🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
86. ‏(‏86‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْغُسْلِ وَالْوُضُوءِ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ، إِذْ مَاؤُهُ طَهُورٌ مَيْتَتُهُ حِلٌّ،
سمندر کے پانی سے غسل اور وضو کرنے کی رخصت ہے کیونکہ اس کا پانی پاک اور اس کا مردار حلال ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 112
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، نا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ ابْنِ مِقْسَمٍ ، قَالَ أَحْمَدُ: يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْبَحْرِ، قَالَ:" هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ، وَالْحَلالُ مَيْتَتُهُ"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندرکےمتعلق پوچھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 112]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 947، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 112، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1244، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 502، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 388، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1215، 19034، والدارقطني فى (سننه) برقم: 68، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15243»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
87. ‏(‏87‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ مِنَ الْمَاءِ الَّذِي يَكُونُ فِي أَوَانِي أَهْلِ الشِّرْكِ وَأَسْقِيَتِهِمْ ‏"‏
مشرکوں کے برتنوں اور مشکیزوں میں موجود پانی سے وضو اور غسل کرنے کی رخصت ہے،
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q113
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْإِهَابَ يَطْهُرُ بِدِبَاغِ الْمُشْرِكِينَ إِيَّاهُ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ مشرکوں کی دباغت سے چمڑے پاک صاف ہوجاتے ہیں [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: Q113]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 113
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَسَهْلُ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَدَعَا فُلانًا وَدَعَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ:" اذْهَبَا فَابْغِيَا لَنَا الْمَاءَ"، فَانْطَلَقَا، فَلَقِيَا امْرَأَةً بَيْنَ سَطِيحَتَيْنِ أَوْ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ عَلَى بَعِيرٍ، فَقَالا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ قَالَتْ: عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ، وَنَفَرُنَا خُلُوفًا، فَقَالَ لَهَا: انْطَلِقِي، فَقَالَتْ: أَيْنَ؟ قَالا لَهَا: إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: هَذَا الَّذِي يُقَالَ لَهُ الصَّابِئُ؟ قَالا لَهَا: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ، فَانْطَلَقَا، فَجَاءَا بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدَّثَاهُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: اسْتَنْزِلُوهَا مِنْ بَعِيرِهَا، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ، فَجَعَلَ فِيهِ أَفْوَاهَ الْمَزَادَتَيْنِ أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ، قَالا: ثُمَّ مَضْمَضَ، ثُمَّ أَعَادَ فِي أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ، ثُمَّ أَطْلَقَ أَفْوَاهَهُمَا، ثُمَّ نُودِيَ فِي النَّاسِ أَنِ اسْقُوا وَاسْتَقُوا" . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں شخص اور سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: جاؤ ہمارے لیے پانی تلاش کر کے لاؤ تو وہ دونوں (پانی کی تلاش میں چلے گئے۔ وہ ایک عورت سے ملے جو دو مشکیزوں یا پانی کے دو تھیلوں کے درمیان اونٹ پر سوار (جارہی) تھی۔ اُنہوں نے اُس سے پوچھا کہ پانی کہاں ہے؟ اُس نے جواب دیا کی کل اس وقت میں پانی (کے چشمے) پرتھی۔ اور ہمارے مرد پیچھے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اّس سے کہا کہ چلو، اُس نے پوچھا کہ کہاں؟ اُنہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں۔ اُس نے کہا کہ یہ وہی شخص ہے جسے صابی (بے دین) کہا جاتا ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ ہاں وہی ہے جسے تم سمجتھی ہو۔ تو وہ دونوں (اُس عورت کو لیکر) چلے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اُسے لے آئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے کہو کہ اپنے اونٹ سے اُتر جائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا، اور تھیلوں یا مشکیزوں کے مُنہ اس میں رکھ دیئے۔ اُنہوں نے کہا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کُلّی کی اور پانی دوبارہ تھیلوں یا مشکیزوں میں ڈال دیا۔ پھر اُن کے منہ کھول دیے گئے پھر لوگوں میں اعلان کر دیا گیا کہ خود پیو اور جانوروں کو پلالو۔ راوی نے مکمل طویل حدیث بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 113]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 344، 348، 3571، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 682، ابن الجارود فى "المنتقى"، 136، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 113، 271، 987، 994، 997، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1301، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1021، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 320، وأبو داود فى (سننه) برقم: 443، والدارمي فى (مسنده) برقم: 770، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 861، والدارقطني فى (سننه) برقم: 771، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20189»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
88. ‏(‏88‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْوُضُوءِ مِنَ الْمَاءِ يَكُونُ فِي جُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ
مردار کے دباغت شدہ چمڑے میں موجود پانی سے وضوکرنا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 114
نا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْ سِقَاءٍ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ مَيِّتَةٌ، قَالَ:" دِبَاغُهُ يَذْهَبُ بِخُبْثِهِ أَوْ نَجَسِهِ أَوْ رِجْسِهِ"
سیدنا ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صل الله علیہ وسلم نے ایک مشکیزے سے وضو کرنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی کہ یہ مردار (جانور کے چمڑے سے بنا ہوا مشکیزہ) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی دباغت، اس کی پلیدی، ناپاکی اور گندگی دور کر دیتی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 114]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 114، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 578، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 49، 540، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2148، 2925»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
89. ‏(‏89‏)‏ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ أَبْوَالَ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ لَيْسَ بِنَجَسٍ، وَلَا يَنْجُسُ الْمَاءُ إِذَا خَالَطَهُ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب ناپاک نہیں ہے اور اگر وہ پانی میں مل جائے تو پانی پلید نہیں ہوتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q115
إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِشُرْبِ أَبُوالِ الْإِبِلِ مَعَ أَلْبَانِهَا، وَلَوْ كَانَ نَجِسًا لَمْ يَأْمُرْ بِشُرْبِهِ، وَقَدْ أَعْلَمَ أَنْ لَا شِفَاءَ فِي الْمُحَرَّمِ، وَقَدْ أَمَرَ بِالِاسْتِشْفَاءِ بِأَبُوالِ الْإِبِلِ، وَلَوْ كَانَ نَجِسًا كَانَ مُحَرَّمًا، كَانَ دَاءً لَا دَوَاءً، وَمَا كَانَ فِيهِ شِفَاءٌ كَمَا أَعْلَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا سُئِلَ‏:‏ أَيُتَدَاوَى بِالْخَمْرِ‏؟‏ فَقَالَ‏:‏ إِنَّمَا هِيَ دَاءٌ وَلَيْسَتْ بِدَوَاءٍ
کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُونٹوں کے پیشاب کو اُن کے دودھ کے ساتھ پینے کا حُکم دیا ہے، اور اگر اُن کا پیشاب ناپاک ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُسے پینے کا حُکم نہ دیتے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بیان فرما چکے ہیں کہ حرام چیز میں شفا نہیں ہے۔ اور اُونٹوں کے پیشاب سے شفا حاصل کرنے کا حُکم بھی دیا ہے۔ لہذا اگر وہ ناپاک ہوتا تو حرام ہوتا اور شفا کی بجائے بیماری ہوتا، اور اُس میں شفا نہ ہوتی جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ (اے اللہ کے رسول) کیا شراب کو بطور دوا استعمال کر لیا جائے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب تو بیماری ہے، دوا نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: Q115]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 115
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، نا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، نا سَعِيدٌ ، نا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّ أُنَاسًا أَوْ رِجَالا مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَتَكَلَّمُوا بِالإِسْلامِ، وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَهْلُ ضِرْعٍ، وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ فَاسْتَوْحَشُوا الْمَدِينَةَ، " فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَرَاعٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهَا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا" . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل اور عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ یا کچھ آدمی مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، ہم مویشیوں والے لوگ ہیں (مویشی پالتے ہیں) اور کھیتی باڑی کرنے والے نہیں ہیں۔ پھر اُنہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موفق نہ آئی (تو وہ بیمار ہوگئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں کچھ اونٹ اور ایک چرواہا دینے کا حکم دیا اور اُنہیں حکم دیا کہ وہ ان اونٹوں کے ساتھ (‏‏‏‏مدینہ منورہ سے باہر) چلے جائیں اور ان کے پیشاب اور دودھ پیئں۔ پھر مکمل حدیث بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 115]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 233، 1501، 3018، 4192، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1671، وابن الجارود فى "المنتقى"، 913، 914، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 115، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1386، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8189، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 304، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4364، والترمذي فى (جامعه) برقم: 72، 73، 1845، 2042، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2578، 3503، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16188، والدارقطني فى (سننه) برقم: 476، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12224»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
90. ‏(‏90‏)‏ بَابُ ذِكْرِ خَبَرٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِجَازَةِ الْوُضُوءِ بِالْمُدِّ مِنَ الْمَاءِ ‏"‏
ایک مد پانی سے وضو کرنے کی اجازت کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q116
أَوْهَمَ بَعْضَ الْعُلَمَاءِ أَنَّ تَوْقِيتَ الْمُدِّ مِنَ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ تَوْقِيتٌ لَا يَجُوزُ الْوُضُوءُ بِأَقَلَّ مِنْهُ
بعض علماء کو وہم ہوا ہے کہ وضو کے لیے ایک مد پانی کی مقدار مقررکرنا ایسی تعیین ہے جس سے کم پانی وضو کرنا جائز نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: Q116]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 116
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ، وَيَغْتَسِلُ بِخَمْسَةِ مَكَاكِيَّ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الْمَكُّوكُ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْمُدُّ نَفْسُهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد سے وضواورپانچ مد سےغسل کیا کرتےتھے۔اما م ابوبکر رحمہ اللہ فرماتےہیں کہ اس حدیث میں مذکورہ مکوک سے مراد مد ہی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 116]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 201، 264، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 325، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 116، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1203، 1204، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 73، وأبو داود فى (سننه) برقم: 95، والترمذي فى (جامعه) برقم: 609، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 919، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12288»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
91. ‏(‏91‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ تَوْقِيتَ الْمُدِّ مِنَ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ ‏"‏ أَنَّ الْوُضُوءَ بِالْمُدِّ يُجْزِئُ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ وضو کرنے کے لیے ایک مد پانی کی مقدار مقرر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک مد پانی سے کیا گیا وضو درست ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q117
لَا أَنَّهُ لَا يَسَعُ الْمُتَوَضِّئُ أَنْ يَزِيدَ عَلَى الْمُدِّ أَوْ يَنْقُصَ مِنْهُ إِذْ لَوْ لَمْ يُجْزِئِ الزِّيَادَةُ عَلَى ذَلِكَ وَلَا النُّقْصَانُ مِنْهُ، كَانَ عَلَى الْمَرْءِ إِذَا أَرَادَ الْوُضُوءَ أَنْ يَكِيلَ مُدًّا مِنْ مَاءٍ فَيَتَوَضَّأَ بِهِ لَا يُبْقِي مِنْهُ شَيْئًا، وَقَدْ يَرْفُقُ الْمُتَوَضِّئُ بِالْقَلِيلِ مِنَ الْمَاءِ فَيَكْفِي بِغَسْلِ أَعْضَاءِ الْوُضُوءِ، وَيَخْرُقُ بِالْكَثِيرِ فَلَا يَكْفِي لِغَسْلِ أَعْضَاءِ الْوُضُوءِ
یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک مد سے کم و بیش پانی وضو کرنے والا استعمال نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اگر ایک مد پانی میں کمی و بیشی درست نہ ہوتی تو وضو کرنے والے کے لیے ضروری ہو جاتا کہ وضو کرنے سے پہلے ایک مد پانی ناپے پھر اس سے اس طرح وضو کرے کہ باقی کچھ نہ بچے۔ حالانکہ بعض اوقات وضو کرنے والا تھوڑا پانی احتیاط سے استعمال کرتا ہے تو وہ اعضائے وضو کو دھونے کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ زیادہ پانی بے اعتدالی سے استعمال کرتا ہے تو وہ اعضائے وضو کو دھونے کے لیے ناکافی ہو جاتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: Q117]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 117
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمَذَانِيُّ مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجْزِئُ مِنَ الْوُضُوءِ الْمُدُّ، وَمِنَ الْجَنَابَةِ الصَّاعُ" . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: لا يَكْفِينَا ذَلِكَ يَا جَابِرُ، فَقَالَ: قَدْ كَفَى مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَأَكْثَرُ شَعَرًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُجْزِئُ مِنَ الْوُضُوءِ الْمُدُّ": دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ تَوْقِيتَ الْمُدِّ مِنَ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ أَنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُ، لا أَنَّهُ لا يَجُوزُ النُّقْصَانُ مِنْهُ، وَلا الزِّيَادَةُ فِيهِ
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کے لیے ایک مد اور (غسل) جنابت کے لیے ایک صاع (پانی) کافی ہے۔ ایک شخص نے اُن سے کہا کہ اے جابر، ہمیں (پانی کی) یہ مقدار کافی نہیں ہے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ تم سے بہتر و اعلیٰ اور زیادہ بالوں والی شخصیت (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کو یہ پانی کافی تھا۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان، وضو کے لیے ایک مد کافی ہے میں یہ دلیل ہے کہ وضو کے لئے ایک مد پانی کی مقدار مقرر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مقدار کافی ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ اس مقدار سے کم و بیش پانی استعمال کرنا جائز نہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 117]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 252، 255، 256، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 328، ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 117، 243، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 579، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 230، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 228، وأبو داود فى (سننه) برقم: 93، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 269، 577، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 847، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14329»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں