🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
جمعہ والے دن امام خطبہ دے رہا ہو تو لوگوں کی گردنیں پھلانگنا منع ہے۔ اور امام دوران خطبہ اس حرکت سے منع کر سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1811
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ , عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , فَمَا زَالَ يُحَدِّثُنَا حَتَّى خَرَجَ الإِمَامُ , فَجَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، فَقَالَ لِي: جَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ , فَقَالَ لَهُ:" اجْلِسْ , فَقَدْ آذَيْتَ وَآنَيْتَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي الْخُطْبَةِ أَيْضًا أَبْوَابٌ قَدْ كُنْتُ خَرَّجْتُهَا فِي كِتَابِ الْعِيدَيْنِ
جناب زاہریہ بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن حضرت عبداللہ بن بسر کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو وہ امام کے تشریف لانے تک مسلسل ہمارے ساتھ گفتگو کرتے رہے۔ تو ایک شخص آیا، اُس نے لوگوں کی گردنیں پھلانگنا شروع کر دیا تو اُنہوں نے مجھ سے فرمایا۔ کہ ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے کہا: ”بیٹھ جاؤ، تم نے (دوسروں کو) تکلیف دی ہے اور دیر سے بھی آئے ہو ـ“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ خطبہ کے متعلق اور ابواب بھی ہیں جنہیں میں کتاب العیدین میں بیان کرچکا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1811]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 323، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1811، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2790، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1065، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1398، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1118، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5967، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17950»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جمعہ میں لوگوں کے درمیان جدائی ڈالنے کی ممانعت اور اس سے اجتناب کرنے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1812
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَحْسَنَ الْغُسْلَ أَوْ تَطَهَّرَ فَأَحْسَنَ الطُّهُورَ، فَلَبِسَ مِنْ خَيْرِ ثِيَابِهِ , وَمَسَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ طِيبًا , أَوْ دُهْنِ أَهْلِهِ , وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ، إِلا غُفِرَ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ الأُخْرَى" . قَالَ بُنْدَارٌ: أَحْفَظُهُ مِنْ فِيهِ , عَنْ أَبِيهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لا أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ بُنْدَارًا فِي هَذَا , وَالْجَوَادُ قَدْ يَفْتُرُ فِي بَعْضِ الأَوْقَاتِ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا تو بہترین غسل کیا۔ یا اُس نے وضو کیا تو اچھا وضوکیا، پھر اپنا عمدہ لباس پہنا اور اللہ کی عطا کی ہوئی خوشبو لگائی یا اپنے گھر والوں کا (تیار کردہ) تیل لگایا اور اُس نے دو (بیٹھنے والوں) کے درمیان جدائی نہ ڈالی تو اُس کے اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیانی گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔“ جناب بندار کہتے ہیں کہ میں نے یہ روایت استاد محترم کے مُنہ سے اُن کے باپ کے واسطے سے سُنی ہے۔ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ کسی راوی نے جناب بندار کی اس روایت میں متابعت کی ہو۔ اور ماہر شاہسوار بھی کبھی کو تاہی کر جاتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1812]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1763، 1764، 1812، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1078، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1097، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21940، 21970، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 479، والحميدي فى (مسنده) برقم: 138، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 5589»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جمعہ میں حاضر ہونے والوں کے مراتب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1813
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عن ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلاثَةٌ: رَجُلٌ يَحْضُرُهَا يَلْغُو , فَهُوَ حَظُّهُ مِنْهَا , وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِدُعَاءٍ , فَهُوَ رَجُلٌ دَعَا اللَّهَ , فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَعْطَاهُ , وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ , وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِوَقَارٍ وَإِنْصَاتٍ وَسُكُونٍ , وَلَمْ يَتَخَطَّ رَقَبَةَ مُسْلِمٍ , وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا , فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا، وَزِيَادَةُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ؛ لأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا سورة الأنعام آية 160"
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے لئے تین قسم کے لوگ حاضر ہوتے ہیں، ایک وہ شخص ہے جو جمعہ کے لئے حاضر ہوتا ہے اور لغو کام کرتا ہے تو اس جمعہ سے اس کا یہی حصّہ ہے اور دوسرا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کے لئے حاضر ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اُسے عطا کردے اور اگر چاہے تو عطا نہ کرے۔ تیسرا وہ شخص ہے جو وقار کے ساتھ جمعہ میں حاضر ہوتا ہے۔ خاموش اور پر سکون رہتا ہے، کسی مسلمان شخص کی گردن نہیں پھلانگتا اور نہ کسی کو تکلیف دیتاہے تو وہ اس کے لئے اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیانی گناہوں اور مزید تین دن کے گناہوں کا کفّارہ بن جاتا ہے ـ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے «‏‏‏‏مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا» ‏‏‏‏ [ سورة الأنعام: 160 ] ”جو شخص ایک نیکی لائے گا تو اُسے دس گنا اجر دیا جائے گا ـ“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1813]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1813، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1113، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5911، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6816، 7122»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
گزشتہ ابواب میں، میں نے جو مجمل روایات بیان کی ہیں ان کی مفسرروایت کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1814
نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ , وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ نمازیں اور جمعہ دوسرے جمعہ تک کے درمیانی گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ جب تک کبیرہ گناہوں کا ارتکا ب نہ کیا جائے ـ“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1814]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 233، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 314، 1814، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1733، والترمذي فى (جامعه) برقم: 214، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1086، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4520، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8836»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جمعہ کے دن گوٹ مار کر بیٹھنا منع ہے جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1815
نا أَبُو جَعْفَرٍ السِّمْنَانِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْحِبْوَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , وَالإِمَامُ يَخْطُبُ"
سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ والے دن گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع کیا ہے جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1815]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1815، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1073، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1110، والترمذي فى (جامعه) برقم: 514، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5993، 5994، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15870»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جمعہ کے دن نماز جمعہ سے پہلے حلقے بنا کر بیٹھنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1816
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسَاجِدِ , وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهَا الأَشْعَارُ , وَأَنْ يُنْشَدَ فِيهَا الضَّالَّةُ , وَعَنِ الْحِلَقِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلاةِ"
سیدنا عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد میں خرید و فروخت کرنے، ان میں شعر پڑھنے، گم شدہ چیز کا اعلان کرنے اور جمعہ کے دن نماز جمعہ سے پہلے حلقے بنا کر بیٹھنے سے منع کیا ہے - [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1816]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 612، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1304، 1306، 1816، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 713، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1079، والترمذي فى (جامعه) برقم: 322، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 749، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4417، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6787، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 5450»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جمہ کے دن جمہ کے لئے آنے سے لیکر نماز سے فارغ ہونے تک جہالت ونادانی والی حرکات ترک کرنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1817
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ ، نا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا تَطَهَّرَ الرَّجُلُ فَأَحْسَنَ الطُّهُورَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ، فَلَمْ يَلْغُ، وَلَمْ يَجْهَلْ حَتَّى يَنْصَرِفَ الإِمَامُ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ"
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان آدمی اچھی طرح طہارت حاصل کرکے جمعہ کے لئے آتا ہے پھر کوئی فضول حرکت نہیں کرتا اور نہ کوئی جہالت والا کام کرتا ہے حتّیٰ کہ امام نماز سے فارغ ہو جاتا ہے تو اُس کا یہ عمل اس جمعہ اور آئندہ جمعہ کے درمیان والے گناہوں کا کفّارہ بن جائے گا۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1817]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1762، 1817، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2778، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1049، وأبو داود فى (سننه) برقم: 343، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5765، 6040، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11522»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جب امام جعہ والے دن خطبہ دے رہا ہو تو اس وقت کنکریوں سے کھیلنا منع ہے اور اس بات کی اطلاع کا بیان کہ اس وقت کنکریوں سے کھیلنا لغو اور بیہودہ حرکت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1818
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ، فَدَنَا وَأَنْصَتَ وَاسْتَمَعَ , غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ , وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے جمعہ والے دن خوب اچھا وضو کیا ـ پھر وہ جمعہ کے لئے آیا تو امام کے قریب ہوکر بیٹھا، اُس نے خاموشی اختیار کی اور خوب غور سے خطبہ سنا تو اُس کے اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیانی گناہ اور مزید تین دن کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں اور جس نے کنکریوں کو چھوا (اُن کے ساتھ کھیلا) تو اُس نے لغو کام کیا ـ“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1818]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 857، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1756، 1762، 1803، 1818، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1231، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1049، وأبو داود فى (سننه) برقم: 343، والترمذي فى (جامعه) برقم: 498، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1025، 1090، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5765، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9615»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جمعہ والے دن اونگھنے والے شخص کے لئے اپنی جگہ تبدیل کرنا مستحب ہے۔ اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ اونگھ کا حُکم نیند والا نہیں ہے اور نہ ہی اس سے وضو واجب ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1819
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، جميعا، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ . ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ . ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَيْضًا , حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي مَجْلِسِهِ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ" . هَذَا حَدِيثُ الأَشَجِّ. وَفِي حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کو جمعہ والے دن اپنی جگہ پر اُونگھ آجائے تو وہ اپنی وہ جگہ تبدیل کر لے۔“ یہ جناب اشج کی روایت ہے۔ اور یزید بن ہارون کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ” میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1819]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1819، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2792، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1079، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1119، والترمذي فى (جامعه) برقم: 526، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6006، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4832»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں