🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب نَدْبِ مَنْ رَأَى امْرَأَةً فَوَقَعَتْ فِي نَفْسِهِ إِلَى أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَتَهُ أَوْ جَارِيَتَهُ فَيُوَاقِعَهَا:
باب: جو کسی عورت کو دیکھے اور رغبت اس کے دل میں پیدا ہو تو اپنی بیوی یا باندی سے صحبت کرے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1403 ترقیم شاملہ: -- 3408
حدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حدثنا حَرْبُ بْنُ أَبِي الْعَالِيَةِ ، حدثنا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَأَتَى امْرَأَتَهُ زَيْنَبَ وَهِيَ تَمْعَسُ مَنِيئَةً، وَلَمْ يَذْكُرْ: تُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ.
حرب بن ابوعالیہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوزبیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک عورت پر پڑ گئی۔ آگے اسی کے مانند بیان کیا، البتہ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے جبکہ وہ چمڑے کو رنگ رہی تھیں۔ اور یہ نہیں کہا: وہ شیطان کی صورت میں واپس آ جاتی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3408]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک عورت پر پڑ گئی، آگے اس فرق کے ساتھ روایت بیان کی کہ آپ اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے اور وہ ایک چمڑا رنگنے کے لیے مَل رہی تھیں، اور اس میں عورت کے شیطانی صورت میں واپس مڑنے کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3408]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1403
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1403 ترقیم شاملہ: -- 3409
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حدثنا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حدثنا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَ جَابِرٌ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا أَحَدُكُمْ أَعْجَبَتْهُ الْمَرْأَةُ فَوَقَعَتْ فِي قَلْبِهِ، فَلْيَعْمِدْ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَلْيُوَاقِعْهَا، فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ ".
معقل نے ابوزبیر سے روایت کی، کہا: حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کسی کو، کوئی عورت اچھی لگے، اور اس کے دل میں جاگزیں ہو جائے تو وہ اپنی بیوی کا رخ کرے اور اس سے صحبت کرے، بلاشبہ یہ (عمل) اس کیفیت کو دور کر دے گا جو اس کے دل میں (پیدا ہوئی) ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3409]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کسی کو عورت اچھی لگے اور اس کا تصور دل میں جاگزیں ہو جائے، تو وہ اپنی بیوی کا رخ کرے، اور اس سے تعلقات قائم کر لے، اس سے اس کے جی میں آنے والے خیالات جاتے رہیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3409]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1403
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ ثُمَّ نُسِخَ ثُمَّ أُبِيحَ ثُمَّ نُسِخَ وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ:
باب: متعہ کے حلال ہونے کا پھر حرام ہونے کا پھر حلال ہونے کا اور پھر قیامت تک حرام رہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1404 ترقیم شاملہ: -- 3410
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حدثنا أَبِي ، وَوَكِيعٌ ، وَابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، يَقُولُ: " كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا نِسَاءٌ، فَقُلْنَا: أَلَا نَسْتَخْصِي فَنَهَانَا، عَنْ ذَلِكَ، ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ سورة المائدة آية 87 "،
محمد بن عبداللہ بن نمیر ہمدانی نے کہا: میرے والد نے اور وکیع اور ابن بشیر نے ہمیں اسماعیل سے حدیث بیان کی، انہوں نے قیس سے روایت کی، کہا: میں نے عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جہاد کرتے تھے اور ہمارے پاس عورتیں نہیں ہوتی تھیں، تو ہم نے (آپ سے) دریافت کیا: کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ آپ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا، پھر آپ نے ہمیں رخصت دی کہ ہم کسی عورت سے ایک کپڑے (یا ضرورت کی کسی اور چیز) کے عوض مقررہ وقت تک نکاح کر لیں، پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے (یہ آیت) تلاوت کی: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ» اے لوگو جو ایمان لائے! وہ پاکیزہ چیزیں حرام مت ٹھہراؤ جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں اور حد سے نہ بڑھو، بے شک اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3410]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتے تھے اور ہمارے ساتھ بیویاں نہیں ہوتی تھیں، تو ہم نے عرض کیا: کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روک دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورت سے ایک کپڑے کے عوض ایک مدت مقررہ تک کے لیے نکاحِ متعہ کی اجازت دی، پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿اے ایمان والو! نہ حرام ٹھہراؤ ان پاک چیزوں کو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال ٹھہرائی ہیں، اور نہ حدود سے تجاوز کرو، یقیناً اللہ حدود توڑنے والوں کو پسند نہیں فرماتا﴾ [سورة المائدة: 87] ۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3410]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1404
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1404 ترقیم شاملہ: -- 3411
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا جَرِيرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا هَذِهِ الْآيَةَ، وَلَمْ يَقُلْ: قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ،
جریر نے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ، اسی کے مانند حدیث بیان کی اور کہا: پھر انہوں نے ہمارے سامنے یہ آیت پڑھی۔ انہوں نے (نام لے کر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پڑھی نہیں کہا)۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3411]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں «قَرَأَ عَبْدُاللَّهِ» عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پڑھا کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3411]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1404
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1404 ترقیم شاملہ: -- 3412
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: كُنَّا وَنَحْنُ شَبَابٌ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَسْتَخْصِي، وَلَمْ يَقُلْ: نَغْزُو.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں وکیع نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، اور کہا: ہم سب نوجوان تھے تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ اور انہوں نے نغزو (ہم جہاد کرتے تھے) کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3412]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ روایت بیان کرتے ہیں، اس میں «كُنَّا» ہم تھے ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3412]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1404
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1405 ترقیم شاملہ: -- 3413
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَا: خَرَجَ عَلَيْنَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا يَعْنِي: مُتْعَةَ النِّسَاءِ ".
شعبہ نے ہمیں عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حسن بن محمد سے سنا، وہ جابر بن عبداللہ اور سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کر رہے تھے، ان دونوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک منادی کرنے والا ہمارے پاس آیا اور اعلان کیا: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں استمتاع (فائدہ اٹھانے)، یعنی عورتوں سے (نکاح) متعہ کرنے کی اجازت دی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3413]
حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما دونوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے ہمارے سامنے آ کر اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3413]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1405
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1405 ترقیم شاملہ: -- 3414
وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حدثنا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حدثنا رَوْحٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : " أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانَا فَأَذِنَ لَنَا فِي الْمُتْعَةِ ".
روح بن قاسم نے ہمیں عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی، انہوں نے حسن بن محمد سے، انہوں نے سلمہ بن اکوع اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے (اعلان کی صورت میں آپ کا پیغام آیا) اور ہمیں متعہ کی اجازت دی۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3414]
حضرت سلمہ بن اکوع اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں متعہ کی اجازت دی۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3414]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1405
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1405 ترقیم شاملہ: -- 3415
وحدثنا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ عَطَاء : قَدِمَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مُعْتَمِرًا، فَجِئْنَاهُ فِي مَنْزِلِهِ، فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنْ أَشْيَاءَ، ثُمَّ ذَكَرُوا الْمُتْعَةَ، فقَالَ: " نَعَمِ اسْتَمْتَعَنْا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ ".
عطاء نے کہا: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما عمرے کے لیے آئے تو ہم ان کی رہائش گاہ پر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، لوگوں نے ان سے مختلف چیزوں کے بارے میں پوچھا، پھر لوگوں نے متعے کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں متعہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3415]
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما عمرہ کرنے کے لیے تشریف لائے تو ہم ان کی قیام گاہ پر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو لوگوں نے ان سے مختلف مسائل دریافت کیے، پھر متعہ کا ذکر چھیڑ دیا، تو انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں اس سے فائدہ اٹھایا (متعہ کیا)۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3415]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1405
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1405 ترقیم شاملہ: -- 3416
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " كُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقَبْضَةِ مِنَ التَّمْرِ، وَالدَّقِيقِ الْأَيَّامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ حَتَّى نَهَى عَنْهُ عُمَرُ فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ".
ابوزبیر نے مجھے خبر دی، کہا: میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک مٹھی کھجور اور آٹے کے عوض چند دنوں کے لیے متعہ کرتے تھے، حتیٰ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عمرو بن حریث کے واقعے (کے دوران) میں اس سے منع کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3416]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم کھجور اور آٹے کی ایک مٹھی کے عوض چند دن کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے ادوار میں متعہ کر لیا کرتے تھے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کے واقعہ پر منع کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3416]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1405
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1405 ترقیم شاملہ: -- 3417
حدثنا حدثنا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ عَنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَأَتَاهُ آتٍ، فقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ، اخْتَلَفَا فِي الْمُتْعَتَيْنِ، فقَالَ جَابِرٌ : فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ، فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا.
ابونضرہ سے روایت ہے، کہا: میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ان کے پاس ایک آنے والا (ملاقاتی) آیا اور کہنے لگا: حضرت ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے دونوں متعتوں (حج تمتع اور نکاح متعہ) کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔ تو حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں وہ دونوں کام کیے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ان دونوں سے منع کر دیا، پھر ہم نے دوبارہ ان کا رخ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3417]
ابو نضرہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: حضرت ابن عباس اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے درمیان عورتوں سے متعہ اور حج تمتع میں اختلاف ہو گیا ہے، تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے یہ دونوں کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کیے ہیں، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ان دونوں سے منع کر دیا، تو ہم نے پھر یہ نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3417]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1405
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں