صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
جمعہ والے دن کسی شخص کا اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اُٹھا کر خود وہاں بیٹھنا منع ہے
حدیث نمبر: 1820
نا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا ، يَزْعُمُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يُقِمْ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَخْلُفُهُ فِيهِ" . فَقُلْتُ أَنَا لَهُ: فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهِ. قَالَ: وَقَالَ نَافِعٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُومُ لَهُ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ، فَلا يَجْلِسُ فِيهِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو اُس کی جگہ سے اُٹھا کر خود اُس کی جگہ پر نہ بیٹھے ـ جناب نافع کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ یہ حُکم جمعہ کے دن ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ جمعہ کے دن اور جمعہ کے علاوہ دنوں میں بھی (یہی حُکم ہے) ـ جناب نافع کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے لئے اپنی جگہ سے اُٹھ جاتا تو وہ اُس جگہ پر نہیں بیٹھتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1820]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 911، 6269، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2177، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3623، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1820، 1822، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 580، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1091، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4828، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2749، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3776، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5975، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4536»
اس بات کا بیان کہ اگر کوئی شخص جمعہ والے دن اپنی جگہ سے اُٹھ جائے پھر واپس آجائے جبکہ اس کی جگہ پر کوئی دوسرا شخص بیٹھ چکا ہوتو وہ شخص بیٹھنے والے کی نسبت اس جگہ کا زیادہ حق رکھتا ہے
حدیث نمبر: 1821
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، كُلُّهُمْ، عَنْ سُهَيْلٍ ، وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ . ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَرْجِعُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" . زَادَ يُوسُفُ: ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ , فَجَلَسْتُ فِيهِ , فَعَادَ فَأَقَامَنِي أَبُو صَالِحٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی جگہ سے اُٹھ جائے، پھر وہ واپس آجائے تو وہ اُس جگہ کا زیادہ حقدار ہے۔“ جناب یوسف نے یہ اضافہ بیان کیا ہے کہ”پھر ایک شخص اپنی جگہ سے اُٹھ گیا تو میں اس کی جگہ پر بیٹھ گیا پھر وہ واپس آیا تو جناب ابوصالح نے مجھے اُٹھا دیا۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1821]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2179، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1821، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 588، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4853، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2696، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3717، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5983، 11957، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7683»
جب جگہ تنگ ہوتو وسعت اور کشادگی پیدا کرنے کا بیان۔ اللہ تعالی کا ارشاد گرمی ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ» [ سورة المجادلة: 11 ] ”ایمان والو جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں کُھل کر بیٹھو تو تم کُھل کر بیٹھا کرو، اللہ تمہیں کشادگی دیگا۔“
حدیث نمبر: 1822
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ أَخَاهُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَخْلُفُهُ , وَلَكِنْ تَوَسَّعُوا , وَتَفَسَّحُوا"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کو اُس کی جگہ سے اُٹھا کر خود اُس کی جگہ پر بیٹھ جائے۔ لیکن تم وسعت اور کشادگی پیدا کرلیا کرو ـ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1822]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 911، 6269، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2177، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3623، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1820، 1822، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 580، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1091، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4828، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2749، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3776، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5975، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4536»
امام کے خطبہ کے دوران لوگوں کا امام کو چھوڑ کر کھیل تماشے یا تجارت کی طرف دوڑ جانا منع ہے
حدیث نمبر: 1823
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا , فَجَاءَتْ عِيرٌ مِنَ الشَّامِ , فَانْفَتَلَ النَّاسُ إِلَيْهَا حَتَّى لَمْ يَبْقَ إِلا اثْنَا عَشَرَ رَجُلا , فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ الَّتِي فِي الْجُمُعَةِ: وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے جب ایک تجارتی قافلہ شام سے آگیا۔ تو لوگ (آپ کو چھوڑ کر) اُس کی طرف چلے گئے حتّیٰ کہ صرف بارہ آدمی باقی رہ گئے تو سورة الجمعة کی یہ آیت نازل ہوئی «وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا» [ سورة الجمعة: 11 ] ”اور جب وہ تجارت یا کھیل تماشہ دیکھتے ہیں تو اُس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1823]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 936، 2058، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 863، وابن الجارود فى "المنتقى"، 321، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1823، 1852، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6876، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3311، 3311 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5706، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1583، 1584، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14579»