🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. ‏(‏57‏)‏ بَابُ الْأَمْرِ بِالِاسْتِطَابَةِ بِالْأَحْجَارِ،
پتھروں (ڈھیلوں) سے استنجا کرنے کے حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q74
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الِاسْتِطَابَةَ بِالْأَحْجَارِ يُجْزِي دُونَ الْمَاءِ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ پانی استعمال کیے بغیر صرف ڈھیلوں سے استنجا کرنا بھی کافی ہے. [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار/حدیث: Q74]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 74
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ لَهُ بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانُوا يَسْتَهْزِئُونَ بِهِ: إِنِّي أَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى الْخِرَاءَةَ، قَالَ سَلْمَانُ :" أَجَلْ أُمِرْنَا أَنْ لا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، وَلا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا، وَلا نَكْتَفِيَ بِدُونِ ثَلاثَةِ أَحْجَارٍ، لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ وَلا عَظْمٌ" . غَيْرُ أَنَّ الدَّوْرَقِيَّ، قَالَ: قَالَ بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ لِسَلْمَانَ
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُن سے کسی مُشرک نے کہا، اور مُشرک ان سے مذاق کیا کرتے تھے، میں تمہارے ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھتا ہوں کہ وہ تمہیں (ہر چیز) سکھاتے ہیں حتیٰ کہ قضائےحاجت کا طریقہ کار بھی۔ سیدنا سلمان نے فرمایا کہ جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حُکم دیا ہے کہ (قضائے حاجت کرتے وقت) ہم قبلہ کی طرف مُنہ نہ کریں، نہ اپنے دائیں ہا تھ سے استنجا کر یں،اور نہ تین ڈھیلوں سے کم پر اکتفا کر یں، اُن میں گوبر اور ہڈی نہ ہو۔ دورقی کی روا یت میں الفاظ اس طرح ہیں «‏‏‏‏قَالَ بَعضُ المُشرِکِینَ لِسَلمَانَ» ‏‏‏‏ ”کسی مشرک نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے کہا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار/حدیث: 74]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 262، وابن الجارود فى "المنتقى"، 32، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 74، 81، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 41، وأبو داود فى (سننه) برقم: 7، والترمذي فى (جامعه) برقم: 16، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 316، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 433، والدارقطني فى (سننه) برقم: 144، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24199»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
58. ‏(‏58‏)‏ بَابُ الْأَمْرِ بِالِاسْتِطَابَةِ بِالْأَحْجَارِ وِتْرًا لَا شَفْعًا
استنجا کرنے کے لیے جفت کی بجائے طاق پتھر کرنے کا حکم ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 75
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ . ح وَحَدَّثَنَا يُونُسُ أَيْضًا، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ. ح وَحَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ . ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، وَمَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ". وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ. سَمِعْتُ يُونُسَ، يَقُولُ: سُئِلَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَعْنَى قَوْلِهِ: وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ، قَالَ: فَسَكَتَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، فَقِيلَ لَهُ: أَتَرْضَى بِمَا قَالَ مَالِكٌ؟ قَالَ: وَمَا قَالَ مَالِكٌ؟ قِيلَ: قَالَ مَالِكٌ: الاسْتِجْمَارُ، الاسْتِطَابَةُ بِالأَحْجَارِ، فَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ مَالِكٍ كَمَا قَالَ الأَوَّلُ: وَابْنُ اللَّبُونِ إِذَا مَا لُزَّ فِي قَرْنٍ لَمْ يَسْتَطِعْ صَوْلَةً الْبُزْلِ الْقَنَاعِيسِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص وضو کرے، وہ ناک جھاڑے اور جو ڈھیلوں سےاستنجا کرے وہ طاق ڈھیلےاستعمال کرے۔“ اما م ابن مبارک کی روایت کی سند میں «‏‏‏‏سمع اباهريره» ‏‏‏‏ کے لفظ ہیں (جبکہ مذکورہ بالا سند میں «‏‏‏‏عن ابي هريرة» ‏‏‏‏ ہے) امام ابو بکر رحمہ الله فرماتے ہیں کہ میں نے یونس کو کہتے ہوئے سنا کہ امام ابن عیینہ رحمہ اللہ سے «‏‏‏‏ومن استجمر فليوتر» ‏‏‏‏ ”اور جو شخص استنجا کے لیے ڈھیلے استعمال کرے وہ طاق ڈھیلے استعمال کرے“ کا معنی پوچھا گیا تو ابن عیینہ رحمہ اللہ خاموش ہوگئے۔ ان سے کہا گیا کہ کیا آپ امام مالک رحمہ اللہ کی تشریح و تفسیر کو قبول کریں گے؟ انہوں نےپوچھا کہ امام مالک رحمہ اللہ نےکیا فرمایا ہے؟ کہا گیا کہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتےہیں «‏‏‏‏الاستجمار» ‏‏‏‏ کا معنی ڈھیلوں سے استنجا کرنا ہے۔ (یہ سن کر) ابن عیینہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میری اور امام مالک کی مثال ایسے ہی ہے جیسے پہلے (دانا) لوگوں نے کہا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار/حدیث: 75]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 161، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 237، ومالك فى (الموطأ) برقم: 46، وابن الجارود فى "المنتقى"، 42، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 75، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1410، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 86، وأبو داود فى (سننه) برقم: 35، 140، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 337، 338، 409، 3498، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 223، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7341»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
59. ‏(‏59‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالِاسْتِطَابَةِ وِتْرًا
اس بات کی دلیل کا بیان کہ استنجا کے لئے طاق ڈھیلے استعمال کرنے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q76
، هُوَ الْوِتْرُ الَّذِي يَزِيدُ عَلَى الْوَاحِدِ، الثَّلَاثُ فَمَا فَوْقَهُ مِنَ الْوِتْرِ، إِذِ الْوَاحِدُ قَدْ يَقَعُ عَلَيْهِ اسْمُ الْوِتْرِ، وَالِاسْتِطَابَةُ بِحَجَرٍ وَاحِدٍ غَيْرُ مُجْزِيَةٍ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ أَنْ لَا يُكْتَفَى بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ فِي الِاسْتِطَابَةِ
طاق ڈھیلے استعمال کرنے کے حکم سے مراد طاق ہے جو ایک سے زائد، تین یا اس ے زائد ہو(مثلا پانچ، سات.........) کیونکہ ایک پر بھی کبھی طاق کا اطلاق ہوجاتا ہے۔ حالانکہ ایک ڈھیلے سے استنجا کرنا کافی نہیں ہوتا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ استنجا کے لیے تین سے کم پتھر وں کو کافی نہ سمجھا جائے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار/حدیث: Q76]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 76
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ . ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، نا الأَعْمَشُ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ ثَلاثًا"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں کوئی شخص استنجا کرنے کے لیے ڈھیلے استعمال کرے تو اُسے چاہیے کہ تین ڈھیلوں سے استنجا کرے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار/حدیث: 76]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 239، 1300، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 76، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 510، 9415، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14344»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
60. ‏(‏60‏)‏ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالْوِتْرِ فِي الِاسْتِطَابَةِ أَمْرُ اسْتِحْبَابٍ لَا أَمْرُ إِيجَابٍ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ استنجا کے لیے طاق ڈھیلے استعمال کرنے کا حکم استحبابی ہے، وجوبی نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q77
وَأَنَّ مَنِ اسْتَطَابَ بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَةٍ بِشَفْعٍ لَا بِوِتْرٍ غَيْرُ عَاصٍ فِي فِعْلِهِ، إِذْ تَارِكُ الِاسْتِحْبَابِ غَيْرِ الْإِيجَابِ تَارِكُ فَضِيلَةٍ لَا فَرِيضَةٍ
اور جس شخص نے استنجا کے لیے تین سے زیادہ جفت ڈھیلے استعمال کی، وتر استعمال نہ کیے تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا کیونکہ وہ غیر واجب، مستحب اور افضل عمل کو چھوڑنے والا ہے نہ کہ فرضیت کو۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار/حدیث: Q77]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 77
نا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ سَعْدٍ الْقَيْسِيُّ ، نا رَوْحٌ يَعْنِي ابْنَ عِبَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُوتِرْ، فَإِنَّ اللَّهَ وُتِرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ، أَمَا تَرَى السَّمَوَاتِ سَبْعًا، وَالأَرْضَ سَبْعًا، وَالطَّوَافَ سَبْعًا" وَذَكَرَ أَشْيَاءَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص ڈھیلوں سے استنجا کرے تو اسے چاہیے کہ وتر (ڈھیلے) استعمال کرے۔ بیشک اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔ کیا تم سات آسمان، سات زمینیں اور طواف (کے) سات (چکر) نہیں دیکھتے۔“‏‏‏‏ (یعنی یہ سب وتر ہیں) اسی طرح کئ چیزیں ذکر کیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار/حدیث: 77]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح: صحيح الجامع الصغير: 321، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 77، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1437، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 565، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 512، والبزار فى (مسنده) برقم: 9330، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 9803، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 7412»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
61. ‏(‏61‏)‏ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِاسْتِطَابَةِ بِالْيَمِينِ
دائیں ہاتھ سے استنجا کرنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 78
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، نا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، نا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلا يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ، وَإِذَا أَتَى الْخَلاءَ فَلا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا تَمَسَّحَ فَلا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ"
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص (مشروب وغیرہ) پیے تو برتن میں سانس نہ لے، اور جب قضائے حاجت کرے تو اپنی شرم گاہ کو دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے،اور جب استنجا کرے تو اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کرے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار/حدیث: 78]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 153، 154، 5630، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 267، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 68، 78، 79، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1434، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 24 /، وأبو داود فى (سننه) برقم: 31، والترمذي فى (جامعه) برقم: 15، 1889، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 310، 310 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 549، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19729»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 79
نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ . ح وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلا يَسْتَنْجِ بِيَمِينِهِ، وَلا يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ" . هَذَا حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ فِي كُلِّهَا: عَنْ عَنْ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرے تو اپنی شرم گاہ کو دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے، اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ (مشروب پیتے ہوئے) برتن میں سانس لے۔“ یہ عمرو بن ابی سلمہ کی روایت ہے اور علی بن حجر نے پوری سند میں «‏‏‏‏عن عن» ‏‏‏‏ کہا ہے۔ (یعنی کہیں بھی «‏‏‏‏حدثنا» ‏‏‏‏ یا «‏‏‏‏سمع» ‏‏‏‏ کا لفظ نہیں بولا) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار/حدیث: 79]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 153، 154، 5630، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 267، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 68، 78، 79، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1434، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 24 /، وأبو داود فى (سننه) برقم: 31، والترمذي فى (جامعه) برقم: 15، 1889، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 310، 310 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 549، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19729»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
62. ‏(‏62‏)‏ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِاسْتِطَابَةِ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ
تین سے کم ڈھیلوں سے استنجا کرنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 80
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ، فَلا يَسْتَقْبِلْ أَحَدُكُمُ الْقِبْلَةَ وَلا يَسْتَدْبِرْهَا يَعْنِي فِي الْغَائِطِ، وَلا يَسْتَنْجِي بِدُونِ ثَلاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَوْثٌ وَلا رِمَّةٌ"
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے لیے ایسے ہی ہوں جیسے باپ اپنے بیٹے کے لیے (ہمدرد، خیر خواہ) ہوتا ہے۔ لہٰذا تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت کرتے وقت قبلہ کی طرف مُنہ کرے، نہ اس کی طرف پُشت کرے۔ اور نہ تین سے کم ڈھیلوں سے استنجا کرے، ان میں لید اور ہڈی نہ ہو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار/حدیث: 80]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن صحيح: صحيح ابي داود: 6، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 265، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 80، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1431، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 40، وأبو داود فى (سننه) برقم: 8، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 312، 313، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 434، والدارقطني فى (سننه) برقم: 152، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7485، 7527، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1018»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»