🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
228. ‏(‏226‏)‏ بَابُ ذِكْرِ وَطْءِ الْأَذَى الْيَابِسِ بِالْخُفِّ وَالنَّعْلِ،
خشک گندگی کو موزے اور جوتے سے روندنے کا بیان،
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q292
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ لَا يُوجِبُ غَسْلَ الْخُفِّ وَلَا النَّعْلِ، وَأَنَ تَطْهِيرَهُمَا يَكُونُ بِالْمَشْيِ عَلَى الْأَرْضِ الطَاهِرَةِ بَعْدَهَا
اور اس دلیل کا بیان کہ گندگی روندنے سے موزے اور جوتے کو دھونا واجب نہیں ہوتا اور ان دونوں کی صفائی اس (گندگی) کے بعد پاک زمین پر چلنے سے ہوجائے گی [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس/حدیث: Q292]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 292
نا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَنْصُورٍ الأَنْطَاكِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَطِئَ أَحَدُكُمُ الأَذَى بِخُفِّهِ أَوْ نَعْلِهِ، فَطَهُورُهُمَا التُّرَابُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ فِي قِصَّةِ النَّعْلَيْنِ مِنْ هَذَا الْبَابِ، قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي كِتَابِ الصَّلاةِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے موزے یا اپنے جُوتے سے گندگی روندے تو ان دونوں کی صفائی ستھرائی مٹّی ہے“۔ اما م ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس باب کے متعلق دو جُوتوں کے قصّے کے بارے میں ابونصر کی سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت، میں کتاب الصلا ۃ میں بیان کرچکا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس/حدیث: 292]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 292، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1403، 1404، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 594، 595، وأبو داود فى (سننه) برقم: 385، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4314، 4315، والبزار فى (مسنده) برقم: 8435، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 289»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
229. ‏(‏227‏)‏ بَابُ النَّهِيِ عَنِ الْبَوْلِ فِي الْمَسَاجِدِ وَتَقْذِيرِهَا
مساجد میں پیشاب کرنے اور انہیں گندہ اور آلودہ کرنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 293
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، وَنا بَهْزٌ يَعْنِي ابْنَ أَسَدٍ الْعَمِّيَّ ، نا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَمِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا فِي الْمَسْجِدِ وَأَصْحَابُهُ مَعَهُ، إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: مَهْ مَهْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ:" لا تُزْرِمُوهُ، دَعُوهُ"، ثُمَّ دَعَاهُ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا الْمَسْجِدَ لا يَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنَ الْقَذَرِ وَالْبَوْلِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا هُوَ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، وَذِكْرِ اللَّهِ، وَالصَّلاةِ"، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ:" قُمْ فَأْتِنَا بِدَلْوٍ مِنَ الْمَاءِ فَشُنَّهُ عَلَيْهِ" ، فَأَتَى بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَشَنَّهُ عَلَيْهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ اچانک ایک بدو آیا تو اُس نے مسجد میں پیشاب کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کہا کہ رُکو، رُکو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سے فرمایا کہ اس کا پیشاب نہ روکو، اُسے چھوڑ دو (جب وہ فارغ ہو گیا) پھر اُسے بلایا اور فرمایا: ”یہ مسجد گندگی اور پیشاب کے لیے مناسب نہیں ہے۔“ یا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”یہ توقرآن مجید کی تلاوت، اللہ کے ذکر اور نماز کے لیے (بنائی گئی) ہیں۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ میں سے ایک شخص سے کہا: ”اُٹھو، ہمارے پاس پانی کا ایک ڈول لاؤ اور اُسے اُس (پیشاب) پر بہادو۔“ تو وہ پانی کا ایک ڈول لیکر آیا اور اُسے اُس پر بہا دیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس/حدیث: 293]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 219، 221، 6025، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 284، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 293، 296، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1401، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 53، والترمذي فى (جامعه) برقم: 148، والدارمي فى (مسنده) برقم: 767، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 528، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4208، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12265»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
230. ‏(‏228‏)‏ بَابُ سَلْتِ الْمَنِيِّ مِنَ الثَّوْبِ بِالْإِذْخِرِ إِذَا كَانَ رَطْبًا
تروتازہ منی کو اذخر (گھاس) سے کپڑے سے صاف کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 294
نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيَّ ، نا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ :" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْلُتُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِهِ بِعِرْقِ الإِذْخِرِ، ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ وَيَحُتُّهُ مِنْ ثَوْبِهِ يَابِسًا، ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ" . نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا أَبُو الْوَلِيدِ ، نا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، بِمِثْلِهِ , غَيْرُ أَنَّهُ قَالَ:" بِعِرْقِ الإذْخِرِ عَنْ ثَوْبِهِ وَيُصَلِّي فِيهِ"، قَالَتْ:" وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبْصِرُهُ جَافًّا فَيَحُتُّهُ وَيُصَلِّي فِيهِ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کپڑے سے منی کو اذخر کی جڑ سے صاف کر لیا کرتے تھے پھر اُس کپڑے میں نماز ادا کر لیتے، اور اگر وہ خُشک ہوتی تو اُسے اپنے کپڑے سے کھرچ دیتے پھر اُس میں نماز پڑھ لیتے۔ امام صاحب اپنے استاد محمد بن یحییٰ کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کپڑے سے اذخر کی جڑ کے ساتھ منی کو صاف کر لیتے اور اُس میں نماز پڑھ لیتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس/حدیث: 294]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 229، 230، 231، 232، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 288، وابن الجارود فى "المنتقى"، 152، 153، 154، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 287، 288، 289، 290، 294،295، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1379، وأبو داود فى (سننه) برقم: 371، 372، والترمذي فى (جامعه) برقم: 116، 117، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 536، 537، 538، 539، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4230، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24698»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 295
نا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى ، نا أَبُو قُتَيْبَةَ ، نا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْجَنَابَةَ فِي ثَوْبِهِ جَافَّةً فَحَتَّهَا"
وہ کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُسے خُشک دیکھتے تو اُس کو کُھرچ دیتے اور اُس کپڑے میں نماز پڑھ لیتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس/حدیث: 295]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 229، 230، 231، 232، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 288، وابن الجارود فى "المنتقى"، 152، 153، 154، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 287، 288، 289، 290، 294،295، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1379، وأبو داود فى (سننه) برقم: 371، 372، والترمذي فى (جامعه) برقم: 116، 117، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 536، 537، 538، 539، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4230، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24698»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
231. ‏(‏229‏)‏ بَابُ الزَّجْرِ عَنْ قَطْعِ الْبَوْلِ عَلَى الْبَائِلِ فِي الْمَسْجِدِ قَبْلَ الْفَرَاغِ مِنْهُ
مسجد میں پیشاب کرنے والے کو پیشاب کو فارغ ہونے سے پہلے روکنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q296
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ صَبَّ دَلْوٍ مِنْ مَاءٍ يُطَهِّرُ الْأَرْضَ، وَإِنْ لَمْ يَحْفِرْ مَوْضِعَ الْبَوْلِ فَيَنْقُلُ تُرَابَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ عَلَى مَا زَعَمَ بَعْضُ الْعِرَاقِيِّينَ، إِذِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْعَمَ عَلَى عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنْ بَعَثَ فِيهِمْ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُيَسِّرًا لَا مُعَسِّرًا
اور اس دلیل کا بیان کہ ایک ڈول پانی بہا دینے سے زمین پاک ہو جاتی ہے اگر چہ پیشاب والی جگہ کو کھود کر مسجد سے باہر پھینکا جائے جیسا که بعض عراقیوں کا خیال ہے (کہ مٹی مسجد سے باہر پھینک دینی چاہئے) جبکہ الله تعالی نے اپنے مومن بندوں پر انعام و احسان کیا ہے کہ میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آسانی کرنے والا، تنگی کرنے والا بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس/حدیث: Q296]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 296
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، نا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَوَثَبَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تُزْرِمُوهُ"، ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بدو نے مسجد میں پیشاب کر دیا تو کچھ لوگ (اُسے ڈانٹنے اور روکنے کے لئے) اُس کی طرف لپکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اس کاپیشاب نہ روکو، پھر ایک ڈول منگوا کراُس پر بہا دیا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس/حدیث: 296]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 219، 221، 6025، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 284، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 293، 296، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1401، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 53، والترمذي فى (جامعه) برقم: 148، والدارمي فى (مسنده) برقم: 767، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 528، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4208، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12265»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 297
نا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَحْمَدِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَثَارَ النَّاسُ إِلَيْهِ لِيَمْنَعُوهُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعُوهُ، أَهْرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ، أَوْ سَجْلا مِنْ مَاءٍ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے مسجد میں پیشاب کر دیا تو لوگ اُسے روکنے کے لئے اُس کی طرف دوڑے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: ”اسے چھوڑدو، اس کے پیشاب پر پانی سے بھرا ہوا ایک ڈول ڈال دو، بیشک تمہیں آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے، تنگی اور سختی کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس/حدیث: 297]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 220، 6010، 6128، وابن الجارود فى "المنتقى"، 158، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 297، 298، 864، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 985، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 56، وأبو داود فى (سننه) برقم: 380، 882، والترمذي فى (جامعه) برقم: 147، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 529، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4306، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7375»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 298
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَفِظْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وَحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ الْجَزَرِيِّ ، نا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ صَدَقَةَ ، قَالَ: نا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حُصَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وَحَدَّثَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَذَكَرُوا الْحَدِيثَ، وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ:" إِنَّ فِي دِينِكُمْ يُسْرًا"
امام صاحب نے مذکورہ بالا روایت اپنے کئی اسا تذہ کی سند سے بیان کی ہے، سفیان بن حصین کی روایت میں ہے کہ بیشک تمہارے دین میں آسانی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس/حدیث: 298]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 220، 6010، 6128، وابن الجارود فى "المنتقى"، 158، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 297، 298، 864، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 985، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 56، وأبو داود فى (سننه) برقم: 380، 882، والترمذي فى (جامعه) برقم: 147، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 529، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4306، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7375»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
232. ‏(‏ 230‏)‏ بَابُ اسْتِحْبَابِ نَضْحِ الْأَرْضِ مِنْ رَبَضِ الْكِلَابِ عَلَيْهَا
زمین پر کُتّے کے بیٹھنے سے اس پر پانی چھڑکنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 299
نا مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْرٍ الأَيْلِيُّ ، أَنَّ سَلامَةَ بْنَ رَوْحٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُقَيْلٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ وَاجِمٌ يُنْكَرُ مَا يُرَى مِنْهُ، فَسَأَلْتُهُ عَمَّا أَنْكَرْتُ مِنْهُ، فَقَالَ لَهَا:" وَعَدَنِي جِبْرِيلُ أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ، فَلَمْ أَرَهُ، أَمَا وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي"، قَالَتْ مَيْمُونَةُ:" وَكَانَ فِي بَيْتِي جَرْوٌ كَلْبٌ تَحْتَ نَضَدٍ لَنَا، فَأَخْرَجَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَضَحَ مَكَانَهُ بِالْمَاءِ بِيَدِهِ"، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ لَقِيَهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَدْتَنِي , ثُمَّ لَمْ أَرَكَ؟ فَقَالَ جِبْرِيلُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا لا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلا كَلْبٌ"
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن غمگین اور اُداس حالت میں صُبح کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت خلافِ معمول تھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس خلاف معمول حالت کا سبب پو چھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے آج رات مجھے ملنے کا وعدہ کیا تھا لیکن میں نے اُنہیں دیکھا نہیں، اللہ کی قسم، اُنہوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی۔“ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے گھر میں پلنگ کے نیچے ایک کُتّے کا چھوٹا بچّہ بیٹھا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے باہر نکال دیا پھر اپنے ہاتھ سے اُس جگہ پانی چھڑکا۔ پھر جب رات ہوئی تو جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے کہا: ”آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا پھر میں نے آپ کو دیکھا نہیں؟“ (اس کی کیا وجہ تھی؟) تو جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ بیشک ہم اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا کُتّا ہو۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس/حدیث: 299]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2105، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 299، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5649، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4287، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4157، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1170، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27442»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں