🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَوَقْتِهَا:
باب: تلبیہ کے طریقے اور اس کے وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1184 ترقیم شاملہ: -- 2811
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ "، قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَزِيدُ فِيهَا لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا: میں نے مالک کے سامنے (اس حدیث کی) قراءت کی، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ ہوا کرتا تھا: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» (میں بار بار حاضر ہوں، اے اللہ! تیرے حضور حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، یقیناً تعریفیں اور ساری نعمتیں تیری ہیں اور ساری بادشاہت بھی تیری ہے، (کسی بھی چیز میں) تیرا کوئی شریک نہیں)۔ اور (نافع نے) کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس (مذکورہ تلبیہ) میں یہ اضافہ فرمایا کرتے تھے: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ» (میں تیرے سامنے حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیری اطاعت کی ایک کے بعد دوسری سعادت (حاصل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں) اور ہر قسم کی خیر تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے، اے اللہ! میں تیرے حضور حاضر ہوں، (ہر دم) تجھ سے مانگنے کی رغبت ہے اور تمام عمل (تیری ہی رضا کے لیے ہیں))۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2811]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تلبیہ کہتے تھے: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» ”میں تیرے حضور حاضر ہوں، اے اللہ! میں تیرے حضور حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں تیرے حضور حاضر ہوں، ساری حمد و تعریف کا حق دار تو ہی ہے اور ساری نعمتیں تیری ہی ہیں اور ساری کائنات پر فرماں روائی بھی تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک و سہیم نہیں۔“ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس تلبیہ میں ان کلمات کا اضافہ کرتے تھے: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ» ”میں تیرے حضور حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیری اطاعت کے لیے تیار ہوں، ہر قسم کی خیر تیرے ہاتھوں میں ہے، میں تیرے حضور حاضر ہوں، میں تیری ہی طرف راغب ہوں اور عمل تیری ہی توفیق سے تیری ہی خوشنودی کے لیے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2811]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1184
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1184 ترقیم شاملہ: -- 2812
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَنَافِعٍ مَوْلَى عبد الله، وحمزة بن عبد الله ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ، فَقَالَ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ "، قَالُوا: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ نَافِعٌ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَزِيدُ مَعَ هَذَا لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ لَبَّيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ،
موسیٰ بن عقبہ نے سالم بن عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ کے مولیٰ نافع اور حمزہ بن عبداللہ کے واسطے سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری جب آپ کو لے کر مسجد ذو الحلیفہ کے پاس سیدھی کھڑی ہو جاتی تو آپ تلبیہ پکارتے اور کہتے: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» (میں بار بار حاضر ہوں، اے اللہ! میں تیرے حضور حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، یقیناً تمام تعریفیں اور ساری نعمتیں تیری ہیں اور ساری بادشاہت بھی تیری ہے، (کسی بھی چیز میں) تیرا کوئی شریک نہیں)۔ (سالم، نافع اور حمزہ نے) کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے۔ نافع نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان (مذکورہ بالا) کلمات کے ساتھ ان الفاظ کا اضافہ کرتے: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ» (میں تیرے سامنے حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیری اطاعت کی ایک کے بعد دوسری سعادت (حاصل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں) اور ہر قسم کی خیر تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے، اے اللہ! میں تیرے حضور حاضر ہوں، (ہر دم) تجھ سے مانگنے کی رغبت ہے اور تمام عمل (تیری رضا کے لیے ہیں))۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2812]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری جب مسجد ذوالحلیفہ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی کھڑی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تلبیہ کہتے: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» ”میں تیرے حضور حاضر ہوں، اے اللہ، میں تیرے حضور حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی ساجھی نہیں، میں تیرے حضور حاضر ہوں، تمام تعریفات اور ہر قسم کی نعمتیں تیری ہی ہیں اور اقتدار اور بادشاہت تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔“ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہی ہے، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے شاگرد نافع کہتے ہیں، عبداللہ رضی اللہ عنہما ان کلمات پر یہ اضافہ کرتے تھے: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ» ”میں تیرے حضور حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، میں تیری اطاعت کی سعادت کے حصول کے لیے ہر وقت تیار ہوں اور ہر قسم کی خیر تیرے ہاتھوں میں ہے اور میں تیرا ہی سوالی ہوں اور عمل تیری ہی توفیق اور تیری ہی رضا کے لیے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2812]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1184
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1184 ترقیم شاملہ: -- 2813
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.
عبید اللہ (بن عمر بن حفص العدوی المدنی) نے کہا: مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سنتے ہی تلبیہ یاد کر لیا، پھر سالم، نافع اور حمزہ کی حدیث کی طرح روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2813]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”میں نے تلبیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ہی سے سیکھا ہے“، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2813]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1184
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1184 ترقیم شاملہ: -- 2814
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: فَإِنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَنِي، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا، يَقُولُ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ "، لَا يَزِيدُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَانَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُهِلُّ بِإِهْلَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ وَيَقُولُ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ لَبَّيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.
ابن شہاب نے کہا: بلاشبہ سالم بن عبداللہ بن عمر نے مجھے اپنے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں تلبیہ پکارتے سنا کہ آپ کے بال جڑے (گوندیا خطمی بوٹی وغیرہ کے ذریعے سے باہم چپکے) ہوئے تھے، آپ کہہ رہے تھے: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» ۔ ان کلمات پر اضافہ نہیں فرماتے تھے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ذو الحلیفہ میں دو رکعت نماز ادا کرتے، پھر جب آپ کی اونٹنی مسجد ذو الحلیفہ کے پاس آپ کو لے کر کھڑی ہو جاتی تو آپ ان کلمات سے تلبیہ پکارتے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کلمات کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا تلبیہ پکارتے تھے اور (ساتھ یہ) کہتے: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ» (میں بار بار حاضر ہوں، اے اللہ! میں تیرے سامنے حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیری طرف سے سعادتوں کا طلبگار ہوں، ہر قسم کی بھلائی تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے، اے اللہ! میں تیرے حضور حاضر ہوں، ہر دم تجھ سے مانگنے کی رغبت ہے اور ہر عمل تیری رضا کے لیے ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2814]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلبیہ کہتے ہوئے اس حال میں سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال (گوند وغیرہ) سے جمے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» ”اے اللہ! میں تیرے حضور حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی ساجھی نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفات و ستائش، سب نعمتیں اور بادشاہی تیرے ہی لیے ہیں، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات پر اضافہ نہیں فرماتے تھے اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی، مسجد ذوالحلیفہ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کلمات کے ساتھ تلبیہ کہا اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے کلمات سے تلبیہ کہتے تھے اور (بعد میں) کہتے: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالرُّغْبَى إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ» ”میں تیرے سامنے حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں اور تیری اطاعت کی سعادت کے لیے حاضر ہوں، ساری خیر تیرے ہاتھوں میں ہے، میں حاضر ہوں، رغبت تیری طرف ہے اور عمل تیرے ہی لیے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2814]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1184
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1185 ترقیم شاملہ: -- 2815
وحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ: لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْلَكُمْ قَدْ قَدْ "، فَيَقُولُونَ: إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ، يَقُولُونَ: هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہا: مشرکین کہا کرتے تھے: «لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» ۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”تمہاری بربادی! بس کرو، بس کرو (یہیں پر رک جاؤ)۔“ مگر وہ آگے کہتے: «إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ» (مگر ایک شریک ہے جو تیرا ہے، تو اس کا مالک ہے، وہ مالک نہیں)۔ وہ لوگ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے یہی کہتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2815]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مشرکینِ مکہ کہتے تھے: «لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» ”ہم تیرے حضور حاضر ہیں، تیرا کوئی شریک نہیں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: «وَيْلَكُمْ، قَدْ قَدْ» ”تم برباد ہو، یہیں رک جاؤ، بس کرو“ لیکن وہ آگے کہتے: «إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ» ”مگر وہ شریک جو تیرا ہے تو ہی اس کا اور اس کی مملوکہ چیزوں کا مالک ہے، یا وہ کسی چیز کا مالک نہیں ہے“۔ یہ کلمات وہ اس وقت کہتے جب طواف کر رہے ہوتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2815]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1185
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب أَمْرِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بِالإِحْرَامِ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ:
باب: مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کی مسجد سے احرام باندھنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1186 ترقیم شاملہ: -- 2816
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: " بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ " يَعْنِي ذَا الْحُلَيْفَةِ.
یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے مالک کے سامنے قراءت کی، انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے اور انہوں نے سالم بن عبداللہ سے روایت کی کہ انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے سنا، انہوں نے فرمایا: یہ تمہارا چٹیل میدان بیداء وہ مقام ہے جس کے حوالے سے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غلط بیانی کرتے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور جگہ سے نہیں مگر مسجد کے قریب (یعنی ذو الحلیفہ) ہی سے احرام باندھا تھا। [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2816]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ: ”یہ «بَيْدَاءُ» تمہارا وہ مقام ہے کہ جس کے بارے میں تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «تَلْبِيَةٌ» نہیں کہا مگر «ذُو الْحُلَيْفَةِ» کی مسجد کے پاس سے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بَيْدَاءُ» سے نہیں، «ذُو الْحُلَيْفَةِ» کی مسجد سے ہی احرام باندھا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2816]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1186
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1186 ترقیم شاملہ: -- 2817
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا قِيلَ لَهُ الْإِحْرَامُ مِنَ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: " الْبَيْدَاءُ الَّتِي تَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الشَّجَرَةِ حِينَ قَامَ بِهِ بَعِيرُهُ ".
حاتم یعنی ابن اسماعیل نے موسیٰ بن عقبہ سے، انہوں نے سالم سے حدیث بیان کی، کہا: جب ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ کہا جاتا کہ احرام بیداء سے (باندھا جاتا) ہے تو وہ کہتے: بیداء وہ مقام ہے جس کے حوالے سے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غلط بیانی کرتے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور جگہ سے نہیں، درخت کے پاس ہی سے احرام باندھا تھا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہو گئی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2817]
سالم سے روایت ہے کہ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا جاتا: ”احرام بیداء سے ہے“ تو وہ کہتے: ”بیداء! جس کے بارے میں تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام نہیں باندھا مگر درخت کے پاس سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر کھڑی ہوئی“۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2817]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1186
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب بَيَانِ أَنَّ الْأَفْضَلَ أَنْ يُّحْرَمَ حِينَ تَنْبَعِثُ بَهِ رَاحِلَتُهُ مُتَوَجِّهَا إلٰي مَكَّةَ لَا عَقِبَ الرَّكْعَتَيْنِ
باب: ایسے وقت احرام باندھنے کی فضیلت جب سواری مکہ مکرمہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑی ہو جائے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1187 ترقیم شاملہ: -- 2818
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: " يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا "، قَالَ: " مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ؟ "، قَالَ: " رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْهِلَالَ، وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ "، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " أَمَّا الْأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا، وَأَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ، حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ "،
سعید بن ابی سعید مقبری نے عبید بن جریج سے روایت کی کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابوعبدالرحمان! میں نے آپ کو چار (ایسے) کام کرتے دیکھا ہے جو آپ کے کسی اور ساتھی کو کرتے نہیں دیکھا۔ ابن عمر نے کہا: ابن جریج! وہ کون سے (چار کام) ہیں؟ ابن جریج نے کہا: میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ (بیت اللہ کے) دو یمانی رکنوں (کونوں) کے سوا اور کسی رکن کو ہاتھ نہیں لگاتے، میں نے آپ کو دیکھا ہے سبتی (رنگے ہوئے صاف چمڑے کے) جوتے پہنتے ہیں۔ (نیز آپ کو دیکھا کہ زرد رنگ سے (کپڑوں کو) رنگتے ہیں اور آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ مکہ میں ہوتے ہیں تو لوگ (ذوالحجہ کی) پہلی کا چاند دیکھتے ہی لبیک پکارنا شروع کر دیتے ہیں لیکن آپ آٹھویں دن آنے تک تلبیہ نہیں پکارتے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: جہاں تک ارکان (بیت اللہ کے کونوں) کی بات ہے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو یمانی رکنوں کے سوا (کسی اور رکن کو) ہاتھ لگاتے نہیں دیکھا۔ رہے سبتی جوتے تو بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جوتے پہنے دیکھا کہ جن پر بال نہ ہوتے تھے، آپ انھیں پہن کر وضو فرماتے (لہٰذا) مجھے پسند ہے کہ میں یہی (سبتی جوتے) پہنوں۔ رہا زرد رنگ تو بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ یہ (رنگ) استعمال کرتے تھے۔ اس لیے میں پسند کرتا ہوں کہ میں بھی اس رنگ کو استعمال کروں۔ اور رہی بات تلبیہ کی تو میں نے آپ کو تلبیہ کہتے نہیں سنا جب تک آپ کی سواری آپ کو لے کر کھڑی نہ ہو جاتی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2818]
عبید بن جریج بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”اے ابو عبدالرحمٰن! میں نے آپ کو چار ایسے کام کرتے دیکھا ہے جو میں نے آپ کے ساتھیوں میں سے کسی اور کو کرتے نہیں دیکھا۔“ انہوں نے پوچھا: ”اے ابن جریج! وہ کون سے کام ہیں؟“ ابن جریج نے کہا: ”میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ (بیت اللہ) کے (چار) ارکان میں سے صرف دو «يَمَانِي» رکنوں کو مس کرتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا ہے آپ «سِبْتِي» جوتے پہنتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا ہے، آپ زرد رنگ سے (بال) رنگتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا ہے جب آپ مکہ میں ہوتے ہیں لوگ تو چاند دیکھ کر احرام باندھ لیتے ہیں اور آپ آٹھ ذوالحجہ تک احرام نہیں باندھتے۔“ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ”رہا ارکان کا مسئلہ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو «يَمَانِي» کونوں کے سوا (کونے) کو مس کرتے نہیں دیکھا، رہے «سِبْتِي» جوتے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جوتے پہنتے دیکھا جو بالوں کے بغیر تھے اور ان میں وضو کرتے تھے، اس لیے میں ان کو پہننا پسند کرتا ہوں، رہا زرد رنگ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زرد رنگ استعمال کرتے دیکھا، اس لیے میں اس کے استعمال کو پسند کرتا ہوں اور رہا احرام کا مسئلہ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک احرام باندھتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کھڑی ہوتی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2818]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1187
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1187 ترقیم شاملہ: -- 2819
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ مَرَّةً، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكَ أَرْبَعَ خِصَالٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِهَذَا الْمَعْنَى، إِلَّا فِي قِصَّةِ الْإِهْلَالِ فَإِنَّهُ خَالَفَ رِوَايَةَ الْمَقْبُرِيِّ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنًى سِوَى ذِكْرِهِ إِيَّاهُ.
ابن قسیط نے عبید بن جریج سے روایت کی کہا: میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بارہ دفعہ حج اور عمرے کیے۔ میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمان! میں نے آپ میں چار چیزیں دیکھی ہیں اور اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی مگر (تلبیہ بلند کرنے کے) قصے میں مقبری کی روایت کی مخالفت کی، ان الفاظ کے بغیر روایت بالمعنی کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2819]
عبید بن جریج بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے ساتھ بارہ مرتبہ حج اور عمرہ کیا، میں نے کہا: ”اے ابوعبدالرحمٰن! میں نے آپ میں چار خصائل دیکھے ہیں“، آگے مذکورہ بالا روایت ہے لیکن اہلال والا واقعہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2819]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1187
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1187 ترقیم شاملہ: -- 2820
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، وَانْبَعَثَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً، أَهَلَّ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ".
عبید اللہ نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکاب میں پاؤں رکھ لیتے اور آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہو جاتی تو آپ ذو الحلیفہ سے (اس وقت) بلند آواز میں لبیک پکارنا شروع فرماتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2820]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکاب میں پاؤں رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ سے تلبیہ شروع کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2820]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1187
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں