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا: ”ذرا قریب آؤ۔“ میں آپ کے (کچھ) قریب ہو گیا آپ نے فرمایا: ”اور قریب آؤ۔“ تو میں آپ کے اور قریب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہاری جوئیں تمہیں ایذا دیتی ہیں؟“ ابن عون نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں (کعب رضی اللہ عنہ) نے کہا جی ہاں (کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ روزے، صدقے یا قربانی میں سے جو آسان ہو بطور فدیہ دوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2879]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت مبارکہ میرے بارے میں اتری ہے: ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ [سورة البقرة: 196] ”تو تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو اور وہ سر منڈا لے تو وہ فدیہ کے طور پر روزہ رکھے یا صدقہ کرے، یا قربانی کرے۔“ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہو جا۔“ میں قریب ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہو جا،“ میں قریب ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا جوئیں تجھے تکلیف پہنچا رہی ہیں؟“ ابن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرے خیال میں کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”ہاں۔“ کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بطور فدیہ حکم دیا کہ روزے، صدقہ اور قربانی میں سے جو آسان ہو اس پر عمل کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2879]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1201
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1201 ترقیم شاملہ: -- 2880
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَيْهِ، وَرَأْسُهُ يَتَهَافَتُ قَمْلًا، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ رَأْسَكَ، قَالَ: فَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ تَصَدَّقْ بِفَرَقٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ مَا تَيَسَّرَ".
سیف (بن سلیمان) نے کہا: میں نے مجاہد سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ مجھے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے حدیث سنائی کہا مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اوپر (کی طرف) کھڑے ہوئے اور ان کے سر سے جوئیں گر رہی تھیں آپ نے فرمایا: ”کیا تمہاری جوئیں تمہیں اذیت دیتی ہیں؟“ میں نے کہا جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”تو اپنا سر منڈوالو۔“ (کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی پھر اگر کوئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو (اور وہ سر منڈوالے) تو فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”تین دن کے روزے رکھو یا (کسی بھی جنس کا) ایک فرق (تین صاع) چھ مسکینوں میں صدقہ کرو یا قربانی میسر ہو کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2880]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر ان کے پاس رکے درآں حالیکہ ان کے سر سے جوئیں جھڑ رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہاری جوئیں تمہارے لیے تکلیف کا باعث بن رہی ہیں؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا سر منڈوا لو۔“ کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ آیت مبارکہ ﴿فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ [سورة البقرة: 196] ”تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو جس کی بنا پر وہ سر منڈوا لے تو اس پر فدیہ ہے، روزے رکھے یا صدقہ کرے یا قربانی کرے۔“ میرے بارے میں اتری ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”تین روزے رکھ لو، یا ایک «فَرَقٍ» (تین صاع) چھ مسکینوں پر صدقہ کر دو، یا جو قربانی میسر ہو کر ڈالو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2880]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1201
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة