🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1ق. باب مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ:
باب: جو شخص اپناحصہ غلام میں سے آزاد کرے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1501 ترقیم شاملہ: -- 3770
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكٍ : حَدَّثَكَ نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ، فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ، فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ ".
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے امام مالک کو (حدیث سناتے ہوئے) کہا: آپ کو نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی (مشترکہ) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا، اور اس کے پاس اتنا مال ہے جو غلام کی قیمت کو پہنچتا ہے، تو اس کی منصفانہ قیمت لگائی جائے گی۔ اور اس کے شریکوں کو ان کے حصے دیے جائیں گے اور غلام (مکمل طور پر) اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا، ورنہ (اگر اس کے پاس بقیہ حصے کی قیمت ادا کرنے کی سکت نہ ہو تو) اس میں سے جتنا حصہ آزاد ہو گیا وہ اس کی طرف سے آزاد رہے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3770]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مشترکہ غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا، اور اس کے پاس اتنا مال ہے جو غلام (کے باقی حصہ) کی قیمت ادا کر سکتا ہے، تو اس کی خاطر منصفانہ قیمت لگائی جائے گی، اور وہ اپنے حصہ داروں کو ان کے حصے (کی رقم) ادا کر دے گا، اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا، اور اگر اس کے پاس قیمت نہ ہو، تو اس نے جتنا حصہ آزاد کیا ہے اتنا آزاد ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3770]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1501
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1501 ترقیم شاملہ: -- 3771
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، جَمِيعًا عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ . ح، وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ.
لیث بن سعد، جریر بن حازم، ایوب، عبیداللہ، یحییٰ بن سعید، اسماعیل بن امیہ، اسامہ اور ابن ابی ذئب ان سب نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے امام مالک کی نافع سے روایت کردہ حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3771]
امام صاحب مذکورہ بالا حدیث اپنے دس اساتذہ کی سند سے، نافع کے واسطہ سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3771]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1501
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1. باب ذِكْرِ سِعَايَةِ الْعَبْدِ:
باب: غلام کی محنت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1502 ترقیم شاملہ: -- 3772
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِي الْمَمْلُوكِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمَا "، قَالَ: يَضْمَنُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے مشترکہ غلام کے بارے میں فرمایا، جن میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اگر وہ مالدار ہے تو) وہ (دوسرے کا) ضامن ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3772]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ غلام جو دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہے اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دیتا ہے، تو وہ دوسرے کے حصہ کا ضامن ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3772]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1502
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1503 ترقیم شاملہ: -- 3773
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَخَلَاصُهُ فِي مَالِهِ، إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ ".
اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں ابن ابی عروبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے قتادہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا، اگر اس کے پاس مال ہے تو اس (غلام کے باقی حصے) کی آزادی اسی کے مال میں سے ہو گی اور اگر اس کے پاس مال نہیں تو (آزادی دلانے کے لیے) کسی مشقت میں ڈالے بغیر غلام سے کام کروایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3773]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا، تو اسے اس کے مال سے آزاد کیا جائے گا اگر وہ مال دار ہے، اگر اس کے پاس مال نہیں ہے، تو غلام سے محنت و مزدوری (کمائی) کرائی جائے گی لیکن اس کو مشقت میں نہیں ڈالا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3773]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1503
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1503 ترقیم شاملہ: -- 3774
وحَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ: إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ، ثُمَّ يُسْتَسْعَى فِي نَصِيبِ الَّذِي لَمْ يُعْتِقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ.
عیسیٰ بن یونس نے ہمیں سعید بن ابی عروبہ سے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور یہ اضافہ کیا: اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو اس کے لیے غلام کی منصفانہ قیمت لگوائی جائے گی، پھر اس (غلام) کو مشقت میں ڈالے بغیر اس شخص کے حصے کے بقدر جس نے (اپنا حصہ) آزاد نہیں کیا اس (غلام) سے کام کروایا جائے گا۔ (اس طرح وہ کما کر اپنی آزادی حاصل کر لے گا۔) [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3774]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت ایک دوسرے استاد سے بیان کرتے ہیں، جس میں یہ اضافہ ہے: اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس صورت میں غلام کی منصفانہ قیمت لگائی جائے گی، پھر جس نے حصہ آزاد نہیں کیا اس کی خاطر محنت و مزدوری کروائی جائے گی، بغیر اس کے کہ اس کو مشقت میں ڈالا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3774]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1503
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1503 ترقیم شاملہ: -- 3775
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ.
جریر بن حازم نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، وہ اسی سند کے ساتھ ابن ابی عروبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کر رہے تھے۔۔ اور انہوں نے حدیث میں یہ کہا: اس کے لیے منصفانہ قیمت لگوائی جائے گی۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3775]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں «قَامَ عَلَيْهِ» وہ اس کے پاس کھڑا ہوا کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3775]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1503
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب إِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ:
باب: ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1504 ترقیم شاملہ: -- 3776
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ".
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے ایک لونڈی خرید کر اسے آزاد کرنے کا ارادہ کیا۔ اس کے مالکوں نے کہا: ہم اس شرط پر یہ کنیز آپ کو بیچیں گے کہ اس کا حقِ ولاء ہمارا ہو گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: یہ (شرط) تمہیں (اس کو خرید کر آزاد کرنے سے) نہ روکے (اس کنیز کو ضرور آزادی ملنی چاہئے) بلاشبہ ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے (غلام یا کنیز کو) آزاد کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3776]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی آزاد کرنے کے لیے خریدنے کا ارادہ کیا، تو اس کے مالکوں نے کہا: ہم آپ کو اس شرط پر بیچیں گے کہ اس کی نسبتِ آزادی ہماری طرف ہوگی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی شرط تمہیں آزادی دینے سے نہ روکے، کیونکہ ولاء تو صرف آزاد کرنے والے کا حق ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3776]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1504
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1504 ترقیم شاملہ: -- 3777
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ، فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ لَنَا وَلَاؤُكِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ ".
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ سے روایت کی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ بریرہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی۔ وہ ان سے اپنی مکاتبت (قیمت ادا کر کے آزادی کا معاہدہ کرنے) کے سلسلے میں مدد مانگ رہی تھی، اس نے اپنی مکاتبت کی رقم میں سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: اپنے مالکوں کے پاس جاؤ، اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری مکاتبت کی رقم ادا کروں اور تمہارا حقِ ولاء میرے لیے ہو، تو میں (تمہاری قیمت کی ادائیگی) کر دوں گی۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے یہ اپنے مالکوں سے کہی تو انہوں نے انکار کر دیا، اور کہا: اگر وہ تمہارے ساتھ نیکی کرنا چاہتی ہیں تو کریں، لیکن تمہاری ولاء کا حق ہمارا ہی ہو گا۔ اس پر انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: تم خرید لو اور آزاد کر دو، کیونکہ ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (منبر پر) کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہوا ہے وہ ایسی شرطیں رکھتے ہیں جو اللہ کی کتاب (کی تعلیمات) میں نہیں۔ جس نے ایسی شرط رکھی جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہے تو اسے اس کا کوئی حق نہیں چاہے وہ سو مرتبہ شرط رکھ لے۔ اللہ کی شرط زیادہ حق رکھتی ہے اور وہی زیادہ مضبوط ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3777]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس اپنی مکاتبت کی رقم کی ادائیگی کے سلسلہ میں مدد لینے کے لیے آئیں، اور انہوں نے اپنی مکاتبت کی رقم میں سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اپنے مالکوں کے پاس جاؤ، اگر وہ چاہیں تو میں تمہارا تمام بدلِ کتابت ادا کر دیتی ہوں اور تمہاری نسبتِ آزادی میری طرف ہو گی، میں رقم دے دیتی ہوں۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے اس کا تذکرہ اپنے مالکوں سے کیا، تو انہوں نے اس سے انکار کر دیا اور کہا: اگر وہ تمہیں رقم دے کر ثواب لینا چاہتی ہے، تو وہ ثواب کمائے (نسبت اس کی طرف نہیں ہو گی) نسبتِ آزادی ہماری ہی طرف ہو گی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اسے خرید لے، نسبت تو صرف آزاد کرنے والے کا حق ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کے قانون، حکم کی رو سے درست نہیں، جس نے ایسی شرط لگائی، جو اللہ کے حکم میں روا نہیں ہے، تو وہ اس کا مطالبہ نہیں کر سکے گا، اگرچہ سو دفعہ شرط لگا لے، اللہ کی شرط ہی صحیح ہے اور مضبوط ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3777]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1504
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1504 ترقیم شاملہ: -- 3778
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلَيَّ، فَقَالَتْ: يَا عَائِشَةُ، إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَزَادَ فَقَالَ: لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ مِنْهَا ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ.
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: بریرہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی: عائشہ! میں نے اپنے مالکوں سے 9 اوقیہ پر مکاتبت (قیمت کی ادائیگی پر آزاد ہو جانے کا معاہدہ) کیا ہے، ہر سال میں ایک اوقیہ (40 درہم ادا کرنا) ہے، آگے لیث کی حدیث کے ہم معنی ہے اور (اس میں) یہ اضافہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں ان کی یہ بات (بریرہ کو آزاد کرنے سے) نہ روکے۔ اسے خریدو اور آزاد کر دو۔ اور (یونس نے) حدیث میں کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: امابعد! (خطبہ دیا جس میں شرط والی بات ارشاد فرمائی)۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3778]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں: اے عائشہ! میں نے اپنے مالکوں سے 9 اوقیہ پر کتابت کی، ہر سال ایک اوقیہ (چالیس درہم) ادا کرنا ہو گا، آگے اوپر والی حدیث ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے (ان کا شرط لگانا، تمہیں خریدنے سے نہ روکے، خرید اور آزاد کر دے) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں خطاب کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» حمد و ثنا کے بعد۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3778]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1504
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1504 ترقیم شاملہ: -- 3779
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَهْلِي كَاتَبُونِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ، فِي تِسْعِ سِنِينَ فِي كُلِّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، فَقُلْتُ لَهَا: إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً، وَأُعْتِقَكِ وَيَكُونَ الْوَلَاءُ لِي، فَعَلْتُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِأَهْلِهَا، فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَأَتَتْنِي فَذَكَرَتْ ذَلِكَ، قَالَتْ: فَانْتَهَرْتُهَا، فَقَالَتْ: لَا هَا اللَّهِ إِذَا قَالَتْ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَنِي، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ "، فَفَعَلْتُ، قَالَتْ: ثُمَّ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ أَعْتِقْ فُلَانًا وَالْوَلَاءُ لِي إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، انہوں نے کہا: بریرہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی: میرے مالکوں نے میرے ساتھ 9 سالوں میں 9 اوقیہ (کی ادائیگی) کے بدلے مکاتبت کی ہے۔ ہر سال میں ایک اوقیہ (ادا کرنا) ہے۔ میری مدد کریں۔ میں نے اس سے کہا: اگر تمہارے مالک چاہیں کہ میں انہیں یکمشت گن کر دوں اور تمہیں آزاد کر دوں اور ولاء کا حق میرا ہو، تو میں ایسا کر لوں گی۔ اس نے یہ بات اپنے مالکوں سے کی تو انہوں نے (اسے ماننے سے) انکار کر دیا الا یہ کہ حقِ ولاء ان کا ہو۔ اس کے بعد وہ میرے پاس آئی اور یہ بات مجھے بتائی۔ کہا: تو میں نے اس پر برہمی کا اظہار کیا، اور کہا: اللہ کی قسم! پھر ایسا نہیں ہو سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی تو مجھ سے پوچھا، میں نے آپ کو (پوری) بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے خریدو اور آزاد کر دو، ان کے لیے ولاء کی شرط رکھ لو، کیونکہ (اصل میں تو) ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کے وقت خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا جو اس کے شایانِ شان تھی بیان کی، پھر فرمایا: امابعد! لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ وہ ایسی شرطیں رکھتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں (جائز) نہیں۔ جو بھی شرط اللہ کی کتاب میں (روا) نہیں، وہ باطل ہے، چاہے وہ سو شرطیں ہوں، اللہ کی کتاب ہی سب سے سچی اور اللہ کی شرط سب سے مضبوط ہے۔ تم میں سے بعض لوگوں کو کیا ہوا ہے، ان میں سے کوئی کہتا ہے: فلاں کو آزاد تم کرو اور حقِ ولاء میرا ہو گا۔ (حالانکہ) ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3779]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہا: میرے مالکوں نے میرے ساتھ نو سال کے عرصہ کے لیے نو اوقیہ پر کتابت کی ہے، ہر سال ایک اوقیہ دینا ہو گا، آپ میرا تعاون فرمائیں، تو میں نے اسے جواب دیا: اگر تیرے مالک چاہیں تو میں ساری رقم یکمشت ادا کر کے تمہیں آزاد کر دیتی ہوں اور نسبتِ آزادی میری طرف ہو گی، تو میں ایسا کر دیتی ہوں، اس نے اس کا ذکر اپنے مالکوں سے کیا تو انہوں نے ولاء اپنے لیے لیے بغیر اس سے انکار کر دیا، تو اس نے آ کر مجھے بتایا تو میں نے اس کی سرزنش کی اور کہا: اللہ کی قسم! تب ایسا نہیں ہو گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بات سن لی اور مجھ سے پوچھا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خرید لو اور اسے آزاد کر دو، اور ان کی ولاء کی شرط مان لو، ولاء تو اس کو ملنی ہے جس نے آزادی دی۔ تو میں نے ایسا کیا، پھر شام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب فرمایا، اللہ کی حمد و ثناء بیان کی جو اس کی شان کے لائق ہے، پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ!» اما بعد! لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی اللہ کے حکم میں گنجائش نہیں ہے؟ جو شرط بھی ایسی ہو گی جس کی اللہ کے قانون میں گنجائش نہیں تو وہ باطل ہے اگرچہ سو شرطیں ہوں، اللہ کا حکم ہی صحیح ہے اور اللہ کی شرط ہی مستحکم ہے، تم میں سے کچھ مردوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ان میں سے کوئی کہتا ہے: تم فلاں کو آزاد کر دو اور نسبتِ آزادی میری طرف ہو گی، ولاء تو بس آزاد کرنے والے کے لیے ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3779]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1504
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں