صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
323. (90) بَابُ وَضْعِ بَطْنِ الْكَفِّ الْيُمْنَى عَلَى كَفِّ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ جَمِيعًا.
دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہتھیلی، کلائی اور بازو سب ہی پر رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 480
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، نا زَائِدَةُ ، نا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: قُلْتُ:" لأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، قَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهَرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغَ وَالسَّاعِدَ"
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے (دل میں) کہا کہ میں ضرور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھوں گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیسے پڑھتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے لئے) کھڑے ہوئے تو تکبیر کہی اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اُٹھایا حتیٰ کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کانوں کے برابر ہو گئے پھر دائیاں ہاتھ اپنی بائیں ہتھیلی کی پشت، کلائی اور بازو پر رکھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 480]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 401، وابن الجارود فى "المنتقى"، 225، 231، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 457، 477، 478، 479، 480، 594، 641، 642، 690، 691، 697، 698، 713، 714، 905، 906، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1805، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 819، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 878، وأبو داود فى (سننه) برقم: 723، 725، 724، والترمذي فى (جامعه) برقم: 248، 249، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 810، 854، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2342، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1101، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19143»
324. (91) بَابٌ فِي الْخُشُوعِ فِي الصَّلَاةِ أَيْضًا، وَالزَّجْرِ عَنِ الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ
نماز میں خشوع اختیار کرنے کا ایک اور باب، اور نماز میں اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: Q481
إِذِ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- يَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنْ وَجْهِ الْمُصَلِّي إِذَا الْتَفَتَ فِي صَلَاتِهِ.
کیونکہ جب نمازی اپنی نماز میں ادھر اُدھر متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنا چہرہ مبارک نمازی کے چہرے سے پھیر لیتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: Q481]
حدیث نمبر: 481
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الأَحْوَصِ مَوْلَى بَنِي لَيْثٍ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمِثْلِهِ.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 481]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 481، 482، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 868، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1194، وأبو داود فى (سننه) برقم: 909، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1463، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3586، 3587، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21908»
حدیث نمبر: 482
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الأَحْوَصِ ، يُحَدِّثُ ابْنَ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَزَالُ اللَّهُ مُقْبِلا عَلَى الْعَبْدِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ، فَإِذَا صَرَفَ وَجْهَهُ انْصَرَفَ عَنْهُ"
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ مسلسل بندے کی طرف متوجہ رہتا ہے جب تک وہ اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہو، لیکن جب بندہ اپنا چہرہ پھیر لیتا ہے (نماز سے توجہ ہٹا لیتا ہے) تو اللہ تعالیٰ بھی اُس سے توجہ ہٹا لیتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 482]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 481، 482، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 868، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1194، وأبو داود فى (سننه) برقم: 909، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1463، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3586، 3587، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21908»
حدیث نمبر: 483
نا أَبُو مُحَمَّدٍ فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِصْرِيُّ ، نا أَبُو تَوْبَةَ يَعْنِي الرَّبِيعَ بْنَ نَافِعٍ ، نا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلامٍ ، أَنَّ أَبَا سَلامٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ الأَشْعَرِيُّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ:" أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ يَفْعَلُ بِهِنَّ، وَيَأْمُرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَفْعَلُوا بِهِنَّ، يُوعَظُ النَّاسُ" ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ أَمْرَكُمْ بِالصَّلاةِ، فَإِذَا نَصَبْتُمْ وُجُوهَكُمْ فَلا تَلْتَفِتُوا، فَإِنَّ اللَّهَ يَنْصِبُ وَجْهَهُ لِوَجْهِ عَبْدِهِ حِينَ يُصَلِّي لَهُ، فَلا يَصْرِفُ عَنْهُ وَجْهَهُ حَتَّى يَكُونَ الْعَبْدُ هُوَ يَنْصَرِفُ"
سیدنا حارث اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے سیدنا یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کوحُکم دیا کہ پانچ باتوں پر عمل پیرا ہوں اور بنی اسرائیل کو بھی ان باتوں پر عمل کرنے کا حُکم دیں۔ لہٰذا وہ (ان باتوں کا) لوگوں کو وعظ کیا کرتے تھے۔ پھر فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں نماز پڑھنے کا حُکم دیا ہے۔ لہٰذا جب تم اپنے چہروں کو (نماز میں) متوجہ کرلو تو پھر اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہوں کیونکہ جب بندہ اﷲ تعالیٰ کے لئے نماز پڑھتا ہے تو ﷲ تعالیٰ اپنے چہرے کو اپنے بندے کے چہرے کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ اور اُس وقت تک اپنے چہرے کو اُس سے نہیں ہٹاتے جب تک بندہ اپنا چہرہ نہ ہٹا لے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 483]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 483، 930، 1895، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6233، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 403، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2863، 2864، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16710، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17443»
325. (92) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ يَنْقُصُ الصَّلَاةَ لَا أَنَّهُ يُفْسِدُهَا فَسَادًا يَجِبُ عَلَيْهِ إِعَادَتُهَا.
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نماز میں ادھر اُدھر متوجہ ہونا نماز (کے اجر و ثواب) میں کمی کا باعث بنتا ہے، لیکن یہ التفات نماز کو فاسد نہیں کرتا کہ نمازی کو نماز دہرانی پڑے۔
حدیث نمبر: 484
نا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ أَيْضًا، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَامٍ الْمِصْرِيُّ ، نا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ ، نا أَبُو الأَحْوَصِ ، جَمِيعًا، عَنْ أَشْعَثَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الالْتِفَاتِ فِي الصَّلاةِ، فَقَالَ:" هُوَ اخْتِلاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلاةِ الْعَبْدِ" . وَفِي خَبَرِ أَبِي الأَحْوَصِ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْتِفَاتِ الرَّجُلِ فِي الصَّلاةِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں التفات کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اُچک لینا ہے جسے شیطان بندے کی نماز سے اُچک لیتا ہے۔“ ابوالاحوص کی روایت میں یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں آدمی کی بے توجہی اور اِدھر اُدھر جھا نکنے کے بارے میں سوال کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 484]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 751، 3291، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 484، 931، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2287، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1195، وأبو داود فى (سننه) برقم: 910، والترمذي فى (جامعه) برقم: 590، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3584، 3585، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25050»
326. (93) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الِالْتِفَاتَ الْمَنْهِيَّ عَنْهُ فِي الصَّلَاةِ الَّتِي تَكُونُ صَلَاةُ الْمَرْءِ بِهِ نَاقِصَةً هُوَ أَنْ يَلْوِيَ الْمُلْتَفِتُ عُنُقَهُ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نماز میں منع کردہ التفات جس سے نمازی کی نماز (اجر و ثواب) میں نقص آجاتا ہے وہ یہ ہے کہ نمازی اپنی گردن موڑ کر التفات کرے
حدیث نمبر: Q485
لَا أَنْ يَلْحَظَ بِعَيْنِهِ يَمِينَا وَشِمَالًا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَلْوِيَ عُنُقَهُ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَلْوِيَ عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ.
اس سے گردن موڑے بغیر دائیں بائیں جھانکنا مراد نہیں ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی گردن اپنی پشت کے پیچھے موڑے بغیر اپنی نماز میں (بوقت ضرورت التفات) کر لیا کرتے تھےـ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: Q485]
حدیث نمبر: 485
نا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، نا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَفِتُ فِي صَلاتِهِ يَمِينًا وَشِمَالا، وَلا يَلْوِي عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ يَلْتَفِتُ فِي صَلاتِهِ: يَعْنِي يَلْحَظُ بِعَيْنِهِ يَمِينًا وَشِمَالا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں دائیں بائیں التفات کر لیا کرتے تھے اور اپنی گردن اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں موڑتے تھے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں التفات فرما لیتے تھے۔ کا معنی یہ ہے کہ آپ دائیں بائیں آنکھوں سے دیکھ لیتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 485]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 485، 871، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2288، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 870، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1200، والترمذي فى (جامعه) برقم: 587، 588، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2288، 2289، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1864، 1865، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2524»
327. (94) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الِالْتِفَاتَ الْمَنْهِيَّ عَنْهُ فِي الصَّلَاةِ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نماز میں ممنوع التفات وہ ہے جو بلا ضرورت و حاجت ہو
حدیث نمبر: Q486
هُوَ الِالْتِفَاتُ فِي الصَّلَاةِ فِي غَيْرِ الْوَقْتِ الَّذِي يَحْتَاجُ الْمُصَلِّي أَنْ يَعْرِفَ فِعْلَ الْمَأْمُومِينَ أَوْ بَعْضِهِمْ لِيَأْمُرَهُمْ بِفِعْلٍ أَوْ يَزْجُرَهُمْ عَنْ فِعْلٍ بِإِشَارَةٍ أَوْ إِيمَاءٍ يُفْهِمُهُمْ مَا يَأْتُونَ وَمَا يَذَرُونَ فِي صَلَوَاتِهِمْ.
امام کو ضرورت نہ ہو کہ وہ مقتدیوں کے عمل کودیکھے یا ان میں سے کسی ایک کو دیکھے تاکہ انہیں کسی کام کے کرنے یا انہیں منع کا حکم ایسے اشارے کنائے سے دے جسے وہ سمجھ جائیں کہ کون سا کام انہوں نے اپنی نماز میں کرنا ہے اور کونسا ترک کرنا ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: Q486]
حدیث نمبر: 486
نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ اللَّيْثِ ، عَنِ اللَّيْثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَأَبُو بَكْرٍ يُكَبِّرُ، فَيَسْمَعُ النَّاسُ تَكْبِيرَهُ، قَالَ: فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَرَآنَا قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ:" إِنْ كِدْتُمْ آنِفًا تَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ، يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قَعُودٌ، فَلا تَفْعَلُوا، ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ، إِنْ صَلَّى الإِمَامُ قَائِمًا، فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا، فَصَلُّوا قُعُودًا" . وَفِي خَبَرِ سَهْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ فِي بَعْثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَسَ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ لِيَحْرُسَهُمْ، قَالَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ، حَتَّى إِذَا قَضَى صَلاتَهُ فَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: أَبْشِرُوا فَقَدْ جَاءَكُمْ فَارِسُكُمْ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (کھڑے ہوکر) نماز پڑھی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر امامت کروا رہے تھے۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہہ رہے تھے اور وہ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکبیر سنا رہے تھے۔ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف جھانک کر دیکھا تو ہمیں کھڑے (ہو کر نماز پڑھتے) دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (بیٹھنے کا) اشارہ کیا تو ہم بیٹھ گئے۔ پھر جب سلام پھیرا تو فرمایا: ”تم نے ابھی ابھی فارسیوں اور رومیوں جیسا کام کیا ہے۔ وہ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے رہتے ہیں۔ جبکہ وہ بیٹھے ہوتے ہیں۔ لہٰذا (آئندہ) ایسے مت کرنا۔ اپنے ائمہ کی اقتدا کرو۔ اگر امام کھڑے ہو کر نماز پڑھائے تو تم کھڑے ہوکر نماز پڑھو اور اگر وہ بیٹھ کر امامت کرائے تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“ اور سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ کی حدیث جس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا انس بن ابی مرثد رضی اللہ عنہ کو ان کی حفاظت و نگہبانی کے لئے (گھاٹی پر) بھیجا تھا، کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (نمازوں کے دوران) گھاٹی کی طرف التفات فرماتے رہے حتیٰ کہ جب اپنی نماز مکمل کی تو سلام پھیرا اور مجھ سے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ تمہارا (محافظ) شہسوار آگیا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 486]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 413، وابن الجارود فى "المنتقى"، 241، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 486، 873، 886، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2122، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 797، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1240، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2286، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14814، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 7215»