صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1789. (48) بَابُ ذِكْرِ تَوْقِيتِ أَوَّلِ اللَّيْلِ الَّذِي كُرِهَ الِانْتِشَارُ وَالْخُرُوجُ فِيهِ
رات کے ابتدائی حصّے کی مقدار کا بیان کہ جس میں گھروں سے باہر نکلنا اور گھومنا پھرنا منع ہے
حدیث نمبر: 2560
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَكُفُّوا مَوَاشِيَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ مِنْ عِنْدِ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى أَنْ تَذْهَبَ" ، قَالَ لَنَا يُوسُفُ: فَحْوَةُ الْعِشَاءِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَذَا عِلْمِي تَصْحِيفٌ، إِنَّمَا هُوَ فَحْوَةُ الْعِشَاءِ اشْتَدَّ الظَّلامُ، هَكَذَا قَالَ غَيْرُ يُوسُفَ فِي هَذَا الْخَبَرِ فَحْوَةٌ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے مویشیوں اور اہل وعیال کو سورج غروب ہونے سے عشاء کا اندھیرا ختم ہونے تک روکے رکھو (انہیں باہر نہ نکلنے دو)“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں۔ میرے علم کے مطابق اس حدیث کے الفاظ میں تصحیف ہوئی ہے۔ اصل الفاظ ”فَحْمَةُ العِشَاءِ“ ہیں۔ (یعنی جب عشاء کا اندھیرا شدید ہو جائے)۔ جب کہ حدیث میں ”فَحْوَةُ العِشَاءِ“ بیان کر دیا گیا ہے۔ جناب یوسف بن موسیٰ کے علاوہ دیگر راویوں نے فحمة يا فحوة کے الفاظ روایت کیے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2560]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3280، 3304، 3316، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2012، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 131، 132، 133، 2559، 2560، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1271، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7307، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2604، 3731، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1812، 2766، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 360، 3268، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14334»
1790. (49) بَابُ وَصِيَّةِ الْمُسَافِرِ بِالتَّكْبِيرِ عِنْدَ صُعُودِ الشَّرَفِ وَالتَّسْبِيحِ عِنْدَ الْهُبُوطِ
مسافر کو یہ نصیحت کی گئی ہے کہ جب وہ بلندی اور چڑھائی چڑھے تو ”اللہ اکبر“ پڑھے اور جب نیچے اترے تو ”سبحان اللہ“ پڑھے
حدیث نمبر: 2561
حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ سَفَرًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي، قَالَ: " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ"، فَلَمَّا مَضَى، قَالَ:" اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ سفر پر جارہا تھا۔ تو اُس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، مجھے نصحیت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے اور ہر بلند جگہ چڑھتے ہوئے اللہ اکبر پڑھنے کی نصیحت کرتا ہوں۔“ پھر جب وہ شخص چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اُس کے لئے) یہ دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ أزْوِلَهُ اْلأرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ» ”اے اللہ اس کے سفر کی مسافت کو لپیٹ دے اور اس کے سفر کو آسان بنادے۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2561]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2561، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2692، 2702، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1639، 2495، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10266، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3445، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2771، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10422، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8426»
حدیث نمبر: 2562
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَصِينُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كُنَّا إِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا، وَإِذَا هَبَطْنَا سَبَّحْنَا"
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم (سفر کے دوران) جب کوئی چڑھائی چڑھتے تو تکبیر پڑھتے اور جب نیچے اترتے تو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے (سبحان اللہ کہتے)۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2562]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2993، 2994، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2562، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8774، 10299، 10300، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2716، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10475، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2485، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14792، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 5042»
1791. (50) بَابُ اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالتَّكْبِيرِ عِنْدَ صُعُودِ الشَّرَفِ فِي الْأَسْفَارِ
سفر میں بلندی چڑھتے وقت آہستہ آواز میں ”اللہ اکبر“ پڑھنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 2563
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَكَبَّرُوا تَكْبِيرَةً، فَرَفَعُوا بِهَا أَصْوَاتَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَصَمَّ، وَلا غَائِبٍ وَهُوَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَأْسِ رَوَاحِلِكُمْ"
سیدنا ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے پھر (واپسی پر) جب ہم مدینہ منوّرہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر فرمایا۔ توصحابہ کرام نے با آواز بلند اللہ اکبر پڑھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تمہارا پروردگار بہرہ نہیں ہے اور نہ غائب ہے، وہ تو تمہارے درمیان (اپنی مدد وحمایت اور علم کے ساتھ) موجود ہے۔ اور تمہاری سواریوں کے سروں کے درمیان (اپنے علم و قدرت کے ساتھ) موجود ہے۔ (وہ سب سن اور دیکھ رہا ہے)۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2563]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2992، 4205، 6384، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2704، ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2563، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 804، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7632، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1526، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3374، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3824، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3061، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19829»
1792. (51) بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ عِنْدَ تَعْرِيسِ النَّاسِ بِاللَّيْلِ
جب لوگ سفر کے دوران رات کو آرام کر رہے ہوں تو اس وقت نفل نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2564
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ خِرَاشٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ ، رَفَعَهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ، وَثَلاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ، أَمَّا الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ: فَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَى أَحَدِهِمْ مِمَّا يَعْدِلُ بِهِ، نَزَلُوا فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ، فَقَامَ يَتَمَلَّقُنِي، وَيَتْلُوا آيَاتِي" ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ نفرت کرتا ہے۔ جن تین قسم کے افراد سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے، ان میں سے ایک وہ شخص ہے (جو کسی کے ساتھ ہوتا ہے) وہ قوم ساری رات سفر کرتی رہی حتّیٰ کہ نیند انہیں ہر چیز کے مقابلے میں محبوب ہو جاتی ہے تو وہ سواریوں سے اُترکر سوجاتے ہیں۔ تو یہ شخص کھڑا ہو جاتا ہے (نفل نماز پڑھتا ہے) اللہ تعالیٰ کے سامنے رو رو کر التجائیں کرتا ہے اور قرآن مجید کی آیات کی تلاوت کرتا ہے۔ پھر بقیہ حدیث بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2564]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2456، 2564، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3349، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1525، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1614، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2567، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21751»
1793. (52) بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ رُؤْيَةِ الْقُرَى اللَّوَاتِي يُرِيدُ الْمَرْءُ دُخُولَهَا
آدمی جن بستیوں میں داخل ہونا چاہتا ہو انہیں دیکھنے پر دعا پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2565
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ كَعْبًا ، حَدَّثَهُ أَنَّ صُهَيْبًا صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرَ قَرْيَةً يُرِيدُ دُخُولَهَا إِلا قَالَ حِينَ يَرَاهَا: " اللَّهُمَّ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبِّ الأَرَضِينَ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبِّ الشَّيَاطِينَ وَمَا أَضْلَلْنَ، وَرَبِّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، فَإِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ، وَخَيْرَ أَهْلِهَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ أَهْلِهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس بستی میں داخل ہونا چاہتے تو اس بستی کو دیکھ کر یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الأَرَضِينِ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْت، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، فَإِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا» ”اے اللہ، ساتوں آسمانوں کے اور ان تمام چیزوں کے پروردگار جن پر یہ آسمان سایہ کیے ہوئے ہیں، تمام زمینوں اور ان تمام چیزوں کے پروردگار جنہیں ان زمینوں نے اُٹھا رکھا ہے۔ ان شیطانوں اور جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہوا ہے، سب کے رب، ہواوں اور جن چیزوں کو وہ اڑاتی ہیں، ان سب کے پروردگار، بیشک ہم تجھ سے اس بستی اور اس کے رہنے والوں کی خیر و بھلائ مانگتے ہیں۔ ہم تجھ سے اس بستی کے شر، اس کے باشندوں کے شر اور اس بستی میں جو کچھ ہے سب کی برائی اور شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2565]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن لغيره، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2565، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2709، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1640، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10429، والبزار فى (مسنده) برقم: 2093، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 1778، 2528، 2529، والطبراني فى(الكبير) برقم: 7299»
1794. (53) بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ عِنْدَ نُزُولِ الْمَنَازِلِ
پڑاوَ کی جگہ اُترتے وقت اللہ تعالی کی پناہ مانگنے کا بیان
حدیث نمبر: 2566
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، وَشُعَيْبٌ ، قَالا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ، أَنْ يَعْقُوبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةَ ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ نَزَلَ مَنْزِلا، ثُمَّ قَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ، حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ" .
سیدہ خولہ بنت حکیم سلمیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص کسی منزل پر اُترا پھر اس نے یہ دعا پڑھی: «أَعـوذُ بِكَلِـماتِ اللّهِ التّـامّاتِ مِنْ شَـرِّ ما خَلَـق» ”میں اللہ تعالیٰ کے مکمّل وکامل کلمات کے ساتھ اللہ کی پناہ لیتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اللہ نے پیدا کی ہے۔“ تو اسے منزل سے روانہ ہونے تک کوئی چیز نقصان نہیں دیگی۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2566]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2708، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3584، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2566، 2567، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2700، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3437، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2722، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3547، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10431، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27764»
حدیث نمبر: 2567
ثنا بِهِ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، وَالْحَارِثُ بْنُ يَعْقُوبَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.
امام صاحب نے مذکورہ بالا حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2567]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2708، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3584، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2566، 2567، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2700، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3437، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2722، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3547، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10431، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27764»
1795. (54) بَابُ تَوْدِيعِ الْمَنَازِلِ بِالصَّلَاةِ
پڑاوَ کی جگہ سے رخصت ہوتے وقت نفل نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2568
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ ، وَكَانَ لَهُ مُرُوءَةٌ وَعَقْلٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يَنْزِلُ مَنْزِلا، إِلا وَدَّعَهُ بِرَكْعَتَيْنِ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ بھی (دوران سفر) آرام کے لئے قیام کرتے، وہاں سے رخصت ہوتے وقت نفل نماز ادا کرتے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2568]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1260، 2568، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1192، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10432، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4315»
1796. (55) بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَيْرِ الْوَحْدَةِ بِاللَّيْلِ
رات کے وقت اکیلے سفر کرنا منع ہے
حدیث نمبر: 2569
حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مِنَ الْوَحْدَةِ مَا أَعْلَمُ لَمْ يَسِرِ الرَّاكِبُ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ أَبَدًا" ، وَحَدَّثَنَاهُ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو تنہا سفر کرنے کے ان نقصانات کا علم ہو جائے جو مجھے معلوم ہیں تو کوئی سوار رات کے وقت کبھی اکیلا سفر نہ کرے۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2569]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2998، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2569، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2704، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2507، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8799، 8800، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1673، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2721، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3768، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10457، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4839»