🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1803. (62) بَابُ الزَّجْرِ عَنْ أَكْلِ سَائِقِ الْبُدْنِ وَأَهْلِ رُفْقَتِهِ مِنْ لَحْمِهَا إِذَا عُطِبَتْ وَنُحِرَتْ
جب قربانی کا جانور تھک ہار کر عاجز آجائے اور اسے ذبح کردیا جائے تو قربانی کے جانور لے جانے والے شخص اور اس کے ساتھیوں کے لئے اس کا گوشت کھانا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2578
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ الْهُذَلِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ذُوَيْبًا أَبَا قَبِيصَةَ الْخُزَاعِيَّ ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِبُدْنِهِ، فَقَالَ:" إِنْ عَطِبَ عَلَيْكَ شَيْءٌ مِنْهَا فَانْحَرْهَا، وَاغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِ جَوْفِهَا، وَلا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ، وَلا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رِفْقَتِكَ" ، وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَ ذُؤَيْبٍ بِبُدْنٍ وَزَادَ: وَاضْرِبْ صَفْحَتَهَا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ذویب ابو قبیصہ خزاعی رضی اللہ عنہ نے انہیں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کے اونٹ دے کر انہیں روانہ کیا تو فرمایا: ”اگر ان میں سے کوئی اونٹ تھک کر چلنے سے معذور ہو جائے تو اسے ذبح کر دینا اور اس کے جوتے اس کے خون میں ڈبو دینا (تاکہ لوگوں کے لئے نشانی رہے) لیکن تم اور تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی شخص اس کا گوشت نہ کھائے۔“ جناب بندار کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ذؤیب کے ساتھ اپنے قربانی کے جانور روانہ کیے اور یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں کہ ”اور خون آلود جوتے اس کے پہلو پر مارو۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2578]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1326، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2578، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3105، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10360، 10361، 19231، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18257، 18258، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 15580، والطبراني فى(الكبير) برقم: 4212، 4213»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1804. (63) بَابُ إِيجَابِ إِبْدَالِ الْهَدْيِ الْوَاجِبِ إِذَا ضَلَّتْ-
جب واجب قربانی کا جانور سفر میں گم ہوجائے تو اس کے بدلے دوسری قربانی بھیجنا ضروری ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2579
إِنَّ صَحَّ الْخَبَرُ، وَلَا أَخَالُ؛ فَإِنَّ فِي الْقَلْبِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيِّ
بشرطیکہ یہ حدیث صحیح ہو۔ لیکن میرا خیال ہے کہ یہ صحیح نہیں کیونکہ عبداللہ بن عامر الاسلمی کے بارے میں میرا دل مطمئن نہیں ہے [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: Q2579]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2579
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ سُلَيْمَانُ ، وَصَالِحُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَهْدَى تَطَوُّعًا، ثُمَّ ضَلَّتْ، فَإِنْ شَاءَ أَبْدَلَهَا، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ، وَإِنْ كَانَتْ فِي نَذْرٍ فَلْيُبْدِلْ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس شخص نے نفلی قربانی کے لئے اونٹ بھیجا پھر وہ راستے میں گم ہوگیا تو وہ چاہے تو اس قربانی کا بدل بھیجدے اور اگر چاہے تو نہ بھیجے، اور اگر وہ قربانی کا جانور نذر کی وجہ سے بھیج رہا تھا تو پھر ضرور اس کا متبادل دے۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2579]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 1418، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2579، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1647، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10366، 10367، 10368، 10369، 10370، 19261، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2527، 2528، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 13362»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1805. (64) بَابُ التَّطَيُّبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ، ضِدَّ قَوْلِ مِنْ كَرِهَ ذَلِكَ، وَخَالَفَ سُنَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
احرام کے وقت خوشبو لگانے کا بیان اس شخص کے قول کے بر خلاف جو اسے مکروہ سمجھتا ہے اور نے سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی خلاف ورزی کی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2580
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيَّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَاقَ هَدْيًا تَطَوُّعًا فَعَطَبَ، فَلا يَأْكُلْ مِنْهُ، فَإِنَّهُ إِنْ أَكَلَ مِنْهُ كَانَ عَلَيْهِ بَدَلُهُ، وَلَكِنْ لِيَنْحَرْهَا، ثُمَّ يَغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ يَضْرِبْ فِي جَنْبِهَا وَإِنْ كَانَ هَدْيًا وَاجِبًا، فَلْيَأْكُلْ إِنْ شَاءَ، فَإِنَّهُ لا بُدَّ مِنْ قَضَائِهِ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْحَدِيثُ مُرْسَلٌ بَيْنَ أَبِي الْخَلِيلِ، وَأَبِي قَتَادَةَ رَجُلٌ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص نفلی طور پر قربانی کا جانور بھیجے اور وہ جانور ہلاک ہو جائے تو وہ شخص خود اس میں سے کچھ نہ کھائے کیونکہ اگر اُس نے اس میں سے کچھ کھا لیا تو اس کا بدل دینا لازم ہوگا۔ اُسے چاہیے کہ اس جانور کو ذبح کرکے اُس کا جوتا اُس کے خون میں ڈبوئے اور پھر اس کے پہلو پرنشان لگادے لیکن اگر وہ کوئی لازمی قربانی تھی تو پھر اگر وہ چاہے تو اس میں سے کھا سکتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2580]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2580، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10371، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1266، وأخرجه الطبراني فى (الأوسط) برقم: 2852، 4063، 4888»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2581
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ بِيَدَيْهَا: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ"
عبد الرحمن بن قاسم اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب احرام باندھا تھا تو میں نے آپ کو خوشبو لگائی تھی اور جب آپ نے بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے احرام کھولا تھا (تو میں نے اُس وقت بھی آپ کو خوشبو لگائی تھی)۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2581]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1539، 1754، 5922، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1189، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1178، وابن الجارود فى "المنتقى"، 455، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2581، 2582، 2583، 2933، 2934، 2938، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3766، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2683، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1745، والترمذي فى (جامعه) برقم: 917، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2926، 3042، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9044، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2677، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24739»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2582
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الْجَبَّارِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ وَبَسَطَتْ يَدَيْهَا:" إِنِّي طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِيَّ هَاتَيْنِ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ حِينَ أَحْرَمَ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ: إِنَّ الْعَرَبَ تَقُولُ إِذَا فَعَلْتَ كَذَا تُرِيدُ إِذَا أَرَدْتَ فِعْلَهُ، وَعَائِشَةُ إِنَّمَا أَرَادَتْ أَنَّهَا طَيَّبَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَادَ الإِحْرَامَ لا بَعْدَ الإِحْرَامِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ مَا ذَكَرْتُ، خَبَرُ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ الَّذِي ذَكَرْتُ فِي الْبَابِ الَّذِي يَلِي هَذَا مَعَ الأَخْبَارِ الَّتِي خَرَّجْتُهَا فِي الْكِتَابِ الْكَبِيرِ
عبد الرحمن بن قاسم اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے ان دو ہاتھوں کے ساتھ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھنے کے وقت آپ کو خوشبو لگائی تھی اور آپ کے بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے احرام کھولنے کے وقت بھی لگائی تھی۔
امام صاحب فرماتے ہیں کہ روایت کے یہ الفاظ کہ جب آپ نے احرام باندھا تھا، یہ اس قسم سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بارے میں ہم کہیں گے کہ عرب یہ کہتے ہیں جب تم نے ایسا کام کیا تو مراد یہ ہوتی ہے جب تم نے یہ کام کرنے کا ارادہ کیا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھنے کا ارادہ کیا اُس وقت انہوں نے آپ کوخوشبو لگائی تھی۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ انہوں نے آپ کواحرام باندھنے کے بعد خوشبولگائی تھی۔ میں نے جو مفہوم ذکر کیا ہے اس کے صحیح ہونے کی دلیل وہ روایت ہے جومنصور نے اپنی سند کے ساتھ بیان کی ہے جو میں نے اس باب میں اس کے بعد بیان کی ہے۔ باوجود اسکے میں نے اس بارے میں روایات الكتاب الکبیر میں بیان کردی ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2582]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1539، 1754، 5922، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1189، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1178، وابن الجارود فى "المنتقى"، 455، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2581، 2582، 2583، 2933، 2934، 2938، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3766، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2683، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1745، والترمذي فى (جامعه) برقم: 917، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2926، 3042، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9044، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2677، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24739»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1806. (65) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي التَّطَيُّبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ بِالْمِسْكِ
احرام کے وقت کستوری کی خوشبو لگانا درست ہے

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2583
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : " طَيَّبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِطِيبٍ فِيهِ مَسْكٌ" ، قَالَ ابْنُ هِشَامٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَقَالَ أَحْمَدُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" طَيَّبْتُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". وَفِي خَبَرِ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ أَطْيَبَ طِيبِكُمُ الْمِسْكُ"، دَلالَةٌ وَاضِحَةٌ عَلَى ضِدِّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ نَجِسٌ
جناب القاسم بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگائی، اور یوم النحر (دس ذوالحجہ) کو بھی آپ کے طواف افاضہ کرنے سے پہلے خوشبو لگائی، اس خوشبو میں کستوری بھی شامل تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2583]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1539، 1754، 5922، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1189، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1178، وابن الجارود فى "المنتقى"، 455، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2581، 2582، 2583، 2933، 2934، 2938، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3766، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2683، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1745، والترمذي فى (جامعه) برقم: 917، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2926، 3042، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9044، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2677، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24739»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”تمھاری سب سے عمدہ اور پاکیزہ خوشبو کستوری ہے۔“ اس میں ان لوگوں کے خلاف واضح دلیل موجود ہے جو کستوری کو نجس قرار دیتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2584]
تخریج الحدیث: «صحيح مسلم، کتاب الالفاظ من الادب، باب استعمال المسک، حديث: 2252 ـ سنن ترمذی: 991، 992 ـ سنن نسائی: 1906 ـ مسند احمد: 31/3۔»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1807. (66) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي التَّطَيُّبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ بِطِيبٍ يَبْقَى أَثَرُهُ عَلَى الْمُتَطَيِّبِ فِي الْإِحْرَامِ
احرام کے وقت ایسی خوشبو لگانے کی رخصت ہے جس کا اثر محرم کے جسم پر احرام باندھنے کے بعد بھی باقی رہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2585
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کی مانگ میں خوشبو (کستوری) کی چمک کو دیکھ رہی ہوں حالانکہ آپ حالت احرام میں ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2585]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 271، 1537، 5918، 5923، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1190، وابن الجارود فى "المنتقى"، 456، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2585، 2586، 2587، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1376، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2692، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1746، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2927، 2928، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9049، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24741»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں