صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1969. (228) بَابُ وَقْتِ الْغُدُوِّ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ.
منیٰ سے عرفات روانہ ہونے کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2800
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: " مِنْ سُنَّةِ الْحَجِّ أَنْ يُصَلِّيَ الإِمَامُ الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ، وَالْعِشَاءَ الآخِرَةَ، وَالصُّبْحَ بِمِنًى، ثُمَّ يَغْدُو إِلَى عَرَفَةَ، فَيَقِيلُ حَيْثُ قَضَى لَهُ حَتَّى إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ خَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ وَقَفَ بِعَرَفَاتٍ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ، ثُمَّ يَفِيضَ فَيُصَلِّي بِالْمُزْدَلِفَةِ، أَوْ حَيْثُ قَضَى اللَّهُ، ثُمَّ يَقِفَ بِجَمْعٍ حَتَّى إِذَا أَسْفَرَ دَفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، فَإِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الْكُبْرَى حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ حُرِّمَ عَلَيْهِ، إِلا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ حَتَّى يَزُورَ الْبَيْتَ"
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حج کے طریقوں میں سے ایک یہ ہے کہ امام منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھائے پھر صبح کے وقت عرفات روانہ ہو جائے اور جو جگہ میسر آئے وہاں دوپہر کو آرام کرے۔ حتّیٰ کہ جب سورج ڈھل جائے تو لوگوں کو خطبہ دے۔ پھر نمازظہر اور عصر جمع کرکے ادا کرے۔ پھر سورج غروب ہونے تک عرفات میں کھڑے ہوکر دعا و گریہ زاری کرے۔ پھر وہاں سے چلے اور مزدلفہ میں آ کر نماز پڑھے یا جہاں اللہ تعالی کو منظور ہو پڑھ لے پھر مزدلفہ میں ٹھہرا رہے حتّیٰ کہ جب صبح روشن ہو جائے تو سورج طلوع ہونے سے پہلے روانہ ہو جائے۔ پھر جب (منیٰ پہنچ کر) جمرہ کبریٰ کو رمی کر لیگا تو اُس کے لئے عورتوں سے ہمبستری اور خوشبو کے علاوہ ہر چیز حلال ہو جائیگی جو (احرام کی وجہ سے اُس پر حرام تھیں۔ حتّیٰ کہ جب بیت اللہ کا طواف کرلیگا۔ (تو وہ پابندی بھی ختم ہو جائیگی)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2800]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2798، 2800، 2801، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1701، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9597، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 13990، 13999»
حدیث نمبر: 2801
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: مِنْ سُنَّةٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَرُبَّمَا اخْتَلَفَا فِي الْحَرْفِ وَالسِّنِّ، وَقَالَ: " فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ، إِلا النِّسَاءَ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ خَلا النِّسَاءَ، لأَنَّ عَائِشَةَ خَبَّرَتْ:" أَنَّهَا طَيَّبَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ نُزُولِ الْبَيْتِ"
سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حج کا طریقہ یہ ہے۔ پھرمکمّل حدیث بیان کی۔ راویوں کا کچھ الفاظ میں اختلاف ہے۔ اور فرمایا کہ تو اس پر عورت کے سوا ہر چیز حلال ہوجائیگی جو اس پر احرام کی وجہ سے حرام تھی۔ حتّیٰ کہ بیت اللہ شریف کا طواف کرلے(تو پھر وہ بھی حلال ہو جائیگی)۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ صحیح اور درست بات یہی ہے کہ جمرہ پر رمی کرنے کے بعد اس کے لئے بیوی سے ہمبستری کے سوا ہر چیز حلال ہو جائیگی کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو طواف افاضہ کرنے سے پہلے خوشبو لگائی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2801]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2798، 2800، 2801، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1701، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9597، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 13990، 13999»
1970. (229) بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنَّ السُّنَّةَ الْغُدُوُّ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ لَا قَبْلَهُ.
اس بات کا بیان کہ منیٰ سے عرفات روانہ ہونے کا مسنون طریقہ سورج طلوع ہونے کے بعد روانہ ہونا ہے۔ اس سے پہلے نہیں
حدیث نمبر: 2802
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ:" فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، وَالصُّبْحَ، ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ لَهُ مِنْ شَعْرٍ تُضْرَبُ لَهُ بِنَمِرَةٍ، فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ، فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةٍ، فَنَزَلَ بِهَا"
جناب محمد بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پھرمکمّل حدیث بیان کی۔ اور فرمایا کہ پھر جب یوم الترویہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوکر منیٰ پہنچ گئے۔ آپ نے منی میں ہمیں، ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نمازیں پڑھائیں۔ پھر آپ کچھ دیر ٹھہر گئے حتّیٰ کہ جب سورج طلوع ہوگیا (تو عرفات روانہ ہو گئے) آپ نے اپنے لئے بالوں سے بنے ہوئے ایک خیمے کو نصب کرنے کا حُکم دیا۔ جو وادی نمرہ میں لگا دیا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل کر عرفات پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کے لئے وادی نمرہ میں خیمہ لگا دیا گیا ہے۔ لہذا آپ اُس میں تشریف فرما ہو گئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2802]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1340، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، 2603، 2620، 2626، 2687، 2709، 2713، 2717، 2718، 2754، 2755، 2756، 2757، 2778، 2785، 2786، 2787، 2794، 2802، 2809، 2811، 2812، 2815، 2826، 2835، 2853، 2855، 2857، 2858، 2862، 2864، 2875، 2876، 2877، 2890، 2892، 2900، 2901، 2924، 2926، 2944، 2968، 2969، 3025، 3026، 3056، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 400، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942»
1971. (230) بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا اتَّبَعَ خَلِيلَ اللَّهِ فِي غُدُوِّهِ مِنْ مِنًى حِينَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ،
اس بات کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ سے سورج طلوع ہونے کے بعد روانگی میں ابراہیم خلیل اللہ عليه السلام کی اتباع کی ہے
حدیث نمبر: Q2803
إِذْ قَدْ أُمِرَ بِاتِّبَاعِهِ قَالَ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ-: أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهِ [الْأَنْعَامِ: 90] . وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ قَدْ سَمِعَ مِنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.
کیونکہ آپ کی اتباع کرنے کا حُکم دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے «أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّـهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ» [ سورۃ الانعام:90 ] ”یہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی، لہٰذا [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2803]
حدیث نمبر: 2803
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ أَبُو هَاشِمٍ ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : إِنِّي مُصَفِّفٌ مِنَ الأَهْلِ وَالْحُمُولَةِ، إِنَّمَا حُمُولَتُنَا هَذِهِ الْحُمُرُ الدَّيَّانَةُ، أَفَأَفِيضُ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ؟ فَقَالَ:" أَمَّا إِبْرَاهِيمُ، فَإِنَّهُ بَاتَ بِمِنًى، حَتَّى أَصْبَحَ وَطَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ سَارَ إِلَى عَرَفَةَ حَتَّى نَزَلَ مَنْزِلَهُ مِنْهَا" ، وَقَالَ مُؤَمَّلٌ: مَنْزِلَهُ مِنْ عَرَفَةَ، وَقَالُوا: ثُمَّ رَاحَ فَوَقَفَ مَوْقِفَهُ مِنْهُ، وَقَالَ مُؤَمَّلٌ: مِنْهَا، وَقَالُوا: حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ أَفَاضَ فَأَتَى جَمْعًا، قَالَ زِيَادٌ: فَنَزَلَ مَنْزِلَهُ مِنْهُ، وَقَالَ مُؤَمَّلٌ: مِنْهَا، وَقَالُوا: ثُمَّ بَاتَ بِهِ حَتَّى إِذَا كَانَتِ لِصَلاةِ الصُّبْحِ الْمُعَجَّلَةِ، وَقَفَ حَتَّى إِذَا كَانَ لِصَلاةِ الصُّبْحِ الْمُسْفِرَةِ أَفَاضَ، فَتِلْكَ مِلَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ، وَقَدْ أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّبِعَهُ، هَذَا حَدِيثُ ابْنِ عُلَيَّةَ
جناب ابن ابی ملیکہ رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ ایک قریشی آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گزارش کی کہ میں اپنے گھر والوں اور سامان والے اونٹوں کے ساتھ ہوں۔ اور ہمارا سامان ان کمزور گدھوں پر ہے، کیا میں رات کے وقت ہی مزدلفہ سے روانہ ہو جاؤں؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ابراہیم عليه السلام نے تورات منیٰ میں گزاری تھی، حتّیٰ کہ جب صبح ہوگئی اور سورج طلوع ہوگیا تو میدان عرفات کی طرف چل پڑے تھے۔ حتّیٰ کہ عرفات میں اپنے مقام پر تشریف فرما ہوگئے۔ جناب مؤمل کی روایت میں ہے، حتّیٰ کہ عرفات میں اپنی منزل پر تشریف فرما ہوگئے۔ پھر زوال شمس کے بعد عرفات میں وقوف کیا (دعائیں مانگیں) پھر جب سورج غروب ہوگیا تو مزدلفہ آ گئے اور اپنے مقام پر فروکش ہوگئے۔ پھر رات مزدلفہ ہی میں گزاری پھراگرصبح کی نماز جلدی (اندھیرے میں) پڑھتے تو ٹھہر جاتے (اور دعائیں مانگتے) اگر فجر کی نماز صبح روشن کرکے ادا کرتے تو منیٰ روانہ ہو جاتے۔ یہ ہے تمہارے جد امجد ابراہیم عليه السلام کا طریقہ مبارک۔ اور الله تعالیٰ نے تمہارے نبی کو ان کی اتباع کا حُکم دیا ہے۔ یہ جناب ابن علیہ کی حدیث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2803]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح موقوفا، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2803، 2804، 2842، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9743، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 14337»
1972. (231) بَابُ ذِكْرِ الْعِلَّةِ الَّتِي سُمِّيَتْ لَهَا عَرَفَةُ
عرفہ کی وجہ تسمیہ کا بیان۔
حدیث نمبر: Q2804
عَرَفَةَ مَعَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ جِبْرِيلَ قَدْ أَرَى النَّبِيَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَنَاسِكَ كَمَا أَرَى إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ.
اور اس دلیل کا بیان کہ جبرائیل عليه السلام نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مناسک حج سکھائے اور مقامات حج دکھائے ہیں جیسے ابراہیم عليه السلام کو دکھائے تھے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2804]
حدیث نمبر: 2804
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: أَتَى جِبْرِيلُ إِبْرَاهِيمَ يُرِيهِ الْمَنَاسِكَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ:" ثُمَّ دَفَعَ بِهِ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ، فَقَالَ لَهُ: أَعْرِفِ الآنَ، وَأَرَاهُ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا، وَفَعَلَ ذَلِكَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل عليه السلام، حضرت ابراہیم عليه السلام کو مناسک حج سکھانے کے لئے آئے۔ پھرمکمّل حدیث بیان کی۔ اور فرمایا کہ پھر وہ حضرت ابراہیم عليه السلام کو لیکر منیٰ گئے حتّیٰ کہ جب اُنہوں نے جمرے کو رمی کرلی تو اُن سے فرمایا کہ اب ان مناسک کو اچھی طرح پہچان لیں۔ اور حضرت ابراہیم عليه السلام کو تمام مناسک دکھائے۔ اسی طرح اُنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تمام مناسک دکھائے اور سکھائے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2804]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2803، 2804، 2842، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9743، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 14337»
1973. (232) بَابُ ذِكْرِ التَّخْيِيرِ بَيْنَ التَّلْبِيَةِ وَبَيْنَ التَّكْبِيرِ فِي الْغُدُوِّ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ.
منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے تلبیہ پکارنے یا تکبیر پڑھنے کا اختیار ہے
حدیث نمبر: 2805
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحَسَنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ، مِنَّا الْمُلَبِّي، وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لا أَعْلَمُ أَحَدًا مِمَّنْ رَوَى هَذَا الْخَبَرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ تَابَعَ ابْنَ نُمَيْرٍ فِي إِدْخَالِهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي هَذَا الإِسْنَادِ، وَقَدْ خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذَا الْخَبَرِ فِي كِتَابِ الْكَبِيرِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کو صبح کے وقت روانہ ہوئے تو ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے اور کچھ تکبیریں پڑھ رہے تھے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق یحییٰ بن سعید سے اس روایت کو بیان کرنے والے کسی راوی نے اس سند میں عبداللہ بن عبداللہ بن عمر کو ذکر کرنے پر امام ابن نمیر کی متابعت نہیں کی۔ میں نے اس روایت کے تمام طرق کتاب الکبیر میں بیان کیے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2805]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1284، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2805، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2998، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1816، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1918، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6359، 9538، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4544»
1974. (233) بَابُ التَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ مِنَ التَّلْبِيَةِ فِي الْغُدُوِّ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ.
منیٰ سے صبح کے وقت عرفات جاتے وقت «اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا الله» اور تلبیہ پڑھنا
حدیث نمبر: 2806
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ سَخْبَرَةَ ، قَالَ: غَدَوْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَجُلا آدَمَ، لَهُ ضَفِيرَانِ، عَلَيْهِ مَسْحَةُ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، وَكَانَ يُلَبِّي، فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ غَوْغَاءٌ مِنْ غَوْغَاءِ النَّاسِ: يَا أَعْرَابِيُّ، إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِيَوْمِ تَلْبِيَةٍ، إِنَّمَا هُوَ تَكْبِيرٌ، قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ الْتَفَتَ إِلَيَّ وَقَالَ:" أَجَهِلَ النَّاسُ، أَمْ نَسَوْا؟ وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ، لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ، فَمَا تَرَكَ التَّلْبِيَةَ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ الْعَقَبَةَ، إِلا أَنْ يَخْلِطَهَا بِتَهْلِيلٍ أَوْ تَكْبِيرٍ"
جناب ابن سخبره بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کے وقت منیٰ سے عرفات کی طرف روانہ ہوا۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ گندمی رنگ کے شخص تھے انکے بالوں کی دو لٹیں تھیں اور اُن پر دیہاتی لوگوں کا ایک نشان تھا۔ وہ تلبیہ پڑھ رہے تھے تو ان کے گرد کم علم نادان لوگ جمع ہوگئے، وہ کہنے لگے کہ اے دیہاتی، آج کے دن تلبیہ نہیں پکارتے، آج تو تکبیریں پڑھنے کا دن ہے اس وقت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا کہ کیا یہ لوگ جاہل ہیں یا بھول گئے ہیں، اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ بیشک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کی طرف نکلا تھا تو آپ نے جمرہ عقبہ پر رمی کرنے تک تلبیہ ختم نہیں کیا تھا، البتہ آپ تلبیہ کے ساتھ «اللهُ أَكْبَرُ» اور «لَا إِلٰهَ إِلَّا الله» پڑھ لیتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2806]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1675، 1683، 1747، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1283، وابن الجارود فى "المنتقى"، 522، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2806، 2879، 2880، 2886، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3870، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1702، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3046، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1974، والترمذي فى (جامعه) برقم: 901، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3030، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1918، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3618»
1975. (234) بَابُ ذِكْرِ خُطْبَةِ الْإِمَامِ بِعَرَفَةَ، وَوَقْتِ الْخُطْبَةِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ.
عرفات میں امام کے خطبے اور اس دن خطبے کے وقت کا بیان
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ جب سورج ڈھل گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا، پھر ظہر اور عصر کی نماز جمع کرکے ادا فرمائی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2807]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أسناده صحيح، تقدم تخريجه برقم: 2800»