صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
247. (14) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ فَرْضَ الصَّلَاةِ كَانَ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، كَمَا هِيَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتِهِ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء کرام پر پانچ نمازیں فرض تھیں جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت پر فرض ہیں
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل نے بیت اللہ شریف کے پاس مُجھے دو دفعہ امامت کروائی، تو اُنہوں نے مجھے ظہر کی نماز اُس وقت پڑھائی جب سورج تسمے کے برابر ڈھل گیا۔ اور عصر کی نماز اُس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اُس کے برابر ہو گیا۔ اور مغرب کی نماز اُس وقت پڑھائی جب روزے دار نے روزہ کھول لیا۔ اور عشاء کی نماز اُس وقت پڑھائی جب سُرخی غائب ہو گئی۔ اور فجر کی نماز اُس وقت پڑھائی جب روزے دار پر کھانا پینا حرام ہوگیا۔ اور دوسرے دن مجھے ظہر کی نماز اُس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اُس کے برابر ہوگیا۔ اور عصر کی نماز اُس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس سے دُگنا ہوگیا، اور نماز مغرب اس وقت پڑھائی جب روزے دار نے روزہ افطار کرلیا، اور عشاء کی نماز تہائی رات گزرنے پر پڑھائی اور صبح کی نماز روشنی ہونے کے بعد پڑھائی۔ پھر میری طرف متوجہ ہوئے تو کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وقت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام (کی نماز) کا وقت ہے۔ یہ احمد بن عبدہ کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ وکیع کی روایت میں حکیم بن حکیم بن عباد بن حنیف ہے۔ اما م رحمہ اللہ کے کلام جیسے وہ اس باب کے آخر پر ذکر کر چکے ہیں اُسے اس مقام پر لکھا جائے گا ان شاءاللہ۔ (یعنی امام صاحب کا گزشتہ تبصرہ اس جگہ درج کیا جائے گا۔) [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 325]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 167، 168، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 325، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 698، وأبو داود فى (سننه) برقم: 393، والترمذي فى (جامعه) برقم: 149، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1732، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1014، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3140»
248. (15) بَابُ ذِكْرِ وَقْتِ الصَّلَاةِ لِلْمَعْذُورِ.
عذر والے شخص کی نماز کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 326
نا بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا صَلَّيْتُمُ الصُّبْحَ، فَهُوَ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ قَرْنُ الشَّمْسِ الأَوَّلِ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الظُّهْرَ، فَهُوَ وَقْتٌ إِلَى أَنْ تُصَلُّوا الْعَصْرَ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ، فَهُوَ وَقْتٌ إِلَى أَنْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، فَإِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ، فَهُوَ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، فَإِذَا غَابَ الشَّفَقُ، فَهُوَ وَقْتٌ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ"
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم صبح کی نمازی پڑھ لو تو اس کا وقت باقی ہے یہاں تک کہ سورج کی پہلی کرن نکل آئے، پھر جب تم ظہر کی نماز پڑھ لو تو اُس کا وقت عصر کی نماز ادا کرنے تک باقی ہے۔ پھر جب تم عصر کی نماز پڑھ لو تو سورج زدر ہونے تک اس کا وقت باقی ہے۔ پھر جب سورج غروب ہو جائے تو وہ (نمازِ مغرب کا) وقت ہے۔ یہاں تک کہ سُرخی غائب ہو جائے۔ پھر جب سُرخی غائب ہو جائے تو وہ نصف رات تک (نمازِ عشاء کا) وقت ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 326]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 612، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 326، 354، 355، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1473، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 521، وأبو داود فى (سننه) برقم: 396، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1736، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7085»
249. (16) بَابُ اخْتِيَارِ الصَّلَاةِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا، بِذِكْرِ خَبَرٍ لَفْظُهُ لَفْظٌ عَامٌّ مُرَادُهُ خَاصٌّ.
اوّل وقت میں نماز ادا کرنا پسندیدہ ہے، اس سلسلے میں مذکورہ حدیث کا بیان جس کے الفاظ عام اور اس کی مراد خاص ہے
حدیث نمبر: 327
نا بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، نا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" الصَّلاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا"
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کونسا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز اوّل وقت میں (ادا کرنا افضل ہے)۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 327]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 527، 2782، 5970، 7534، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 85، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 327، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1474، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 679، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 609، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1593، والترمذي فى (جامعه) برقم: 173، 1898، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2302، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2076، والدارقطني فى (سننه) برقم: 967، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3967»
250. (17) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ: " الصَّلَاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا " بَعْضَ الصَّلَاةِ دُونَ جَمِيعِهَا، وَبَعْضَ الْأَوْقَاتِ دُونَ جَمِيعِ الْأَوْقَاتِ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک ”نماز اوّل وقت میں اداکرنا افضل ہے“ سے آپ کی مراد سب نمازوں کی بجائے کچھ نمازیں اور سب اوقات کی بجائے کچھ اوقات ہیں
حدیث نمبر: Q328
إِذْ قَدْ أَخْبَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبْرِيدِ الظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ، وَقَدْ أَعْلَمَ أَنَّ لَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ، وَسَقَمُ السَّقِيمِ لَأَخَّرَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ.
کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شدید گرمی میں نماز ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھنے کی خبر دی ہے اور یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ اگر کمزور شخص کی کمزوری اور بیمار کی بیماری کا خیال نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشا کو آدھی رات تک مؤخر فرما دیتے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: Q328]
حدیث نمبر: 328
نا بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ أَبِي الْحَسَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُهُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْرِدْ أَبْرِدْ"، أَوْ قَالَ:" انْتَظِرِ انْتَظِرْ"، فَقَالَ:" إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاةِ" . قَالَ أَبُو ذَرٍّ: حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے ظہر کی اذان کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھنڈا کرو، ٹھنڈا کرو۔“ یا فرمایا کہ ”انتظار کرو، انتظار کرو“ پھر فرمایا: ”بیشک گرمی کی شدت جہنّم کی بھاپ سے ہے لہٰذا جب گرمی شدید ہو جائے تو نماز کو ٹھنڈا کرلو۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (لہٰذا ہم نے نماز ظہر اُس وقت ادا کی) جب ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھ لیا۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 328]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 535، 539، 629، 3258، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 616، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 328، 394، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1509، وأبو داود فى (سننه) برقم: 401، والترمذي فى (جامعه) برقم: 158، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2094، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21772»
حدیث نمبر: 329
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، وَأَحْمَدَ بْنِ عَبْدَةَ الضَّبِّيِّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی سخت ہو جائے تو نماز کو ٹھنڈا کرکے (پڑھو) کیونکہ گرمی کی سختی جہنّم کی بھاپ سے ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 329]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 533، 536، 3260، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 615، ومالك فى (الموطأ) برقم: 39، وابن الجارود فى "المنتقى"، 174، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 329، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1504، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم:، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1499، وأبو داود فى (سننه) برقم: 402، والترمذي فى (جامعه) برقم: 157، 2592، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 677، 678، 4319، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2089، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7251»
حدیث نمبر: 330
نا بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوا الصَّلاةَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ گرمی کی سختی جہنّم کی بھاپ سے ہے، شدید گرمی میں نماز کو ٹھنڈا کر کے ادا کرو۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 330]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 533، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 330، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 681، والبزار فى (مسنده) برقم: 5612، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 6043»
حدیث نمبر: 331
نا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيَّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَبْرِدُوا الظُّهْرَ فِي الْحَرِّ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گرمی میں نمازِ ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھو۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 331]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 331، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4656، 4949»
251. (18) بَابُ اسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ صَلَاةِ الْعَصْرِ
عصر کی نماز جلدی پڑھنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 332
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَفِظْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمَخْزُومِيِّ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي، لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ بَعْدُ" ، قَالَ أَحْمَدُ: فِي حُجْرَتِهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الظُّهُورِ عِنْدَ الْعَرَبِ يَكُونُ عَلَى مَعْنَيَيْنِ: أَحَدُهُمَا أَنْ يَظْهَرَ الشَّيْءُ حَتَّى يُرَى وَيُتَبَيَّنُ فَلا خَفَاءَ، وَالثَّانِي أَنْ يَغْلِبَ الشَّيْءُ عَلَى الشَّيْءِ، كَمَا يَقُولُ الْعَرَبُ: ظَهَرَ فُلانٌ عَلَى فُلانٍ، وَظَهَرَ جَيْشُ فُلانٍ عَلَى جَيْشِ فُلانٍ، أَيْ غَلَبَهُمْ، فَمَعْنَى قَوْلِهَا: لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ بَعْدُ، أَيْ لَمْ يَتَغَلَّبِ الْفَيْءُ عَلَى الشَّمْسِ فِي حُجْرَتِهَا، أَيْ لَمْ يَكُنِ الظِّلُّ فِي الْحُجْرَةِ أَكْثَرَ مِنَ الشَّمْسِ حِينَ صَلاةِ الْعَصْرِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اُس وقت پڑھتے تھے جبکہ سورج میرے حُجرے میں چمکتا تھا (یعنی دُھوپ موجود ہوتی تھی) سایہ پھیلا نہیں ہوتا تھا۔ احمد کہتے ہیں حجرتھا۔ یعنی سایہ اُن کے حُجرے میں پھیلا نہں ہوتا تھا۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل عرب کے نزدیک ظھور کے دو معنی ہیں۔ ایک معنی یہ ہے کہ ایک چیز ظاہر ہو جائے حتیٰ کہ وہ دکھائی دے اور واضح ہو جائے اُس میں کوئی پوشیدگی نہ رہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ ایک چیز دوسری پرغالب آجائے۔ جیسا کہ عرب کہتے ہیں کہ فلاں فلاں شخص پر ظا ہر ہو گیا ہے، اور فلاں کا لشکر فلاں کے لشکر پر ظاہر ہوگیا ہے۔ یعنی ان پر غالب آگیا ہے۔ لہٰذا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فرمان «لم يظهر الفيء بعد» کا مطلب یہ ہے کہ سایہ اُن کے حُجرے میں دھوپ پر غالب نہیں آیا تھا۔ یعنی نماز عصر کے وقت حُجرے میں سایہ دھوپ سے زیادہ نہیں تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 332]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 522، 544، 545، 546، 3103، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 611، ومالك فى (الموطأ) برقم: 5، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 332، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1450، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 504، وأبو داود فى (سننه) برقم: 407، والترمذي فى (جامعه) برقم: 159، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1223، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 683، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1729، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1001، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24729»
252. (19) بَابُ ذِكْرِ التَّغْلِيظِ فِي تَأْخِيرِ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى اصْفِرَارِ الشَّمْسِ،
نماز عصر کو سورج زرد ہونے تک مؤخر کرنے پر سخت وعید کا بیان
حدیث نمبر: Q333
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: " فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ فَهُوَ وَقْتٌ إِلَى أَنْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ " إِنَّمَا أَرَادَ وَقْتَ الْعُذْرِ وَالضَّرُورَةِ وَالنَّاسِي لِصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَيَذْكُرُهَا قَبْلَ اصْفِرَارِ الشَّمْسِ أَوْ عِنْدَهُ. وَكَذَلِكَ أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَقَدْ أَدْرَكَهَا، وَقْتَ الْعُذْرِ وَالضَّرُورَةِ وَالنَّاسِي لِصَلَاةِ الْعَصْرِ حِينَ يَذْكُرُهَا، وَقْتًا يُمْكِنُهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَةً مِنْهَا قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، لَا أَنَّهُ أَبَاحَ لِلْمُصَلِّي فِي غَيْرِ الْعُذْرِ وَالضَّرُورَةِ، وَهُوَ ذَاكِرٌ لِصَلَاةِ الْعَصْرِ، أَنْ يُؤَخِّرَهَا حَتَّى يُصَلِّيَ عِنْدَ اصْفِرَارِ الشَّمْسِ، أَوْ رَكْعَةً قَبْلَ الْغُرُوبِ وَثَلَاثًا بَعْدَهُ.
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”پھر جب تم نماز عصر ادا کر لو تو سورج زرد ہونے تک اس کا وقت باقی رہتا ہے“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عذر، ضرورت اور بھول جانے والے کے لیے نماز عصر کا وقت ہے کہ اسے سورج زرد ہونے سے پہلے یا زرد ہونے پر یاد آۓ تو وہ نماز پڑھ لے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اس فرمان سے ”جس نے سورج غروب ہونے سے پہلے ایک رکعت نماز عصر سے پالی تو اس نے مکمّل پالی“ یہ ہے کہ یہ عذر، ضرورت اور نماز عصر بھول جانے والے کے لیے وقت ہے کہ جب اٗسے یاد آئے اٗس کے لیے (سورج غروب ہونے سے پہلے ایک رکعت پڑھنا ممکن ہو تو وہ پڑھ لے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر کسی عذر، ضرورت اور نماز عصر کو یاد رکھنے والے کے لیے جائز قرار دے دیا ہے کہ وہ نماز عصر کو مؤخر کرے حتیٰ کہ سورج زرد ہونے پرادا کرے یا سورج غروب ہونے سے پہلے ایک رکعت ادا کرے اور تین رکعات غروب آفتاب کے بعد ادا کرے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: Q333]