🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1825. (84) بَابُ أَمْرِ الْمُهِلِّ بِالْعُمْرَةِ الَّذِي مَعَهُ الْهَدْيُ بِالْإِهْلَالِ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ لِيَصِيرَ قَارِنًا،
جس شخص نے عمرے کا احرام باندھا ہواور قربانی کا جانور بھی اس کے پاس ہو تو اس شخص کو عمرے کے ساتھ حج کا تلبیہ بھی کہنا ضروری ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2607
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا ، أَخْبَرَهُ. ح وَحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجتہ الوداع والے سال (حج کے لئے) نکلے تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس قربانی کا جانور ہو وہ حج اور عمرے کا ایک ساتھ احرام باندھے۔ (اور تلبیہ کہے)“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2607]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، 317، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1204، وابن الجارود فى "المنتقى"، 463، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، 2605، 2607، 2784، 2788، 2789، 2790، 2904، 2905، 2936، 2948، 2954، 2998، 3002، 3028، 3029، 3076، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 242، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1826. (85) بَابُ تَقْلِيدِ الْغَنَمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ إِذَا سِيقَ الْهَدْيُ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الْغَنَمَ لَا تُقَلَّدُ
جب بکرا قربانی کے لئے لے جایا جائے تو اس کے گلے میں ہار ڈالنا چاہیے

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2608
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْتِلُ قَلائِدَ الْغَنَمِ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَمْكُثُ حَلالا" ، هَذَا حَدِيثُ الزَّعْفَرَانِيِّ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو اس حال میں دیکھا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کی بکریوں کے لئے ہار بٹتی تھی۔ جہنیں آپ مکّہ مکرّمہ بھیجتے تھے پھر آپ خود مدینہ منوّرہ ہی میں حلال رہتے تھے (یعنی حج وعمرے کے لئے تشریف نہیں لے جاتے تھے) یہ جناب زعفرانی کی حدیث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2608]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1696، 1698، 1699، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1321، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1229، وابن الجارود فى "المنتقى"، 465، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2573، 2574، 2608، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4003، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2771، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1755، والترمذي فى (جامعه) برقم: 908، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3094، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10209، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3038»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1827. (86) بَابُ حَدِيثِ الْإِحْرَامِ خَلْفِ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ إِذَا حَضَرَتْ
اگر فرض نماز کا وقت ہوجائے تو نماز کے بعد احرام باندھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2609
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ :" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ، وَأَمَرَ بِبُدْنِهِ أَنْ تُشْعَرَ مِنْ شِقِّهَا الأَيْمَنِ، وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ، وَسَلَتْ عَنْهَا الدَّمَ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءَ أَهَلَّ" ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، أَيْضًا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: صَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَشْعَرَ بَدَنَتَهُ، وَلَمْ يَقُلْ: وَسَلَتَ عَنْهَا الدَّمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ الَّتِي فِي خَبَرِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَأَشْعَرَ بَدَنَتَهُ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي بَيَّنْتُهُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ الْعَرَبَ تُضِيفُ الْفِعْلَ إِلَى الآمْرِ كَإِضَافَتِهَا إِلَى الْفِاعْلِ، فَقَوْلُهُ: وَأَشْعَرَ بَدَنَتَهُ يُرِيدُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِإِشْعَارِهَا، لأَنَّ فِي خَبَرِ يَحْيَى الْقَطَّانِ، وَأَمَرَ بِبَدَنِهِ أَنْ تُشْعَرَ دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِإِشْعَارِهَا لا أَنَّهُ تَوَلَّى ذَلِكَ بِنَفْسِهِ، وَقَدْ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَشْعَرَ بَعْضَ بُدْنِهِ بِيَدِهِ وَأَمَرَ غَيْرَهُ بِإِشْعَارِ بَقِيَّتِهَا فَمَنْ قَالَ فِي الْخَبَرِ: أَمَرَ بِبُدْنِهِ أَنْ تُشْعَرَ أَرَادَ بَعْضَهَا، وَمَا قَالَ: أَشْعَرَ بَدَنَتَهُ أَرَادَ بَعْضَهَا لا كُلَّهَا فَالأَخْبَارُ مُتَصَادِقَةٌ لا مُتَكَاذِبَةٌ عَلَى مَا يُتَوَهَّمُ أَهْلُ الْجَهْلِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہرادا کی اور اپنی قربانی کے جانور کو دائیں جانب نشان لگانے کا حُکم دیا۔ اور اس کے گلے میں دو جوتے لٹکائے اور اس کا خون صاف کیا، پھر جب آپ کی اونٹنی آپ کو لیکر بیداء مقام پر سیدھی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیت کی اور تلبیہ پکارا۔ جناب بنداد کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں نماز ظہر ادا کی اور اپنی قربانی کے جانور کو اشعار کیا (اسے نشانی لگائی) اور یہ الفاظ نہیں کہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون صاف کیا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب محمد بن جعفر کی روایت کے یہ الفاظ ”اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کا اشعار کیا“ یہ مسئلہ اسی قسم سے تعلق رکھتا ہے جسے ہم اپنی کتب میں متعدد بار بیان کرچکے ہیں۔ کہ عرب کے لوگ کام کی نسبت اس کے حُکم کرنے والے کی طرف بھی کرتے ہیں جیسا کہ کام کی نسبت اس کام کو سر انجام دینے والے کی طرف کرتے ہیں۔ لہٰذا حدیث کے یہ الفاظ کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کا اشعار کیا:“ ان کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کرنے کا حُکم دیا کیونکہ جناب یحییٰ بن قطان کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کے جانور کو اشعار کرنے کا حُکم دیا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے اشعار کرنے کا حُکم دیا تھا، بذات خود اشعار نہیں کیا تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اونٹوں کو اپنے ہاتھ مبارک سے اشعار کیا ہو اور باقی اونٹوں کو اشعار کرنے کا حُکم دیا ہو۔ لہٰذا جس راوی کی روایت میں اشعار کرنے کا حُکم کا ذکر ہے تو اس کی مراد یہ ہے کہ کچھ اونٹوں کو اشعار کرنے کا حُکم دیا۔ اور جس راوی نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کے جانوروں کو خود اشعار کیا تو اس کی مراد بھی کچھ اونٹ ہیں سارے اونٹ نہیں۔ اس طرح یہ تمام روایات ایک دوسری کی توثیق و تصدیق کرتی ہیں، ایک دوسری کی تکذیب نہیں کرتیں جیسا کہ بعض جہلاء کا خیال ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2609]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1243، وابن الجارود فى "المنتقى"، 467، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2575، 2576، 2609، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4000، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1644، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2772، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1752، والترمذي فى (جامعه) برقم: 906، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1953، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3097، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8904، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1880»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1828. (87) بَابُ إِبَاحَةِ الْإِحْرَامِ مِنْ غَيْرِ صَلَاةٍ مُتَقَدِّمَةٍ مِنْ مَكْتُوبَةٍ أَوْ تَطَوُّعٍ
احرام سے پہلے فرض یا نفل نماز پڑھے بغیر بھی احرام باندھنا جائز ہے

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2610
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَهُمْ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسِ بْنِ خَثْعَمٍ، فَلَمَّا كَانُوا بِالشَّجَرَةِ وَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِالشَّجَرَةِ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ،" فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْمُرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ، ثُمَّ تُهِلُّ بِالْحَجِّ، وَتَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ النَّاسُ، إِلا أَنَّهَا لا تَطُوفُ بِالْبَيْتِ"
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجتہ لوداع والے سال حج کے لئے نکلے جب کہ ان کے ساتھ ان کی زوجہ محترمہ سیدہ اسما ء بنت عمیس بن خثعم رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ پھر جب وہ شجرہ (یعنی ذوالحلیفہ) کے مقام پر تھے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابوبکر کو جنم دیا۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ کو اس بات کی اطلاع دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کوحُکم دیا کہ وہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کو غسل کرنے کا حُکم دیں، پھر وہ حج کا تلبیہ پکاریں اور دیگر حاجیوں کی طرح تمام مناسک یاد کریں، لیکن وہ بیت اللہ کا طواف نہیں کریںگی۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2610]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 1150، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2610، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2662، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3629، 3630، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2912، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9033، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27726»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1829. (88) بَابُ الْإِهْلَالِ عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ
مسجد ذوالحلیفہ کے پاس سے تلبیہ پکارنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2611
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ:" هَذِهِ الْبَيْدَاءُ الَّتِي تَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہ بیداء مقام ہے جس کے بارے میں تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرجھوٹ باندھتے ہو۔ اللہ کی قسم، آپ نے ذوالحلیفہ کی مسجد کے دروازے کے پاس سے تلبیہ پکارا تھا (اور احرام کی نیت کی تھی)۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2611]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1514، 1541، 1552، 2865، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1184، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1194، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2611، 2613، 2763، 2846، 2856، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3762، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2756، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1771، والترمذي فى (جامعه) برقم: 818، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1970، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2916، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9073، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4659، والحميدي فى (مسنده) برقم: 674»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1830. (89) بَابُ الْإِهْلَالِ إِذَا اسْتَوَتْ بِالرَّاكِبِ نَاقَتُهُ عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ
جب سواری اپنے سوار کو لیکر مسجد ذوالحلیفہ کے پاس سیدھی ہوجائے تو اس وقت تلبیہ پکارنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2612
ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُهِلَّ حَتَّى أَتَى الْبَيْدَاءَ، وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ فِي كُتُبِنَا، أَنَّ الْخَيْرَ الْوَاجِبِ قُبُولُهُ هُوَ خَيْرُ مَنْ يُخَيَّرُ بِسَمَاعِ الشَّيْءِ وَرُؤْيَتِهِ دُونَ مَنْ يُنْكِرُ الشَّيْءَ وَيَدْفَعُهُ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2612
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرٍ :" أَنَّ إِهْلالَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں جب آپ کی سواری آپ کو لیکر سیدھی ہوگئی تو بلبیہ پکارا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2612]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1515، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2612، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9079، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 3535»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2613
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ :" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَضْعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَاسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ أَهَلَّ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنا قدم مبارک رکاب میں رکھ لیا اور آپ کی اونٹنی آپ کو لیکر سیدھی ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2613]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1514، 1541، 1552، 2865، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1184، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1194، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2611، 2613، 2763، 2846، 2856، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3762، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2756، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1771، والترمذي فى (جامعه) برقم: 818، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1970، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2916، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9073، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4659، والحميدي فى (مسنده) برقم: 674»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں