صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ:
باب: ایک بھائی کے پیغام کا جب تک جواب نہ مل جائے تب تک پیغام دینا روا نہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 1413 ترقیم شاملہ: -- 3458
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، أَوْ يَتَنَاجَشُوا، أَوْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، أَوْ يَبِيعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا، لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا، أَوْ مَا فِي صَحْفَتِهَا "، زَادَ عَمْرٌ وَفِي رِوَايَتِهِ: وَلَا يَسُمِ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ.
عمرو ناقد، زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی۔ زہیر نے کہا: سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے سودا بیچے یا لوگ (خریداری کی نیت کے بغیر) بڑھ چڑھ کر قیمت لگائیں یا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجے، یا کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرے۔ اور نہ ہی کوئی عورت (اس غرض سے) اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے کہ جو کچھ اس کے برتن میں ہے یا اس کی پلیٹ میں ہے وہ اسے (اپنے لیے) انڈیل لے۔ عمرو نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا: اور نہ کوئی آدمی اپنے بھائی کے کیے جانے سودے پر سودا بازی کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3458]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ”جنگلی (بدوی) کے لیے شہری سودا کرے، یا کوئی شخص خریدنے کی نیت کے بغیر بھاؤ چڑھائے، یا کوئی شخص اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کرے یا بھائی کے سودے پر سودا کرے، اور نہ کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے، تاکہ جو کچھ اس کے برتن یا پلیٹ میں ہے، اپنے لیے انڈیل لے۔“ عمرو کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ”نہ کوئی آدمی اپنے بھائی کے نرخ پر نرخ کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3458]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1413
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1413 ترقیم شاملہ: -- 3459
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَنَاجَشُوا، وَلَا يَبِعِ الْمَرْءُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَا يَخْطُبِ الْمَرْءُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ الْأُخْرَى لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا "،
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے سعید بن مسیب نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم (خریدنے کی نیت کے بغیر) قیمت نہ بڑھاؤ اور نہ کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرے اور نہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع کرے اور نہ کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجے اور نہ کوئی عورت دوسری عورت کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو کچھ اس کے برتن میں ہے وہ اسے (اپنے لیے) انڈیل لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3459]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خریدنے کی نیت کے بغیر نرخ نہ چڑھاؤ، نہ کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے، اور نہ شہری جنگلی کے لیے سودا کرے، اور نہ کوئی شخص بھائی کی منگنی پر منگنی کرے، اور نہ کوئی عورت دوسری عورت کی طلاق کا مطالبہ کرے، تاکہ جو کچھ اس کے برتن میں ہے، وہ اپنے لیے انڈیل لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3459]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1413
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1413 ترقیم شاملہ: -- 3460
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ الْأَعْلَى . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ: وَلَا يَزِدِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ.
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی، البتہ معمر کی حدیث میں ہے: ”اور نہ کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر اضافہ (کی پیش کش) کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3460]
امام صاحب دو اور اساتذہ سے مذکورہ روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں اتنا فرق ہے: ”کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر قیمت نہ بڑھائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3460]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1413
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1413 ترقیم شاملہ: -- 3461
حدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ، حدثنا إِسْمَاعِيل، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " لَا يَسُمِ الْمُسْلِمُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَتِهِ ".
علاء کے والد (عبدالرحمٰن بن یعقوب) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مسلمان کسی مسلمان کے سودے پر سودا نہ کرے، اور نہ اس کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3461]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مسلمان اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ لگائے اور نہ اس کی منگنی پر منگنی کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3461]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1413
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1413 ترقیم شاملہ: -- 3462
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، وَسُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
احمد بن ابراہیم دورقی نے حدیث بیان کی، کہا: ہم سے شعبہ نے علاء (بن عبدالرحمٰن جہنی) اور سہیل (بن ابی صالح سمان مدنی) سے، انہوں نے اپنے اپنے والد سے، ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہی حدیث) روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3462]
امام صاحب ایک اور استاد سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3462]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1413
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1413 ترقیم شاملہ: -- 3463
ح وحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِح عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَّهُمْ، قَالُوا: " عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَخِطْبَةِ أَخِيهِ ".
ہمیں محمد بن مثنیٰ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبدالصمد نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں شعبہ نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی مگر انہوں نے کہا: ”اپنے بھائی کے سودے پر اور اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر۔“ (روایت: 3461 میں مسلمان کے الفاظ ہیں)۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3463]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ لگائے، نہ اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3463]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1413
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1414 ترقیم شاملہ: -- 3464
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ ، وَغَيْرِهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " الْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ، فَلَا يَحِلُّ لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَبْتَاعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبَ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَذَرَ ".
عبدالرحمٰن بن شماسہ سے روایت ہے کہ انہوں نے منبر پر سے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے، کسی مومن کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرے اور نہ اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجے، حتیٰ کہ وہ (خود اسے) چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3464]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے منبر پر کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن، مومن کا بھائی ہے، اس لیے کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرے اور اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کرے، حتی کہ وہ اسے چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3464]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1414
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
7. باب تَحْرِيمِ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلاَنِهِ:
باب: نکاح شغار کا بطلان۔
ترقیم عبدالباقی: 1415 ترقیم شاملہ: -- 3465
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ وَالشِّغَارُ: أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ، عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ ابْنَتَهُ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ "،
امام مالک نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ اور شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح اس شرط پر کرے کہ وہ (دوسرا) بھی اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کرے گا اور ان دونوں کے درمیان مہر نہ ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3465]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «الشِّغَارِ» ”شغار“ سے منع فرمایا ہے، اور شغار یہ ہے کہ ایک شخص اپنی بیٹی کی شادی دوسرے شخص سے اس شرط پر کرے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی اس سے کر دے، اور ان کے درمیان مہر نہ ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3465]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1415
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1415 ترقیم شاملہ: -- 3466
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: حدثنا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: مَا الشِّغَارُ؟.
عبیداللہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، البتہ عبیداللہ کی حدیث میں ہے، انہوں نے کہا: میں نے نافع سے پوچھا: شغار کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3466]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، لیکن یہاں یہ اضافہ ہے، عبیداللہ کہتے ہیں: میں نے نافع رحمہ اللہ سے پوچھا، «شِغَار» کسے کہتے ہیں؟ (گویا مذکورہ بالا روایت میں «شِغَار» کی تعریف نافع نے کی ہے، مرفوع نہیں ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3466]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1415
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1415 ترقیم شاملہ: -- 3467
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّرَّاجِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ ".
عبدالرحمٰن سراج نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3467]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”شغار سے منع فرمایا ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3467]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1415
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة