🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب اسْتِحْبَابِ الطّيبِ قُبيْلَ الْإِحْرَامِ فِي الْبَدَنِ وَاسْتِحُبَا بِهِ بِالْمِسْكِ وَأَنَّهُ لٓا بَاْسَ بِبِقَاءِ وَبِيصِهِ وَهُوَ بَريقَةٌ وَّلَمْعَانْهُ
باب: احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور کستوری کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1191 ترقیم شاملہ: -- 2841
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ، بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے اور قربانی کے دن بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے ایسی خوشبو لگاتی جس میں کستوری ملی ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2841]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے اور قربانی کے دن، بیت اللہ کے طواف سے پہلے ایسی خوشبو لگاتی تھی، جس میں کستوری کی آمیزش ہوتی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2841]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1191
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1192 ترقیم شاملہ: -- 2842
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الرَّجُلِ يَتَطَيَّبُ، ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا، فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا، لَأَنْ أَطَّلِيَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَخْبَرْتُهَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا لَأَنْ أَطَّلِيَ بِقَطِرَانٍ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ، ثُمَّ طَافَ فِي نِسَائِهِ، ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا ".
ابوعوانہ نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو خوشبو لگاتا ہے پھر احرام باندھ لیتا ہے انہوں نے جواب دیا: ”مجھے یہ پسند نہیں کہ میں احرام باندھوں (اور) مجھ سے خوشبو پھوٹ رہی ہو یہ بات مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں اپنے اوپر تار کول مل لوں۔“ پھر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں بتایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا ہے: ”مجھے یہ پسند نہیں کہ میں محرم ہوں اور مجھ (میرے جسم) سے خوشبو پھوٹ رہی ہو اس سے زیادہ مجھے یہ پسند ہے کہ میں اپنے اوپر تار کول مل لوں۔“ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھتے وقت خوشبو لگائی تھی پھر آپ نے اپنی تمام بیویوں کے ہاں چکر لگایا پھر آپ نے احرام کی نیت کر لی (احرام کا آغاز کر لیا یعنی خوشبو لگانے سے تھوڑی دیر بعد احرام باندھ لیا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2842]
ابراہیم بن محمد بن منتشر اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جو خوشبو لگا کر احرام باندھتا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میں احرام باندھوں اور مجھ سے خوشبو پھوٹ رہی ہو، یہ کام کرنے سے زیادہ مجھے یہ پسند ہے کہ میں تارکول مل لوں۔“ پھر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں آگاہ کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا ہے: ”میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میں احرام باندھوں اور مجھ سے خوشبو پھوٹ رہی ہو، میں تارکول مل لوں تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں یہ کام کروں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ”خود میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھتے وقت خوشبو لگائی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے پاس گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح احرام باندھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2842]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1192
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1192 ترقیم شاملہ: -- 2843
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ، ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْضَخُ طِيبًا ".
شعبہ نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے روایت کی، انہوں نے کہا میں نے اپنے والد کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کرتے سنا انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی پھر آپ اپنی تمام بیویوں کے ہاں تشریف لے جاتے بعد ازیں آپ احرام باندھ لیتے (اور) آپ سے خوشبو پھوٹ رہی ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2843]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے پاس جاتے اور صبح احرام باندھتے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوشبو پھوٹ رہی ہوتی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2843]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1192
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1192 ترقیم شاملہ: -- 2844
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: لَأَنْ أُصْبِحَ مُطَّلِيًا بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِ، فَقَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ فِي نِسَائِهِ، ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا ".
سفیان نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی انہوں نے کہا میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا انہوں نے کہا: ”یہ بات کہ میں تار کول مل لوں مجھے اس کی نسبت زیادہ پسند ہے کہ میں احرام باندھوں اور مجھ سے خوشبو پھوٹ رہی ہو۔“ (محمد نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو ان (ابن عمر رضی اللہ عنہما) کی بات بتائی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی پھر آپ اپنی تمام بیویوں کے ہاں تشریف لے گئے پھر آپ محرم ہو گئے (احرام کی نیت کر لی)۔) [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2844]
ابراہیم بن محمد بن منتشر اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”میں تارکول مل لوں مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں احرام باندھوں اور مجھ سے خوشبو پھوٹ رہی ہو۔“ تو میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قول سے آگاہ کیا، اس پر انہوں نے جواب دیا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواجِ مطہرات کے پاس گئے، پھر صبح احرام باندھ لیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2844]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1192
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب تَحْرِيمِ الصَّيْدِ الْمَأُكُولِ الْبَرِّيِّ، وَمَا أَصْلُهُ ذٰلِكَ عَلَي الْمُحْرِمِ بِحَجُ أَوُ عمْرَةٍ أَوْ بِهِمَا
باب: حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1193 ترقیم شاملہ: -- 2845
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا أَنْ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي، قَالَ: " إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ، إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ "،
مالک نے ابن شہاب سے انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انہوں نے صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے آپ کو ایک زیبرا ہدیہ پیش کیا آپ ابواء یا ودان مقام پر تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا (انہوں نے) کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے کی کیفیت دیکھی تو فرمایا: ”بلاشبہ ہم نے تمہارا ہدیہ رد نہیں کیا لیکن ہم حالت احرام میں ہیں (اس لیے اسے نہیں کھا سکتے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2845]
حضرت صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگلی گدھا پیش کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابواء یا ودان میں تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے کی کیفیت (ملال) کو دیکھا تو فرمایا: ”ہم نے اسے صرف اس بنا پر تجھے واپس کیا ہے کہ ہم محرم ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2845]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1193
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1193 ترقیم شاملہ: -- 2846
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، وَقُتَيْبَةُ جميعا، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ كَمَا قَالَ مَالِكٌ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَصَالِحٍ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَخْبَرَهُ،
لیث بن سعد، معمر اور ابوصالح ان سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی (کہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے کہا) میں نے آپ کو ایک زیبرا ہدیہ پیش کیا جس طرح مالک کے الفاظ ہیں اور لیث اور صالح کی روایت میں (یوں) ہے کہ صعب بن جثامہ نے انہیں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) خبر دی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2846]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے مختلف اساتذہ سے حضرت صعب رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگلی گدھا پیش کیا،“ آگے مذکورہ بالا واقعہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2846]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1193
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1193 ترقیم شاملہ: -- 2847
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: أَهْدَيْتُ لَهُ مِنْ لَحْمِ حِمَارِ وَحْشٍ.
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: میں نے آپ کو زیبرے کا گوشت ہدیہ پیش کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2847]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں ہے: ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگلی گدھے کا گوشت پیش کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2847]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1193
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1194 ترقیم شاملہ: -- 2848
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، وَقَالَ: " لَوْلَا أَنَّا مُحْرِمُونَ لَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ "،
اعمش نے حبیب بن ابی ثابت سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ زیبرا پیش کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام میں تھے سو آپ نے اسے لوٹا دیا اور فرمایا: ”اگر ہم احرام کی حالت میں نہ ہوتے تو ہم اسے تمہاری طرف سے (ضرور) قبول کرتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2848]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگلی گدھا بطور تحفہ پیش کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم محرم تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا اور فرمایا: ”اگر ہم محرم نہ ہوتے تو اسے قبول کر لیتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2848]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1194
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1194 ترقیم شاملہ: -- 2849
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا يُحَدِّثُ، عَنِ الحكم . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي رِوَايَةِ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارِ وَحْشٍ، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ: عَجُزَ حِمَارِ وَحْشٍ يَقْطُرُ دَمًا، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنْ حَبِيبٍ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقُّ حِمَارِ وَحْشٍ فَرَدَّهُ.
منصور نے حکم سے اسی طرح شعبہ نے حکم کے واسطے سے اور واسطے کے بغیر (براہ راست) بھی حبیب سے انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ حکم سے منصور کی روایت کے الفاظ ہیں کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیبرے کی ران ہدیہ پیش کی۔ حکم سے شعبہ کی روایت کے الفاظ ہیں زیبرے کا پچھلا دھڑ پیش کیا جس سے خون ٹپک رہا تھا۔ اور حبیب سے شعبہ کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیبرے کا (ایک جانب کا) آدھا حصہ ہدیہ کیا گیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2849]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت اپنے مختلف اساتذہ سے پیش کرتے ہیں، حکم سے منصور بیان کرتے ہیں کہ ”صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگلی گدھے کی ٹانگ تحفتاً پیش کی“ اور شعبہ کہتے ہیں: ”جنگلی گدھے کا «عَجُزٌ» (پچھلا دھڑ) پیش کیا، جس سے خون بہہ رہا تھا“ اور شعبہ دوسرے استاد حبیب سے نقل کرتے ہیں کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگلی گدھے کا آدھا یا ایک پہلو پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رد کر دیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2849]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1194
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1195 ترقیم شاملہ: -- 2850
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُهُ: كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمِ صَيْدٍ أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَرَامٌ؟، قَالَ: قَالَ: أُهْدِيَ لَهُ عُضْوٌ مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ فَرَدَّهُ، فَقَالَ: " إِنَّا لَا نَأْكُلُهُ إِنَّا حُرُمٌ ".
طاوس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: (ایک بار) زید بن ارقم رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں یاد کراتے ہوئے کہا: آپ نے مجھے اس شکار کے گوشت کے متعلق کس طرح بتایا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کی حالت میں ہدیہ پیش کیا گیا تھا؟ (طاوس نے) کہا (زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے) بتایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار کے گوشت کا ایک ٹکڑا پیش کیا گیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا اور فرمایا: ”ہم اسے نہیں کھا سکتے (کیونکہ) ہم احرام میں ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2850]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے یاد داشت کے لیے پوچھا: ”آپ نے مجھے شکار کے اس گوشت کے بارے میں کیا بتایا تھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محرم ہونے کی حالت میں ہدیہ پیش کیا گیا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کا ایک ٹکڑا یا ایک عضو ہدیہ پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رد کر دیا اور فرمایا: ”ہم اسے کھا نہیں سکتے کیونکہ ہم محرم ہیں۔““ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2850]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1195
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں