مسند عمر بن عبد العزيز سے متعلقہ
2. بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْكَلَامِ وَالْحَدِيثِ أَثْنَاءَ الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب جمعہ کے دن خطبہ کے دوران بات کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 18
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ الْمُقَوِّمُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، ثنا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: أَنْصِتْ، وَالإِمَامُ يَخْطُبُ، فَقَدْ لَغَوْتَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے۔ ”جب تو نے جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے کہا چپ ہو جا جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو تو نے لغو حرکت کی۔“ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن سعيد بن المسيب/حدیث: 18]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، الجمعة، باب الانصات يوم الجمعة والا مام بخطب: 934، صحيح مسلم، الجمعة، باب فى الانصات يوم الجمعة فى الخطبة 851»
3. بَابُ بَيَانِ أَنَّ إِسْكَاتَ الْجَلِيسِ أَثْنَاءَ الْخُطْبَةِ مِنَ اللَّغْوِ
باب جمعہ کے خطبہ کے وقت ساتھی کو چپ کرانے سے لغو کام ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 19
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ ، وَابْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: أَنْصِتْ، وَالإِمَامُ يَخْطُبُ، فَقَدْ لَغَوْتَ" .
سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تو نے جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے کہا: چپ ہو جا جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو تو نے لغو کام کیا۔“ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن سعيد بن المسيب/حدیث: 19]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، الجمعة، رقم: 934، صحيح مسلم، الجمعة، رقم: 851»
4. بَابُ الْأَمْرِ بِالْوُضُوءِ بَعْدَ أَكْلِ مَا مَسَّتْهُ النَّارُ
باب آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 20
حَدَّثَنَا أَبُو تَقِيٍّ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ الزُّهْرِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ: فَقَالَ: أَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ" .
عبداللہ بن ابراہیم زہری نے بیان کیا، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد کی چهت پر وضو کرتے دیکھا تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے پنیر کے ٹکڑے کھانے کی وجہ سے وضوء کیا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے ”آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو کرو۔“ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن سعيد بن المسيب/حدیث: 20]
تخریج الحدیث: «صحيح مسلم، الحيض، باب الوضوء مما مست النار: 351»
5. بَابُ بَيَانِ الْوُضُوءِ بَعْدَ أَكْلِ مَا مَسَّتْهُ النَّارُ
باب آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 21
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَن عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ فَوْقَ الْمَسْجِدِ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مِمَّا أَتَوَضَّأُ؟ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ" ، وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يَتَوَضَّأُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ.
عبد بن ابراہیم زہری رحمہ اللہ نے بیان کیا، میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد کے اوپر وضو کرتے دیکھا تو انہوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو میں کیوں وضو کر رہا ہوں؟ میں نے پنیر کے ٹکڑے کھائے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے ”آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو کرو۔“ امام زہری رحمہ اللہ آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو فرماتے تھے۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن سعيد بن المسيب/حدیث: 21]
تخریج الحدیث: «صحيح مسلم، الحيض، باب الوضوء مما مست النار: 351»
6. بَابُ ذِكْرِ الْوُضُوءِ لِسَبَبِ أَكْلِ مَا مَسَّتْهُ النَّارُ
باب آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے سبب وضو کرنے کا ذکر
حدیث نمبر: 22
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، أَنَّهُ وَجَدَ أَبَا هُرَيْرَةَ فَوْقَ الْمَسْجِدِ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ لَهُ: مَا أَتَوَضَّأُ إِلا مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ" .
عبداللہ بن قارظ سے مروی ہے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد کی چھت پر وضو کرتے پایا، تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس لیے وضو کر رہا ہوں کہ میں نے پنیر کے ٹکڑے کھائے ہیں، بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو کرو۔“ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن سعيد بن المسيب/حدیث: 22]
تخریج الحدیث: «صحيح مسلم، الحيض، باب الوضوء مما مست النار: 351»
7. بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْكَلَامِ مَعَ الْجَلِيسِ أَثْنَاءَ الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب جمعہ کے دن خطبہ کے دوران ساتھی سے بات کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 23
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، ثنا أَبُو عَامِرٍ ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ ، وَابْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: أَنْصِتْ، وَالإِمَامُ يَخْطُبُ، فَقَدْ لَغَوْتَ" .
سيدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے، ”جمعہ کے دن جب تو اپنے ساتھی سے کہے ”چپ ہو جا“ جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو تو نے لغو کام کیا۔“ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن سعيد بن المسيب/حدیث: 23]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، الجمعة، رقم: 934، صحيح مسلم، الجمعة، رقم: 851»
8. بَابُ بَيَانِ ثُبُوتِ الْوُضُوءِ بَعْدَ أَكْلِ الْجُبْنِ أَوْ مَا مَسَّتْهُ النَّارُ
باب پنیر یا آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد وضو کے ثبوت کا بیان
حدیث نمبر: 24
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ فَوْقَ ظَهْرِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا هَذَا الْوضُوءُ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَمَا تَدْرِي مِمَّا أَتَوَضَّأُ! أَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ" .
عبداللہ بن ابراہیم زہری سے مروی ہے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد کی چھت پر وضو کرتے دیکھا تو ان سے دریافت کیا یہ کس چیز سے وضو ہے؟ تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نہیں جانتے میں کیوں وضو کر رہا ہوں؟ میں پنیر کے ٹکڑے کھانے کی وجہ سے وضو کر رہا ہوں اور میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے۔ ”آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو کرو۔“ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن سعيد بن المسيب/حدیث: 24]
تخریج الحدیث: «صحيح مسلم، الحيض، باب الوضوء مما مست النار: 351»
9. بَابُ عَمَلِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى وُجُوبِ الْوُضُوءِ بَعْدَ أَكْلِ مَا مَسَّتْهُ النَّارُ
باب آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد وضو کے وجوب پر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا عمل
حدیث نمبر: 25
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ، وَقَدْ أَكَلَ أَثْوَارَ أَقِطٍ فَتَوَضَّأَ، فَقُلْتُ: تَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ" .
عبد الله بن ابراہیم بن قارظ زہری نے بیان کیا میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد کی چھت پر وضو کرتے دیکھا، جبکہ انہوں نے پنیر کے ٹکڑے کھائے تو وضوء کیا میں نے پوچھا: آپ پنیر کے کمرے کھانے سے وضو کرتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے ”آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو کرو۔“ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن سعيد بن المسيب/حدیث: 25]
تخریج الحدیث: «صحيح مسلم، الحيض، باب الوضوء مما مست النار: 351»
1. بَابُ بَيَانِ لَعْنِ الْوَاصِلَةِ وَالْمَوْصُولَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَةِ لِلْحُسْنِ
باب وِگ لگانے، گودنے، بھنویں بنوانے اور دانت تراشوانے والی پر لعنت کا بیان
حدیث نمبر: 26
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالُوا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ , أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَهُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِالْمَدِينَةِ، يَقُولُ: أَيْنَ فُقَهَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مِنْبَرِهِ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ الْقُصَّةِ، ثُمَّ وَضَعَهَا عَلَى رَأْسِهِ، فَلَمْ أَرَهَا عَلَى عَرُوسٍ عِنْدَ عُرْسٍ وَلا غَيْرِهِ أَجْمَلَ مِنْهَا عَلَى مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ، وَالْمُتَنَمِّصَةَ وَالنَّامِصَةَ، وَالْوَاشِرَةَ وَالْمُسْتَوْشِرَةَ" .
ابراہيم بن عبد اللہ بن قارظ نے بیان کیا میں نے سیدنا معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما سے سنا وہ مدینہ طیبہ میں منبر پر کہہ رہے تھے۔ اے اہل مدینہ تمہارے فقہاء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر کے پاس بالوں کو اس طرح کرنے سے منع کرتے سنا پھر انہوں نے وِگ کو اپنے بالوں پر رکھ کر دکھایا۔ میں نے اس طرح بالوں کو کسی شادی وغیرہ کے موقع پر بھی معاویہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی پر اتنا خوبصورت نہیں دیکھا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ”گودنے اور گدوانے والی پر، چہرے کے بال اکھیٹر نے (بھنویں بنانے) اور اکھٹروانے (بھنویں بنوانے) والی پر، دانتوں کو تراشنے اور ترشوانے والی پر اللہ کی لعنت ہے۔“ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن سعيد بن المسيب/حدیث: 26]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف: شيخ بديع الدين رحمه الله فرماتے هيں: يه حديث عبد الجبار بن عمر الايلي كي وجه سے ضعيف هے. اسے امام ابن معين، امام ابو زرعه، امام ابو داود، امام ترمذي اور ابن عدي وغيره رحمه الله نے ضعيف كها، امام بخاري كهتے هيں عنده مناكير جبكه امام ابو حاتم رحمه الله نے اس كو منكر الحديث كها. تهذيب: 103/6، 104 اس حديث كا پهلا حصه ينهٰى عن مثل هذه تك صحيحين ميں هے. ديكهئے بخاري، احاديث الانبياء، باب 3468، مسلم، اللباس، والزينة، باب تحريم فعل الواصلة و المستوصلة .... الخ 2127 جبكه دوسرے معنى كي روايت متعدد صحابه سے مختلف كتب احاديث ميں موجود هے. ديكهئے بخاري، اللباس، باب وصل الشعر 5932 - 5948، مسلم، اللباس والزينة، باب تحريم فعل الواصلة والمستوصلة ...... الخ 2122 - 2127»