🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2061. ‏(‏320‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اقْتِطَاعِ لُحُومِ الْهَدْيِ بِإِذْنِ صَاحِبِهَا
حج کی قربانی کا گوشت اس کے مالک کی اجازت سے کاٹ لینا درست ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2917
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ثَوْرٌ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْظَمُ الأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ، ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ"، وَقُدِّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَنَاتٌ خَمْسٌ أَوْ سِتٌّ، فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ أَيَّتُهُنَّ يَبْدَأُ بِهَا، فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا، قَالَ: كَلِمَةً خَفِيفَةً لَمْ أَفْهَمْهَا، فَسَأَلْتُ بَعْضَ مَنْ يَلِيهِ، فَقَالَ:" مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ"
سیدنا عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم ترین دن قربانی کا پہلا اور دوسرا دن ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانچ یا چھ قربانی کے اونٹ آئے تو وہ آپ کے قریب قریب آنے لگے کہ آپ پہلے اسے ذبح کریں۔ پھر جب ذبح ہونے کے بعد ان کے پہلو زمین پر گرگئے (اور ٹھنڈے ہوگئے) تو آپ نے کوئی بات آہستہ سے کی جسے میں سمجھ نہ سکا تو میں نے آپ سے قریب ایک شخص سے پوچھا (کہ آپ نے کیا فرمایا ہے) تو اس نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جوشخص گوشت لینا چاہے وہ اس میں سے کاٹ لے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2917]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2866، 2917، 2966، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2811، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7617، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4083، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1765، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10324، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19381»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2062. ‏(‏321‏)‏ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْجَذَعَةَ إِنَّمَا تُجْزِئُ عِنْدَ الْإِعْسَارِ مِنَ الْمُسِنِّ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ بھیڑ کا ایک سالہ بچّہ دونتا بکرا وغیرہ نہ ملنے کی صورت میں کفائت کرجائیگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2918
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا سِنَانُ بْنُ مُظَاهِرٍ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَذْبَحُوا إِلا مُسِنَّةً إِلا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ، فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے تم نے فرمایا: ”صرف دو دانتا جانور قربان کیا کرو، سوائے اس کے کہ تمھیں دو دانتا جانور نہ ملے تو پھر بھیڑ کا ایک سالہ بچّہ قربان کرلو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2918]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1963، وابن الجارود فى "المنتقى"، 972، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2918، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4390، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2797، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3141، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10266، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14571»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2063. ‏(‏322‏)‏ بَابُ الصَّدَقَةِ بِلُحُومِ الْهَدْيِ، وَجُلُودِهَا، وَجِلَالِ الْبُدْنِ، بِذِكْرِ خَبَرٍ مُجْمَلٍ غَيْرِ مُفَسَّرٍ
ایک مجمل غیر مفسرروایت کے ساتھ حج کی قربانی کا گوشت، اس کا چمڑا اور جھول سب کچھ صدقہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2919
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:" أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِجُلُودِهَا وَجِلالِهَا، وَأُرَاهُ قَالَ: وَلُحُومِهَا"
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حُکم دیا کہ میں آپ کے قربانی کے جانوروں کا انتظام سنبھال لوں اور ان کے چمڑے، جھولیں اور ان کا گوشت سب کچھ صدقہ کردوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2919]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1707، 1716، 1716 م، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1317، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1472، وابن الجارود فى "المنتقى"، 530، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2919، 2920، 2922، 2923، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4021، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1764، 1769، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3099، 3157، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10296، وأحمد فى (مسنده) برقم: 603»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2064. ‏(‏323‏)‏ بَابُ قَسْمِ لُحُومِ الْهَدْيِ وَجُلُودِهِ وَجِلَالِهِ فِي الْمَسَاكِينِ
حج کی قربانی کا گوشت، ان کے چمڑے اور جھولیں مساکین میں صدقہ کرنے کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2920
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا وَجِلالَهَا لِلْمَسَاكِينِ، وَلا يُعْطِي فِي جِزَارَتِهَا مِنْهَا شَيْئًا" ، قُلْتُ لِلْحَسَنِ: هَلْ سَمَّى فِيمَنْ يُقْسَمُ ذَلِكَ؟ قَالَ: لا
سیدنا علی بن ابي طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں اپنی قربانی کے اونٹوں کی ذمہ داری سنبھالنے کا حُکم دیا اور اُنھیں حُکم دیا کہ وہ قربانی کے اونٹوں کا سارا گوشت ان کے چمڑے اور جھولیں مساکین میں تقسیم کردیں اور قصائی کی اُجرت میں ان میں سے کوئی چیز نہ دیں۔ جناب ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن مسلم سے پوچھا، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں کے نام بتائے تھے جنہیں یہ چیزیں دینی تھیں؟ اُنھوں نے کہا کہ نہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2920]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1707، 1716، 1716 م، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1317، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1472، وابن الجارود فى "المنتقى"، 530، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2919، 2920، 2922، 2923، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4021، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1764، 1769، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3099، 3157، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10296، وأحمد فى (مسنده) برقم: 603»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2065. ‏(‏324‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اسْمَ الْكُلِّ قَدْ يَقَعُ عَلَى الْبَعْضِ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ کل کا اطلاق بعض پر بھی ہوتا ہے اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی قربانی کے اونٹوں کا سارا گوشت تقسیم کرنے کا حُکم دیا، اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ اس گوشت کے علاوہ تقسیم کردیں جو آپ نے ہر اونٹ سے کچھ گوشت لیکر پکانے کا حُکم دیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کا شوربہ پیا تھا اور گوشت نوش فرمایا تھا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دیا کہ ہر اونٹ کے گوشت سے ایک ٹکڑا ہنڈیا میں ڈال کر پکایا جائے، پھر آپ نے وہ گوشت کھایا اور اس کا شوربہ پیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2921]
تخریج الحدیث: «سياتي برقم: 2924.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2066. ‏(‏325‏)‏ بَابُ النَّهْيِ عَنْ إِعْطَاءِ الْجَازِرِ أَجْرَهُ مِنَ الْهَدْيِ بِذِكْرِ خَبَرٍ مُجْمَلٍ غَيْرِ مُفَسَّرٍ‏.‏
قصاب کو قربانی کے جانور میں سے اجرت نہ دینے کا بیان، اس سلسلے میں ایک مجمل غیر مفسر روایت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2922
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَمَرَنِي أَنْ لا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْهَا شَيْئًا"
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حُکم دیا کہ میں آپ کی قربانی کے اونٹوں کی ذمہ داری سنہال لوں اور آپ نے مجھے حُکم دیا کہ میں قصاب کو ان اونٹوں میں سے کوئی چیز اُس کی اُجرت کے طور پر نہ دوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2922]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1707، 1716، 1716 م، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1317، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1472، وابن الجارود فى "المنتقى"، 530، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2919، 2920، 2922، 2923، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4021، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1764، 1769، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3099، 3157، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10296، وأحمد فى (مسنده) برقم: 603»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2067. ‏(‏326‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُفَسِّرِ لِلَّفْظَةِ الْمُجْمَلَةِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا،
گزشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2923
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا زَجَرَ عَنْ إِعْطَاءِ الْجَازِرِ مِنْ لُحُومِ هَدْيِهِ عَلَى جِزَارَتِهَا شَيْئًا لَا أَنْ يَتَصَدَّقَ مِنْ لُحُومِهَا عَلَى الْجَازِرِ، لَوْ كَانَ الْجَازِرُ مِسْكِينًا‏.‏
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاب کو اس کی اجرت میں قربانی کا گوشت دینے سے منع کیا ہے لیکن اگر قصاب مسکین وغریب ہو تو اس کو بطور صدقہ گوشت دینا منع نہیں ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2923]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2923
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى الْبُدْنِ، وَأَمَرَهُ أَنْ لا يُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْ جِزَارَتِهَا شَيْئًا" ، وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ: عَلَى جِزَارَتِهَا شَيْئًا
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنی قربانی کے اونٹوں کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری سونپی اور انھیں حُکم دیا کہ وہ قصاب کو اس کی مزدوری میں گوشت نہ دیں۔ جناب وکیع کی روایت میں ہے کہ اس کی مزدوری میں اونٹ میں سے کچھ نہ دیا جائے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2923]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1707، 1716، 1716 م، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1317، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1472، وابن الجارود فى "المنتقى"، 530، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2919، 2920، 2922، 2923، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4021، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1764، 1769، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3099، 3157، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10296، وأحمد فى (مسنده) برقم: 603»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں