صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب تَحْرِيمِ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلاَنِهِ:
باب: نکاح شغار کا بطلان۔
ترقیم عبدالباقی: 1415 ترقیم شاملہ: -- 3468
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ ".
ایوب نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں شغار نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3468]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں «شِغَار» نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3468]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1415
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1416 ترقیم شاملہ: -- 3469
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا ابْنُ نُمَيْر ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ "، زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ: وَالشِّغَارُ: أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ، وَأُزَوِّجُكَ ابْنَتِي، أَوْ زَوِّجْنِي أُخْتَكَ، وَأُزَوِّجُكَ أُخْتِي،
ابن نمیر اور ابواسامہ نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ ابن نمیر نے اضافہ کیا: شغار یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے کہے: تم اپنی بیٹی کا نکاح میرے ساتھ کر دو اور میں اپنی بیٹی کا نکاح تمہارے ساتھ کرتا ہوں۔ اور تم اپنی بہن کا نکاح میرے ساتھ کر دو میں اپنی بہن کا نکاح تمہارے ساتھ کرتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3469]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الشِّغَارِ» ”شغار“ سے منع فرمایا ہے، ابن نمیر کی روایت میں یہ اضافہ ہے، «الشِّغَارُ» ”شغار“ یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کو یوں کہے: ”تم اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کر دو اور میں اپنی بیٹی کی شادی تجھ سے کر دوں گا، یا اپنی بہن کی شادی مجھ سے کر دو، میں اپنی بہن کی شادی تجھ سے کر دیتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3469]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1416
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1416 ترقیم شاملہ: -- 3470
وحدثناه أَبُو كُرَيْبٍ ، حدثنا عَبْدَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ زِيَادَةَ ابْنِ نُمَيْرٍ.
عبدہ نے عبیداللہ (بن عمر) سے اسی سند کے ساتھ یہ (حدیث) بیان کی، اور انہوں نے ابن نمیر کا اضافہ ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3470]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، اور اس میں ابن نمیر کا اضافہ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3470]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1416
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1417 ترقیم شاملہ: -- 3471
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حدثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَال ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحدثناه إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْر ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ ".
ابن جریج نے ہمیں خبر دی، کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3471]
امام صاحب مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”شغار سے منع فرمایا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3471]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1417
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
8. باب الْوَفَاءِ بِالشُّرُوطِ فِي النِّكَاحِ:
باب: نکاح کی شرائط کے پورے کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1418 ترقیم شاملہ: -- 3472
حدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حدثنا هُشَيْمٌ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا وَكِيعٌ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَقَّ الشَّرْطِ أَنْ يُوفَى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ "، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ، وَابْنِ الْمُثَنَّى، غَيْرَ أَنَّ ابْنَ الْمُثَنَّى، قَالَ: الشُّرُوطِ.
یحییٰ بن ایوب نے کہا: ہمیں ہشیم نے حدیث بیان کی، ابن نمیر نے کہا: ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی، ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابوخالد احمر نے حدیث سنائی اور محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں یحییٰ قطان نے عبدالحمید بن جعفر سے، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے مرثد بن عبداللہ یزنی سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ پوری کیے جانے کے لائق شرط وہ ہے جس سے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے۔“ یہ ابوبکر اور ابن مثنیٰ کی حدیث کے الفاظ ہیں، البتہ ابن مثنیٰ نے (الشرط کی بجائے) الشروط (شرطیں وہ ہیں) کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3472]
امام مختلف اساتذہ سے، حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب شرطوں سے زیادہ پورا کرنے کی حقدار وہ شرطیں ہیں، جن سے تم نے شرم گاہوں کو اپنے لیے حلال ٹھہرایا ہے۔“ بعض راویوں نے «شَرْط» کا لفظ مفرد بولا اور بعض نے «شُرُوط» جمع کا لفظ استعمال کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3472]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1418
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
9. باب اسْتِئْذَانِ الثَّيِّبِ فِي النِّكَاحِ بِالنُّطْقِ وَالْبِكْرِ بِالسُّكُوتِ:
باب: بیوہ کا نکاح میں اجازت دینا زبان سے ہے اور باکرہ کا سکوت سے۔
ترقیم عبدالباقی: 1419 ترقیم شاملہ: -- 3473
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حدثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حدثنا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حدثنا أَبُو سَلَمَةَ ، حدثنا أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ: " أَنْ تَسْكُتَ "،
ہشام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوسلمہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کا خاوند نہ رہا ہو اس کا نکاح (اس وقت تک) نہ کیا جائے حتیٰ کہ اس سے پوچھ لیا جائے اور کنواری کا نکاح نہ کیا جائے حتیٰ کہ اس سے اجازت لی جائے۔“ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیسے ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ایسے) کہ وہ خاموش رہے (انکار نہ کرے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3473]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شوہر دیدہ کا نکاح اس کے مشورہ کے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی اجازت کی کیفیت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی خاموشی (سکوت) ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3473]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1419
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1419 ترقیم شاملہ: -- 3474
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حدثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ . ح وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حدثنا شَيْبَانُ . ح وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ . ح وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حدثنا مُعَاوِيَةُ ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ هِشَامٍ، وَإِسْنَادِهِ، وَاتَّفَقَ لَفْظُ حَدِيثِ هِشَامٍ، وَشَيْبَانَ، وَمُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
حجاج بن ابی عثمان، اوزاعی، شیبان، معمر اور معاویہ (بن سلام) سب نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ہشام کی سند سے، ہشام کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، اور اس حدیث میں ہشام، شیبان اور معاویہ بن سلام کی حدیث کے الفاظ ایک جیسے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3474]
امام صاحب رحمہ اللہ نے بہت سے اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے، اور تین راویوں ہشام، شیبان اور معاویہ بن سلام کے الفاظ بھی یکساں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3474]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1419
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1420 ترقیم شاملہ: -- 3475
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، جميعا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ: حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَقُولُ: قَالَ ذَكْوَانُ مَوْلَى عَائِشَةَ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَارِيَةِ يُنْكِحُهَا أَهْلُهَا، أَتُسْتَأْمَرُ أَمْ لَا؟ فقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ، تُسْتَأْمَرُ "، فقَالَت عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لَهُ: فَإِنَّهَا تَسْتَحْيِي، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَذَلِكَ إِذْنُهَا إِذَا هِيَ سَكَتَتْ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس لڑکی کے بارے میں پوچھا جس کے گھر والے اس کا نکاح (کرنے کا ارادہ) کریں، کیا اس سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی یا نہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ہاں، اس کی مرضی معلوم کی جائے گی۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے آپ سے عرض کی: وہ تو یقیناً حیا محسوس کرے گی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ خاموش رہی تو یہی اس کی اجازت ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3475]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی سند سے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑکی کے بارے میں دریافت کیا، جب اس کے گھر والے اس کی شادی کرنا چاہیں، تو کیا اس سے مشورہ لیا جائے گا یا نہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا: ”ہاں، اس سے مشورہ لیا جائے گا۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: وہ تو شرم و حیا محسوس کرے گی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی اجازت یہی ہے کہ وہ خاموشی اختیار کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3475]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1420
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1421 ترقیم شاملہ: -- 3476
حدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حدثنا مَالِكٌ . ح وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكٍ : حَدَّثَكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا "، قَالَ: نَعَمْ.
سعید بن منصور اور قتیبہ بن سعید نے کہا: ہم سے امام مالک نے حدیث بیان کی۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا آپ کو عبداللہ بن فضل نے نافع بن جبیر کے واسطے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کا شوہر نہ رہا ہو وہ اپنے ولی کی نسبت اپنے بارے میں زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری سے اس کے (نکاح کے) بارے میں اجازت لی جائے اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے“؟ تو امام مالک نے جواب دیا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3476]
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شوہر دیدہ عورت کا اپنے نفس کے بارے میں اپنے ولی (سرپرست) سے زیادہ حق ہے، اور کنواری کا باپ، اس کے نفس (نکاح) کے بارے میں اس سے اجازت حاصل کرے، اور اس کی اجازت، اس کی خاموشی ہے۔“ امام مالک رحمہ اللہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ میں نے یہ روایت سنی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3476]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1421
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1421 ترقیم شاملہ: -- 3477
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُخْبِرُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ، وَإِذْنُهَا سُكُوتُهَا "،
قتیبہ بن سعید نے کہا: ہمیں سفیان نے زیاد بن سعد سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن فضل سے روایت کی، انہوں نے نافع بن جبیر کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر دیتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے شادی شدہ زندگی گزاری ہو وہ اپنے بارے میں اپنے ولی کی نسبت زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری سے اس کی مرضی پوچھی جائے اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3477]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورت اپنے ولی کی بنسبت اپنے نفس کی زیادہ حقدار ہے، اور کنواری لڑکی سے رائے لی جائے گی، اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3477]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1421
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة