صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1950. (209) بَابُ ذِكْرِ إِسْقَاطِ الْحَرَجِ عَنِ السَّاعِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَبْلَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ جَهْلًا بِأَنَّ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ السَّعْيِ
جو شخص کم علمی اور جہالت کی بنا پر صفا مروہ کی سعی بیت اللہ کے طواف سے پہلے کرلے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ جبکہ اسے معلوم نہ ہو کہ بیت اللہ شریف کا طواف سعی سے پہلے ہے
حدیث نمبر: 2774
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَهُوَ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا، وَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ، فَمِنْ قَائِلٍ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ، أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا، أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا، وَكَانَ يَقُولُ لَهُمْ:" لا حَرَجَ، لا حَرَجَ"، إِلا رَجُلٌ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ، وَهُوَ ظَالِمٌ فَذَاكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حج کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلا۔ لوگ آپ کے پاس حاضر ہوتے تو کوئی کہتا کہ اے اللہ کے رسول، میں نے طواف کرنے سے پہلے سعی کرلی ہے۔ (کوئی کہتا) میں نے یہ کام بعد میں کیا ہے یا یہ کام پہلے کرلیا ہے۔ آپ ان سب سے کہتے: ”کوئی حرج نہیں، کوئی گناہ نہیں، سوائے اس شخص کے جس نے اپنے مسلمان بھائی کی غیبت کی اور وہ شخص ظالم ہوتو یہ وہ شخص ہے جو گناہ گار ہے اور ہلاک و برباد ہوا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2774]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2774، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 1386، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2015، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9751، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2565، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 6015، والطبراني فى(الكبير) برقم: 472»
1951. (210) بَابُ الدُّعَاءِ عَلَى أَهْلِ الْمِلَلِ وَالْأَوْثَانِ عَلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ بِأَنْ يُهْزَمُوا وَيُزَلْزَلُوا
صفا اور مروہ پر کفّار اور بت پرستوں پر بد دعا کرنا کہ اللہ تعالیٰ انہیں شکست سے دو چار کرے اور ان کے قدم اکھیڑ دے۔
حدیث نمبر: 2775
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفي ، قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ خَرَجَ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَجَعَلْنَا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَرْمِيَهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَوْ يُصِيبَهُ بِشَيْءٍ، فَسَمِعْتُهُ يَدْعُو عَلَى الأَحْزَابِ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمِ الأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ"
سیدنا عبداللہ بن ابو اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ ادا کیا تو بیت اللہ شریف کا طواف کیا، پھر صفا اور مروہ کی سعی کے لئے چلے گئے تو ہم آپ کو مکّہ والوں کے شر سے محفوظ رکھنے کے لئے آڑ کیے ہوئے تھے کہ کہیں کوئی کافر آپ کو تیر نہ مار دے یا کوئی اور تکلیف نہ پہنچا دے۔ اس دوران میں، میں نے آپ کو کافر جماعتوں پر بد دعا کرنے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَاب، سَرِيعَ الْحِسَاب، اهْزِم الأَحْزَاب، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَ زَلْزِلْهُم» ”اے اللہ کتاب کو نازل فرمانے والے، جلد حساب لینے والے، کافر جماعتوں کو شکست فاش دینے والے۔ اے اللہ، انہیں شکست و ناکامی سے دوچار کردے اور ان کے قدم ڈگمگا دے“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2775]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1600، 1791 م1، 2933، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1742، 2433، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2775، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3843، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6494، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1902، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1678، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2796، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2527، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9486، 9487، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19413»
1952. (211) بَابُ الرُّخْصَةِ لِلْمَعْذُورِ فِي الرُّكُوبِ فِي الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ
معذور شخص کے لئے رخصت ہے کہ وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی سواری پر بیٹھ کر کرلے
حدیث نمبر: 2776
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، أَيْضًا حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَدِمَتْ وَهِيَ مَرِيضَةٌ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلاةُ، فَقَالَ: " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ، وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ" ، هَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ
حضرت زینب بنت ام سلمہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلمہ مکّہ مکرّمہ آئیں تو وہ بیمار تھیں، اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیماری کے متعلق بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر بیٹھ کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کرلو۔“ یہ جناب الدورقی کی روایت ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2776]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 464، 1619، 1633، 4853، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1276، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1371، وابن الجارود فى "المنتقى"، 508، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 523، 2776، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3830، 3833، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2925، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1882، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2961، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9339، 9482، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27128»
1953. (212) بَابُ ذِكْرِ بَعْضِ الْعِلَلِ الَّتِي لَهَا سَعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ،
ان وجوہات کا بیان جن کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کی تھی
حدیث نمبر: Q2777
وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ قَبْلُ أَنَّ اسْتِنَانَ السُّنَّةِ قَدْ تَكُونُ فِي الِابْتِدَاءِ لِعِلَّةٍ فَتَزُولُ الْعِلَّةُ وَتَبْقَى السُّنَّةُ إِلَى آخِرِ الْأَبَدِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا سَعَى بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ قُوَّتَهُ، فَبَقِيَتْ هَذِهِ السُّنَّةُ إِلَى آخِرِ الْأَبَدِ
حدیث نمبر: 2777
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ الْمَخْزُومِيُّ , قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" إِنَّمَا سَعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ قُوَّتَهُ" ، وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ: لِتَرَى قُرَيْشًا قُوَّتَهُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیت اللہ شریف کا طواف اور صفا اور مروہ کی سعی اس لئے کی تھی تاکہ مشرکین آپ کی قوت و طاقت دیکھ لیں۔ جناب مخرومی کی روایت میں ہے، تاکہ قریش والے آپ کی قوت دیکھ لیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2777]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1602، 1649، 4256، 4257، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1264، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2707، 2719، 2720، 2777، 2779، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3811، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2945، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1885، والترمذي فى (جامعه) برقم: 863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2953، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9341، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1946»
1954. (213) بَابُ اسْتِحْبَابِ رُكُوبِ مَنْ بِالنَّاسِ إِلَيْهِ الْحَاجَةُ وَالْمَسْأَلَةُ عَنْ أَمْرِ دِينِهِمْ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِذَا كَثُرَ الزِّحَامُ عَلَى الْعَالِمِ،
جب مذہبی راہنما اور عالم دین صفا اور مروہ کے درمیان پیدل چل رہا ہو
حدیث نمبر: Q2778
وَلَمْ يُمْكِنْ سُؤَالُهُ، إِذَا كَانَ الْعَالِمُ مَاشِيًا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ
اور لوگوں نے اس سے اپنے دینی مسائل پوچھنے ہوں جو اس کے پیدل چلنے کہ وجہ سے ممکن نہ ہوتو ایسے ہجوم کی وجہ سے عالم دین سواری پر بیٹھ کر صفا مروہ کی سعی کرسکتا ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2778]
حدیث نمبر: 2778
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنِي عِيسَى ، عَنْ أَبِي جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهَ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ، فَإِنَّ النَّاسَ غَشَوْهُ" ، زَادَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَابْنُ مَعْمَرٍ: لِيَسْأَلُوهُ، وَإِنَّ النَّاسَ غَشَوهُ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: إِنَّ النَّاسَ غَشَيُوهُ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع میں بیت اللہ شریف کا طواف اور صفا مروہ کی سعی سواری پر بیٹھ کر کی تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں۔ کیونکہ لوگوں نے آپ کو چاروں طرف سے ڈھانپ لیا تھا۔ جناب عبدالرحمٰن اور ابن معمر کی روایت میں یہ اضافہ ہے، تاکہ لوگ آپ سے دینی مسائل پوچھ سکیں، کیونکہ (پیدل چلتے ہوئے) لوگوں نے آپ کو ڈھانپ لیا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2778]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1340، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، 2603، 2620، 2626، 2687، 2709، 2713، 2717، 2718، 2754، 2755، 2756، 2757، 2778، 2785، 2786، 2787، 2794، 2802، 2809، 2811، 2812، 2815، 2826، 2835، 2853، 2855، 2857، 2858، 2862، 2864، 2875، 2876، 2877، 2890، 2892، 2900، 2901، 2924، 2926، 2944، 2968، 2969، 3025، 3026، 3056، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 400، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942»
1955. (214) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الرُّكُوبِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِذَا أُوذِيَ الطَّائِفُ بَيْنَهُمَا بِالِازْدِحَامِ عَلَيْهِ،
صفا اور مروہ کی سعی کے دوران میں سواری پر بیٹھنے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: Q2779
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الرُّكُوبَ بَيْنَهُمَا إِبَاحَةٌ لَا أَنَّهُ سُنَّةٌ وَاجِبَةٌ، وَلَا أَنَّهُ سُنَّةُ فَضِيلَةٍ بَلْ هِيَ سُنَّةُ إِبَاحَةٍ
جبکہ سعی کرنے والے کو لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے تکلیف کا سامنا ہو۔ اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ صفا اور مروہ کے درمیان سواری پر بیٹھنا جائز ہے، نہ یہ سنّت موَکدہ ہے اور نہ سنّت فضیلت بلکہ یہ جواز کے لئے ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2779]
حدیث نمبر: 2779
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : أَرَأَيْتَ الرُّكُوبَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟ قَالَ: قَوْمُكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهَا سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا،" جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ فَجَعَلَ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَخَرَجَ أَهْلُ مَكَّةَ حَتَّى خَرَجَ النِّسَاءُ، وَكَانَ لا يَضْرِبُ أَحَدًا عِنْدَهُ وَلا يَدَعُونَهُ فَدَعَا بِرَاحِلَتِهِ فَرَكِبَ، وَلَوْ يُتْرَكُ لَكَانَ الْمَشْيُ أَحَبَّ إِلَيْهِ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا يُرِيدُ صَدَقُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَكِبَ بَيْنَهُمَا، وَكَذَبُوا بِقَوْلِ إِنَّهُ لَيْسَ بِسُنَّةٍ وَاجِبَةٍ، وَلا فَضِيلَةٍ، وَإِنَّمَا هِيَ إِبَاحَةٌ لا حَتْمٌ، وَلا فَضِيلَةٌ
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ مجھے بتائیں کہ صفا اور مروہ کی سعی سوار ہوکر کرنے کا کیا حُکم ہے کیونکہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ یہ سنّت نبوی ہے۔ اُنہوں نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا ہے (کہ نبی اکرم نے صفا مروہ کی سعی سوار ہو کر کی تھی) اور یہ بات غلط کی ہے کہ یہ سنّت ہے۔ (اصل واقعہ یہ ہے کہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ مکرّمہ تشریف لائے تو صفا اور مروہ کی سعی شروع کی، پس اہلِ مکّہ نکل آئے حتّیٰ کہ عورتیں بھی آپ کی زیارت کے لئے آئیں۔ اور آپ کے پاس سے کسی کو مار کر بٹایا نہیں جاتا تھا اور نہ آ پکو لوگ چھوڑتے تھے۔ چنانچہ آپ نے اپنی سواری منگوائی اور اس پر سوار ہوگئے اور اگر لوگ آپ کو پیدل سعی کرنے دیتے تو آپ کو پیدل سعی کرنا ہی زیادہ پسند تھا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ کہنا کہ انہوں نے سچ کہا ہے اور غلط بیانی بھی کی ہے۔ اس سے اُن کی مراد یہ ہے کہ انہوں نے یہ بات کہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی سوار ہوکر کی تھی اور ان کی یہ بات غلط ہے کہ یہ سنّت موکدہ یا فضیلت کی حامل سنّت ہے، بیشک یہ تو صرف جواز کے لئے ہے نہ واجب ہے نہ فضیلت کا باعث۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2779]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1602، 1649، 4256، 4257، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1264، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2707، 2719، 2720، 2777، 2779، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3811، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2945، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1885، والترمذي فى (جامعه) برقم: 863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2953، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9341، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1946»
1956. (215) بَابُ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ بِالْمِحْجَنِ لِلطَّائِفِ الرَّاكِبِ
سواری پر طواف کرنے والا شخص چھڑی سے حجراسود کا استلام کرسکتا ہے
حدیث نمبر: 2780
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر بیٹھ کر طواف کیا، آپ اپنی چھڑی کے ساتھ حجر اسود کا استلام کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2780]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1607، 1612، 1613، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1272، وابن الجارود فى "المنتقى"، 510، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2722، 2724، 2780، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3825، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 712، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1877، 1881، والترمذي فى (جامعه) برقم: 865، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1887، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2948، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9381، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1866»