🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
774. خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ
تم میں سے بہتر وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور اسے (لوگوں کو) سکھایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1241
1241 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلُ، أبنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ»
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور اسے (دوسروں کو) سکھایا۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1241]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 2909، والدارمي فى «مسنده» برقم: 3380، والبزار فى «مسنده» برقم: 698، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 30695، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 5125»
عبدالرحمٰن بن اسحاق کوفی ضعیف ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1242
1242 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَهْرَيَارَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِيذَةَ، قَالَا: نا الطَّبَرَانِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْعَسْكَرِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، نا مُعَاذُ بْنُ عَوْذِ اللَّهِ الْقُرَشِيُّ، نا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خِيَارُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور اسے (دوسروں کو) سکھایا۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1242]
تخریج الحدیث: إسناده ضعيف، وأخرجه المعجم الصغير: 379، محمد بن سنان قزاز ضعیف ہے، اس میں ایک اور علت بھی ہے
وضاحت: تشریح: -
ان احادیث میں قرآن مجید سیکھنے اور سیکھانے والے لوگوں کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کو بہترین قرار دیا ہے جو خود بھی قرآن مجید سیکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی سکھاتے ہیں کیونکہ جس طرح قرآن مجید اور اس کے علوم دنیا کی تمام کتابوں اور علوم سے افضل اور ارفع ہیں اسی طرح قرآنی علوم کو سیکھنے اور سکھانے والے بھی سب سے ممتاز اور افضل ہیں۔
علامہ داود راز رحمہ اللہ نے لکھا ہے: قرآن سیکھنے سے صرف یہ مراد نہیں ہے کہ اس کے الفاظ پڑھنا سیکھنا، بلکہ الفاظ کو صحت کے ساتھ سیکھے پھر ان کے معنی پھر مطلب اور شان نزول وغیرہ غرض حدیث اور قرآن یہی دو علم دین کے ہیں جو شخص ان کی تعلیم اور تعلیم میں مصروف ہے اس کا درجہ سارے مسلمانوں سے بڑھ کر ہے۔ (بخاری مترجم: 550/6)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
775. خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ
تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1243
1243 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَاجِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بِالرَّمْلَةِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ جَرِيرٍ الصُّورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1243]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، سماعیل بن عیاش کی غیر شامیوں سے روایت ضعیف ہوتی ہے مذکورہ روایت بھی غیر شامیوں سے ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1244
1244 - أنا ذُو النُّونِ بْنُ أَحْمَدَ، نا أَبُو الْفَضْلِ، أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ الْهَرَوِيُّ، نا أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَدَمِيُّ بِالْمَوْصِلِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہوں۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1244]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، ابوقاسم حسن بن سعید کی توثیق نہیں ملی۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1245
1245 - أنا هِبَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ الصَّوَّافُ، أنا الْقَاضِي أَبُو الْحَسَنِ الْأَذَنِيُّ، أنا أَبُو عَرُوبَةَ، نا الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ رُؤْبَةَ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ»
سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1245]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، الضعفاء للعقيلي: 904/3، المعجم الكبير: 854، جز: 22»
عمر بن روبہ تغلبی ضعیف ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔ جب تمہارا کوئی ساتھی فوت ہو جائے تو اسے چھوڑ دیا کرو (یعنی اس کی برائیاں نہ بیان کیا کرو)۔ [ترمذي: 3895، وسنده صحيح]
❀ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔ [ابن ماجه: 1977، وسنده حسن]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
776. خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ
تم میں سے بہتر وہ ہے جس سے بھلائی کی امید رکھی جائے اور اس کے شر سے امن ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1246
1246 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشَّاهِدُ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ، أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَعْرَابِيُّ، ثنا الْحَضْرَمِيُّ، هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ" ثنا ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے جس سے بھلائی کی امید رکھی جائے اور اس کے شر سے امن ہو اور تم میں سے برا وہ ہے جس سے بھلائی کی امید نہ رکھی جائے اور اس کے شر سے امن نہ ہو۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1246]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 527، 528، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2263، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8934، 9042»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1247
1247 - وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْغَسَّانِيُّ، بِطَرَابُلْسِ الشَّامِ «ثنا أَبُو بَكْرٍ، يُوسُفُ بْنُ الْقَاسِمِ الْمَيَانَجِيُّ» ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، بِإِسْنَادِهِ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ، مِنْ شَرِّكُمْ؟» فَقَالَ رَجُلٌ: بَلَى، فَقَالَ: وَذَكَرَهُ
یہ حدیث عبدالعزیز بن محمد سے ایک دوسری سند کے ساتھ بھی مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے اچھے اور برے لوگوں کی خبر نہ دوں؟ تو ایک آدمی نے کہا: کیوں نہیں۔ تب آپ نے فرمایا۔۔۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1247]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 527، 528، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2263، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8934، 9042»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1248
1248 - نا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْفَارِسِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الْفَرْضِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ، نا جَبْرُونُ بْنُ عِيسَى، نا سَحْنُونُ بْنُ سَعِيدٍ، نا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ مِنْ شِرَارُكُمْ؟ خِيَارُكُمْ مَنْ يُؤْمَنُ شَرُّهُ وَيُرْجَى خَيْرُهُ، وَشِرَارُكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے اچھے اور برے لوگوں کی خبر نہ دوں؟ تمہارے اچھے لوگ وہ ہیں جن کے شر سے امن ہو اور ان سے بھلائی کی امید رکھی جائے اور تمہارے برے لوگ وہ ہیں جن سے بھلائی کی امید نہ رکھی جائے اور ان کے شر سے امن نہ ہو۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1248]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، سعید بن محمد بن ابی موسیٰ سخت ضعیف ہے۔
وضاحت: تشریح: -
ان احادیث میں اچھے اور برے شخص کی پہچان کرائی گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بہترین قرار دیا ہے جس سے لوگ خیر و بھلائی کی توقع رکھیں اور اس کے شر سے مامون اور بے خوف ہوں یعنی قدرتی طور پر لوگوں کے دلوں میں اس کی طرف سے اطمینان ہو کہ یہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا بلکہ جہاں تک ہو سکے دوسروں کا بھلا ہی سوچتا ہے لیکن جس شخص سے خیر کی توقع نہ ہو، لوگوں کے دلوں میں قدرتی طور پر اس کی طرف سے ڈر ہو کہ یہ شخص خطرناک ہے اس سے بچ کے رہو، اس سے خیر نہیں شرہی پہنچے گا، ایسا شخص بدترین انسان ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
777. خَيْرُ بُيُوتِكُمْ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ مُكْرَمٌ
تمہارے گھروں میں سے بہترین گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم کی عزت کی جاتی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1249
1249 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ زَيْدٍ، ثنا فَهْدٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، ثنا الْحُنَيْنِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ بُيُوتِكُمْ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ مُكْرَمٌ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے گھروں میں سے بہترین گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم کی عزت کی جاتی ہو۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1249]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، الضعفاء للعقيلي: 1/ 113، المعجم الكبير: 13434، شعب الايمان: 10526»
اسحاق بن ابراہیم حنینی ضعیف ہے، اس میں ایک اور علت بھی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
778. خَيْرُ الْمَالِ سِكَّةٌ مَأْبُورَةٌ وَفَرَسٌ مَأْمُورَةٌ
بہترین مال بارآور کھجور کے درختوں سے بھرا ہوا راستہ یا زیادہ بچے دینے والی گھوڑی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1250
1250 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ الْعَدَوِيِّ عَمْرِو بْنِ عِيسَى، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ بُدَيْلٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ هُبَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «خَيْرُ الْمَالِ سِكَّةٌ مَأْبُورَةٌ وَفَرَسٌ مَأْمُورَةٌ»
سوید بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین مال بارآور کھجور کے درختوں سے بھرا ہوا راستہ یا زیادہ بچے دینے والی گھوڑی ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1250]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه أحمد 3/ 468، المعجم الكبير: 6470، 6471، التاريخ الكبير للبخارى: 1/ 439»
سوید بن ہبیرہ قول راجح میں تابعی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں