🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
72. بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْكَلَامِ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللّٰهِ
بےہودہ گوئی کی مذمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1812
وَحَدَّثَنِي مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، كَانَ يَقُولُ: لَا تُكْثِرُوا الْكَلَامَ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ فَتَقْسُوَ قُلُوبُكُمْ، فَإِنَّ الْقَلْبَ الْقَاسِيَ بَعِيدٌ مِنَ اللَّهِ، وَلَكِنْ لَا تَعْلَمُونَ وَلَا تَنْظُرُوا فِي ذُنُوبِ النَّاسِ كَأَنَّكُمْ أَرْبَاب، وَانْظُرُوا فِي ذُنُوبِكُمْ كَأَنَّكُمْ عَبِيدٌ، فَإِنَّمَا النَّاسُ مُبْتَلًى وَمُعَافًى فَارْحَمُوا أَهْلَ الْبَلَاءِ وَاحْمَدُوا اللَّهَ عَلَى الْعَافِيَةِ
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں: مت باتیں کرو بے کار سوائے یادِ الہٰی کے کہ کہیں سخت ہو جائیں دل تمہارے، اور سخت دل دور ہے اللہ سے لیکن تم نہیں سمجھتے۔ اور مت دیکھو دوسروں کے گناہ کو گویا تم ہی رب ہو، اپنے گناہوں کو دیکھو اپنے تئیں بندہ سمجھ کر، کیونکہ لوگوں میں سب طرح کے لوگ ہیں، بعض بیمار ہیں بعض اچھے ہیں۔ تو رحم کرو بیماروں پر اور اللہ کا شکر کرو اپنی تندرستی پر۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1812]
تخریج الحدیث: «مقطوع ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 5023، أبو نعيم فى «حلية الاولياء» برقم:328/6، وابن عساكر فى «تاريخ دمشق» برقم:309/50، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31870، 34219، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 8»

الحكم على الحديث:
مقطوع ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1813
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تُرْسِلُ إِلَى بَعْضِ أَهْلِهَا بَعْدَ الْعَتَمَةِ، فَتَقُولُ: " أَلَا تُرِيحُونَ الْكُتَّابَ"
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بعد نمازِ عشاء کے اپنے (گھر کے) لوگوں سے کہلا بھیجتیں: اب بھی تم آرام نہیں دیتے لکھنے والے فرشتوں کو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1813]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4991، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 9»

الحكم على الحديث:
موقوف ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
73. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغِيبَةِ
غیبت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1814
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيَّادٍ ، أَنَّ الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ الْمَخْزُومِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا الْغِيبَةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ تَذْكُرَ مِنَ الْمَرْءِ مَا يَكْرَهُ أَنْ يَسْمَعَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ حَقًّا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قُلْتَ بَاطِلًا فَذَلِكَ الْبُهْتَانُ"
مطلب بن عبداللہ بن حنطب مخزومی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے: غیبت کس کو کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کا حال ایسا بیان کرے جو اگر وہ سنے تو اس کو برا معلوم ہو۔“ وہ بولا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگرچہ سچ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر جھوٹ ہو تو وہ بہتان ہے۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1814]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2589، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4874، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1934، والنسائی فى «الكبريٰ» برقم: 11518، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7146، والدارمي فى «سننه» برقم: 2714، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 10»

الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
74. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَا يُخَافُ مِنَ اللِّسَانِ
زبان کے گناہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1815
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّ اثْنَيْنِ وَلَجَ الْجَنَّةَ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تُخْبِرْنَا، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَى، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: لَا تُخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ أَيْضًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَا تُخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ أَيْضًا، ثُمَّ ذَهَبَ الرَّجُلُ يَقُولُ مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَى، فَأَسْكَتَهُ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّ اثْنَيْنِ وَلَجَ الْجَنَّةَ: مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ، مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ، مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ"
حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ بچا دے دو چیزوں کی برائی سے وہ جنت میں جائے گا۔“ ایک شخص نے پوچھا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو نہیں بتاتے وہ دو چیزیں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہو رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا، وہ شخص بولا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو نہیں بتاتے؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہو رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا، وہ شخص وہی بولا یعنی آپ ہم کو نہیں بتاتے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا، وہ شخص وہی بولا جاتا تھا، اتنے میں ایک دوسرے شخص نے اس کو چپ کرا دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا: ”جس کو اللہ دو چیزوں کے شر سے بچا دے وہ جنت میں جائے گا، ایک وہ جو اس کے دونوں جبڑوں کے بیچ میں ہے (زبان)، دوسری وہ جو اس کے دونوں پاؤں کے بیچ میں ہے (شرم گاہ)، تین بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ارشاد فرمایا۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1815]
تخریج الحدیث: «مرفوع ضعيف، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 11»

الحكم على الحديث:
مرفوع ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1816
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ دَخَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَهُوَ يَجْبِذُ لِسَانَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَهْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ " هَذَا أَوْرَدَنِي الْمَوَارِدَ"
حضرت اسلم عدوی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گئے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس اور وہ اپنی زبان کھینچ رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھہرو! بخشے اللہ تم کو۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اسی نے مجھ کو تباہی میں ڈالا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1816]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 4990، والنسائی فى «الكبریٰ» برقم: 11841، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 26491، 37032، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 12»

الحكم على الحديث:
موقوف صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
75. بَابُ مَا جَاءَ فِي مُنَاجَاةِ اثْنَيْنِ دُونَ وَاحِدٍ
دو آدمی ایک کو چھوڑ کر کانا پھوسی اور سرگو شی نہ کریں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1817
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عِنْدَ دَارِ خَالِدِ بْنِ عُقْبَةَ الَّتِي بِالسُّوقِ، فَجَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يُنَاجِيَهُ، وَلَيْسَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ الرَّجُلِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يُنَاجِيَهُ، فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَجُلًا آخَرَ حَتَّى كُنَّا أَرْبَعَةً، فَقَالَ لِي وَلِلرَّجُلِ الَّذِي دَعَاهُ: اسْتَأْخِرَا شَيْئًا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ"
حضرت عبداللہ بن دینار سے روایت ہے (کہتے ہیں کہ): میں اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خالد بن عقبہ کے گھر کے پاس تھے جو بازار میں تھا، اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کان میں کچھ کہنا چاہا، اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سوائے میرے اور اس شخص کے جو کان میں کہنے کو آیا تھا اور کوئی نہ تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک اور شخص کو بلایا، اب ہم چار آدمی ہو گئے، پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ کو اور چوتھے شخص کو کہا: ذرا ہٹ جاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”دو آدمی ایک کو اکیلا چھوڑ کر کانا پھوسی اور سرگوشی نہ کریں، اس سے تیسرے آدمی کو رنج ہوتا ہے۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1817]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 911، 6269، 6270، 6288، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2177، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1820، 1822، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 580، 581، 582، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1091، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4828، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2749، 2750، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2695، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3776، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5975، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4536، والحميدي فى «مسنده» برقم: 659، 660، 661، 679، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 13»

الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1818
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ"
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تین آدمی ہوں تو دو مل کر کانا پھوسی اور سرگوشی نہ کریں، تیسرے کو چھوڑ کر۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1818]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6288، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2183، وأبو داود فى «سننه» برقم:4852، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3776، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2749، 2750، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2695، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4564، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5975، والحميدي فى «مسنده» برقم: 659، 660، 661، 679، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5625، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 14»

الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
76. بَابُ مَا جَاءَ فِي الصِّدْقِ وَالْكَذِبِ
سچ اور جھوٹ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1819
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْذِبُ امْرَأَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا خَيْرَ فِي الْكَذِبِ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعِدُهَا وَأَقُولُ لَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا جُنَاحَ عَلَيْكَ"
حضرت صفوان بن سلیم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں اپنی عورت سے جھوٹ بولوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھوٹ بولنا اچھا نہیں ہے اور اس میں کچھ بھلائی و خیر نہیں ہے۔“ پھر وہ شخص بولا: میں اپنی عورت سے وعدہ کروں اور اس سے کہوں میں تیرے لیے یوں کر دوں گا، یہ بنا دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں کچھ گناہ نہیں ہے۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1819]
تخریج الحدیث: «مرفوع ضعيف، وأخرجه عبدالله بن وهب فى الجامع: 534، وابن عبدالبر فى «التمهيد» برقم: 247/16، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 15»

الحكم على الحديث:
مرفوع ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1820
وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، كَانَ يَقُولُ: " عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَالْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَالْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، أَلَا تَرَى أَنَّهُ يُقَالُ: صَدَقَ وَبَرَّ، وَكَذَبَ وَفَجَرَ"
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے (بخاری مسلم نے اس کو مرفوعاً روایت کیا ہے): لازم جانوں تم سچ بولنے کو، کیونکہ سچ بولنا نیکی کا راستہ بتاتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے، اور بچو تم جھوٹ سے، کیونکہ جھوٹ برائی کا راستہ بتاتا ہے اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے، کیا تم نے نہیں سنا لوگ کہتے ہیں: فلاں نے سچ کہا اور نیک ہوا، جھوٹ بولا اور بدکار ہوا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1820]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، مرفوع صحيح
شیخ سلیم ہلالی نے کہا کہے کہ اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے البتہ اس میں جو فرمان مذکور ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ دیکھئے بخاری: 6094 و مسلم: 2607، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 16»

الحكم على الحديث:
موقوف ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1821
وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّهُ قِيلَ لِلُقْمَانَ: مَا بَلَغَ بِكَ مَا نَرَى يُرِيدُونَ الْفَضْلَ، فَقَالَ لُقْمَانُ: صِدْقُ الْحَدِيثِ، وَأَدَاءُ الْأَمَانَةِ، وَتَرْكُ مَا لَا يَعْنِينِي
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ حضرت لقمان علیہ السلام سے کسی نے پوچھا کہ تم کو کس وجہ سے اتنی بزرگی حاصل ہوئی؟ حضرت لقمان علیہ السلام نے کہا: سچ بولنے سے، امانت داری سے، اور لغو کام چھوڑ دینے سے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1821]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح لغيره، وأخرجه والبيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 4990، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 26491، 37032، أبو نعيم فى «حلية الاولياء» برقم: 33/1، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 17»

الحكم على الحديث:
مقطوع صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں