🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
342. ‏(‏109‏)‏ بَابُ ذِكْرِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ‏.‏
ظہر اور عصر کی نمازوں میں پہلی دو رکعتوں میں قران مجید تلاوت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 512
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، نا رَوْحُ بْنُ عِبَادَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، وَثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُمْ كَانُوا " يَسْمَعُونَ مِنْهُ النَّغَمَةَ فِي الظُّهْرِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نماز ظہر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سورہ «‏‏‏‏سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» ‏‏‏‏ [ سورة الأعلى ] اور «‏‏‏‏هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ» ‏‏‏‏ [ سورة الغاشية ] کی قرأت ترنم کے ساتھ سنا کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 512]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 512، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1824، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 971، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1046، والبزار فى (مسنده) برقم: 7262، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 3595»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
343. ‏(‏110‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الصَّلَاةَ بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ جَائِزَةٌ دُونَ غَيْرِهَا مِنَ الْقِرَاءَةِ، وَأَنَّ مَا زَادَ عَلَى فَاتِحَةِ الْكِتَابِ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ فَضِيلَةٌ لَا فَرِيضَةٌ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ دیگر سورتوں کی قرأت کے بغیر صرف سورۂ فاتحہ کی قرأت کے ساتھ نماز پڑھنا جائز اور درست ہے اور بلاشبہ نماز میں سورۂ فاتحہ کے علاوہ مزید قرأت کرنا افضل و اعلیٰ ہے، فرض نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q513
فِي خَبَرِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ‏:‏ ‏"‏ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ‏"‏ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ مَنْ قَرَأَ بِهَا لَهُ صَلَاةٌ‏.‏ وَفِي خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ‏:‏ ‏"‏ مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ ‏"‏ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ مَنْ قَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي الصَّلَاةِ لَمْ تَكُنْ صَلَاتُهُ خِدَاجًا‏.‏
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا-“یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص سورت فاتحہ پڑھ لے اس کی نماز ہوجاتی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:”جس شخص نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص وناتمام ہے-“یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس شخص نے نماز میں سورہ فاتحہ پڑھ لی،اس کی نماز ناقص نہیں ہوتی۔(بلکہ مکمل ہوتی ہے) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: Q513]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 513
نا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا أَبُو مَعْمَرٍ ، نا عَبْدُ الْوَارِثِ ، نا حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ، قَالَ: قُلْتُ لِعِكْرِمَةَ : رُبَّمَا قَرَأْتُ فِي صَلاةِ الْمَغْرِبِ بِ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، وَإِنَّ نَاسًا يَعِيبُونَ ذَاكَ عَلَيَّ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَمَا بَأْسُ ذَاكَ؟ اقْرَأْ بِهِمَا فَإِنَّهُمَا مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ" جَاءَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يَقْرَأْ فِيهِمَا إِلا بِأُمِّ الْكِتَابِ" . هَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ: وَأَنَّ أَقْوَامًا يَعِيبُونَ، وَلَمْ يَقُلْ: وَمَا بَأْسُ ذَاكَ؟ وَقَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُقْرَأْ فِيهِمَا إِلا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ لَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا"
حضرت حنظلہ سدوسی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عکرمہ رحمہ اﷲ سے کہا کہ میں نماز مغرب میں بعض اوقات «‏‏‏‏قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» ‏‏‏‏ [ سورة الفلق ] اور «‏‏‏‏قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» ‏‏‏‏ [ سورة الناس ] کی قرﺀات کرتا ہوں اور کُچھ لوگ اس کی وجہ سے میری عیب جوئی کرتے ہیں (مجھے ملامت کرتے ہیں) تو اُنہوں نے (تعجب سے) فرمایا کہ «‏‏‏‏سُبْحَانَ الله» ‏‏‏‏ ”اس میں کیا حرج ہے۔“ تم ان دونوں سورتوں کو پڑھا کرو کیونکہ وہ قرآن مجید کا حصّہ ہیں، پھر فرمایا کہ مجھے سیدنا ابن عباس رضی عنہما نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت ادا کیں، ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم الکتاب کے سوا کوئی سورت نہ پڑھی۔ یہ محمد بن یحییٰ کی حدیث ہے۔ اور محمد بن زیاد نے یہ الفاظ روایت کیے کہ «‏‏‏‏أَنَّ أَقوَامَا يعِيبُون» ‏‏‏‏ کچھ لوگ اسے عیب سمجھتے تھے (یعنی انہوں نے «‏‏‏‏نَا سا» ‏‏‏‏ کی جگہ «‏‏‏‏أَقوَامَا» ‏‏‏‏ کا لفظ بیان کیا ہے، معنیٰ ایک ہی ہے) اور یہ الفاظ روایت نہیں کیے، ” اس میں کیا حرج ہے۔“ اور کہا کہ مجھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت ادا کیں، اُن میں سوره فاتحه کے علاوہ کوئی سورت نہ پڑھی، سوره فاتحه کے بعد مزید کچھ نہ پڑھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 513]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 513، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2511، 2512، 2513، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2208، 2591، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2561، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 469، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 13016»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
344. ‏(‏111‏)‏ بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ‏.‏
نماز مغرب میں قرأت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 514
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِ الطُّورِ" . نا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ، مِثْلَهُ
حضرت محمد بن جبیربن مطعم اپنے والد سیدنا جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں ”سورۃ الطور“ پڑھتے ہوئے سنا۔ امام صاحب اپنے اساتذہ کرام جناب علی بن خشرم اور سعید بن عبدالرحمٰن مخزومی کی سند سے مذکورہ بالا روایت کی طرح روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 514]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 765، 3050، 3139، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 463، ومالك فى (الموطأ) برقم: 257، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 514، 1589، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1833، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 986، وأبو داود فى (سننه) برقم: 811، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1332، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 832، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3115، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17007»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 515
نا بُنْدَارٌ ، نا أَبُو عَاصِمٍ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي صَلاةِ الْمَغْرِبِ بِطُولَى الطُّولَيَيْنِ"
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب میں دو طویل ترین سورتوں میں سے ایک طویل تر سورت پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 515]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 764، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 515، 516، 517، 518، 540، 541، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1836، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 873، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 988، وأبو داود فى (سننه) برقم: 812، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4106، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22010»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 516
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، نا رَوْحُ بْنُ عِبَادَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : مَا لَكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ؟" لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِطُولَى الطُّولَيَيْنِ" ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا طُولَى الطُّولَيَيْنِ؟ قَالَ:" الأَعْرَافُ"، فَسَأَلْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ: وَمَا الطُّولَيَانِ؟ فَقَالَ مِنْ قِبَلِ رَأْيِهِ:" الأَنْعَامُ، وَالأَعْرَافُ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ. وَفِي خَبَرِ رَوْحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ: قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ. قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ نَصْرٍ الْمُقْرِئَ، يَقُولُ:" أَشْتَهِي أَنْ أَقْرَأَ فِي الْمَغْرِبِ مَرَّةً بِالأَعْرَافِ"
حضرت مروان بن الحکم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے (اُن سے) فرمایا کہ تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم مغرب کی نماز میں قصار مفصل (چھوٹی چھوٹی) سورتیں پڑھتے ہو؟ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب میں دو بہت لمبی سورتوں میں سے ایک لمبی سورت پڑھا کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی، دو طویل ترین سورتوں میں سے ایک طویل تر سورت کونسی ہے (جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے؟) تو اُنہوں نے فرمایا کہ وہ «‏‏‏‏سورة الأعراف» ‏‏‏‏ ہے۔ (جناب ابن جریج) کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی ملیکہ سے پوچھا کہ وہ طویل ترین سورتیں کون سی ہیں؟ تو انہوں نے اپنی رائے سے جواب دیا کہ «‏‏‏‏سورة الأنعام» ‏‏‏‏ اور «‏‏‏‏سورة الأعراف» ‏‏‏‏۔ یہ عبد الرزاق کی روایت کے الفاظ ہیں۔ امام ابوبکر رحمہ اﷲ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت احمد بن نصر المقری کو فرماتے ہوئے سنا، میری خواہش ہے کہ میں نماز مغرب میں (سنّت نبوی پر عمل کرتے ہوئے) ایک بار «‏‏‏‏سورة الأعراف» ‏‏‏‏ پڑھوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 516]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 764، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 515، 516، 517، 518، 540، 541، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1836، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 873، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 988، وأبو داود فى (سننه) برقم: 812، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4106، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22010»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
345. ‏(‏112‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا كَانَ يَقْرَأُ بِطُولِ الطُّولَيْنِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ لَا فِي رَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ‏.‏
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو طویل سورتوں میں سے ایک طویل تر سورت نماز مغرب کی پہلی دوںوں رکعتوں میں پڑھا کرتے تھے، صرف ایک رکعت میں (پوری سورت) نہیں پڑھتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 517
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا مُحَاضِرٌ ، نا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِسُورَةِ الأَعْرَافِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لا أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ مُحَاضِرَ بْنَ الْمُوَرِّعِ بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ أَصْحَابُ هِشَامٍ فِي هَذَا الإِسْنَادِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَوْ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، شَكَّ هِشَامٌ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب میں دونوں رکعتوں میں «‏‏‏‏سورة الأعراف» ‏‏‏‏ پڑھا کرتے تھے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے علم نہیں کہ اس سند میں کسی راوی نے محاضر بن مورع کی متابعت کی ہو۔ جناب ہشام کے شاگرد اس سند میں شک کے ساتھ روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ یہ شک ہشام کو ہوا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 517]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 764، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 515، 516، 517، 518، 540، 541، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1836، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 873، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 988، وأبو داود فى (سننه) برقم: 812، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4106، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22010»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 518
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، نا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ ، أَوْ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، شَكَّ هِشَامٌ، قَالَ لِمَرْوَانَ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ:" إِنَّكَ تُخِفُّ الْقِرَاءَةَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِسُورَةِ الأَعْرَافِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَمِيعًا ". فَقُلْتُ لأَبِي: مَا كَانَ مَرْوَانُ يَقْرَأُ فِيهِمَا؟ قَالَ: مِنْ طُوَلِ الْمُفَصَّلِ. وَهَكَذَا رَوَاهُ وَكِيعٌ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامٍ، قَالا: عِنْ زَيْدٍ، أَوْ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ
جناب ہشام اپنے والد محترم سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ یا سیدنا زید بن ثابت ضی اللہ عنہ (ہشام کو شک ہے) نے مروان کو کہا جبکہ وہ مدینہ منوّرہ کے گورنرتھے، بیشک آپ نماز مغرب کی دونوں رکعتوں میں بہت کم قرأت کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم، بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ان دونوں رکعتوں میں پوری «‏‏‏‏سورة الأعراف» ‏‏‏‏ پڑھا کرتے تھے۔ (ہشام) کہتے ہیں کہ تو میں نے اپنے والد محترم سے پوچھا، مروان ان دونوں رکعتوں میں کیا پڑھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا، وہ طول المفصل (لمبی سورتوں میں سے) پڑھا کرتا تھا۔ ہشام سے وکیع اور شعیب بن اسحاق نے اسی طرح روایت کیا ہے، دونوں شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ سیدنا زید یا سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 518]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 764، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 515، 516، 517، 518، 540، 541، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1836، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 873، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 988، وأبو داود فى (سننه) برقم: 812، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4106، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22010»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 519
نا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نا وَكِيعٌ ، نا أَبُو كُرَيْبٍ ، نا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، نا سُفْيَانُ ، نا الزُّهْرِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاتِ" . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الدَّوْرَقِيِّ، غَيْرَ أَنَّ عَبْدَ الْجَبَّارِ لَمْ يَقُلْ: فِي الْمَغْرِبِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی والدہ محترمہ سیدہ اُم الفضل بنت الحارث رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں «‏‏‏‏سورة المرسلات» ‏‏‏‏ پڑھتے ہوئے سنا۔ یہ دورقی کی روایت کے الفاظ ہیں۔ مگر (امام صاحب کے استاد محترم) عبدالجبار نے یہ الفاظ روایت نہیں کیے کہ ”نماز مغرب میں“ (یہ سورت سنی ہے)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 519]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 763، 4429، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 462، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 519، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1832، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 984، وأبو داود فى (سننه) برقم: 810، والترمذي فى (جامعه) برقم: 308، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 831، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4105، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27509»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 520
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، أنا الضَّحَّاكُ وَهُوَ ابْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلانٍ، لأَمِيرٍ كَانَ بِ الْمَدِينَةِ، قَالَ سُلَيْمَانُ:" فَصَلَّيْتُ أَنَا وَرَاءَهُ، فَكَانَ يُطِيلُ فِي الأُولَيَيْنِ، وَيُخَفِّفُ الأُخْرَيَيْنِ، وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الأُولَيَيْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ، وَفِي الأُولَيَيْنِ مِنَ الْعِشَاءِ بِوَسَطِ الْمُفَصَّلِ، وَفِي الصُّبْحِ بِطُوَلِ الْمُفَصَّلِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الاخْتِلافُ فِي الْقِرَاءَةِ مِنْ جِهَةِ الْمُبَاحِ، جَائِزٌ لِلْمُصَلِّي أَنْ يَقْرَأَ فِي الْمَغْرِبِ وَفِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا الَّتِي يُزَادُ عَلَى فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِيهَا بِمَا أَحَبَّ، وَشَيْئًا مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ، لَيْسَ بِمَحْظُورٍ عَلَيْهِ أَنْ يَقْرَأَ بِمَا شَاءَ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ، غَيْرُ أَنَّهُ إِذَا كَانَ إِمَامًا فَالاخْتِيَارُ لَهُ أَنْ يُخَفِّفَ فِي الْقِرَاءَةِ، وَلا يُطَوِّلَ بِالنَّاسِ فِي الْقِرَاءَةِ فَيَفْتِنَهُمْ، كَمَا قَالَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا، وَكَمَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَئِمَّةَ أَنْ يُخَفِّفُوا الصَّلاةَ، فَقَالَ:" مَنْ أَمَّ مِنْكُمُ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ" وَسَأُخَرِّجُ هَذِهِ الأَخْبَارَ أَوْ بَعْضَهَا فِي كِتَابِ الإِمَامَةِ، فَإِنَّ ذَلِكَ الْكِتَابَ مَوْضِعُ هَذِهِ الأَخْبَارِ
جناب سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے مدینہ منوّرہ کے فلاں امیر سے زیادہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ (نماز پڑھنے والے) کسی شخص کو نہیں دیکھا۔ جناب سلیمان فرماتے ہیں، تو میں نے بھی اس امیر کے پیچھے نماز پڑھی (وہ اس طرح نماز پڑھتے کہ) (ظہر کی) پہلی دو رکعتوں میں طویل قراءت کرتے اور آخری دو رکعتوں میں کم قراءت کرتے۔ اور عصر کی نماز مختصر پڑھاتے۔ وہ نماز مغرب کی پہلی دو رکعتوں میں قصار المفصل (چھوٹی) سورتیں پڑھتے اور عشاء کی نماز کی پہلی دو رکعتوں میں اوساط المفصل (درمیانی) سورتیں پڑھتے، اور صبح کی نماز میں طوال المفصل (لمبی) سورتیں پڑھتے۔“ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قراءت کے متعلق یہ اختلاف جائز قسم کے اختلاف سے ہے۔ نمازی کے لیے جائز ہے کہ وہ نماز مغرب اور دیگر تمام نمازوں، جن میں سورہ فاتحہ کے علاوہ مزید قراءت کی جاتی ہے، میں قرآن مجید کی جو سورت اُسے محبوب ہو وہ پڑھ لے، اس کے لئے یہ ممنوع نہیں کی وہ اپنی چاہت کے مطابق قرآن مجید کی کوئی سورت پڑھے۔ سوائے اس حالت کے کہ وہ امام ہو تو پھر بہتر یہ ہے کہ وہ مختصر قراءت کرے اور طویل قراءت کرکے لوگوں کو آزمائش میں نہ ڈالے (کہ نماز باجماعت پڑھنا ترک کر دیں) جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (طویل قراءت کرنے پر) سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا، ” کیا تم فتنہ باز بننا چاہتے ہو۔“ اور جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےائمہ کو ہلکی اور مختصر نماز پڑھانے کا حُکم دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص لوگوں کی امامت کروائے تو اُسے تخفیف کرنی چاہیے (مختصر نماز پڑھانی چاہیے۔)“ عنقریب میں ان تمام احادیث یا ان میں سے بعض احادیث كتاب الامامه میں بیان کروں گا کیونکہ ان احادیث کا اصل مقام وہی کتاب ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 520]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 520، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1837، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 981، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1056، 1057، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 827، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4075، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8106»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں