صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2068. (327) بَابُ الْأَكْلِ مِنْ لَحْمِ الْهَدْيِ إِذَا كَانَ تَطَوُّعًا.
حج کی قربانی میں سے گوشت کھانے کا بیان جبکہ وہ نفلی قربانی ہو
حدیث نمبر: 2924
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَالزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُلِّ جَزُورٍ بِبَضْعَةٍ، فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ، وَأَكَلُوا مِنَ اللَّحْمِ، وَحَسَوْا مِنَ الْمَرَقِ" ، هَذَا لِلْحَسَنِ الزَّعْفَرَانِيِّ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَأَلَ سَائِلٌ عَنِ الأَكْلِ مِنَ الْهَدْيِ الْوَاجِبِ أَيَأْكُلُ صَاحِبُهَا مِنْهَا؟ فَقُلْتُ: إِذَا نَحَرَ الْقَارِنُ وَالْمُتَمَتِّعُ بَدَنَةً، أَوْ بَقَرَةً، أَوْ شِرْكًا فِي بَدَنَةٍ أَوْ بَقَرَةٍ أَكْثَرُ مِنْ سُبْعِهَا، فَلَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِمَّا زَادَ عَلَى سُبْعِ الْبَدَنَةِ أَوِ الْبَقَرَةِ، لأَنَّ الْوَاجِبَ عَلَيْهِ فِي هَدْيِ الْقِرَانِ وَالْمُتَمَتِّعِ سُبْعُ إِحْدَاهُمَا، إِلا عِنْدَ مَنْ يُجِيزُ الْبَدَنَةَ عَنْ عَشَرَةٍ عَلَى مَا بَيَّنْتُ فِي خَبَرِ الْمِسْوَرِ، وَمَرْوَانَ، وَخَبَرِ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَوْ شَاةً تَامَّةً فَمَا زَادَ عَلَى سُبْعِ بَدَنَةٍ أَوْ بَقَرَةٍ، فَهُوَ مُتَطَوِّعٌ بِهِ، وَلَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِمَّا هُوَ مُتَطَوِّعٌ بِهِ مِنَ الزِّيَادَةِ، كَمَا يُضَحِّي مُتَطَوِّعًا بِالأُضْحِيَّةِ، فَلَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ ضَحِيَّتِهِ، وَعَلَى هَذَا الْمَعْنَى عِلْمِي أَكْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لُحُومِ بُدْنِهِ، لأَنَّهُ نَحَرَ مِائَةَ بَدَنَةٍ، وَإِنَّمَا كَانَ الْوَاجِبُ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ قَارِنًا سُبْعَ بَدَنَةٍ إِلا عِنْدَ مَنْ يُجِيزُ الْبَدَنَةَ عَنْ عَشَرَةٍ لا أَكْثَرَ، وَهُوَ مُتَطَوِّعٌ بِالزِّيَادَةِ فَجَعَلَ مِنْ كُلِّ بَعِيرٍ بَضْعَةٍ فِي قِدْرٍ فَحَسَا مِنَ الْمَرَقِ، وَأَكَلَ مِنَ اللَّحْمِ، وَإِنْ ذَبَحَ لِتَمَتُّعِهِ أَوْ لِقِرَانِهِ لَمْ يَكُنْ عِنْدِي أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا، وَالْعِلْمُ عِنْدِي كَالْمُحِيطِ أَنَّ كُلَّ مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ شَيْءٌ لِسَبَبٍ مِنَ الأَسْبَابِ لَمْ يَجُزْ لَهُ أَنْ يَنْتَفِعَ بِمَا وَجَبَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ وَلا مَعْنَى لِقَوْلِ قَائِلٍ إِنْ قَالَ: يَجِبُ عَلَيْهِ هَدْيٌ، وَلَهُ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ بَعْضَهُ، لأَنَّ الْمَرْءَ إِنَّمَا لَهُ أَنْ يَأْكُلَ مَالَ نَفْسِهِ، أَوْ مَالَ غَيْرِهِ بِإِذْنِ مَالِكِهِ، فَإِنْ كَانَ الْهَدْيُ وَاجِبًا عَلَيْهِ، فَمُحَالٌ أَنْ يُقَالَ وَاجِبٌ عَلَيْهِ، وَهُوَ مَالٌ لَهُ يَأْكُلُهُ، وَقَوْلُ هَذِهِ الْمَقَالَةِ يُوجِبُ أَنَّ الْمَرْءَ إِذَا وَجَبَتْ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ فِي مَاشِيَتِهِ أَنَّ لَهُ أَنْ يَذْبَحَهَا، فَيَأْكُلَهَا، وَإِنْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ عُشْرُ حَبٍّ فَلَهُ أَنْ يَطْحَنَهُ، وَيَأْكُلَهُ، وَإِنْ وَجَبَ عَلَيْهِ عُشْرُ ثِمَارٍ فَلَهُ أَنْ يَأْكُلَهُ، وَهَذَا لا يَقُولُهُ مَنْ يُحْسِنُ الْفِقْهَ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دیا کہ قربانی کے ہر اونٹ کے گوشت میں سے ایک ٹکڑا لیکر ہنڈیا میں ڈالا جائے چنانچہ وہ گوشت پکا دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھیوں نے وہ گوشت کھایا اور شوربه پیا۔ یہ روایت حسن زعفرانی کی ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ایک سوال کرنے والے نے سوال کیا، کیا حج میں واجب قربانی کرنے والا اس قربانی کے گوشت میں سے کھا سکتا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ جب حج تمتع یا حج قران کرنے والا ایک اونٹ نحر کرے یا ذبح کرے یا اونٹ اور گائے کے ساتویں حصّے سے زیادہ کی قربانی کرے تو وہ ساتویں حصّے سے زائد گوشت میں سے کھا سکتا ہے کیونکہ حج تمتع اور قران کرنے والے پر واجب اونٹ یا گائے کا ساتواں حصّہ قربان کرنا ہے یا جن علماء کے نزدیک اونٹ دس افراد کی طرف سے نحر ہوسکتا ہے اُن کے نزدیک حج تمتع اور قران کرنے والے حاجی پر دسواں حصّہ اونٹ کا واجب ہے۔ جیسا کہ سیدنا مسور، مروان اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کی روایات میں، میں واضح کر چکا ہوں یا اس حاجی پر ایک مکمّل بکرا ذبح کرنا واجب ہے لہٰذا اونٹ یا گائے کے ساتویں حصّے سے زائد قربانی کرنے والا اس نفل میں سے کھا سکتا ہے جیسا کہ عید پر نفلی قربانیاں کرنے والا اس میں سے کھا سکتا ہے میرے علم کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی لحاظ سے اپنی قربانی کا گوشت کھایا ہے کیونکہ آپ نے سو اونٹ نحر کے تھے۔ یقیناً آپ پر قران کی وجہ سے اونٹ کا ساتواں یا دسواں حصّہ قربانی کرنا واجب تھا۔ اس سے زائد جتنے اونٹ آپ نے قربان کیے وہ سب نفلی تھے۔ لہٰذا آپ نے ان میں سے ایک ایک ٹکڑا لیکر ہنڈیا میں ڈالا اور اسے پکا کر شوربہ پیا اور گوشت کھایا لیکن اگر آپ حج قران یا تمتع کے لئے صرف واجب مقدار میں قربانی کرتے تو میرے نزدیک اس میں سے گوشت کھانا جائز نہیں تھا، میرے نزدیک یہ بات یقینی ہے کہ جس شخص کے مال میں کوئی حق واجب ہو جائے تو وہ محض اس واجب ہونے والے مال سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے تو اس کی بات ناقابل قبول ہوگی کہ اس پر حج کی قربانی واجب ہے لیکن وہ اس کا سارا یا کچھ گوشت کھا سکتا ہے کیونکہ انسان اپنا مال خود کھا سکتا ہے اور کسی دوسرے شخص کا مال اُس کی اجازت کے ساتھ کھا سکتا ہے۔ لیکن اگر اس پر حج کی قربانی واجب ہو تو یہ کہنا محال ہے کہ یہ قربانی اس پر واجب ہے لیکن یہ اسی کا مال ہے اس لئے اسے کھا سکتا ہے اس قول کی زد میں یہ مسئلہ آئے گا کہ جس شخص کے جانوروں میں زکوٰۃ واجب ہو وہ شخص زکوٰة کا جانور ذبح کرکے کھا سکتا ہے اور اگر اس کے اناج میں عشر واجب ہو تو وہ اسے پیس کر کھا سکتا ہے اور اگر اس کے پھلوں میں زکوٰۃ واجب ہو تو وہ اس پھل کو کھا سکتا ہے۔ لیکن دین کی سوجھ بوجھ رکھنے والا کوئی شخص ایسی بات نہیں کرسکتا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2924]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1340، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، 2603، 2620، 2626، 2687، 2709، 2713، 2717، 2718، 2754، 2755، 2756، 2757، 2778، 2785، 2786، 2787، 2794، 2802، 2809، 2811، 2812، 2815، 2826، 2835، 2853، 2855، 2857، 2858، 2862، 2864، 2875، 2876، 2877، 2890، 2892، 2900، 2901، 2924، 2926، 2944، 2968، 2969، 3025، 3026، 3056، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 400، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942»
2069. (328) بَابُ الْهَدْيِ يَضِلُّ فَيُنْحَرُ مَكَانَهُ آخَرُ، ثُمَّ يُوجَدُ الْأَوَّلُ.
حج کی قربانی کا جانور گم ہو جائے، پھر اس جگہ دوسرا جانور ذبح کرنے کے بعد وہ بھی مل جائے تو اس کا کیا کیا جائے
حدیث نمبر: 2925
حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سَاقَتْ بَدَنَتَيْنِ، فَأَضَلَّتْهُمَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ بَدَنَتَيْنِ فَنَحَرَتْهُمَا، ثُمَّ وَجَدْتُ الْبَدَنَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ، فَنَحَرَتْهُمَا أَيْضًا، ثُمَّ قَالَتْ:" هَكَذَا السُّنَّةُ فِي الْبُدْنِ" ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ... عَائِشَةُ : بَدَنَتَيْنِ بِمِثْلِهِ سَوَاءً
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے دو اونٹ قربانی کے لئے اپنے ساتھ لیے تو وہ گم ہوگئے، پھر سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دو اونٹ دیئے جو آپ نے نحر کر دیئے پھر پہلے دو اونٹ بھی مل گئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ بھی نحر کر دیئے، پھر فرمایا کہ (گمشدہ) اونٹوں کی قربانی کا یہی مسنون طریقہ ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2925]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2925، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19263، 19264، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2526»
2070. (329) بَابُ صِيَامِ الْمُتَمَتِّعِ إِذَا لَمْ يَجِدِ الْهَدْيَ.
حج تمتع کرنے والے کو قربانی کا جانور نہ ملے تو وہ روزے رکھے گا
حدیث نمبر: 2926
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَثُرَتِ الْمَقَالَةُ مِنَ النَّاسِ، فَخَرَجْنَا حُجَّاجًا حَتَّى بَيْنَنَا وَبَيْنَ أَنْ نَحِلَّ إِلا لَيَالِي، قَائِلا: أُمِرْنَا بِالإِحْلالِ فَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى عَرَفَةَ وَفَرْجُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ:" أَبِاللَّهِ تُعْلِمُونِي أَيُّهَا النَّاسُ، فَأَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُ بِاللَّهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ هَدْيًا، وَلَحَلَلْتُ كَمَا أَحَلُّوا، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيَصُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَمَنْ وَجَدَ هَدْيًا فَلْيَنْحَرْ"، فَكُنَّا نَنْحَرُ الْجَزُورَ عَنْ سَبْعَةٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ (عمرہ کرکے احرام کھولنے کے بارے میں) لوگوں میں بہت زیادہ باتیں ہوگئیں۔ ہم صرف حج کی نیت سے آئے تھے حتّیٰ کہ جب احرام کھولنے میں چند دن ہی رہ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (عمرہ کرکے) احرام کھولنے کا حُکم دے دیا۔ (ہم آپس میں کہنے لگے) کیا ہم میں سے کوئی شخص (حج کے لئے) عرفہ اس حالت میں جائیگا کہ اس کی شرمگاہ سے منی کے قطرے نکل رہے ہوںگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ باتیں معلوم ہوئیں تو آپ خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو تمہیں اللہ کی قسم، کیا تم جانتے ہو کہ میں الله کی قسم، تم سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے احکام کو جانتا ہوں اور تم سب سے بڑھ کر اُس سے ڈرتا ہوں۔ اگر مجھے اس معاملے کا پہلے علم ہوتا جو بعد میں ہوا ہے تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانورنہ لاتا اور میں بھی دیگر لوگوں کی طرح (عمرہ کرکے) احرام کھول دیتا۔ لہٰذا جس شخص کے پاس قربانی نہ ہو تو وہ تین روزے ادھر ہی رکھ لے اور سات روزے واپس اپنے گھر جا کر رکھ لے، اور جسے قربانی کا جانور مل جائے تو وہ قربانی کرے۔ چنانچہ ہم سات افراد کی طرف سے ایک اونٹ نحر کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2926]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1340، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، 2603، 2620، 2626، 2687، 2709، 2713، 2717، 2718، 2754، 2755، 2756، 2757، 2778، 2785، 2786، 2787، 2794، 2802، 2809، 2811، 2812، 2815، 2826، 2835، 2853، 2855، 2857، 2858، 2862، 2864، 2875، 2876، 2877، 2890، 2892، 2900، 2901، 2924، 2926، 2944، 2968، 2969، 3025، 3026، 3056، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 400، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942»
حدیث نمبر: 2927
وَقَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ يَوْمَئِذٍ فِي أَصْحَابِهِ غَنَمًا فَأَصَابَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ تَيْسًا، فَذَبَحَهُ عَنْ نَفْسِهِ، فَلَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ أَمَرَ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، فَقَامَ تَحْتَ ثَدْيِ نَاقَتِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اصْرُخْ أَيُّهَا النَّاسُ، هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟" قَالُوا: الشَّهْرُ الْحَرَامُ، قَالَ:" فَهَلْ تَدْرُونَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟" قَالُوا: الْبَلَدُ الْحَرَامُ، قَالَ:" فَهَلْ تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" قَالُوا: الْحَجُّ الأَكْبَرِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ كَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا، وَكَحُرْمَةِ بَلَدِكُمْ هَذَا، وَكَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا"، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّهُ، وَقَالَ حِينَ وَقَفَ بِعَرَفَةَ: هَذَا الْمَوْقِفُ، كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ، وَقَالَ حِينَ وَقَفَ عَلَى قُزَحٍ: هَذَا الْمَوْقِفُ، وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذوالحجہ کے دن اپنے صحابہ میں بکریاں تقسیم کیں۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ایک بکرا ملا جو اُنہوں نے اپنی طرف سے ذبح کردیا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں کھڑے ہوئے تو آپ نے سیدنا ربیعہ بن امیہ بن خلف رضی اللہ عنہ کو حُکم دیا تو وہ آپ کی اونٹنی کے پستانوں کے قریب کھڑے ہوگئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”لوگوں کو پکار کر کہو کہ اے لوگو، کیا تمھیں معلوم ہے کہ یہ کونسا مہینہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا کہ حرمت والا مہینہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ کون سا شہر ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا کہ حرمت والا (مکّہ مکرّمہ) شہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کونسا دن ہے؟“ صحابہ نے جواب دیا کہ حج اکبر کا دن ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے تمھارے خون اور تمھارے مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام کر دیئے ہیں جس طرح تمھارا یہ مہینہ حرمت والا ہے، جیسے تمھارا یہ شہر حرمت والا ہے اور جس طرح تمھارا یہ آج کا دن حرمت والا ہے۔“ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حج ادا کیا اور جب آپ عرفات میں ٹھہرے تو فرمایا: ”یہ وقوف کی جگہ ہے۔ پورا عرفات ہی وقوف کی جگہ ہے۔“ اور جب آپ مقام قزح پر کھڑے ہوئے تو فرمایا: ”میں ادھر ٹھہرا ہوں اور سارا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2927]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2927، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 236، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1748، والطبراني فى(الكبير) برقم: 11399»
2071. (330) بَابُ حَلْقِ الرَّأْسِ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ النَّحْرِ أَوِ الذَّبْحِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّيَامُنِ فِي الْحَلْقِ،
اونٹ نحر کرنے یا کوئی دوسرا جانور ذبح کرنے کے بعد سر منڈوانے کا بیان اور سر منڈواتے وقت دائیں جانب سے شروع کرنا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: Q2928
مَعَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ شَعْرَ بَنِي آدَمَ لَيْسَ بِنَجَسٍ بَعْدَ الْحَلْقِ أَوِ التَّقْصِيرِ.
اس بات کی دلیل کا ساتھ کہ سر منڈوانے یا بال کتروانے کے بعد انسان کے بال نجس نہیں ہوتے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2928]
حدیث نمبر: 2928
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ نَاوَلَ الْحَلاقَ شِقَّهُ الأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أَبَا طَلْحَةَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الأَيْسَرِ فَحَلَقَهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أَبَا طَلْحَةَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بَيْنَ النَّاسِ"
سیدنا انس بن مالک صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ پر رمی کرلی اور اپنا اونٹ نحر کرلیا تو آپ نے حجام کو اپنے سر کے دائیں جانب والے بال دیئے تو اُس نے وہ مونڈھ دیئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بال سیدنا ابوطلہ رضی اللہ عنہ کو دے دیئے۔ پھر آپ نے حجام کو بائیں جانب کے بال دیئے تو اُس نے وہ بھی مونڈھ دیئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بال بھی سیدنا ابوطلہ رضی اللہ عنہ کو دیئے اور انھیں حُکم دیا کہ وہ یہ بال لوگوں میں تقسیم کردیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2928]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 171، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1305، وابن الجارود فى "المنتقى"، 532، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2928، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1371، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1749، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4087، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1981، والترمذي فى (جامعه) برقم: 912، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 90، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12275»
2072. (331) بَابُ فَضْلِ الْحَلْقِ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَاخْتِيَارِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَإِنْ كَانَ التَّقْصِيرُ جَائِزًا.
حج اور عمرے میں سر منڈوانا افضل ہے اگرچہ بال کتروانا بھی جائز ہے
حدیث نمبر: 2929
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ"، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ"، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ، قَالَهَا ثَلاثًا، ثُمَّ قَالَ:" وَالْمُقَصِّرِينَ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے الله، بال منڈوانے والوں کے گناہ معاف فرما۔“ صحابہ نے عرض کی کہ بال کتروانے والوں کے لئے بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ» اے اللہ، بال منڈوانے والوں کی بخشش فرما“ صحابہ نے عرض کیا کہ بال کتروانے والوں کے لئے بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”بال منڈوانے والوں کو معاف فرما۔“ پھر فرمایا: ”اور بال کتروانے والوں کو بھی معاف فرما۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2929]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1727، 1729، 4411، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1301، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1477، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2929، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3880، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4099، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1979، والترمذي فى (جامعه) برقم: 913، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1947، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3044، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9491، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4747»
2073. (332) بَابُ تَسْمِيَةِ مَنْ حَلَقَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ.
حجتہ الوداع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جن صاحب نے بال مونڈھے ان کا نام
حدیث نمبر: 2930
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ" ، وَزَعَمُوا أَنَّ الَّذِي حَلَقَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعْمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَضْلَةَ بْنِ عَوْفِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُوَيجِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ: إِنَّ الْعَرَبَ تُضِيفُ الْفِعْلَ إِلَى الآمِرِ كَمَا تُضِيفُهُ إِلَى الْفَاعِلِ، إِذِ الْعِلْمُ مُحِيطٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَوَلَّ حَلْقَ رَأْسِ نَفْسِهِ بِيَدِهِ بَلْ أَمَرَ غَيْرَهُ، فَحَلَقَ رَأْسَهُ، فَأُضِيفَ الْفِعْلُ إِلَيْهِ إِذْ هُوَ الآمِرُ بِهِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع میں اپنے سر کے بال منڈوائے۔ صحابہ کرام کا کہنا ہے کہ جس شخص نے آپ کے بال مونڈے تھے وہ معمر بن عبداللہ بن نظلہ بن عوف بن عبيد بن عون بن عدی بن کعب ہے۔ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بال مونڈے تھے۔ یہ اسی جنس سے ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ عرب لوگ کام کی نسبت اسے سرانجام دینے کا حُکم دینے والے کی طرف بھی کرتے ہیں جیسا کہ وہ کام کرنے والے کی طرف اس کی نسبت کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ بات یقینی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بال خود نہیں مونڈے تھے بلکہ آپ نے ایک دوسرے شخص کو حُکم دیا تھا تو اُس نے آپ کے سر کے بال مونڈے تھے۔ لہٰذا اس کام کی نسبت آپ کی طرف کی گئی کیونکہ آپ نے اس کا حُکم دیا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2930]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1726، 4410، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1304، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2930، 3024، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1771، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4100، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1980، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9674، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4983»
2074. (333) بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ مَعَ حَلْقِ الرَّأْسِ،
سر کے بال منڈوانے کے ساتھ ناخن ترشوانا بھی مستحب ہے
حدیث نمبر: Q2931
مَعَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْأَظَافِرَ إِذَا قُصَّتْ لَمْ يَكُنْ حُكْمُهَا حُكْمَ الْمَيْتَةِ، وَلَا كَانَتْ نَجِسًا كَمَا تَوَهَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ مَا قُطِعَ مِنَ الْحَيِّ فَهُوَ مَيِّتٌ، وَخَبَرُ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ إِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهُوَ مَيْتَةٌ "، عِنْدَ ذِكْرِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ فِي قَطْعِهِمْ إِلْيَاتِ الْغَنَمِ وَجَبِّهِمْ أَسْنِمَةِ الْإِبِلِ، فَكَانَ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَوَابًا عَنْ هَذَيْنِ الْفِعْلَيْنِ وَمَا يُشْبِهُهُمَا وَهُوَ فِي مَعَانِيهِمَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
حدیث نمبر: 2931
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ أَبَانَ الْعَطَّارِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ . وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَنْحَرِ هُوَ وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَحَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ فَأَعْطَاهُ، فَقَسَمَ مِنْهُ عَلَى رِجَالٍ، وَقَلَّمَ أَظْفَارَهُ، فَأَعْطَاهُ صَاحِبَهُ، قَالَ: فَإِنَّهُ عِنْدَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ، وَالْكَتَمِ، أَوْ بِالْكَتَمِ وَالْحِنَّاءِ" .
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے ایک انصاری ساتھی کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قربان گاہ میں حاضر ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کے بال ایک کپڑے میں منڈوائے۔ آپ نے وہ بال انھیں دیئے تو انھوں نے کچھ صحابہ کرام میں تقسیم کر دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ناخن ترشوائے تو وہ بھی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھی کو دے دیئے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ کے بال مبارک مہندی یا کتم بوٹی سے رنگے ہوئے ہمارے پاس محفوظ ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2931]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2931، 2932، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1750، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 91، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16737، 16738»