🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. ‏(‏59‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالِاسْتِطَابَةِ وِتْرًا
اس بات کی دلیل کا بیان کہ استنجا کے لئے طاق ڈھیلے استعمال کرنے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q76
، هُوَ الْوِتْرُ الَّذِي يَزِيدُ عَلَى الْوَاحِدِ، الثَّلَاثُ فَمَا فَوْقَهُ مِنَ الْوِتْرِ، إِذِ الْوَاحِدُ قَدْ يَقَعُ عَلَيْهِ اسْمُ الْوِتْرِ، وَالِاسْتِطَابَةُ بِحَجَرٍ وَاحِدٍ غَيْرُ مُجْزِيَةٍ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ أَنْ لَا يُكْتَفَى بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ فِي الِاسْتِطَابَةِ
طاق ڈھیلے استعمال کرنے کے حکم سے مراد طاق ہے جو ایک سے زائد، تین یا اس ے زائد ہو(مثلا پانچ، سات.........) کیونکہ ایک پر بھی کبھی طاق کا اطلاق ہوجاتا ہے۔ حالانکہ ایک ڈھیلے سے استنجا کرنا کافی نہیں ہوتا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ استنجا کے لیے تین سے کم پتھر وں کو کافی نہ سمجھا جائے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار/حدیث: Q76]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 76
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ . ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، نا الأَعْمَشُ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ ثَلاثًا"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں کوئی شخص استنجا کرنے کے لیے ڈھیلے استعمال کرے تو اُسے چاہیے کہ تین ڈھیلوں سے استنجا کرے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار/حدیث: 76]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 239، 1300، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 76، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 510، 9415، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14344»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥طلحة بن نافع القرشي، أبو سفيان
Newطلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← طلحة بن نافع القرشي
ثقة حافظ
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← محمد بن المثنى العنزي
ثقة حافظ
👤←👥عيسى بن يونس السبيعي، أبو محمد، أبو عمرو
Newعيسى بن يونس السبيعي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة مأمون
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← عيسى بن يونس السبيعي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← يعقوب بن إبراهيم العبدي
ثقة حافظ
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥يوسف بن موسى الرازي، أبو يعقوب
Newيوسف بن موسى الرازي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
صدوق حسن الحديث
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 76 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ : 76
فوائد:
➊ پتھروں اور ڈھیلوں سے استنجا کرنا جائز ہے اور صحت استنجا کے لیے کم از کم تین پتھروں کا استعمال ضروری ہے، ایک پتھر جس کے تین کنارے ہوں یا دو پتھروں سے استنجا نا کافی ہے اور اس سے نجاست کا ازالہ نہیں ہوتا۔ شوکانی کہتے ہیں:
حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ دلیل ہے کہ استنجا کے لیے تین پتھر استعمال کرنا واجب ہیں۔
[نيل الاوطار: 102/1]
➋ استنجا کے لیے پتھروں اور ڈھیلوں کا طاق عدد میں استعمال لازم ہے اور طاق عدد کی کم از کم تعداد تین ہے، اگر تین پتھروں سے طہارت حاصل نہ ہو تو طاق عدد (پانچ، سات، نو وغیرہ) ملحوظ رکھتے ہوئے طہارت حاصل کی جائے۔ تا وقتیکه نجاست کے ازالے کا یقین ہو جائے۔
➌ نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جمیع اہل علم کا مذہب ہے کہ استنجا کے لیے پتھروں کا استعمال متعین نہیں ہے بلکہ کپڑے اور لکڑی وغیرہ بھی استنجا میں پتھروں کے قائم مقام ہے کیونکہ استنجا کا مقصد پاخانہ زائل کرنا ہے اور یہ مقصود پتھر کے سوا اور چیزوں کے استعمال سے بھی حاصل ہو جاتا ہے۔
[نووي: 156/3]
➍ پتھر کے قائم مقام ہر وہ طاہر جامد چیز ہے جو اصل نجاست کو زائل کر دے۔ بشرطیکہ اس کا استعمال (استنجا وغیرہ کے لیے) حرام نہ ہو اور وہ کسی حیوان کا کوئی جز نہ ہو۔
[نووي: 156/3]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 76]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 76 in Urdu