🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب بَيَانِ أَنَّ الْأَفْضَلَ أَنْ يُّحْرَمَ حِينَ تَنْبَعِثُ بَهِ رَاحِلَتُهُ مُتَوَجِّهَا إلٰي مَكَّةَ لَا عَقِبَ الرَّكْعَتَيْنِ
باب: ایسے وقت احرام باندھنے کی فضیلت جب سواری مکہ مکرمہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑی ہو جائے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1187 ترقیم شاملہ: -- 2821
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً ".
صالح بن کیسان نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، وہ بتایا کرتے تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تلبیہ پکارا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2821]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتاتے تھے کہ ”جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ کہنا شروع کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2821]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1187
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1187 ترقیم شاملہ: -- 2822
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ يُهِلُّ حِينَ تَسْتَوِي بِهِ قَائِمَةً ".
سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آل ذو الحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہوئے۔ پھر سواری آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ تلبیہ پکارنے لگے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2822]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہوئے، پھر جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ کہنا شروع کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2822]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1187
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب الصَّلاَةِ فِي مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ:
باب: ذوالحلیفہ کی مسجد میں نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1188 ترقیم شاملہ: -- 2823
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ حَرْمَلَةُ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: " بَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مَبْدَأَهُ، وَصَلَّى فِي مَسْجِدِهَا ".
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (سفر کے) شروع میں ذو الحلیفہ میں رات گزاری اور وہاں کی مسجد میں نماز ادا کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2823]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفرِ حج کے آغاز میں رات ذوالحلیفہ میں گزاری اور اس کی مسجد میں نماز پڑھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2823]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1188
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. باب اسْتِحْبَابِ الطّيبِ قُبيْلَ الْإِحْرَامِ فِي الْبَدَنِ وَاسْتِحُبَا بِهِ بِالْمِسْكِ وَأَنَّهُ لٓا بَاْسَ بِبِقَاءِ وَبِيصِهِ وَهُوَ بَريقَةٌ وَّلَمْعَانْهُ
باب: احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور کستوری کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1189 ترقیم شاملہ: -- 2824
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ ".
عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا تو میں نے احرام کے لیے اور آپ کے طواف بیت اللہ سے پہلے احرام کھولنے کے لیے آپ کو خوشبو لگائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2824]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی اور طوافِ افاضہ سے پہلے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حلال ہوئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2824]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1189
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1189 ترقیم شاملہ: -- 2825
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْج ِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ ".
افلح بن حمید نے قاسم بن محمد کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا تو احرام کے لیے اور طواف بیت اللہ سے پہلے جب آپ نے احرام کھولا تو آپ کے احرام کھولنے کے لیے میں نے آپ کو اپنے ہاتھ سے خوشبو لگائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2825]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کے وقت، احرام کے لیے خوشبو لگائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طوافِ افاضہ سے پہلے حلال ہوتے وقت، حلال ہونے کے لیے خوشبو لگائی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2825]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1189
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1189 ترقیم شاملہ: -- 2826
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ ".
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی کہا: میں نے مالک کے سامنے قراءت کی کہ عبدالرحمان بن قاسم نے اپنے والد (قاسم بن محمد) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے آپ کے احرام کے لیے اور طواف (افاضہ) کرنے سے پہلے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگاتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2826]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کے لیے اور طواف افاضہ سے پہلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلال ہونے کے لیے خوشبو لگائی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2826]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1189
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1189 ترقیم شاملہ: -- 2827
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحِلِّهِ وَلِحُرْمِهِ ".
عبید اللہ بن عمر نے حدیث سنائی کہا: میں نے قاسم کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے سنا انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کھولنے اور احرام باندھنے کے لیے خوشبو لگائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2827]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کھولنے اور احرام باندھنے کے لیے خوشبو لگائی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2827]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1189
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1189 ترقیم شاملہ: -- 2828
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبد: أَخْبَرَنَا، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ ، وَالْقَاسِمَ يُخْبِرَانِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي بِذَرِيرَةٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالْإِحْرَامِ ".
عمر بن عبداللہ بن عروہ نے خبر دی کہ انہوں نے عروہ اور قاسم کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دیتے ہوئے سنا انہوں نے کہا حجۃ الوداع کے موقع پر میں نے اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کھولنے اور احرام باندھنے کے لیے ذریرہ (نامی) خوشبو لگائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2828]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ: ”حجۃ الوداع میں میں نے اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کھولنے اور احرام باندھتے وقت (ہندوستان سے آنے والی خوشبو) ذریرہ لگائی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2828]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1189
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1189 ترقیم شاملہ: -- 2829
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جميعا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِأَيِّ شَيْءٍ طَيَّبْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ حُرْمِهِ؟، قَالَتْ: " بِأَطْيَبِ الطِّيبِ ".
سفیان نے ہمیں حدیث بیان کی کہا: ہمیں عثمان بن عروہ نے اپنے والد (عروہ) سے حدیث بیان کی کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھتے وقت کون سی خوشبو لگائی تھی؟ انہوں نے فرمایا سب سے اچھی خوشبو۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2829]
عثمان بن عروہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ”آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھتے وقت کون سی خوشبو لگائی تھی؟“ انہوں نے جواب دیا: ”سب سے بہتر خوشبو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2829]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1189
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1189 ترقیم شاملہ: -- 2830
وَحَدَّثْنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ ثُمَّ يُحْرِمُ ".
ہشام سے روایت ہے انہوں نے عثمان بن عروہ سے روایت کی کہا: میں عروہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا انہوں نے کہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے جو سب سے عمدہ خوشبو لگا سکتی تھی لگاتی پھر آپ احرام باندھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2830]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام سے پہلے جو سب سے عمدہ خوشبو لگا سکتی تھی لگاتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2830]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1189
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں