🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب فِي ادِّخَارِ التَّمْرِ وَنَحْوِهِ مِنَ الأَقْوَاتِ لِلْعِيَالِ:
باب: کھجور یا اور کوئی غلہ وغیرہ بال بچوں کے لیے جمع کر رکھنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2046 ترقیم شاملہ: -- 5337
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ: " بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ، يَا عَائِشَةُ بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ أَوْ جَاعَ أَهْلُهُ ". قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا.
ابوالرجال محمد بن عبدالرحمٰن نے اپنی والدہ (عمرہ بنت عبدالرحمان انصاریہ) سے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں اس میں رہنے والے بھوکے ہیں عائشہ! جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں اس میں رہنے والے بھوکے ہیں۔ جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں اس میں رہنے والے بھوکے ہیں۔ (یا فرمایا) اس گھر کے لوگ بھوکے رہ جاتے ہیں۔“ آپ نے یہ کلمات دو یا تین بار فرمائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5337]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! وہ گھر جس میں کھجوریں موجود نہیں، اس کے باشندے بھوکے ہیں، اے عائشہ! جس گھر میں کھجوریں نہیں، اس کے مالک بھوکے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات دو تین مرتبہ فرمائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5337]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2046
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. باب فَضْلِ تَمْرِ الْمَدِينَةِ:
باب: مدینہ میں کھجور کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2047 ترقیم شاملہ: -- 5338
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَكَلَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ مِمَّا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حِينَ يُصْبِحُ لَمْ يَضُرَّهُ سُمٌّ حَتَّى يُمْسِيَ ".
عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے صبح کے وقت مدینہ کے دو پتھریلے میدانوں کے درمیان کی سات کھجوریں کھا لیں، اس کو شام تک کوئی زہر نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5338]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح کے وقت مدینہ کے دونوں کناروں کی درمیانی کھجوروں میں سے سات کھجوریں کھا لے، وہ شام تک زہر کے نقصان سے محفوظ رہے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5338]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2047
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2047 ترقیم شاملہ: -- 5339
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعْدًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَصَبَّحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ ".
ابواسامہ نے ہاشم بن ہاشم سے روایت کی، کہا: میں نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے سنا، کہہ رہے تھے میں نے (اپنے والد) حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ”جس نے صبح کو سات عجوہ کھجوریں کھا لیں اس دن اسے زہر نقصان پہنچا سکے گا نہ جادو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5339]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لے گا، اس کو اس دن زہر اور جادو نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5339]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2047
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2047 ترقیم شاملہ: -- 5340
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ . ح وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ كِلَاهُمَا، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَلَا يَقُولَانِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مروان بن معاویہ فرازی اور ابوبدر شجاع بن ولید دونوں نے ہاشم بن ہاشم سے، اسی سند کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ وہ دونوں یہ نہیں کہتے: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5340]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت اپنے دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، لیکن وہ «سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم » ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا“ کے الفاظ کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5340]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2047
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2048 ترقیم شاملہ: -- 5341
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَي بْنُ يَحْيَي أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شَرِيكٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ فِي عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ شِفَاءً أَوْ إِنَّهَا تِرْيَاقٌ أَوَّلَ الْبُكْرَةِ ".
عبداللہ بن ابی عتیق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(مدینہ کے) بالائی حصے کی عجوہ کھجوروں میں شفا ہے یا (فرمایا:) صبح کے اول وقت میں ان کا استعمال تریاق ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5341]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ کے بالائی علاقہ کی عجوہ کھجوروں میں شفا ہے، یا ان کا صبح صبح کھانا تریاق ہے، یعنی زہر کا اکسیر علاج ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5341]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2048
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. باب فَضْلِ الْكَمْأَةِ وَمُدَاوَاةِ الْعَيْنِ بِهَا:
باب: کھنبی کی فضیلت اور اس کے ساتھ آنکھ کا علاج۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2049 ترقیم شاملہ: -- 5342
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَعَمْرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ".
جریر اور عمر بن عبید نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے عمرو بن حریث سے، انہوں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل سے روایت کی، کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کھمبی من (وہ کھانا جو سلویٰ کے ساتھ بنی اسرائیل کے لیے آسمان کی جانب سے اترا تھا) کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5342]
حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”کھنبی من میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5342]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2049
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2049 ترقیم شاملہ: -- 5343
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ".
شعبہ نے عبدالملک بن عمیر سے روایت کی کہا: عمرو بن حریث سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ فرماتے تھے: ”کھمبی من کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5343]
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”کھنبی من میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لیے شفاء ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5343]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2049
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2049 ترقیم شاملہ: -- 5344
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ شُعْبَةُ: لَمَّا حَدَّثَنِي بِهِ الْحَكَمُ لَمْ أُنْكِرْهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ.
شعبہ نے کہا: مجھے بن عتیبہ نے حسن عرنی سے خبر دی، انہوں نے عمرو بن حریث سے، انہوں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ شعبہ نے کہا: جب مجھ سے حکم نے یہ روایت کی تو میں نے عبدالملک کی روایت کی وجہ سے اس کو منکر قرار نہ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5344]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں اور یہاں شعبہ ایک دوسرے استاد سے بیان کرتے ہیں، اس لیے کہتے ہیں: جب یہ روایت مجھے حکم نے سنائی تو میں نے اس کا انکار نہ کیا، کیونکہ میں سن چکا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5344]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2049
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2049 ترقیم شاملہ: -- 5345
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ".
عبثر نے مطرف سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے عمرو بن حریث سے، انہوں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھمبی اس من میں سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے نازل کیا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5345]
حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھنبی اس مَنّ میں سے ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اتارا اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5345]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2049
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2049 ترقیم شاملہ: -- 5346
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ".
جریر نے مطرف سے، انہوں نے حکم بن عتیبہ سے، انہوں نے حسن عرنی سے، انہوں نے عمرو بن حریث سے، انہوں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ نے فرمایا: ”کھمبی اس من میں سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو (آسمان سے) اتار کر عطا کیا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5346]
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھنبی اس مَنّ میں سے ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفاء ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5346]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2049
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں