موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
61. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ وَأُجْرَةِ الْحَجَّامِ
پچھنے لگانا اور اس کی مزدوری کا بیان
حدیث نمبر: 1782
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے ابو طیبہ کے ہاتھ سے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدوری میں ایک صاع کھجور کا دیا اور اس کے مالکوں کو حکم دیا کہ اس کے خراج میں کمی کر دیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1782]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2102، 2210، 2277، 2281، 5696، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1577، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5151، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7537، 7538، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3424، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1278، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2664، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2164، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15887، وأحمد فى «مسنده» برقم: 11988، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1251، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2835، فواد عبدالباقي نمبر: 54 - كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ-ح: 26»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
حدیث نمبر: 1783
وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنْ كَانَ دَوَاءٌ يَبْلُغُ الدَّاءَ، فَإِنَّ الْحِجَامَةَ تَبْلُغُهُ"
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ رسول اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی دوا ایسی ہوتی جو بیماری تک پہنچ جاتی، تو وہ پچھنے ہوتے۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1783]
تخریج الحدیث: «مرفوع ضعيف، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 54 - كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ-ح: 27»
الحكم على الحديث:
مرفوع ضعيف
حدیث نمبر: 1784
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ مُحَيِّصَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَحَدِ بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِجَارَةِ الْحَجَّامِ فَنَهَاهُ عَنْهَا، فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ وَيَسْتَأْذِنُهُ، حَتَّى قَالَ: " اعْلِفْهُ نُضَّاحَكَ" يَعْنِي رَقِيقَكَ
سیدنا ابن محیصہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حجام کی اجرت کو اپنے خرچ میں لانا کیسا ہے؟ (کیونکہ ان کے غلام ابو طیبہ حجام تھے وہ چاہتے تھے اس کی کمائی کھائیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا (مگر یہ ممانعت تنزیہاً ہے اکثر علماء کے نزدیک)۔ وہ ہمیشہ پوچھا کر تے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگتے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی کمائی اپنے اونٹوں اور غلاموں کی خوراک میں صرف کر۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1784]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح لغيره، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5154، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24090، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 4658، وله شواهد من حديث محيصة بن مسعود بن كعب الخزرجي، فأما حديث محيصة بن مسعود بن كعب الخزرجي، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 3422، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1277، والحميدي فى «مسنده» برقم: 902، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2166، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24179، فواد عبدالباقي نمبر: 54 - كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ-ح: 28»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح لغيره
62. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَشْرِقِ
پورب کا بیان
حدیث نمبر: 1785
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ إِلَى الْمَشْرِقِ، وَيَقُولُ: هَا " إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ"
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اشارہ کر تے تھے پورب کی طرف اور فرماتے تھے: ”فتنہ اسی طرف سے ہے، فتنہ اسی طرف سے ہے، جہاں سے شیطان کی چوٹی نکلتی ہے۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1785]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1037، 3104، 3279، 3511، 5296، 7092، 7093، 7094، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2905، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6648، 6649، 7301، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2268، 3953، وأحمد فى «مسنده» برقم: 5109، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 21016، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33107، والطبراني فى «الصغير» برقم: 864، فواد عبدالباقي نمبر: 54 - كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ-ح: 29»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
حدیث نمبر: 1786
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرَادَ الْخُرُوجَ إِلَى الْعِرَاقِ، فَقَالَ لَهُ كَعْبُ الْأَحْبَارِ:" لَا تَخْرُجْ إِلَيْهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِنَّ بِهَا تِسْعَةَ أَعْشَارِ السِّحْرِ، وَبِهَا فَسَقَةُ الْجِنِّ، وَبِهَا الدَّاءُ الْعُضَالُ"
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عر اق کو جا نا چاہا تو کعب احبار نے کہا: آپ وہاں نہ جایئے اے امیر المؤمنین! کیونکہ اس ملک میں جادو کے دس حصّوں میں سے نو حصّے ہیں، اور جتنے شریر اور خبیث جن ہیں وہاں موجود ہیں، اور وہاں ایک بیماری ہے جو لا علاج ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1786]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه أبو نعيم فى «حلية الاولياء» برقم: 5642، فواد عبدالباقي نمبر: 54 - كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ-ح: 30»
الحكم على الحديث:
موقوف ضعيف
63. بَابُ مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَمَا يُقَالُ فِي ذَلِكَ
سانپوں کے مارنے کا بیان اور سانپوں کا حال
حدیث نمبر: 1787
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي لُبَابةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ"
حضرت ابو لبابہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ان سانپوں کے مارنے سے جو گھر میں ہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1787]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3297، 3310، 3312، 4016، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2233، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5638، 5639، 5642، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5252، 5253، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1483، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3535، وأحمد فى «مسنده» برقم: 15631، والحميدي فى «مسنده» برقم: 632، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19616، فواد عبدالباقي نمبر: 54 - كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ-ح: 31»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
حدیث نمبر: 1788
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سَائِبَةَ مَوْلَاةٍ لِعَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ، إِلَّا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَخْطِفَانِ الْبَصَرَ وَيَطْرَحَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ"
حضرت سائبہ جو مولاۃ ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی، ان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ان سانپوں کے مارنے سے جو گھر میں ہوتے ہیں، مگر ذی الطفیتین اور ابتر کو کہ وہ آنکھ کو اندھا کر دیتے ہیں اور حمل گرا دیتے ہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1788]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3308، 3309، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2232، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5631، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2834، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3800، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3231، 3534، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24723، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8392، 8400، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 20254، فواد عبدالباقي نمبر: 54 - كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ-ح: 32»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
حدیث نمبر: 1789
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ صَيْفِيٍّ مَوْلَى ابْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ، فَسَمِعْتُ تَحْرِيكًا تَحْتَ سَرِيرٍ فِي بَيْتِهِ فَإِذَا حَيَّةٌ فَقُمْتُ لِأَقْتُلَهَا، فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ أَنِ اجْلِسْ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ، فَقَالَ: أَتَرَى هَذَا الْبَيْتَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّهُ قَدْ كَانَ فِيهِ فَتًى حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ، فَبَيْنَا هُوَ بِهِ إِذْ أَتَاهُ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي أُحْدِثُ بِأَهْلِي عَهْدًا، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" خُذْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ بَنِي قُرَيْظَةَ"، فَانْطَلَقَ الْفَتَى إِلَى أَهْلِهِ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً بَيْنَ الْبَابيْنِ فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ لِيَطْعُنَهَا وَأَدْرَكَتْهُ غَيْرَةٌ، فَقَالَتْ: لَا تَعْجَلْ حَتَّى تَدْخُلَ وَتَنْظُرَ مَا فِي بَيْتِكَ؟ فَدَخَلَ فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى فِرَاشِهِ، فَرَكَزَ فِيهَا رُمْحَهُ ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فَنَصَبَهُ فِي الدَّارِ، فَاضْطَرَبَتِ الْحَيَّةُ فِي رَأْسِ الرُّمْحِ، وَخَرَّ الْفَتَى مَيِّتًا فَمَا يُدْرَى أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الْفَتَى أَمْ الْحَيَّةُ؟ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ"
حضرت ابوسائب جو مولیٰ تھے ہشام بن زہرہ کے، ان سے روایت ہے (کہتے ہیں کہ) میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ نماز پڑھ رہے تھے، میں بیٹھ گیا، نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کر رہا تھا، اتنے میں میں نے ان کے تخت کے تلے سرسراہٹ سنی، دیکھا تو سانپ ہے، میں اس کے مارنے کو اٹھا۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اشارہ کیا بیٹھ جا (اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں اشارہ کرنا درست ہے)، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ایک کوٹھڑی کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اس کوٹھڑی کو دیکھتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں! سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کوٹھڑی میں ایک نوجوان رہتا تھا جس نے نئی شادی کی تھی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگِ خندق میں گیا، پھر وہ یکایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجیے (میں گھر سے ہوکر آتا ہوں)، میں نے نئی شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور فرمایا: ”ہتھیار لے کر جا کہ مجھے بنی قریظہ کا خوف ہے۔“ (بنی قریظہ وہ یہودی تھے جو جنگِ خندق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے باہر ہو گئے، ہتھیار اور جنگ کا قصد رکھتے تھے)۔ وہ نوجوان ہتھیار لے کر گیا، جب گھر پہنچا تو بیوی کو دیکھا دروازہ پر کھڑی ہے، اس نوجوان نے غیرت سے برچھا اس کے مارنے کو اٹھایا، وہ بولی: جلدی مت کر، اپنے گھر میں جا کر دیکھ کہ اس میں کیا ہے۔ وہ گھر میں گیا، دیکھا تو ایک سانپ کنڈلی مارے ہوئے اس کے بچھو نے پر بیٹھا ہوا ہے، وہ نوجوان سانپ کو برچھی سے چھید کر نکلا اور برچھی کو گھر میں کھڑا کر دیا، وہ سانپ اس برچھی کی نوک میں پیچ کھاتا رہا اور نوجوان اسی وقت مر گیا، معلوم نہیں سانپ پہلے مرا یا وہ نوجوان پہلے مرا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ بیان کیا گیا تو آپ نے فرمایا(1): ”مدینہ میں جن مسلمان ہو گئے ہیں(2)، تو جب تم کسی سانپ کو دیکھو تو تین روز تک اس کو آگاہ کیا کرو(3)، اگر بعد اس کے بھی نکلے تو اس کو مار ڈالو، کیونکہ وہ شیطان ہے(4)۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1789]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2236، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5637، 5641، 6157، والنسائی فى «الكبریٰ» برقم: 8871، 10739، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5256، 5257، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1484، 1484 م، وأحمد فى «مسنده» برقم: 11389، فواد عبدالباقي نمبر: 54 - كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ-ح: 33»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
64. بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْكَلَامِ فِي السَّفَرِ
سفر کی دعا کا بیان
حدیث نمبر: 1790
حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَهُوَ يُرِيدُ السَّفَرَ، يَقُولُ: " بِاسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ ازْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَمِنْ كَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَمِنْ سُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ"
امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھتے سفر کے قصد سے تو فرماتے: ”اللہ کے نام سے سفر کرتا ہوں، اے پروردگار! تو رفیق ہے سفر میں، اور خلیفہ ہے میرے اہل و عیال میں۔ اے پروردگار! نزدیک کر دے ہم کو زمین جہاں ہم جاتے ہیں، اور آسان کر ہم پر سفر۔ اے پروردگار! پناہ مانگتا ہوں میں تجھ سے سفر کی تکلیف سے، اور برے لو ٹنے اور برے حال سے اہل اور مال کے۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1790]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2708، 1342، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2566، 2567، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2700، والنسائی فى «الكبریٰ» برقم: 10382،، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3437، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2722، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3547، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10431، وأحمد فى «مسنده» برقم: 6311، فواد عبدالباقي نمبر: 54 - كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ-ح: 34»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
حدیث نمبر: 1791
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ الثِّقَةِ عِنْدَهُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، فَإِنَّهُ لَنْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ"
سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی منزل میں اترے اور کہے کہ پناہ مانگتا ہوں میں اللہ جل جلالہُ کے پورے کلمات سے (یعنی اس کی صفاتِ کاملہ یا اس کے الفاظ سے) ہر مخلوق کے شر سے، تو اس کو کسی چیز سے نقصان نہ ہوگا کوچ کے وقت تک۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1791]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2708، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2566، 2567، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2700، والنسائی فى «الكبریٰ» برقم: 10394،، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3437، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2722، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3547، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10431، وأحمد فى «مسنده» برقم: 27663، فواد عبدالباقي نمبر: 54 - كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ-ح: 34ق»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح