🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1732. ‏(‏177‏)‏ بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالْحَبْسِ مِنَ الضِّيَاعِ وَالْأَرَضِينَ
زرعی زمینیں اور جاگیریں وقف کرنے کی وصیت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2489
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الأَشْقَرُ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ ، قَالَتْ:" وَاللَّهِ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ عِنْدَ مَوْتِهِ دِينَارًا وَلا دِرْهَمًا، وَلا عَبْدًا وَلا أَمَةً، إِلا بَغْلَتَهُ وَسِلاحَهُ، وَأَرْضًا تَرَكَهَا صَدَقَةً"
سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی موت کے وقت کوئی دینار، درھم، غلام یا لونڈی نہیں چھوڑی تھی، سوائے اپنے خچر اور ہتھیاروں کے اور ایک زمین چھوڑی تھی جسے آپ نے صدقہ کردیا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصدقات والمحبسات/حدیث: 2489]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2739، 2873، 2912، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2489، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1533، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12012، 12013، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4397، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18749»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1733. ‏(‏178‏)‏ بَابُ فَضَائِلِ بِنَاءِ السُّوقِ لِأَبْنَاءِ السَّابِلَةِ، وَحَفْرِ الْأَنْهَارِ لِلشَّارِبِ
مسافروں کے لئے بازار اور پانی پینے والوں کے لئے نہریں بنانے کی فضیلت کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2490
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مَرْزُوقُ بْنُ الْهُذَيْلِ ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِمَّا يَلْحَقُ الْمُؤْمِنُ مِنْ عَمَلِهِ وَحَسَنَاتِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ: عِلْمًا عَلِمَهُ وَنَشَرَهُ، أَوْ وَلَدًا صَالِحًا تَرَكَهُ، أَوْ مَسْجِدًا بَنَاهُ، أَوْ بَيْتًا لابْنِ السَّبِيلِ بَنَاهُ، أَوْ نَهَرًا كَرَاهُ، أَوْ صَدَقَةً أَخْرَجَهَا مِنْ مَالِهِ فِي صِحَّتِهِ وَحَيَاتِهِ، تَلْحَقُهُ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَرَاهُ: يَعْنِي حَفَرَهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک مؤمن کو اس کی موت کے بعد بھی اعمال اور نیکوں کا اجر ملتا رہتا ہے وہ یہ ہیں، وہ علم جو اس نے دوسروں کوسکھایا اور اس کی نشر و اشاعت میں حصّہ ڈالا۔ یا اپنے پیچھے نیک اولاد چھوڑی یا مسجد بنا گیا یا مسافروں کے لئے سرائے بنا گیا یا نہر کھدوا گیا یا اپنی صحت اور زندگی میں کوئی مالی صدقہ کرگیا تو ان کا اجر اسے اس کی موت کے بعد بھی ملتا رہے گا۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اْونَهْراً كَرَاهُ کا معنی ہے ”یا اس نے نہر کھددوا دی۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصدقات والمحبسات/حدیث: 2490]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2490، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 242»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1734. ‏(‏179‏)‏ بَابُ حَبْسِ آبَارِ الْمِيَاهِ عَلَى الْأَغْنِيَاءِ وَالْفُقَرَاءِ وَابْنِ السَّبِيلِ
پانی کے کنویں، مالداروں، فقراء اور مسافروں کے لئے وقف کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2491
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ الْمُلائِيُّ بِالرَّمْلَةِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِ دَارِهِ، ثُمَّ قَالَ:" أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رُومَةَ لَمْ يَكُنْ يَشْرَبُ مِنْهَا أَحَدٌ إِلا بِثَمَنٍ؟ فَابْتَعْتُهَا مِنْ مَالِي فَجَعَلْتُهَا لِلْغَنِيِّ وَالْفَقِيرِ، وَابْنِ السَّبِيلِ"، قَالُوا: نَعَمْ
جناب ابوعبدالرحمٰن سلمی بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا تو اُنہوں نے اپنے گھر کے اوپر سے لوگوں کو جھانک کر مخاطب کیا اور فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کے نام کے ساتھ یاد دلاتا ہوں۔ کیا تم جانتے ہو کہ رومہ کے کنویں سے کوئی شخص بغیر قیمت ادا کیے پانی نہیں پی سکتا تھا۔ پھر میں نے اُسے خرید کر ہر امیر غریب اور مسافر کے لئے وقف کردیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں (ایسے ہی ہوا تھا)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصدقات والمحبسات/حدیث: 2491]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2778، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2491، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6916، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1534، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3611، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3699، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12052، 12053، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4442، وأحمد فى (مسنده) برقم: 427»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1735. ‏(‏180‏)‏ بَابُ إِبَاحَةِ شُرْبِ الْمُحْبِسِ مِنْ مَاءِ الْآبَارِ الَّتِي حَبَسَهَا
کنواں وقف کرنے والا شخص اپنے وقف شدہ کنویں سے پانی پی سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2492
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَلَبِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ بِتَمَامِهِ، حَدَّثَنِي الْقُشَيْرِيُّ ، قَالَ: شَهِدْتُ الدَّارَ يَوْمَ أُصِيبَ عُثْمَانُ وَأَشْرَفَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ وَالإِسْلامَ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا بِئْرٌ مُسْتَعْذَبٌ، إِلا رُومَةُ؟ فَقَالَ: " مَنْ يَشْتَرِي رُومَةَ؟ فَيَجْعَلُ دَلْوَهُ فِيهَا كَدِلاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ"، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ: فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ خَالِصِ مَالِي، وَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أَفْطَرَ عَلَيْهَا حَتَّى أَفْطَرَ عَلَى مَاءِ الْبَحْرِ
جناب قشیری بیان کرتے ہیں کہ جس روز سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا اس روز میں بھی اُس گھر میں موجود تھا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ہمیں جھانک کر دیکھا اور فرمایا، اے لوگوں میں تمہیں اللہ کی قسم اور اسلام کا حق یاد کرا کے پوچھتا ہوں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منوّرہ تشریف لائے تو مدینے میں سوائے رومہ کے کنویں کے میٹھے پانی کا کوئی کنواں موجود نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو رومہ کا کنواں خرید کر ڈول کو مسلمانوں کے ڈول کی طرح کردے۔ (یعنی اسے وقف کردے) تو اُسے اس کے بدلے میں اس سے بہتر کنواں جنّت میں ملے گا۔“ لوگوں نے جواب دیا کہ جی ہاں ہمیں اچھی طرح دیا ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو میں نے وہ کنواں اپنے خالص مال سے خریدا تھا (اور مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا تھا) اور (آج) تم مجھے اس کنویں کے پانی سے روزہ افطار کرنے سے منع کرتے ہو حتّیٰ کہ میں سمندری پانی سے افطار کرنے پر مجبور ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصدقات والمحبسات/حدیث: 2492]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2492، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3610، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3703، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12055، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4437»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2493
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ: أَشْرَفَ عَلَيْهِ يَعْنِي عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، فَقَالَ:" أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ، هَلْ عَلِمْتُمْ أَنِّي اشْتَرَيْتُ رُومَةَ مِنْ مَالِي يُسْتَعْذَبُ مِنْهَا، وَجَعَلْتُ رِشَايَ فِيهَا كَرِشَايِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟" فَقَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَعَلامَ تَمْنَعُونِي أَشْرَبُ مِنْهَا حَتَّى أُفْطِرَ عَلَى مَاءِ الْبَحْرِ؟"
سیدنا ابو اسید انصاری کے آزاد کردہ غلام ابوسعید بیان کرتے ہیں کہ (محاصرہ کے دوران) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جھانک کر دیکھا تو فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیکر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ میں نے رومہ کا میٹھے پانی کا کنواں اپنے مال سے خریدا تھا۔ اور میں نے اپنا ڈول ایک عام مسلمان کی طرح بنایا تھا (سب کے لئے وقف کر دیا تھا) لوگوں نے کہا کہ جی ہاں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا تو پھر تم مجھے اس کنویں کا میٹھا پانی پینے سے کیوں روکتے ہو حتّیٰ کہ میں سمندری کھا رے پانی سے روزہ افطار کرنے پر مجبور ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصدقات والمحبسات/حدیث: 2493]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2493، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6919، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3319، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11928، والبزار فى (مسنده) برقم: 389، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 4372، وأخرجه ابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 38845، وأخرجه الطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 5018»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1736. ‏(‏181‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ أَجْرَ الصَّدَقَةِ الْمُحْبَسَةِ يُكْتَبُ لِلْمُحْبِسِ بَعْدَ مَوْتِهِ مَا دَامَتِ الصَّدَقَةُ جَارِيَةً
اس بات کی دلیل کا بیان کہ وقف شدہ صدقے کا اجر و ثواب واقف کی موت کے بعد اسے اس وقف تک ملتا رہتا ہے جب تک وہ صدقہ باقی رہتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2494
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلا مِنْ ثَلاثٍ: صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عَمَلٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتا ہے مگر تین چیزوں کا اجراسے ملتا رہتا ہے، صدقہ جاریہ، وہ علم جس سے لوگ فائدہ اُٹھا رہے ہوں یا نیک اولاد جو اُس کے لئے دعائیں کرے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصدقات والمحبسات/حدیث: 2494]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1631، وابن الجارود فى "المنتقى"، 407، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2494، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3016، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3653، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2880، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1376، والدارمي فى (مسنده) برقم: 578، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12759، 12760، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8966»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2495
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ النَّسَائِيُّ بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيَّ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ يَعْنِي أَبَاهُ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " خَيْرُ مَا يَخْلُفُ الْمَرْءُ بَعْدَهُ ثَلاثًا: وَلَدًا صَالِحًا يَدْعُو لَهُ فَيَبْلُغُهُ دُعَاؤُهُ، أَوْ صَدَقَةً تَجْرِي فَيَبْلُغُهُ أَجْرُهَا، أَوْ عِلْمًا يُعْمَلُ بِهِ بَعْدَهُ"
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”وہ بہترین چیزیں جو انسان اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے وہ تین ہیں، نیک بٹیا جو اُس کے لئے دعائیں کرتا ہے تو اس کی دعائیں پہنچتی ہیں یا صدقہ جاریہ کرجائے تو اس کا اجر اُسے پہنچتا رہے گا۔ یا ایسا مفید علم چھوڑ جائے جس پر لوگ عمل کریں (تو اسے اس کا اجر ملتا رہے گا)۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصدقات والمحبسات/حدیث: 2495]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2495، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 93، 4902، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 241، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3472، والطبراني فى (الصغير) برقم: 395»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1737. ‏(‏182‏)‏ بَابُ فَضْلِ سَقْيِ الْمَاءِ إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ
پانی پلانے کی فضیلت کا بیان، بشرطیکہ یہ حدیث صیح ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2496
حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ، أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا؟ فَقَالَ:" نَعَمْ"، فَقُلْتُ: أَيُّ صَدَقَةٍ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" إِسْقَاءُ الْمَاءِ"
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، میری والدہ فوت ہوگئیں ہیں کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں کردو“ میں نے عرض کیا کہ کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پلانا (یعنی کنواں کھدوا کر وقف کردو)۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصدقات والمحبسات/حدیث: 2496]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2496، 2497، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3348، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1516، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3666، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1679، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3684، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 419، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7898، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22894»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2497
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" إِسْقَاءُ الْمَاءِ"
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، کونسا صدقہ کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پلانا افضل ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصدقات والمحبسات/حدیث: 2497]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2496، 2497، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3348، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1516، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3666، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1679، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3684، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 419، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7898، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22894»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں