🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. بَابُ هَدْيِ مَنْ أَصَابَ أَهْلَهُ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ
جو شخص صحبت کرے اپنی بیوی سے قبل طواف الزیارۃ کے اس کی ہدی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 864B2
قَالَ يَحْيَى: وَسُئِلَ مَالِك، عَنْ رَجُلٍ نَسِيَ الْإِفَاضَةَ حَتَّى خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ، وَرَجَعَ إِلَى بِلَادِهِ، فَقَالَ: أَرَى إِنْ لَمْ يَكُنْ أَصَابَ النِّسَاءَ، فَلْيَرْجِعْ، فَلْيُفِضْ، وَإِنْ كَانَ أَصَابَ النِّسَاءَ فَلْيَرْجِعْ، فَلْيُفِضْ، ثُمَّ لِيَعْتَمِرْ، وَلْيُهْدِ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ هَدْيَهُ مِنْ مَكَّةَ، وَيَنْحَرَهُ بِهَا وَلَكِنْ إِنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَهُ مَعَهُ مِنْ حَيْثُ اعْتَمَرَ، فَلْيَشْتَرِهِ بِمَكَّةَ، ثُمَّ لِيُخْرِجْهُ إِلَى الْحِلِّ، فَلْيَسُقْهُ مِنْهُ إِلَى مَكَّةَ، ثُمَّ يَنْحَرُهُ بِهَا
کہا یحییٰ نے: سوال ہوا امام مالک رحمہ اللہ سے کہ ایک شخص طواف الزیارۃ بھول کر مکہ سے اپنے شہر چلا آیا؟ تو جواب دیا کہ اگر اس نے صحبت نہیں کی عورت سے تو لوٹ جائے اور طواف الزیارۃ ادا کرے، اور اگر صحبت کر چکا تو لوٹ کر طواف ادا کرے، پھر عمرہ کرے اور ہدی دے، اور یہ نہیں چاہیے کہ ہدی مکہ سے مول لے کر وہیں نحر کر دے، بلکہ اپنے ساتھ ہدی نہ لایا ہو تو مکہ سے ہدی مول لے کر حرم سے باہر جا ئے، اور وہاں سے ہانکتا ہوا اپنے ساتھ پھر مکہ میں لائے، پھر وہاں نحر کرے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 864B2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 157»

51. بَابُ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ
موافق طاقت کے ہدی کیا چیز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 865
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، كَانَ يَقُولُ: " مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ: شَاةٌ"
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ « ﴿مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ » سے مراد ایک بکری ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 865]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 301، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8896، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 12938، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 158»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 866
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَقُولُ: " مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ: شَاةٌ" .
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: « ﴿مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ » سے ایک بکری مراد ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 866]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح لغيره، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8896، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 301، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 159»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 866B1
قَالَ مَالِك: وَذَلِكَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ، لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ، يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ، أَوْ عَدْلُ ذَلِكَ صِيَامًا، فَمِمَّا يُحْكَمُ بِهِ فِي الْهَدْيِ شَاةٌ، وَقَدْ سَمَّاهَا اللَّهُ هَدْيًا، وَذَلِكَ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا، وَكَيْفَ يَشُكُّ أَحَدٌ فِي ذَلِكَ؟ وَكُلُّ شَيْءٍ لَا يَبْلُغُ أَنْ يُحْكَمَ فِيهِ بِبَعِيرٍ أَوْ بَقَرَةٍ، فَالْحُكْمُ فِيهِ شَاةٌ، وَمَا لَا يَبْلُغُ أَنْ يُحْكَمَ فِيهِ بِشَاةٍ فَهُوَ كَفَّارَةٌ مِنْ صِيَامٍ، أَوْ إِطْعَامِ مَسَاكِينَ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھے یہ روایت بہت پسند ہے، کیونکہ اللہ جل جلالہُ فرماتا ہے اپنی کتاب میں: اے ایمان والو! مت مارو شکار جب تم احرام باندھے ہو، اور جو مارے شکار تم میں سے قصداً تو اس پر جزاء ہے مثل اس جانور کے جو مارا اس نے۔ حکم لگا دیں اس کا دو مرد دیانت دار تم میں سے، یہ جزاء ہدی ہو جو خانۂ کعبہ میں پہنچے، یا کفارہ ہو مسکینوں کا کھلانا، یا برابر اس کے روزے، تاکہ چکھے وبال اپنے کام کا۔ سو کبھی جانور کا بدلہ بکری بھی ہوتی ہے، اور اللہ جل جلالہُ نے اسی کو ہدی کہا۔ اس مسئلہ میں ہمارے نزدیک کچھ اختلاف نہیں ہے، اور کیونکر کوئی اس میں شک کرے گا، اس واسطے کہ جو جانور اونٹ یا بیل کے برابر نہیں اس کی جزاء ایک بکری ہی ہو گی، اور جو ایک بکری سے کم ہو تو اس میں کفارہ ہو گا، روزے رکھے یا مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 866B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 159»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 867
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ: " مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ بَدَنَةٌ أَوْ بَقَرَةٌ"
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: « ﴿مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ » سے ایک بکری یا گائے مراد ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 867]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 299، 317، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8984، 8986، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 2742، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 12927، 12930، 12939، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 1100، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 160»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 868
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ مَوْلَاةً لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُقَالُ لَهَا رُقَيَّةُ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا خَرَجَتْ مَعَ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى مَكَّةَ، قَالَتْ: فَدَخَلَتْ عَمْرَةُ مَكَّةَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَأَنَا مَعَهَا، فَطَافَتْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ دَخَلَتْ صُفَّةَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَتْ: " أَمَعَكِ مِقَصَّانِ؟" فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَتْ:" فَالْتَمِسِيهِ لِي" فَالْتَمَسْتُهُ حَتَّى جِئْتُ بِهِ، فَأَخَذَتْ مِنْ قُرُونِ رَأْسِهَا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ ذَبَحَتْ شَاةً
حضرت عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے، کہا ایک آزاد لونڈی عمرہ بنت عبدالرحمٰن کی جس کا نام رقیہ تھا، مجھ سے کہتی تھی کہ میں نکلی عمرہ بنت عبدالرحمٰن کے ساتھ مکہ کو، تو آٹھویں تاریخ ذی الحجہ کی عمرہ مکہ میں پہنچیں اور میں بھی ان کے ساتھ تھی، تو طواف کیا خانۂ کعبہ کا اور سعی کی درمیان میں صفا اور مروہ کے، پھر عمرہ مسجد کے اندر گئیں اور مجھ سے کہا کہ تیرے پاس قینچی ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ عمرہ نے کہا: کہیں سے ڈھونڈ کر لا۔ سو میں ڈھونڈ کر لائی، عمرہ نے اپنی لٹیں بالوں کی اس سے کاٹیں، جب یوم النحر ہوا تو ایک بکری ذبح کی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 868]
تخریج الحدیث: «مقطوع ضعيف، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 161»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. بَابُ جَامِعِ الْهَدْيِ
مختلف حدیثیں ہدی کے بیان میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 869
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ الْمَكِّيِّ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَقَدْ ضَفَرَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي قَدِمْتُ بِعُمْرَةٍ مُفْرَدَةٍ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ :" لَوْ كُنْتُ مَعَكَ، أَوْ سَأَلْتَنِي لَأَمَرْتُكَ أَنْ تَقْرِنَ"، فَقَالَ الْيَمَانِي: قَدْ كَانَ ذَلِكَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ:" خُذْ مَا تَطَايَرَ مِنْ رَأْسِكَ وَأَهْدِ"، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ: مَا هَدْيُهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ:" هَدْيُهُ"، فَقَالَتْ لَهُ: مَا هَدْيُهُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: " لَوْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا أَنْ أَذْبَحَ شَاةً، لَكَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَصُومَ"
حضرت صدقہ بن یسار مکی سے روایت ہے کہ ایک شخص یمن کا رہنے والا آیا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس، اور اس نے بٹ لیا تھا اپنے بالوں کو۔ تو کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! میں صرف عمرہ کا احرام باندھ کر آیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر تو میرے ساتھ ہوتا یا مجھ سے پوچھتا تو میں تجھے قرآن کا حکم کرتا۔ اس شخص نے کہا: اب تو ہو چکا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جتنے بال تیرے پریشان ہیں ان کو کتروا ڈال اور ہدی دے۔ ایک عورت نے کہا: کیا ہدی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے نزدیک تو یہ ہے کہ اگر مجھے سِوا بکری کے کچھ نہ ملے تب بھی بکری ذبح کرنا بہتر ہے روزے رکھنے سے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 869]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 162»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 870
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ: " الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ إِذَا حَلَّتْ لَمْ تَمْتَشِطْ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْ قُرُونِ رَأْسِهَا، وَإِنْ كَانَ لَهَا هَدْيٌ لَمْ تَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهَا شَيْئًا حَتَّى تَنْحَرَ هَدْيَهَا" .
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: جو عورت احرام باندھے ہو، جب احرام کھولے تو کنگھی نہ کرے جب تک اپنے بالوں کی لٹیں نہ کٹوا دے، اور جو اس کے پاس ہدی ہو تو اپنے بال نہ کتروائے جب تک ہدی نحر نہ کرے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 870]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 163»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 870B1
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ، يَقُولُ: لَا يَشْتَرِكُ الرَّجُلُ وَامْرَأَتُهُ فِي بَدَنَةٍ وَاحِدَةٍ لِيُهْدِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بَدَنَةً بَدَنَةً
امام مالک رحمہ اللہ نے سنا بعض اہلِ علم سے، کہتے تھے کہ مرد اور اس کی عورت دونوں ایک اونٹ میں شریک نہیں ہو سکتے، بلکہ ہر ایک کے واسطے جدا جدا اونٹ چاہئے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 870B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 163»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 870B2
قَالَ يَحْيَى: وَسُئِلَ مَالِك عَمَّنْ بُعِثَ مَعَهُ بِهَدْيٍ، يَنْحَرُهُ فِي حَجٍّ وَهُوَ مُهِلٌّ بِعُمْرَةٍ، هَلْ يَنْحَرُهُ إِذَا حَلَّ، أَمْ يُؤَخِّرُهُ حَتَّى يَنْحَرَهُ فِي الْحَجِّ، وَيُحِلُّ هُوَ مِنْ عُمْرَتِهِ؟ فَقَالَ: بَلْ يُؤَخِّرُهُ حَتَّى يَنْحَرَهُ فِي الْحَجِّ، وَيُحِلُّ هُوَ مِنْ عُمْرَتِهِ.
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص کے ساتھ ہدی روانہ کی گئی تاکہ نحر کرے اس کو حج میں، اور اس شخص نے احرام باندھا عمرہ کا، تو وہ نحر کرے ہدی کو جب احرام کھولے عمرہ کا؟ یا تاخیر کر ے اس کی نحر میں حج تک؟ تو جواب دیا کہ تاخیر کرے ہدی کی نحر میں، اور نحر کرے اس کو حج میں، اور وہ عمرہ کرے احرام کھول ڈالے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 870B2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 163»